ہرنفس اپنے وجود کے اندر ایک عمارت تعمیر کرتا ہے ،کچھ یہ کہ دولت کی ،کچھ کی کہ عزت و شہرت کی ،کچھ کہ کی عبادت و ریاضت کی،اور کچھ کو کہ منافقت و شرارت کی ،بس ہر ایک کو بدلہ ملے گا،سو جو بوے گا وہ کاٹے گا تو اے بشر
اسلام کی ابتدا، غربت سے ہوئی تھی، اس لیے جب ہم پر کوئی بیچارگی آے، اسی کے نام کے لیے صبر اور اسی سے مدد کی درخواست کرنی چاہئے، لیکن بعض اوقات ہم اپنی غربت کی آڑ میں بس غیر خدا سے سوال کیوں کرتے ہیں، شکوہ کیوں کرتے ہیں... اور اس کے حکم کے کیوں تابع ہوتے ہیں ...
زندگی کبھی خدا کی نعمات سے خالی نہیں ہوتی، ہم خود ہی مایوس ہو جاتے ہیں، مگر وہ تو فرماتا ہے کہ، میں ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے کو چاہتا ہوں. کیا کبھی کسی نے اپنی ماں کی محبت کی حد بندی کی، نہیں ہو بھی نہیں سکتا ایسا ہونا ، تو ہم خود ہی ظالم ہیں
منطق نہیں ہے اس دنیا میں، دکھا دکھی چل رہی ہے، وہ امیر میں کیوں نہیں، اسکا اچھا لباس ہے میرا کیوں نہیں، اس کے پاس پیسہ ہے میرے پاس کیوں نہیں یہ کوئی نہیں کہتا، وہ نمازی میں کیوں نہیں، وہ روزے دار میں کیوں نہیں