تجھ سے عشق ھوگیا اب خسارا کیسا
دریاۓ عشق میں جو اتر گۓ اب کنارا کیسا
اک بار تیرے ھوگۓ تو بس ھوگۓ
ہر روز کرنا اب استخارا کیسا
تیرے سنگ گزر جاۓ یہ عمر جو باقی ہیں
ہنس دو نہ زرہ کھل کے کاھے کی اداسی ہیں
پتہ نہیں لوگوں کو اتنا کچھ کیسے یاد رہتا ہیں میں ایک روم سے دوسے روم تک جاؤ تو یہی بھول جاتی ھوں کے لینے کیا آئی تھی
محفل تھی دعاؤں کی تو میں نے بھی ایک دعا مانگ لی صدا خوش رہے میرے اپنے
میرے ساتھ بھی اور میرے بعد بھی
بچپن میں جہاں چاہۓ ہنس لیتے تھے
جہاں چاہے رو لیتے تھے
اب ہسنے کے لیے تمیز چاہیے
اور رونے کیلے تنہاہی