ہمارے کچھ گناؤ کی سزا بھی ساتھ چلتی ہیں
ھم اب تنہا نہیں دعا بھی ساتھ چلتی ہیں
اور ابھی زندہ ہیں ماں
میری مجھے کچھ بھی نہیں ھوگا
میں گھر سے جب نکتی ھوں دعا بھی
ساتھ چلتی ہیں
خود کلامی میں اکثر انسان
خود کو ہی نوچتا ہیں
شام کے منظر جیسی ھوں کسی کو
حسین تو کسی کو أداس سی لگتی ھوں
ممکن ہے بری ھوں
مگر دو چہرے نہیں رکھتی میں
روبرو ملو گۓ تو قائل ھو جاؤ گۓ
درور سے ھم زرہ مغرور لگتے ہیں
جی جی ایسی بے شرم تے بے ہیا
تسی تے نیٹ دے حج کران آۓ ھو