لوگ نئے سال میں بہت کچھ مانگے گے پر یا
اللہ میرے والدین کا سایہ مجھ پر ہمیشہ سلامت رکھنا
گرم کھوپڑی ہیں میری دماغ کی بات مت کیا کر
زندگی برباد کر دوگئ اوقات کی بات مت کیا کر
ایک کپ چائے کا اس کے نام
جس کا میری وجہ سے سر دردر رہتا ہیں
پھر یو ھوا کے
میری اپنی ہی تصویر
پر دل آگیا میرا
پرہیز کیجئے مجھ سے
چاہے کے سوا کسی سے
محبت نہیں مجھے
ٹوئنکل ٹوئنکل لیٹل سٹار
چاہے پینے والے سپر سٹار
اسے أڑنا پسند تھا مرشد
ھم نے اسے گولی سے أڑا دیا
آگ لگانے والوں کو کہاں خبر
رخ ھواؤں نے بدلا تو
خاک وہ بھی ھوجائے گئے
کوہی حساب نہیں چائیں مجھے
اپنی وفا أٹھائیں دفعح ھو جائے
ﮈبے میں ﮈبا ﮈبے میں کیک
لوگ اندر سے سانپ باہر سے نیک
سردیاں اگئی ہیں اپنا خیال رکھا کرو
لوگ آنسو تو صاف کرتے ہیں پر ناک نہیں

چائے کی طرح چاہا تھا اسے مرشد
بسکٹ کی طرح ﮈوبو دیا اس نے 
کوئی کسی کا خاص نہیں ھوتا مرشد
لوگ تبھی یاد کرتے ہیں
جب ٹائم پاس نہیں ھوتا
ھم تو تمہارے اپنے تھے نہ
مرشد
تو سانوں جھڑ جو
نویں بنائے او یار کھتے آں
وقت أستاد ہیں
ھر بات سیکھا دیتا ہیں
دوسروں کو نیچی نظر سے وہی دیکھتے ہیں
جہینے اپنی اونچائی پر یقین نہ ھو