آپ اِگنور کریں اس پوسٹ کو۔۔۔۔ جیسے میں نے ہزاروں لڑکیوں کو اِگنور کر رکھا ہے۔ آپ جیسی لڑکیاں ہی تو دراصل اچھی ہوتی ہیں زیادہ باتیں نوٹ نہیں کرتیں... ایک بار اگر کہہ دیں کےآف لائن شہزادہ ہے تو بس سمجھیں کہ شہزادہ ہے. دیکھو شگفتہ کی بات الگ ہے۔ وہ ناشائستہ سی لڑکی ہے اسے دنیا کا پتہ نہیں انسانوں کی پہچان کیسے ہو گی لیکن شگفتہ کے بقول میں ایک سنجیدہ انسان ہوں بچپن سے پتہ ھے مجھے سعدیہ نے بتایا تھا آپ کو کہا تھا نا اگنور کریں اس پوسٹ کو اچھا تم نے کیسے جانا ؟ تم ہلے ہوئے ہو؟ فضول باتوں میں خود کو نہیں الجھاتے۔۔۔بس آپ ہمارے ساتھ رہیں گے تو جلد دانشور بن جائیں گے ان شاءاللہ۔۔۔بس اب میرا شکریہ ادا مت کیجیئے گا
ایک آدمی فش فارم میں کانٹا لگا کر بیٹھا تھا۔ گارڈ نے دیکھا تو بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ یہاں مچھلیاں پکڑنا منع ہے۔ چلو نکلو یہاں سے۔ اس آدمی نے معذرت کی اور کانٹا پانی سے باہر نکالا جس کے ساتھ بینگن لگا ہوا تھا۔ گارڈ نے بہت حیرت زدہ ہوکر آدمی سے پوچھا ۔۔۔۔۔ تم بینگن لگا کر مچھلیاں پکڑ رہے تھے؟؟؟ آدمی نے معصومیت سے کہا جی ہاں۔ گارڈ نے طنزیہ کہا ٹھیک ہے تم پکڑ لومچھلیاں ۔ اس آدمی نے کانٹا لگایا اور بیٹھ گیا۔ دو گھنٹے بعد گارڈ کو وہ آدمی ایک درجن مچھلیوں کے ساتھ باہر جاتا نظر آیا۔ گارڈ نے حیران ہو کر پوچھا تم نے یہ مچھلیاں بینگن لگا کر پکڑی ہیں؟؟؟؟ تو آدمی نے جواب دیا نہیں وہ بینگن تو تمہارے لئے تھا۔ مچھلیوں کیلئے میں نے دوسرا کانٹا لگایا ہوا تھا
مُشاہدہ کبھی نہ چھوڑنا اپنا بھی اور کائنات کا بھی ورنہ آپ سے حیرت چِھن جاۓ گی۔ جہاں حیرت نہ رہے وہاں سوال نہیں رہتا۔ سوال ہی نہ رہے تو پھر کہاں کا سفر؟ کیسا سفر؟
استاد جنگ عظیم دوم میں ہٹلر سے پوچھا گیا کہ مسلسل جنگ کے نتیجے میں ہمارے قیمتی ترین لوگ مر رہے ہیں اب ہم کیا کریں ۔۔۔۔؟ ہٹلر نے جواب دیا کہ اگر ہوسکے تو اپنی قوم کے اساتذہ کو کہیں چھپادو اگر اساتذہ محفوظ ہیں تو یہ قیمتی لوگ پھر تیار ہو جائیں گے
دوست: یار تمہاری کامیاب شادی کا راز کیا ہے؟ دوسرا دوست : بھائی سیدھا سا فارمولا ہے کہ ہم نے اپنے اختیارات بانٹ رکھے ہیں۔ پہلا دوست: اچھا وہ کیسے؟ دوسرا دوست: بڑے اور اہم فیصلے میں کرتا ہوں اور چھوٹے موٹے فیصلے میری بیوی۔ پہلا دوست: مثلا؟ دوسرا دوست: مثلا گاڑی کونسی خریدنی ہے، بچے کونسے سکول میں داخل کروانے ہیں، گھر کا رنگ روغن ، فرنیچر، کب اور
کیسا ہونا چاہیے، میری تنخواہ کہاں خرچ ہونی چاہیے،، مجھے کس دوست رشتہ دار سے ملنا چاہیئے اور کس سے نہیں، مجھے برتن پہلے دھونے چاہیں یا کپڑے وغیرہ، یہ سارے چھوٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے ۔ پہلا دوست: اوکے، تو تم؟ دوسرا دوست: میں بڑے فیصلے مثلا ، نیٹو کو یوکرائن میں روس پر حملہ کرنا چاہئیے یا نہیں، عالمی منڈی میں تیل کا ریٹ کیا ہونا چاہیئے۔ اگلے سال اولمپک منعقد ہوں گے یا نہیں، امریکا کا اگلا حکمران کون ہونا چاہیئے وغیرہ۔ ان سارے عالمی امور پر میرا فیصلہ حتمی ہوتا ہے
جیتوپاکستان میں2لاکھ3تولہ سو نا 1لیپ ٹاپ مبارک ہو جیتو پاکستان نے میرے خواب پورے کردئیے میرا ہفتے میں دو بار انعام نکلتا رہتا ہے بہت بار تو دن میں دو دو دفع بھی ایسا ہی ھے لیکن اتنا بھی نہیں بتا ناااا کہ جیتو پاکستان نے کتنا امیر بنادیا ھمیں نظر لگ جاتی ھے
خاوند اور بیوی کے بارے میں ڈاکٹر یونس بٹ صاحب کے قلم سے خاوند کبھی اپنی بیوی کا آئیڈیل نہیں ہوتا اور جو بیوی کا آئیڈیل ہوتا ہے وہ کبھی اس کا خاوند نہیں ہوتا - دنیا کی کوئی بیوی اپنے خاوند سے عقلمند نہیں ہوتی کیونکہ اگر عقلمند ہوتی تو بیوقوف سے شادی کیوں کرتی - خاوند اچھا عاشق بھی ہوتا ہے بشرطیکہ بیوی کو پتہ نہ چلے - بیوی کا گھر میں زیادہ وقت فرنیچر اور خاوند کو جھاڑنے پونچھنے اور ان کو ان کے مقام پر رکھنے میں گزرتا ہے - شادی سے پہلے عورت کے پاس گھر گرہستی کا تجربہ ہوتا ہے اور خاوند کے پاس مہینے کی تنخواہ - جبکہ شادی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain