ہماری خوراک صرف وہی نہیں ہوتی کہ جو ہم کھاتے پیتے ہیں ہم جو دیکھتے، جو سُنتے، جو پڑھتے، جن کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے! جن معاملات کو اپنے دل ودماغ میں جذباتی، نفسیاتی جگہ دیتے، سوچتے، ہنستے، گاتے، روتے، یہ سب بھی ہماری خوراک ہی ہوتی ہے
سنو گرلز
جب بھی تم سے کوئی کام خراب ہوجائے یا کوئی گھر کا نقصان ہوجائے جس سے آپ کو لگے کہ اج تے چھتر پین ہی پین
تو لڑکیوں!!!! آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے
بس آپ نے کرنا یہ ہے کہ آرام سے اپنے کمرے میں جائیں اور اونچی آواز میں ۔۔ ساڈاچڑیاں_داچمبہ_وےبابل_اساں_اڈجانا ...لگا کر سنیں
۔ رونا ویسے بھی آپ کو امی کے چھتروں کے ڈر سے آہی جانا ۔
دیکھنا کچھ دیر بعد امی کمرے میں آئیں گی اور آپ کو گلے لگا کر پیار کرنے لگ جائیں گی
جہاں تم ہو
وہاں کا تو نہیں معلوم
لیکن یہاں
جہاں میں ہوں
وہاں ہر روز ہی
اک ملگجی سی شام اترتی ہے
ہوا ، بادل اسے خود
اس کی انگلی تھام کر
نیچے اتر کر
چھوڑ جاتے ہیں
کبھی اس شام کے
شانوں پہ سر رکھ کر
کہیں سے لوٹ آؤ
پھر چلے جانا !!!
خُدا جب کِسی کی مدد کرنے پر آتا ہے تو لا معلوم سے کوئی سبب پیدا کر دیتا ہے اور نا ہونے سے ہونا نکال دیتا ہے۔
دلی والے بلبل کو مذکر کہتے ہیں اور لکھنئو والے مونث
کسی نے ایک بہاری بزرگ سے پوچھا،
قبلہ! بتائیے بلبل اڑتا ہے یا بلبل اڑتی ہے؟
ُاُنھوں نے جواب دیا:
بھائی! بلبل اڑے ہے!
میں جب کوئی پاکستانی ڈرامہ دیکھتا ہوں مجھے اس کی ڈرامہ گرل سے سچا پیار ہوجاتا ہے۔ اور اس پر ھوتا ہوا ظلم دیکھ کر دل ڈُلتا رہتا ہے۔
ﻭﮐﺎﻟﺖ_ﮐﯽ_ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ
ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ : ﺍﮔﺮ ﯾﮧ سنگترہ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ
ﮐﯿﺎ ﺑﻮﻟﻮﮔﮯ؟؟
ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ : ﯾﮧ سنگترہ ﻟﻮ..
ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ : ﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻮﻟﻮ..
ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ : ﻣﯿﮟ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻨﺎﻥ ﻭﻟﺪ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤﺎﻥ ﺳﺎﮐﻦ الٰہ ﺁﺑﺎﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺍﻭﺭ ہوﺵ ﻭ ﮨﻮﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮈﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﺑﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺁئے ﺍﺱ ﭘﮭﻞ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺳﻨگﺘﺮﮦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺎﻟﮑﺎﻧﮧ ﺣﻖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮭﻠﮑﮯ , ﺭﺱ , ﮔﻮﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﭖ ﮐﻮ
ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ..
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﺣﻖ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﭼﮭﯿﻠﻨﮯ ﻓِﺮِﺝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﯾﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﯿﮟ..
ﺁﭖ ﯾﮧ ﺣﻖ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺷﺨﺺ کوﯾﮧ ﭘﮭﻞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮭﻠﮑﮯ , ﺭﺱ , ﮔﻮﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ..
ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺳﻨگﺘﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻗﺸﮯ ﯾﺎ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺳﻨگﺘﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺉ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺟﺎﮮ ﮔﺎ..
پروفیسر : پتر اگر اجازت ہووے تے میں تیرے کول ٹیوشن رکھ لواں
ڈرامے کا پہلا شو ختم ہونے پرڈرامے کےمصنف نے ناظرین سے پوچھا :
ڈرامے میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے؟
ایک ناظر : ڈرامے کے اختتام میں ہیروئن کو زہر دے کر مارنے کے بجائے بندوق چلائیں
مصنف؛ وہ کیوں بھلا؟
ناظر ؛ تاکہ اس کی آواز سے، سوئے ہوئے ناظرین جاگ جائیں!
بہترین زندگی وہ ہوتی جو انسان اپنی مرضی اور اصولوں کے مطابق گزارتا ہے۔ اس میں دوسروں کا خیال اور ذمہ داریوں کااحساس شامل ہوتا ہے لیکن وہ خود کو دوسروں کی توقعات اور کاموں کے بوجھ تلے زندہ دفن نہیں کر دیتا۔ زندگی کی بھاگم دوڑ میں اپنے لئے بھی وقت نکالتا ہے اور وہ کام کرتا ہے جن سے اس کو سکون اور راحت ملتی ہے۔ جو لوگ یہ ہنر سیکھ لیتے ہیں وہ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کرنے
میں ہچکچاتے نہیں، خواب دیکھتے ہیں اور ان کو تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں پچھتاوے کم اور خوشگوار یادیں زیادہ ہوتی ہیں۔ ہمارے پاس وسائل کی قلت، وقت کی کمی اور ہمت کا فقدان ہوتا ہے لیکن اگر ہم چاہیں تو زندگی کو بھرپور نہ سہی تھوڑا تو جی ہی سکتے ہیں۔ سالوں وقت اور کاموں کی چکی میں پسنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ زندگی اتنی بھی بری نہیں تھی جتنی ہم نے بنا رکھی تھی۔ زندگی آپ کے اندر ہوتی ہے باہر تو محض نتائج ہوتے ہیں
جب بھی کہیں بیٹھنے اور بات کرنے کا اتفاق ہو تو مخاطب کی سمجھ کے مطابق بات کیجیے۔۔۔
آپ کا مخاطب انگلش نہیں جانتا اور آپ انگلش جملے یا انگلش کے الفاظ کا استعمال شروع کردیں۔۔۔
عوام سے بات کرتے ہوئے اردو کے مشکل الفاظ کا استعمال کیا جائے۔۔۔یا پھر پنجابی بولنے والے کے ساتھ اردو ہی بولتے رھنا .
سائنس سے نابلد لوگوں میں سائنسی اصطلاحات کااستعمال کیا جائے۔۔۔
آپ نے جدید موبائلز کے بارے میں کافی سرچ کی ہے اور اس مواد کو ہرکس و ناکس کے سر پرآنڈیلتے رہیں۔۔۔
آپ گاڑیوں کے نت نئے ماڈلز یا جنریشنز سے آگہی رکھتے ہیں اور
اس گہری نظر کو ایسے مجمع یا مخاطب کے سامنے بیان کریں جن کا اس سے کوئی لینا دینا ہی نہ ہو۔۔۔
آپ کو تو گویا ایسا معلوم ہوگا کہ میری علمیت زیادہ ہے یا معلومات زیادہ ہے اور علمیت یا معلومات کا رُعب مُخاطب پر پڑے گا۔۔۔
لیکن درحقیقت یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ گفتگو کے آداب سے نا آشنا ہیں اور سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے متمنی ہیں۔۔۔
مخاطب کے فہم اور سمجھ کے مطابق طرزِ تکلم رکھنا ایک اہم اخلاقی پہلو ہے جس سے ہم لوگ اکثرپہلو تہی کرجاتے ہیں۔۔۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain