میری محبت اِک اَمربیل ہے` اور جانتے ہو نہ اَمربیل جس پیڑ پہ چڑھ جائے وہ کبھی سرسبز نہیں ہوتا۔۔ تم مجھ سے دور رہنا مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری محبت کی اَمربیل تجھ سے نہ لپٹ جائے۔!!
یہ انسان بھی بس پنسل کی مانند ہی ہوتا ہے ____ ✏ _حالات کی رگڑیں اسے گھڑتی رہیں تو اچھا اچھا اور خوشخط لکھتا رہتا ہے،_ _اور اسی طرح رگڑیں کھاتے اور گھڑتے گھڑتے یہ پنسل فنا ہوجاتی ہے .._ اگر کچھ بچتا ہے تو بس وہی ____ جو اس نے اچھا اچھا لکھ رکھا ہوتا ہے.
ایک مزاح نگار نے لکھا تھا کہ : میری بیوی اکثر مجھے صحیح فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے ۔ وہ جو مشورے دیتی ہے میں اس کے الٹ کر کے کامیاب ہو جاتا ہوں ۔ ہمارے شاعروں کی شام کو آنکھیں کھلتی ہی نہیں ۔ ایک ایسے ہی شاعر نے ایک بار منیر نیازی سے پوچھا : " آپ کے خیال میں آج کل کتنے شاعر اچھی غزل لکھ رہے ہیں ؟ " تو انہوں نے جواب دیا : " تمھارے اندازے سے ایک کم " ایک سیٹھ کی فیض احمد فیض سے جم خانہ کلب کراچی میں ملاقات ہوئی ۔ اس کے ایک دوست نے کہا : سیٹھ صاحب ! آئیے آپ کی ملاقات پاکستان ، ہندوستان کے سب سے بڑے شاعر سے کرائیں ۔ سیٹھ صاحب نے فیض احمد فیض سے مصافحہ کیا اور بولے : ہاں ۔ بھئی ہم جانتا ہے یہ " مرجا گالب " ہے ، بٹ تمیزیاں ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر محمد یونس بٹ
جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو پُھول توڑتے ہیں ، جب بڑے ہوتے ہیں تو پُھول دیتے ہیں ، اور جب ہم بُوڑھے ہوتے ہیں تو پُھول اُگاتے ہیں ، گو کہ پُھول اُگانا سب سے زیادہ قابلِ ستائش کام ہے ، مگر میرے عٙزِیز ! پُھول توڑنے کی عُمر میں پُھول نہ توڑنا اور پُھول دینے کی عُمر میں پُھول نہ دینا ایک خلافِ فِطرت بات ہے ، اور ہر وہ چِیز جو اپنی فِطرت سے ہٹ جائے ، وہ زیادہ دیر تک اپنا حٙقِیقی وُجُود قائم نہیں رکھ سکتی ، ہر دٙور اپنی ایک خُوبصُورتی رکھتا ہے ، پُھول توڑنا بھی خُوبصُورتی ہے ، پُھول دینا بھی خُوبصُورتی ہے اور پُھول اُگانا بھی خُوبصُورتی ہے_____________ پُھول توڑیئے________ ♡ پُھول دِیجیئے_________♡ پُھول اُگائیے________♡ بس پھولوں کے ارد گرد رہیے ' تاکہ دل میں نفرتوں کی گنجائش نہ رہے صرف اور صرف محبت کا بسیرا ہو
ایک لڑکی یونیورسٹی سے آرٹس کی ڈگری حاصل کرلیتی ہے لیکن اسے کہیں بھی نوکری نہیں مل پاتی۔ پانچ سال کی بے روزگاری کے بعد ... چڑیا گھر کے منیجر نے اس کی کہانی سنی ... اور اسے شیرنی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی، کیوں کہ ان کی شیرنی مر چکی تھی اور چڑیا گھر میں تنہا ببر شیر زندہ رہ رہا تھا ، جس کی وجہ سے ہر دن آنے والوں کی تعداد کم ہورہی تھی ... لڑلی یہ آفر قبول کرلیتی ہے اور خود سے کہتی ہے،اس کام میں کوئی حرج نہیں ... پیسہ اہم ہے۔ لڑکی یہ جاب کرنا شروع کرلیتی ہے اور اس لڑکی کی جلد کو شیرنی کی کھال سے
ڈھانپ دیا جاتا ہے اور اسے دن میں 8 گھنٹے پنجرے میں رہنا پڑتا ہے ... دن اسی طرح گزرتے رہے لوگ آتے اور پنجرے کے اندر شیرنی کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے رہے۔ ایک دن گارڈ پنجرے کے گیٹ کو لاک کرنا بھول گیا اور اسے کھلا چھوڑ دیا ...شیر نے جب یہ دیکھا تو شیر آہستہ آہستہ لڑکی کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ، لڑکی خوفزدہ ہوجاتی ہے اور اسے اپنی موت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنا شروع ہوجاتی ہے... شیر اس کے پاس آتا اور کہتا ہے: گھبرانا نہی ... میں عامر ہوں ... میں نے انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔
یہ کہاں تھی میری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا میری طرح کاش انہیں بھی میرا انتظار ہوتا یہ ہے میرے دل کی حسرت یہ ہے میرے دل کا ارماں ذرا مجھ سے ہوتی الفت ذرا مجھ سے پیار ہوتا اسی انتظار میں ہوں کسی دن وه دن بھی ہوگا تجھے آرزو یہ ہوگی کہ میں ہم کنار ہوتا تیرا دل کہیں نہ لگتا تجھے چین کیونکر آتا تو اداس اداس رہتا جو تو بے قرار ہوتا تیری بات مان لیتا کبھی تجھ سے کچھ نہ کہتا میرے بے قرار دل کو جو ذرا قرار ہوتا
یہی میری بے کلی پھر میری بے کلی نہ ہوتی جو تو دل نواز ہوتا جو تو غمگسار ہوتا کبھی اپنی آنکھ سے وه میرا حال دیکھ لیتے مجھے ہے یقین ان کا یہی حالِ زار ہوتا کبھی ان سے جا لپٹتا کبھی ان کے پاوں پڑتا سر رہگزر پہ ان کی جو مرا غبار ہوتا تری مہربانیوں سے مرے کام بن رہے ہیں جو تو مہرباں نہ ہوتا میں ذلیل و خوار ہوتا یہ ہے آپ کی نوازش کہ ادھر ہے آپ کا رخ نہ تھی مجھ میں کوئی خوبی کے امیدوار ہوتا جو معین میرا ان سے کسی دن ملاپ ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا
کبھی بچپن میں یہ حکایت سنی تھی یا پڑھی تھی کہ شیطان نے کسی حلوائی کی دکان سے انگلی میں ذرا سا شیرہ اٹھا کر دیوار پر چپکا دیا ۔اس پر ایک مکھی بیٹھ گئی۔ وہیں کہیں کوئی بلی بیٹھی تھی اس نے مکھی پر ایک جھپٹا مارا، بلی کو جھپٹتے دیکھ کر قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک کتے نے بلی پر چھلانگ لگادی حلوائی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور کتے کی کمر پر ایک ڈنڈا جڑدیا، کتے کی’ کیں کیں‘ سن کر اس کا مالک آگیا اور حلوائی سے اس کی تو تو میں میں شروع ہوگئی اور بات یہاں تک بڑھی کہ دونوں طرف سے ڈنڈے اور بلم اور بھالے نکل آئے، دو چار لاشیں گرگئیں اور دیکھتے
دیکھتے اس فساد نے پورے شہر کواپنی لپیٹ میں لے لیا شیطان کا کہنا تھا کہ اس نے تو صرف دیوار پر ایک ذرا سا شیرہ لگایا تھا ۔۔۔۔ مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ دنیا میں جہاں جو بھی گڑ بڑ ہے اس کے پیچھے وہ شیطان کی ایک بڑی ہی معمولی اور بظاہر بہت ہی معصوم سی شرارت ہوتی ہے اگر اس کو فوری طور پر پکڑ لیا جائے یا تلاش کرلیا جائے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچے جہاں عام طور پر پہنچ جاتی ہے
اے دوست بتا تو کیسا ہے کیا اب بھی محلّہ ویسا ہے ؟ وہ لوگ پرانےکیسے ہیں ؟ کیا اب بھی وہاں سب رہتے ہیں ؟ جن کو میں تب چھوڑ گیا دوکان تھی جوایک چھوٹی سی کیا بوڑھا چاچا ہوتا ہے ؟ کیا چیزیں اب بھی ہیں ملتی بسکٹ ، پاپڑ اور گولی اور گولی کھٹی میٹھی سی ؟ بیری والے گھر میں اب بھی کیا بچّے پتھر مارتے ہیں ؟ اوربوڑھی امّاں کیا اس پر اب بھی شور مچاتی ہے ؟ بجلی جانے پر اب بھی کیا خوشی منائی جاتی ہے
پھر چھپن چھپائی ہوتی ہے ؟ کیا پاس کسی کے ہونے پر مٹھائی بھی بانٹی جاتی ہے ؟ بارش کے پہلے قطرے پر کیا ہلّہ گلّہ ہوتا ہے ؟ اور غم میں کسی کے اب بھی کیا پورا محلّہ روتا ہے ؟ گلی کے کونے میں بیٹھے کیا دنیا کی سیاست ہوتی ہے ؟ گڈے گڑیوں کی کیااب بھی بچوں میں شادی ہوتی ہے ؟ اے دوست بتا سب کیسا ہے کیا محلّہ اب بھی ویسا ہے ؟ کیا اب بھی شام کو سب سکھیاں
دن بھر کی کہانی کہتی ہیں ؟ پرلی چھت سے چھپ چھپ کر کیا اب بھی انہیں کوئی دیکھتا ہے ؟ کیا اب بھی چھپ چھپ کر ان میں کوی خط و کتابت ہوتی ہے ؟ وہ عید پہ بکروں بیلو ں کا کیا گھر گھرمیلہ سجتا ہے ؟ خاموش ہےتو کیوں دوست میرے کیوں سر جھکا کر روتا ہے ؟ ہلکے ہلکے لفظ دبا کر کہتا ہے سب لوگ پرانے چلے گئے سب بوڑھے چاچا ، ماما ، خالو خالہ ، چاچی ، امّاں سب ملک عدم کو لوٹ گئے گھر بکے اور تقسیم ہوئے اپنےحصّے لے کر سب اپنے مکاں بنا بیٹھے انجانوں کی بستی ہے وہ اب لوٹ کے تو کیا جائے گا دل تیرا بھر بھر آئے گا
ایک آدمی جھوٹ بولنے کی وجہ سے بڑا مشہور تھا۔ ایک بوڑھی عورت کو پتہ چلا تو اس کی اصلاح کی نیت سے اس کے پاس گئ اور بولی۔ '' بیٹا میں نے سنا ہے کہ تم دنیا کے سب سے جھوٹے آدمی ہو۔؟'' آدمی بولا،۔ '' دنیا کو دفع کریں جی، میں تو آپ کو دیکھ کر سخت حیراں ہوں کہ اس عمر میں بھی یہ حسن، یہ جمال ، یہ دلکشی۔۔۔'' بوڑھی عورت شرماتے ہوئے بولی۔ '' ہائے اللہ یہ دنیا والے بھی کتنے ظالم ہیں۔ اچھے بھلے آدمی کو جھوٹا کہتے ہیں ۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain