Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

childhood بچپن
O  : childhood بچپن - 
Offline
 

میری محبت اِک اَمربیل ہے`
اور جانتے ہو نہ اَمربیل جس پیڑ پہ چڑھ جائے
وہ کبھی سرسبز نہیں ہوتا۔۔
تم مجھ سے دور رہنا مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری محبت کی اَمربیل تجھ سے نہ لپٹ جائے۔!!

Offline
 

یہ انسان بھی بس پنسل کی مانند ہی ہوتا ہے ____ ✏
_حالات کی رگڑیں اسے گھڑتی رہیں تو اچھا اچھا اور خوشخط لکھتا رہتا ہے،_
_اور اسی طرح رگڑیں کھاتے اور گھڑتے گھڑتے یہ پنسل فنا ہوجاتی ہے .._
اگر کچھ بچتا ہے تو بس وہی ____ جو اس نے اچھا اچھا لکھ رکھا ہوتا ہے.

Offline
 

انت الحب
تم محبت ہو !
زیرا خندہ ات عشق است
کیونکہ ! تمہارا ہنسنا محبت ہے !

Offline
 

کتنی مخلوق ہے ،
ہنگامے ہیں ،
آوازیں ہیں
پھر بھی احساس کی اک
سطح پہ
ہولے ہولے
کیسے چپ چاپ برستا ہے
تصور تیرا۔۔۔!

Offline
 

ایک مزاح نگار نے لکھا تھا کہ :
میری بیوی اکثر مجھے صحیح فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے ۔ وہ جو مشورے دیتی ہے میں اس کے الٹ کر کے کامیاب ہو جاتا ہوں ۔
ہمارے شاعروں کی شام کو آنکھیں کھلتی ہی نہیں ۔ ایک ایسے ہی شاعر نے ایک بار منیر نیازی سے پوچھا :
" آپ کے خیال میں آج کل کتنے شاعر اچھی غزل لکھ رہے ہیں ؟ "
تو انہوں نے جواب دیا :
" تمھارے اندازے سے ایک کم "
ایک سیٹھ کی فیض احمد فیض سے جم خانہ کلب کراچی میں ملاقات ہوئی ۔ اس کے ایک دوست نے کہا :
سیٹھ صاحب ! آئیے آپ کی ملاقات پاکستان ، ہندوستان کے سب سے بڑے شاعر سے کرائیں ۔
سیٹھ صاحب نے فیض احمد فیض سے مصافحہ کیا اور بولے :
ہاں ۔ بھئی ہم جانتا ہے یہ " مرجا گالب " ہے ،
بٹ تمیزیاں ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر محمد یونس بٹ

Offline
 

جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو پُھول توڑتے ہیں ،
جب بڑے ہوتے ہیں تو پُھول دیتے ہیں ،
اور جب ہم بُوڑھے ہوتے ہیں تو پُھول اُگاتے ہیں ،
گو کہ پُھول اُگانا سب سے زیادہ قابلِ ستائش کام ہے ، مگر میرے عٙزِیز ! پُھول توڑنے کی عُمر میں پُھول نہ توڑنا اور پُھول دینے کی عُمر میں پُھول نہ دینا ایک خلافِ فِطرت بات ہے ، اور ہر وہ چِیز جو اپنی فِطرت سے ہٹ جائے ، وہ زیادہ دیر تک اپنا حٙقِیقی وُجُود قائم نہیں رکھ سکتی ، ہر دٙور اپنی ایک خُوبصُورتی رکھتا ہے ، پُھول توڑنا بھی خُوبصُورتی ہے ، پُھول دینا بھی خُوبصُورتی ہے اور پُھول اُگانا بھی خُوبصُورتی ہے_____________
پُھول توڑیئے________ ♡
پُھول دِیجیئے_________♡
پُھول اُگائیے________♡
بس پھولوں کے ارد گرد رہیے ' تاکہ دل میں نفرتوں کی گنجائش نہ رہے صرف اور صرف محبت کا بسیرا ہو

Offline
 

محبت پھول ہوتی ہے، کہو تو
پھول بن جاؤں

Offline
 

ایک لڑکی یونیورسٹی سے آرٹس کی ڈگری حاصل کرلیتی ہے لیکن اسے کہیں بھی نوکری نہیں مل پاتی۔
پانچ سال کی بے روزگاری کے بعد ... چڑیا گھر کے منیجر نے اس کی کہانی سنی ... اور اسے شیرنی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی، کیوں کہ ان کی شیرنی مر چکی تھی اور چڑیا گھر میں تنہا ببر شیر زندہ رہ رہا تھا ، جس کی وجہ سے ہر دن آنے والوں کی تعداد کم ہورہی تھی ...
لڑلی یہ آفر قبول کرلیتی ہے اور خود سے کہتی ہے،اس کام میں کوئی حرج نہیں ... پیسہ اہم ہے۔
لڑکی یہ جاب کرنا شروع کرلیتی ہے اور اس لڑکی کی جلد کو شیرنی کی کھال سے

Offline
 

ڈھانپ دیا جاتا ہے اور اسے دن میں 8 گھنٹے پنجرے میں رہنا پڑتا ہے ...
دن اسی طرح گزرتے رہے لوگ آتے اور پنجرے کے اندر شیرنی کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے رہے۔
ایک دن گارڈ پنجرے کے گیٹ کو لاک کرنا بھول گیا اور اسے کھلا چھوڑ دیا ...شیر نے جب یہ دیکھا تو
شیر آہستہ آہستہ لڑکی کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ، لڑکی خوفزدہ ہوجاتی ہے اور اسے اپنی موت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنا شروع ہوجاتی ہے...
شیر اس کے پاس آتا اور کہتا ہے: گھبرانا نہی ... میں عامر ہوں ... میں نے انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔

Offline
 

بچہ ہمیشہ خوبصورت کیوں نظر آتا ہے؟
کیونکہ وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے کہ آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں.

Eat your salad
O  : Eat your salad - 
Offline
 

یہ کہاں تھی میری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
میری طرح کاش انہیں بھی میرا انتظار ہوتا
یہ ہے میرے دل کی حسرت یہ ہے میرے دل کا ارماں
ذرا مجھ سے ہوتی الفت ذرا مجھ سے پیار ہوتا
اسی انتظار میں ہوں کسی دن وه دن بھی ہوگا
تجھے آرزو یہ ہوگی کہ میں ہم کنار ہوتا
تیرا دل کہیں نہ لگتا تجھے چین کیونکر آتا
تو اداس اداس رہتا جو تو بے قرار ہوتا
تیری بات مان لیتا کبھی تجھ سے کچھ نہ کہتا
میرے بے قرار دل کو جو ذرا قرار ہوتا

Offline
 

یہی میری بے کلی پھر میری بے کلی نہ ہوتی
جو تو دل نواز ہوتا جو تو غمگسار ہوتا
کبھی اپنی آنکھ سے وه میرا حال دیکھ لیتے
مجھے ہے یقین ان کا یہی حالِ زار ہوتا
کبھی ان سے جا لپٹتا کبھی ان کے پاوں پڑتا
سر رہگزر پہ ان کی جو مرا غبار ہوتا
تری مہربانیوں سے مرے کام بن رہے ہیں
جو تو مہرباں نہ ہوتا میں ذلیل و خوار ہوتا
یہ ہے آپ کی نوازش کہ ادھر ہے آپ کا رخ
نہ تھی مجھ میں کوئی خوبی کے امیدوار ہوتا
جو معین میرا ان سے کسی دن ملاپ ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا

Offline
 

کبھی بچپن میں یہ حکایت سنی تھی یا پڑھی تھی کہ شیطان نے کسی حلوائی کی دکان سے انگلی میں ذرا سا شیرہ اٹھا کر دیوار پر چپکا دیا ۔اس پر ایک مکھی بیٹھ گئی۔ وہیں کہیں کوئی بلی بیٹھی تھی اس نے مکھی پر ایک جھپٹا مارا، بلی کو جھپٹتے دیکھ کر قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک کتے نے بلی پر چھلانگ لگادی حلوائی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور کتے کی کمر پر ایک ڈنڈا جڑدیا، کتے کی’ کیں کیں‘ سن کر اس کا مالک آگیا اور حلوائی سے اس کی تو تو میں میں شروع ہوگئی اور بات یہاں تک بڑھی کہ دونوں طرف سے ڈنڈے اور بلم اور بھالے نکل آئے، دو چار لاشیں گرگئیں اور دیکھتے

Offline
 

دیکھتے اس فساد نے پورے شہر کواپنی لپیٹ میں لے لیا
شیطان کا کہنا تھا کہ اس نے تو صرف دیوار پر ایک ذرا سا شیرہ لگایا تھا ۔۔۔۔ مجھے کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ دنیا میں جہاں جو بھی گڑ بڑ ہے اس کے پیچھے وہ شیطان کی ایک بڑی ہی معمولی اور بظاہر بہت ہی معصوم سی شرارت ہوتی ہے اگر اس کو فوری طور پر پکڑ لیا جائے یا تلاش کرلیا جائے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچے جہاں عام طور پر پہنچ جاتی ہے

Offline
 

اے دوست بتا تو کیسا ہے
کیا اب بھی محلّہ ویسا ہے ؟
وہ لوگ پرانےکیسے ہیں ؟
کیا اب بھی وہاں سب رہتے ہیں ؟
جن کو میں تب چھوڑ گیا
دوکان تھی جوایک چھوٹی سی
کیا بوڑھا چاچا ہوتا ہے ؟
کیا چیزیں اب بھی ہیں ملتی
بسکٹ ، پاپڑ اور گولی
اور گولی کھٹی میٹھی سی ؟
بیری والے گھر میں اب بھی
کیا بچّے پتھر مارتے ہیں ؟
اوربوڑھی امّاں کیا اس پر
اب بھی شور مچاتی ہے ؟
بجلی جانے پر اب بھی
کیا خوشی منائی جاتی ہے

Offline
 

پھر چھپن چھپائی ہوتی ہے ؟
کیا پاس کسی کے ہونے پر
مٹھائی بھی بانٹی جاتی ہے ؟
بارش کے پہلے قطرے پر
کیا ہلّہ گلّہ ہوتا ہے ؟
اور غم میں کسی کے اب بھی
کیا پورا محلّہ روتا ہے ؟
گلی کے کونے میں بیٹھے
کیا دنیا کی سیاست ہوتی ہے ؟
گڈے گڑیوں کی کیااب بھی
بچوں میں شادی ہوتی ہے ؟
اے دوست بتا سب کیسا ہے
کیا محلّہ اب بھی ویسا ہے ؟
کیا اب بھی شام کو سب سکھیاں

Offline
 

دن بھر کی کہانی کہتی ہیں ؟
پرلی چھت سے چھپ چھپ کر
کیا اب بھی انہیں کوئی دیکھتا ہے ؟
کیا اب بھی چھپ چھپ کر ان میں
کوی خط و کتابت ہوتی ہے ؟
وہ عید پہ بکروں بیلو ں کا
کیا گھر گھرمیلہ سجتا ہے ؟
خاموش ہےتو کیوں دوست میرے
کیوں سر جھکا کر روتا ہے ؟
ہلکے ہلکے لفظ دبا کر کہتا ہے
سب لوگ پرانے چلے گئے
سب بوڑھے چاچا ، ماما ، خالو
خالہ ، چاچی ، امّاں
سب ملک عدم کو لوٹ گئے
گھر بکے اور تقسیم ہوئے
اپنےحصّے لے کر سب
اپنے مکاں بنا بیٹھے
انجانوں کی بستی ہے وہ
اب لوٹ کے تو کیا جائے گا
دل تیرا بھر بھر آئے گا

Offline
 

ایک آدمی جھوٹ بولنے کی وجہ سے بڑا مشہور تھا۔
ایک بوڑھی عورت کو پتہ چلا تو اس کی اصلاح کی نیت سے اس کے پاس گئ اور بولی۔ '' بیٹا میں نے سنا ہے کہ تم دنیا کے سب سے جھوٹے آدمی ہو۔؟''
آدمی بولا،۔ '' دنیا کو دفع کریں جی، میں تو آپ کو دیکھ کر سخت حیراں ہوں کہ اس عمر میں بھی یہ حسن، یہ جمال ، یہ دلکشی۔۔۔''
بوڑھی عورت شرماتے ہوئے بولی۔ '' ہائے اللہ یہ دنیا والے بھی کتنے ظالم ہیں۔ اچھے بھلے آدمی کو جھوٹا کہتے ہیں ۔