Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

چلو چھوڑو۔۔۔!۔
میرا ہونا نہ ہونا اِک برابر ہے
تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم اُترنے دو!۔
۔’’ میرے خوابوں کو مرنے دو ‘‘۔
نئی تصویر دیکھو
پھر نیا مکتوب لکھّو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
میری یادوں سے کچّے رابطے توڑو
چلو چھوڑو۔۔۔!۔
محبت جھوٹ ہے۔۔!۔
عہدِ وفا اِک شَغل ہے بے کار لوگوں کا۔۔۔۔!!۔

Offline
 

میں نے حسین لڑکیوں کو عام طور اپنے سے دُور دُور ہی پایا ہے۔
پری زاد

Offline
 

کُچھ دوائیں فارمیسی سے نہیں ملتیں . .
مگر.....
کسی کے قُرب میں،
کسی کے لمّس میں ،
کسی کا کندھا میّسر ہونے میں،
کسی کی آغوش میں،
کسی کے پہلو میں سمٹ جانے سے،
کسی کی باہوں میں چُھپ جانے میں
کسی کے چند میٹھے جملوں میں ،
کسی کی آنکھوں کی محبت بھری چمک میں ،
تو کسی کے دستِ شفقت میں،
کسی کی پوروں سے اشک چُننے میں تو کبھی
کسی کے اُٹھے ہوئے ہاتھوں میں مل جاتی ہیں ....
مگر !!!
سب دوائیں فارمیسی سے نہیں ملتیں

Offline
 

یہ بھی ایک زمانہ تھا
پانچویں جماعت تک ھم سلیٹ پر جو بھی لکھتے تھے اُسے زبان سے چاٹ کر صاف کرتے ، یوں کیلشیم کی کمی کبھی ہوئی ہی نہیں۔
پاس یا فیل ۔۔ صرف یہی معلوم تھا، کیونکہ فیصد سے ہم لا تعلق تھے۔ ٹیوشن شرمناک بات تھی، نالائق بچے اُستاد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سمجھے جاتے۔
کتابوں میں مور کا پنکھ رکھنے سے ھم ذہین، ہوشیار ھو جائینگے، یہ ھمارا اعتقاد بھروسہ تھا۔
بیگ میں کتابیں سلیقہ سے رکھنا سُگھڑ پن اور با صلاحیت ہونے کا ثبوت تھا۔
ہر سال نئی جماعت کی کتابوں اور کاپیوں پر کورز چڑھانا ایک سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی۔
والدین ہمارے تعلیم کے تیئں زیادہ فکرمند نہ ہوا کرتے تھے اور نہ ہی ہماری تعلیم اُن پر کوئی بوجھ تھی، سالہا سال ہمارے والدین ہمارے اسکول کی طرف رُخ بھی نہیں کیا کرتے تھے، کیونکہ ہم میں ذہانت جو تھی۔
اسکول

Offline
 

میں مار کھاتے ہوئے یا مرغا بنے ہوئے ہمارے درمیاں کبھی انا بیچ میں آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوا۔ انا کیا ہوتی ہے یہی معلوم نہ تھا۔ مار کھانا ہمارے روزمرہ زندگی کی عام سی بات تھی ، مارنے والا اور مار کھانے والا دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہ ہوا کرتی تھی۔
ھم اپنے والدین سے کبھی نہ کہہ سکے کہ ہمیں ان سے کتنی محبت ہے ۔ نہ باپ ھمیں کہتا تھا ۔ کیونکہ آ ئى لو یو کہنا تب رائج نہ تھا اور ہمیں معلوم بھی نہ تھا،
کیونکہ تب محبتیں زبان سے ادا نہیں کی جاتی تھیں بلکہ ہُوا کرتی تھیں،
رشتوں میں بھی کوئی لگی بندھی نہیں ہوا کرتی تھی، بلکہ وہ خلوص اور محبت سے سرشار ہوا کرتے تھے۔
سچائی یہی ھے کہ ھم یا ہماری عمر کے قریب سبھی افراد اپنی قسمت پر ہمیشہ راضی ہی رہے، ہمارا زمانہ خوش بختی کی علامت تھا ، اسکا موازنہ آج کی زندگی سے کر ہی نہیں سکتے

Shab Bakhair
O  : Shab Bakhair - 
Memes & Satire image
O  : Checks out - 
Beautiful Nature image
O  : Lake views - 
Memes & Satire image
O  : Software engineering be like - 
Memes & Satire image
O  : Computer Virus - 
Offline
 

"اداس لوگوں کی بستیوں میں"....
"وہ تتلیوں کو تلاش کرتی"...
"وہ گول چہرہ ، وہ کالی آنکھیں".....
"جو کرتی رہتی ہزار باتیں"....
"مزاج سادہ ، ، ، وہ دل کی اچھی"....
"ساری باتیں وہ دل کی مانے".....
"وہی کرے وہ ، جو دل میں ٹھانے"...
"کوئی نا جانے ، ، کیا اس کی مرضی"....
"وہ چاہتوں کے سراب دیکھے"....
"محبتوں کے وہ خواب دیکھے"....
"وہ دوستی کے نصاب جانے"....
"وہ جانتی ہے عہد نبھانے"....
"وہ اچھی دوست وہ اچھی ساتھی"....
"محبتوں کا جو فلسفہ ہے"....
"وہ جانتی ہے ، ، اسے پتہ ہے"....
"وہ پھر بھی رہتی ڈری ڈری سی"....
"وہ جھوٹے لوگوں کو سچا سمجھے"...
"وہ ساری دنیا کو اچھا سمجھے"....
"وہ کتنی سادی ، ،، وہ کتنی پگلی"..

Offline
 

جس شخص کو گلے لگانے کی ضرورت ہو، اسے لیکچر نہیں دینا چاہیئے۔

Offline
 

میں نے ہر بار نئی آنکھ سے دیکھا تجھ کو
مجھ کو ہر بار نیا عشق ہوا ہے تجھ سے

Offline
 

؎ جہاں میں اہلِ ایمان صُورتِ خورشید جِیتے ہیں ..!
اچھے لوگوں کا ساتھ ہمیشہ زندگی میں اچھائی اور بہتری لاتا ہے اگر آپکو اپنے ارد گِرد ایسا کوئی انسان نہیں مل رہا جو زِندگی کے رُخ کو نیگیٹیوٹی سے پازیٹیوٹی کی طرف بدلنے کی سعی کرتا، ترغیب دیتا یا سکھاتا ہو تو کوشش کریں کہ آپ خُود ایسے بن جائیں۔

Offline
 

" اور پھر تُمہیں کیا معلوم کہ ؛ جب کوئی بھیگی آنکھیں سختی سے رگڑ کر لمبی سانس کھینچ کر تلخ مُسکراہٹ لبوں پر سجائے آسمان کی طرف دیکھے تو وہ ضبط کی کِس انتہا پر ہوتا ہے!

Offline
 

تیری جھلک سکونِ قلب سہی ،
تیری عادت نے نُقصان بڑا کیا ہے.

Offline
 

بچپن کی یادیں
آپ کو سٹاپو کھیلنا آتا ہے؟
اور یسو پنجو آتا ہے؟
اور چڑی اُڈی کاں اُڈا آتا ہے؟
گرم پِٹھو کھیلے ہو کبھی؟
بادشاہ بادشاہ کا وزیر کون، جانتے ہو؟
رسی پھلانگی ہے کبھی؟
گلی ڈنڈا کھیلے ہو؟
بنٹے (کنچے) کھیلنا آتا ہے؟
نیلی پری آنا، جانتی ہو؟
کوکلا چھپاکی جمعرات آئی اے, کبھی کھیلنے کا اتفاق ہوا؟
باندر کِلا سے واقف ہو؟
بارش کے موسم میں ریت کے ڈھیر سے کبھی گھسیٹی نیچے آئے ہو؟

Offline
 

کبھی ٹیوب ویل میں ڈبکیاں لگائی ہیں؟
کبھی درحت پر چڑھ کر پکے پکے امرود ڈھونڈھے ہیں؟
کبھی جو درحت کے ساتھ پینگ (جھولا) جھلائی ہو؟
کبھی فرشی پنکھے کے سامنے کھڑے ہو کر آااااااااااااااا کیا یے؟
کبھی رضائیوں کی تہہ پر سب سے اُوپر چڑھ کر بیٹھ جانا اور خُود کو بادشاہ سمجھنا، یہ لُطف محسوس کیا ہو؟
کبھی سائیکل کے ٹائر کو اپنی کمر کے گرد گزار کر اسے گول گول گھمایا ہے؟
کبھی برساتی موسم میں راہ چلتے ایک مینڈک کو پکڑ کر کسی کی قمیض میں ڈالا ہے؟
کبھی بابا دولے شاہ کے چوہوں سے ڈر کر اپنے گھر کے سب سے پچھلے کمرے کی پیٹیوں کے پیچھے یا نیچے چھپے ہو؟
کبھی ٹھپے لگوانے والیوں کو آٹا دے کر ٹھپے لگوائے ہیں؟
کبھی جو کبھی جو لوہا لیلن ٹین ڈبے بیچ کر کرارے پاپڑ کھائے ہوں؟
اگر یہ سب نہیں کیا تو تم کیا جانو بچپن کی موجیں۔

Offline
 

پوسٹ میجر ہوتی ہے لیکن اس کے آخر میں جنرل لکھ دیا جاتا ہے۔ یوں وہ پوسٹ میجر جنرل بن جاتی ہے۔
ویسے آرمی میں جنرل بڑا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں گفتگو یا مسائل میں میجر بڑا ہوتا ہے۔ پتا نہیں کیوں؟

Offline
 

نان سیریس لوگ
یار یہ جو’’ نان سیریس‘‘ قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ عجیب ہوتے ہیں۔ یہ اکثر ہنستے اور ہنساتے نظر آتے ہیں ۔بہت مرتبہ ان کی زندگی پر رشک آنے لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے انہوں نے دکھ غم قسم کی چیز کبھی دیکھی ہی نہیں۔ لیکن ایسا ہے نہیں... یہ سطحی دکھائی دینے والے لوگ ہوتے بڑے گہرے ہیں۔ آپ کبھی کسی ’’نان سیریس‘‘ شخص کو اعتماد میں لیجیے۔ اُسے کسی پُرسکون جگہ بٹھا کر کریدیے۔ اوّل تو وہ آپ کے سوالوں اور اس کی ذات میں آپ کی دلچسپیوں کو اپنی مسکراہٹوں میں اُڑائے گا۔ وہ اپنی عادت کے مطابق آپ کو لطیفوں، قصّوں میں اُلجھا کر دامن چھڑانے اور رسی تُڑانے کی کوشش کرے گا۔ وہ یہ باور کرانے پر اصرار کرے گا کہ اس نے آپ کی بات کا نوٹس ہی نہیں لیا ۔ تجاہلِ عارفانہ کا سہارا لے گا۔ آپ ڈٹے رہیے۔