کچھ دیر بعد وہ آپ کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا ... وہ آپ کو ان گنت قہقہوں اور بے شمار مسکراہٹوں کے نیچے دبے وہ دُکھ نکال نکال کر دکھائے گا ۔ ۔ ۔ وہ ہرزخم کی الگ داستان سنائے گا ۔ وہ آپ کو زندگی کے بے شمار سبق سمجھائے گا۔ تھوڑی دیر کے لیے آپ حیران ضرور ہوں گے ۔ مگر جان جائیں گے کہ زندگی کسی ایک صدمے، کسی ایک دکھ، کسی ایک محرومی کے بوجھ تلے عمر گزار دینے کا نام نہیں۔ تکلیف دہ واقعات کا سامنا کون نہیں کرتا۔ انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دینے والے سانحات کس کے ساتھ پیش نہیں آتے۔ لیکن زندگی اپنے چہرے کو ہر وقت دکھوں ،محرومیوں ،غموں کی آرٹ گیلری بنائے رکھنے کا نام نہیں۔ زندگی اپنے کو کسی ایک صدمے کی بھٹی میں جھونک دینے کا
نام نہیں۔ زندگی روتے رہنے کا نام نہیں ۔ یہ’’ نان سیریس‘‘ کہلائے جانے والے لوگ زندگی کے سب سے بڑے استاد ہیں۔ یہ گِر کر دوبارہ ایک نئے ولولے سے اُٹھنا سکھاتے ہیں۔ یہ ٹوٹ کر بکھر جانے والے دل کی کرچیاں اکٹھی کر پھر سے جوڑننا سکھاتے ہیں۔ یہ سکھاتے ہیں کی غم سے مر جانے والا دل دوبارہ کیونکر جِلایا جا سکتا ہے۔ یہ بلا کے خوددار ہوتے ہیں۔ اپنے غم کو کسی کے حرفِ تسلّی کے عوض ہر گز نہیں بیچتے۔ یہ ہنستے ہیں اور ٹوٹ کر ہنستے ہیں ۔ بے پناہ ہنستے ہیں۔ان کے قہقہے ان کے ناتوان ہو جانے والے جذبوں کو ایک نئی توانائی بحشتے ہیں۔یہی وجہ ہے یہ’’ نان سیریس‘‘ لوگ زندگی گھسیٹتے نہیں گزارتے ہیں ۔ ہاں گزارتے ہیں ۔یہ کسی ایک حادثے کو کبھی اتنا سرکش نہیں ہوتے دیتے کہ وہ انہیں گزار دے.. !
ہم تو حروف تہجی بھی نہیں پڑھ سکتے۔۔۔۔۔
اور وہ آنکھیں ہیں ریاضی کے سوالوں جیسی
بتانے کو الفاظ میسر نہیں ہیں ورنہ..
خواہشوں نے دل میں دربار لگا رکھا ہے
تمہارا حٗسسن بھی کِسی وباء سےَ کم نہیںِ
مۭن يَراهَٗ يَمٗوت
جو دیکھے مر جاۓ
باتوں باتوں میں ______خدا کو یہ بتایا میں نے
مجھ کو اک شخص ضروری تھا _مگر اچھا خیر
اگر اپنی قوت برداشت چیک کرنا چاہتے ہیں تو گاہے بگاہے لڑ لیا کریں۔ لڑائی جھگڑے کے دوران بہت سی باتیں سمجھ آئیں گی۔ ایک بار لڑنے سے کچھ نہیں حاصل ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہفتے دو ہفتے بعد یا مہینے دو مہینے میں ایک معرکہ ہو جائے۔
اس دوران آپ سیکھیں گے کہ لڑائی میں کس مقام پر انسان نے پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ کس مقام پر ڈٹ جانا ہے۔ کس مقام پر میدان چھوڑ جانا بہتر ہوتا ہے۔ کوئی ایک لڑائی ایسی ہو کہ لڑائی کے دوران اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں کچھ ہوش نہ رہے. بالکل بھی یاد نہ رہے کہ مذاق میں لڑ رہے تھے۔ یہ بھی یاد نہ رہے کس بات پہ لڑائی شروع ہوئی تھی۔ ہاں
ایسی لڑائی میں ایک عدد ریفری نما بندہ ساتھ رکھیں۔ جو ہوش میں لائے۔
اب بعد میں بیٹھ کر غور کریں۔ دوران لڑائی آپ کس قسم کی زبان استعمال کرتے رہے؟ شائستگی کا دامن تھامے رکھا یا گالی گلوچ پہ اتر آئے؟ اگر تو شائستگی برقرار رکھی پھر تو خوش ہو جائیں لیکن اگر زبان پھسل گئی تو پھر اپنی شخصیت میں بہتری لانے کی کوشش کریں۔
انھی لڑائیوں کے دوران آپ کو اپنی قوت برداشت کا اندازہ ہو گا اور اسے بہتر بنانے کا بھی موقع ملے گا.
یہ سب باتیں پڑھنے سے نہیں سمجھ آئیں گی۔ اس کے لیے عملی مشق کی ضرورت ہے۔
اللہ مجھے معاف کرے۔
میں نے شادی شدہ ایک دوست سے پوچھا رات کو آنلائین کب آتے ہو
دردر کی دیواریں ہل گئ جب اس نے کہا برتن دھونے
کے بعد
اسکی موجودگی سے پھولوں پر
نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے
آج کل یوں لگتا ہے جیسے سلجوقی ریاست میں ہوں۔ جب کوئی فالو ریکویسٹ آتی ہے تو خیال آتا ہے کوئی باطنی جاسوس نہ ہو۔ جو ریاست کا نظام درہم برہم کرنا چاہ رہا ہو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain