بارشوں کو کیا معلوم اس طرح برسنے سے دل پہ کیا گزرتی ہے یاد کے کئی چہرے جھانکتے ہیں ماضی کے ادھ کُھلے دریچے سے بارشوں کو کیا معلوم اس طرح کے موسم سے سوچ کے درختوں پر پھر بہار آتی ہے منظروں کے جادو سے لفظ جُڑنے لگتے ہیں جن کو روز مرہ کے فالتو سے کاموں میں ہم بُھلائے بیٹھے ہوں یاد آنے لگتے ہیں بارشوں کو کیا معلوم اس طرح برسنے سے دل پہ کیا گزرتی ہے جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی
شاعروں کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیا کریں۔ میڈم نورجہاں کا معروف پنجابی گانا ”جدوں ھولی جئی لینا اے میرا ناں ، میں تھاں مر جانی آں“ سُن کر ایک شوہر پچھلے بیس سال سے اپنی سگی بیگم کا نام انتہائی آہستگی سے لے رہے ھیں ، لیکن تاحال مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ مذکورہ گیت اُردو میں کچھ اس طرح ھے ”جب آھستہ سے میرا نام لیتے ھو ، میں فوراً فوت ھو جاتی ھُوں“۔
آپ نے کتنی دفعہ لوگوں کے منہ سے سنا ہوگا چل اوئے اکثر لوگ اس کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں مگر آج تک بہت کم لوگ اس کی تعریف جانتے ہیں... ہم اکثر اوقات بلاوجہ سوچے سمجھے اپنی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں... ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اصل میں چل اوئے فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے چل اوئے غور سے پڑھنے کا شکریہ
ھر درد پہن لینا، ھر خواب میں کھو جانا کیا اپنی طبیعت ھے، ھر شخص کا ھو جانا اِک شہر بسا لینا ، بچھڑے ھُوئے لوگوں کا پھر شب کےجزیرے میں دل تھام کےسو جانا موضُوعِ سُخن کچھ ھو ، تا دیر اسے تکنا ھر لفظ پہ رک جانا ، ھر بات پہ کھو جانا آنا تو بکھر جانا، سانسوں میں مَہک بن کر جانا تو کلیجے میں ، کانٹے سے چبھو جانا جاتے ھُوئے چپ رھنا، اُن بولتی آنکھوں کا خاموش تکلم سے ، پلکوں کو بھگو جانا لفظوں میں اُتر آنا، اُن پُھول سے ھونٹوں کا اِک لَمس کی خوشبو کا، پوروں میں سمو جانا ھر صُبح عزائم کے ، کچھ محل بنا لینا ھر شام اِرادوں کی دھلیز پہ سو جانا
ڈاکٹر کے پاس جائیں تو چاول کھا کر جائیں کیونکہ سب سے پہلے اس نے یہی بند کروانے ہیں زندگی میں اتنے بھی شریف مت بنوں کے لوگ تمہیں استعمال کرناشروع کر دیں یاد رکھناجن تاروں میں کرنٹ نہیں ہوتا لوگ ان پہ کپڑےسکھاتے ہیں! جب زیادہ ٹھنڈ لگے تو جانو کے گھر چلے جایا کرو اس کے بھائی سیک دیا کریں گے۔ اگر شرٹ پر چائے گِر جائے تو اُسے ٹی شرٹ کہتے ہیں.کون دسے گا توانوں سیانیاں گلاں
باتیں بہت گہری ہوتی ہیں" میں تب سے اس سوچ میں گم ہوں کہ کیا واقعی باتیں گہری ہوتی ہیں؟؟؟ کیونکہ گہرےتو دُکھ ہوتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتے, گہرے تو روح پہ لگے زخم ہوتے ہیں جو کسی سے سِلتے نہیں, گہری تو خاموشی ہوتی ہےجس کا چیختا شور کسی کو سنائی نہیں دیتا, گہری تو درد کی رات ہوتی ہے جس میں کوئی روشن ستارہ طلوع نہیں ہوتا, گہرے تو دل ہوتے ہیں جو ہر احساس اندر دفن کر لیتے اور گہری تو محبت ہوتی ہے جو پرانی ہو کر بھی پھیکی نہیں پڑتی,,,,,,مگر کیا باتیں بھی گہری ہوتیں؟؟؟کیا واقعی؟؟؟
سوال: یہ جو کہتے ہیں کہ بچے کا اچّھا نام رکھو تو یہ نام اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جواب: بچہ وہ نام سن سن کے تاثیر لے لیتا ہے۔ اس کے لئے ایک قسم کا وظیفہ ہو جاتا ہے۔ جب اس کا نام پکارا جائے تو اس پہ یہ اثر جاتا ہے جیسے وظیفے کا اثر پڑتا ہے۔ اچّھے نام کا اچّھا اثر پڑتا ہے۔ جب آپ نام بگاڑ کے کسی کو غنڈہ کہتے ہیں تو چار دن پکارنے کے وہ غنڈہ ہو جائے گا۔ اس لئے کہتے ہیں کہ نام بگاڑ کے نہ پکارا کرو۔ بہت سے غنڈوں کے نام الگ الگ رکھ دیئے جاتے ہیں۔ پورا نام پکارو تو وہ آدمی اپنے بُرے ہونے میں بہت احتیاط کرتا ہے اور بچت کرتا ہے۔ اس لئے اچّھا نام رکھنا بہتر ہے۔ اچّھے نام کی نسبت بہتر ہوتی ہے، اچّھے نام کی آواز بہتر ہوتی ہے، اچّھے نام کی تاثیر بہتر ہوتی ہے۔ اچھا نام ایک طرح سے وظیفے کا
کام دیتا ہے۔ اچّھا نام رکھنا چاہئے۔ نام بگاڑنا نہیں چاہئے۔ لاڈ میں عام طور پر نام بگاڑ دیتے ہیں، یہ بگاڑنا نہیں چاہئے ورنہ کردار بگڑ جاتا ہے۔ کسی کو بُرے نام سے پکارو تو تیسرے دن ہی وہ بُرا ہو جائے گا۔ جب خود ہی اپنے آپ کو کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم ناکام ہیں۔ ہم نے پاس نہیں ہونا تو آپ فیل ہو جائیں گے۔ جب خود ہی کہتے ہو کہ پاس نہیں ہونا تو کیسے پاس ہوگے۔ اس لئے اچّھا خیال رکھنا چاہئے، اچّھا نام رکھنا چاہئے، اچّھی امید رکھنی چاہئے اور اچّھا سفر کرنا چاہئے۔ (گفتگو والیم 27، صفحہ 226) سرکار حضرت واصف علی واصف