اپنا اندازِ فکر، زاویۂ نگاہ اور طرزِ عمل بدل لیجئے آپ کی زندگی بھی بدل جائے گی۔ ہمیشہ مثبت سوچ کو دماغ میں جگہ دیکر خود کو کئی ایک پریشانیوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ واصف علی واصف ؒ نے کہا تھا کہ ’’پریشانی حالات سے نہیں ہوتی بلکہ پریشانی خیالات سے ہوتی ہے‘‘۔ سوچوں کا تسلسل ہمارے چہرے، لہجے اور بدن پر اثرات مرتب کرتا ہے۔ کامیابیوں اور خوشیوں کے بارے میں سوچنے والے اکثر و بیشتر کامیابیوں اور خوشیوں سے ہمکنار ہوتے
ہیں۔ جبکہ ناکامی اور افسردگی کی سوچ انسان کو کبھی آسود گی سے آشنا نہیں ہو نے دیتی۔ یاد رکھیں ہر کام کے لئے ایک وقت اور ہر وقت کے لئے ایک کام ہوتا ہے۔ حضرت امامِ غزالی ؒ نے فرمایا ہے۔’’انسان اپنے لئے 80 % مسائل وقت سے پہلے اور گنجائش سے زیادہ مانگ کر خود پیدا کرتا ہے‘‘۔ لہٰذا خواہش، کوشش اور توکل کے بعد مناسب اور موزوںوقت کے لیئے انتظار اور صبر کریں۔ جو آپ کا ہے وہ آپ کو مل کر رہے
گا۔ اپنے دوست احباب اور عزیز و اقربا سے امیدیں باندھنا اور توقعات لگانا بھی ذہنی پریشانی کی وجہ بنتے ہیں۔ معروف دانشور منو بھائی کے بقول’’یہ امید ہی ہے جو نا امید کرتی ہے اور توقعات ہیں جو مایوسی پھیلاتی ہیں‘‘۔ لہٰذا فضول اور بے کار کی توقعات سے بچیں۔ دوسروں سے کیے گئے اپنے اچھے سلوک اور دوسروں کے برے رویوں کو بھول جانا بھی ذہنی سکون کا ذریعہ بنتا ہے۔کبھی کبھی بھول جا نے کی روش بھی نفع بخش ثابت ہو تی ہے۔ لیکن اکثر اوقات اپنے غلط رویوں اور دوسروں کے اچھے طرزِ عمل کو یاد رکھنا بھی ذہنی تسکین کا باعث ہو تا ہے۔ مذہب انسان کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔مذہبی فرائض کی ادائیگی کا اہتمام باقاعدگی سے کریں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سے سب کچھ ہونے کا یقین پیدا کریں۔ ذہنی اطمینان کا سب سے بڑا ذریعہ یقین ہی ہے۔
وہ مجھ سے مانگتا ہے اب محبت گمشدہ میری اسے احساس ہے اب یہ کہ کھو کر میری چاہت کو جیا وہ بھی نہیں شاید مگر اس کو نہیں یہ علم کہ جذ بے سرد پڑتے ہی جو دل نے پال رکھی ہو وہ خوا ہش مر بھی سکتی ہے وہ لمحے ہاتھ سے اک بار جو نکلیں پلٹ کر آ نہیں سکتے اسے کیسے دکھاؤں میں کہ اس کے ہجر کا گھاؤ بدن میں کیسا پھیلا ہے اسے یہ کیسے سمجھاؤں کہ میرے اور اس کے بیچ آ کر،،،،وقت،،،، ٹھہرا ہے
یورپئین اقوام کے پاس دولت آتی ھے تو وہ مزید علمی ‛ تحقیقی اور انسانوں کی زندگی میں آسانی لانے والے منصوبوں پہ خرچ کرتے ہیں۔ عربوں کے پاس دولت آتی ھے تو وہ اور بھی زیادہ گھوڑے اور گاڑیاں خریدتے اور محلات تعمیر کرواتے ہیں۔ اور جب دولت ہم برصغیری لوگوں کے پاس آتی ھے تو ہم اور بھی ‛ کچھ اور بھی زیادہ دھوم دھام سے شادیاں کرتے ہیں ۔
اگر آپکو کسی لڑکی کی فرینڈ ریکویسٹ آئے تو رومانوی سپنوں میں کھونے سے پہلے مندرجہ ذیل طریقوں سے جانچ پڑتال کرلیں تو سکرین شاٹ و ندامت سے بچ سکتے ہیں. ایک۔ اگر اس کا نام کیوٹ پری، ٹُو ہاٹ ٹو ہینڈل ، باربی ڈال،سردارنی، شیخنی، چڑ چڑی، کوجی، حور پری، پاپا کی پری، ڈول، پینو، انا پرست، نخریلی، گمنام لڑکی، چڑیل، بونگی، نکمی، شہزادی، کملی ، سیانی جٹی، پیا کی دیوانی، پگلی، لاڈلی، ملنگنی پرنسس وغیرہ سے ملتا جلتا ہو تو سمجھ جائیں کہ ابھی آپ کے مقدر پر چھائے تاریکی کے سائے نہیں چھٹے اور فوری فرینڈ ریکویسٹ ریجیکٹ یا بلاک کردیں کیونکہ نناوےفیصد فیک اکاؤنٹ ہے لیکن اگر اسکا نام انسانوں والا ہے تو اگلے سٹیپ نمبر دو پر چلے جائیں
دو۔ اب وال کا وزٹ کریں اور دیکھیں کہ اس کا یہ اکاؤنٹ کب بنا تھا۔ اگر تو اس نے کل، پرسوں، ایک ہفتہ پہلے یا اسی مہینے اپنا یہ اکاؤنٹ بنایا ہے اور آپ کو انباکس بھی بھیج دیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آپ کے اندر سے نکلنے والی مقناطیسی لہروں نے اس لڑکی کو دنیا کے کسی دوسرے کونے سے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا بلکہ اسکی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ یا تو آپ کا کوئی دوست آپ
کے ساتھ کوئی گیم کر رہا ہے یا پھر کوئی غفورا آپکے سکرین شاٹ بنانے یا اکاؤنٹ اڑانےکے درپے ہے لہذا اسی سٹیپ پر اپنی تفتیش ختم کردیں لیکن اگر اس کی پروفائل تازہ تازہ نہیں بلکہ ایک سال سے پرانی ہے تو پھر آپ اپنی تفتیش جاری رکھتے ہوئے سٹیپ نمبر تین پر عمل کریں۔ تین۔ اب آپ لڑکی کی وال پر اس کے اباؤٹ سیکشن کا جائزہ لیں۔ اگر تو اس نے اپنی انفارمیشن میں اپنی تعلیم لمز، کنئیرڈ کالج، بیکن ہاؤس سکول سسٹم، ڈی پی ایس، این سی اے، کنگ ایڈروڈ میڈیکل کالج وغیرہ لکھی ہے تو آپکی جانچ پڑتال یہیں مفقود ہوتی ہے کیونکہ اگر آپ کو اپنی ماں کی تمام دعائیں بھی لگ جائیں تو بھی آپ کو لمز، این سی اے، آئی بی اے، ڈاکٹر یا انجینر لڑکی خود سے کبھی میسج کرکے دوستی کی خواہش کا اظہار نہیں کرنے والی لیکن اگر اس نے کچھ نہیں لکھا بلکہ کسی سرکاری سکول یا
کالج سے ایف اے یا بی اے کیا ہو تو پھر آپ کی امید ابھی بھی قائم ہے۔ سٹیپ نمبر چار پر جائیں اور اپنے نصیب کی بارش اپنی چھت پر ہونے کی امید جواں رکھیں۔ چار۔ اب آپ دوشیزہ کی گزشتہ 30 دن کی ایکٹیویٹیز کا جائزہ لیں۔ اگر تو اس کی تمام تر پوسٹس تصویری شکل میں ہیں، مطلب کہ اس نے کسی کی پوسٹس شئیر کی ہیں اور خود سے کبھی کوئی پوسٹ نہیں کی، یا زیادہ سے زیادہ یہ پوسٹ کی ہو کہ آج میرے سر میں بہت درد ہے، یا گڈ مارننگ گائیز، یا میں اس تصویر میں کیسی لگ رہی ہوں، یا آج صبح سے طبیعت بہت خراب ہے وغیرہ تو اب میرے بھائی بوجھل دل کے ساتھ اپنا یہ شرمندگی والا سفر یہیں روک لیں کیونکہ یہ کوئی پرانا قسم کا ویلا مشٹنڈہ ہے جسکا کام آپ جیسے کو بیوقوف بنانا ہے اور لوڈ مانگنا ہے لیکن اگر اس کی پوسٹس سیاست، سماجی پہلوؤں، اپنے پرسنل حالات زندگی سے متعلق
ہوں جن سے لگے کہ یہ سب اس نے خود لکھا ہے تو پھر اپنے من مندر میں بجنے والی گھنٹیوں کے ساز سنتے رہیں اور اگلے سٹیپ نمبر پانچ پر پہنچ جائیں۔ پانچ۔ اب آپ نے اس لڑکی کی پروفائل فوٹو پر موجود کمنٹس کا بغور جائزہ لینا ہے۔ اگر تو اکثریتی کمنٹس آپ جیسے واجبی شکل و صورت کے ہر عمر کے حضرات کررہے ہیں، جن میں انپڑھ ویلوں و عرب ممالک میں لیبر کرنے والے بھی شامل ہیں تو پھر اے میرے بدقسمت دوست، تمہیں اس دفعہ بھی ہمیشہ کی طرح محبت میں ناکامی کا سامنا ہی کرنا پڑا۔ خاموشی سے اس کی وال سے واپس چلے جاؤ اور اچھے وقت کا انتظار کرو، لیکن اگر کمنٹس میں مہذب قسم کے لوگ نظر آئیں، تو پھر حوصلہ جواں رکھیں، ہوسکتا ہے کہ اللہ نے آپ کی سن لی ہو ۔ ۔ ۔ سٹیپ نمبر چھ پر تشریف لے جائیں۔ چھ۔ اب آپ اس لڑکی کی فرینڈ لسٹ اگر پبلک ہے یا پروفائل کمنٹس میں موجود اپنی عمر
کے لڑکوں سے شکل و صورت کوالیفیکشن اور نوکری کے حساب سے اپنے ساتھ موازنہ کریں۔ یقیناً وہ سب لوگ شکل و صورت میں آپ سے بہتر اور تعلیم و سٹیٹس کے اعتبار سے آپ سے اوپر ہونگے لیکن گھبرانا نہیں بلکہ باتھ روم میں جا کر اپنے منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں، تولیا سے منہ رگڑ رگڑ کر صاف کریں اور پھر شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے سوال کریں کہ جو تم سے بہتر لوگوں کی موجودگی میں تمہارے پیچھے پڑ گئی؟ آپ کی تفتیش یہیں ختم ہوگئی، لیکن اگر شومئی قسمت سے اس لڑکی کی لسٹ میں آپ سے بھی زیادہ شوخے اور ناکام لوگ پائے جاتے ہیں تو پھر 'ابھی مجھ میں کہیں، باقی تھوڑی سی ہے زندگی' گائیں کیونکہ آپ میری طرح ان چند خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جس سے ایک حقیقی دوشیزہ نے خود دوستی کی خواہش کا اظہار کیا ہے
سنا ھے حدِ نظر سے آگے زندگی اب بھی مُسکراتی ھے اب بھی سورج کی وھی عادت ھے گھر کے آنگن کو وہ جگاتا ھے مرمریں شوخ سی حسین کرنیں چہروں کو چُوم کر اُٹھاتی ہیں وہاں کی صبحیں بڑی توانا ہیں وہاں کے دن بھی بہت دانا ہیں مُنہ اندھیرے سفر کو جاتے ہیں روز پھر گھر میں شام ہوتی ھے وہی برگد تلے کی ہیں شامیں ایک حقہ ھے کئی ہیں سامع اب بھی سب فِکریں گلی محلے کی باتوں باتوں میں ختم ہوتی ہیں بچوں کا ھے وھی بچپن جُگنو, تِتلی کی هے وھی اَن بن
جھریوں سی اب بھی نانی وہاں کہانی پریوں کى ھی سناتی ھے اب بھی موسم وھی نشیلے ہیں وھی قوس قزح کے جھولے ہیں بارش کی مستیاں اب بھی ٹین کی چھت پے گنگناتی ہیں لفظوں میں لازوال زور سُخن رنگوں میں باکمال بانکا پن جذبوں میں حدتیں باقی محبتیں اب بھی بہت رلاتی ہیں اب بھی دوستی کا مان ھے باقی اب بھی رشتوں میں جان ھے باقی اب بھی جنت ھے ماں کے قدموں میں اب بھی ماں لوریاں سناتی ھے مٹی میں خوشبویں اب بھی پانیوں میں عکس ھیں باقی زمین پہ تاروں کے سنگ آ کر چاندنی محفلیں سجاتی هے
اب بھی راتوں کو چاند کی سکھیاں اپنے چندا سے ملنے جاتی ہیں اور اِک دُور کھڑے سائے کو اپنی دھڑکنیں سناتی ہیں اب بھی سب قافلے جشن میں ہیں اب بھی سب فاصلے امن میں ہیں مسافر اب بھی لوٹ آتے ہیں اُن کی یادیں نہیں ستاتی ہیں چلو ہم بھی وہیں چلتے ہیں جہاں اب بھی دل دھڑکتے ہیں جہاں اب بھی وقت ساکن ھے زندگی اب بھی مسکراتی ھے سنا ھے حد نظر سے آگے زندگی اب بھی مسکراتی ھے-
تمھارے قرب میں گزرے ہوئے وہ چند لمحات یہ زندگی انھی لمحوں میں تھی سمٹ آئی کہ چار سو تری آواز کا ہے اک جادو وہ باتیں آب بھی سماعت میں رس گھولتی ہیں تجھے جو دیکھنے اور سوچنے میں گزرے ہیں وہ لمحے آج بھی کاجل ہیں میری آنکھوں کا ترے لباس کی خوشبو جہاں پہ بکھری تھی دل آج بھی وہیں کھویا ہوا سا رہتا ہے میں جانتا تھا کہ بادِ صبا کے جھونکے ہیں جو اگلے پل ہی کہیں دور اڑ کے جائیں گے میں جانتاتھا کہ سب ہی بچھڑنے والا ہے مجھے خبر تھی کہ یہ عارضی سا تعلق ہے کہ اگلے موڑ پہ سب کچھ بدلنے والا ہے مگر اے جاں ! یہ اگلا موڑ محبت میں کون دیکھتا ہے میں جانتا تھاکہ سب کچھ فریب ہے لیکن کسی کو کیسے بتاؤں ، میں کیسے سمجھاوں کہ اس فریب میں کتنا سکون پنہاں ہے اسی فریب سے وابستہ ہر خوشی میری یہی فریب میری زندگی کا حاصل ہے
میں اُس کی نظم سُنتا ہوں تو سانسیں رُک سی جاتی ہیں وہ دل کے درد کو لفظوں میں کچھ ایسے پروتا ہے کہ جیسے دُور اِک ویراں کھنڈر کے نیم محرابی سے کمرے میں پڑے بوسیدہ سے اک ساز سے کوئی سوز جھڑتا ہو میں اکثر سوچتا ہوں درد سے اک درد کا یہ رابطہ بھی کتنا گہرا ہے میں اُس کی نظم پڑھتا ہوں تو دھڑکن تھم سی جاتی ہے اور اکثر ایسا لگتا ہے قلم کاغذ ، گلے ملتے ہیں ، روتے ہیں کسی بے اعتنائی پر، کہ اپنی نارسائی پر کہیں لمبی جدائی پر،کسی کی بےوفائی پر عجب کیا ہے کوئی روئے کہ اُس کے لفظ بھی تو بین کرتے ہیں وہ ایسے لفظ بُنتا ہے، مجسمہ ساز جیسے دھڑکنیں پتھر میں رکھ آئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain