تم پیار سے پہلے ملتے تھے اور پیار سے باتیں کرتے تھے
کیوں پیار کا رشتہ توڑ دیا سچ بات کہیں تو مرتے ہیں
ہم اس سے توقع کیا رکھیں جس دل میں نہیں احساس ذرا
کیونکر وہ ملیں گے ہم سے بھلا جو بات بھی کرتے ڈرتے ہیں
جو غیر تھے ان کی بات ہی کیا جو اپنا تھا وہ غیر ہوا
ہم پیار کریں تو کس سے کریں اس سوچ بچار میں رہتے ہیں
اک وہ ہیں جنہیں احساس نہیں ہم کب سے نہیں آپس میں ملے
اک ہم ہیں جو ان کی فرقت میں دن رات سلگتے رہتے ہیں
کیا بات ہوئی کیوں روٹھ گئے کیوں مجھ کو اکیلا چھوڑ دیا
کچھ خوفِ خدا کچھ رحم کرو ہم ہاتھ پھیلائے پھرتے ہیں
تم شاد رہو آباد رہو ہر حال میں تم خوش حال رہو !
ِاس حال میں ہم کو رہنے دو جس حال میں ہم اب رہتے ہیں
نادان ذرا تم غور کر تم کس سے محبت کرتے ہو
وہ پیار کریں گے تم سے بھلا جو نام سے تیرے جلتے ہیں
مشتاق نہ ہو مایوس ذرا اک دن وہ تیرا ہو جائے گا
یہ دنیا ہے اس دنیا میں حالات بدلتے رہتے ہیں
اُمید صرف اتنی روشنی رکھتی ہے کہ راہ دکھائ دیتی رہے۔۔۔۔۔ توقع ایسا الاؤ سُلگااتی ہے کہ انکھیں چندھیا جاتی ہیں
بہترین ماسک وہ ہے جو آپکی زبان کو غیبت اور چغلی سے روک دے
بچپن والا سکون انسان
خرید کے بھی نہیں لا سکتا
عقل کے دو نقطے بیکار
عشق کے پانچ نقطے بے معنی
حُسن کا ایک نقطہ سب پر بھاری
مگر دل بغیر نقطے کے
اس کا فیصلہ سب پر حاوی
جس انسان کے پاس دِین کی راہ پر چلنے کے لئے نہ وقت ہے نہ مزاج۔۔۔ وہ اپنی ناکامی کے بارے میں اور کیا کہہ سکتا ہے۔!
اپنی اندر کی اندر والے کے سامنے رکهنے سے تسکین قلب ملتی هے
سرعام کرنے سے کیفیات چهن بهی جاتی هیں
الله پاک آپکو اپنا خاص قرب نصیب فرماۓ آمین
کِسی کے خواب تو ہونگے میرے جیسے
کوئی تو مجھ سا سوچتا ہو گا _
اللّٰہ تم سے عبادت ہی نہیں انسانیت کی تکمیل بھی چاہتا ہے
تنگی کی شدت آسانی کی نوید ہوتی ہے۔ معاملات جب مشکل ترین ہو جائیں تو آسان ہو جاتے ہیں۔ کہ بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain