Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

S u n n o
O  : S u n n o - 
Offline
 

میں نے اپنی زندگی سے یہ سیکھا ہے کہ انسان کو کبھی بھی حساس نہیں ہونا چاہیئے، ایک حساس انسان سب سے زیادہ مشکلات اپنی ذات کے لیے پیدا کرتا ہے۔ ایسی ایسی باتوں پر گھنٹوں سوچتا اور روتا ہے جو شاید کسی نارمل انسان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں

Offline
 

یرے ٹیرس پر روز بلیاں آ کر گند پھیلاتی تھیں. مجھے بہت کوفت ہوتی تھی. ایک دن ایک دوست نے مشورہ دیا کہ تم بلیوں کے لیے کھانے کا خاص اہتمام شروع کر دو . میں نے روزانہ باہر دودھ رکھنا اور تازہ گوشت ڈالنا معمول بنا لیا چند دن میں ہی بلیوں نے اپنی عادت چھوڑ دی. اور میرے ٹیرس پر گند کرنا چھوڑ دیا.
یہ جانوروں کی سرشت ہے کہ وہ جس گھر کا کھاتے ہیں وہاں گندگی پھیلانے سے شرماتے ہیں. لیکن انسان جس کا کھاتا ہے اسی کے خلاف زہر اگلتا ہے. اپنے محسن کے احسانات بھلا کر اسی سے نفرت کرنے لگتا ہے.

Offline
 

وە شخص قابلِ مبارکباد ہے جو اپنا عیب دیکھے ۔ اگر کوئی اپنا عیب بتاۓ تو اسے اپنے لۓ تسلیم کرے ۔ اگر وە عیب تجھ میں نہیں ہے تو مطمئن نہ ہو، ہو سکتا ہے وە عیب تجھ میں ظاہر ہو جاۓ ۔اپنے عیب کو تسلیم کرنا انکساری اختیار کرنا جو الله کی رحمت کا سبب اور مقام ہے ، شیطان معلم الملکوت تھا پھر بھی ابلیس بنا،تو انسان کو اپنے بارے میں مطمئن نہ ہونا چائے ، دوسروں کی عیب جوئی کی بجاۓ اپنے عیب کی نگرانی کرنی چائیے ۔ جب تک عیب زائل نہ کر لو دوسروں کو طعنہ نہ دو۔ خدا کا شکر کرو کہ تم دوسروں کے لۓ باعثِ عبرت نہیں بنے
مولانہ رومیؒ

Offline
 

چھے لوگو!!!!
زندگی کے ہر دن میں کوئی روشنی اچھائی کی کوئی روشنی نیکی کی ضرور چھوڑنے کی کوشش کریں....!!!
اس لیئے کہ دن ختم ہو جاۓ گا مگر وہ نیکی کی روشنی آپ کے اعمال نامے میں اور کسی کی زندگی میں ہمیشہ روشنی کا سبب رہے گی....!!!
اور ان شــاء اللّٰـــــہ تــــعالـــیٰ روز محشر صراط پر نــــور بن کر رب کی رحمت سے جنت تکـــــ پہنچائے گی...!!!
آئیـــں نیکیوں کی لالٹیــن جلائیــــں...!!!
کہیــں مســکرا کر,,,,,کہیــں مدد کا ہاتھ بڑھا کر,,,,,,کہیــں ادب میں خاموش رہ کر,,,,,,کہیــں کسی کے غصے میں اپنے پر قابو رکھ کر,,,,,,کہیــں رب کے احکامات پر احســان کے ســـاتھ عمل کر کے....!!!
خوش رہیــں
خوشیاں بانٹیــں

Offline
 

شام ڈھلتے ہی تیری دید کے مارے ہوئے ہم
تاک میں رکھی ہوئی آنکھیں جلا دیتے ہیں

Offline
 

سمان کی طرف جب بھی میں دیکھتا ہوں
تو سکون ، امید ، ہمت اور توقع سے بھر جاتا ہوں ۔
کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرا رب کبھی مجھے تنہا نہیں چھوڑتا ۔
گھبرایا نہ کریں زندگی سے ۔۔۔۔ رب سے بات کرنے کی کوشش کیا کریں۔

Offline
 

یاد تِری نہ ہو اگر ، زندگی زندگی نہیں
اِس کے بغیر میں جیوں ، ایسا بھی ہو، کبھی نہیں

Offline
 

بات ہی بات میں کبھی چھیڑی جو بات وصل کی
لاکھ بنائی بات پَر ، بات کبھی بنی نہیں

Offline
 

اُس کی جفائے ناز میں کوئی کمی کبھی نہ ہو
میری وفائے عشق میں کوئی کمی کبھی نہیں

Offline
 

درد کی داستاں معین ان کو سناؤں تو مگر
سّن کے وہ دیکھتے ہیں یوں جیسے ابھی سنی نہیں

Offline
 

تیری چاھت سے گریزاں بھی رھے ، اور ھم نے
تیری یادوں کے بھی انبار _____، لگا کر رکھے
کس قدر لوٹ مچی ، شہرنگاراں میں نہ پُوچھ
ھاں مگر ھم نے تیرے درد ______، بچا کر رکھے
دل جو ٹُوٹا بھی تو ، تقدیر کو ٹھہرایا سبب
آنکھ بھر آئی تو ______، الزام گھٹا پر رکھے

Offline
 

جہاں پریشانی ہو وہی ہی سُنا دیا کرو
اللہ ہر جگہ موجود ہے

Offline
 

کسی تجربہ گاہ میں ایک سائنس دان تتلی کے لاروے پر تجربات کررہاتھا۔ لاروا تتلی بننے کے آخری مراحل میں تھا۔ کچھ ہی دیر میں اس لاروے نے ایک مکمل تتلی کا روپ دھار لینا تھا۔ سائنس دان نے دیکھا کہ لاروے میں ایک سوراخ بن گیا ہے۔یہ خول کافی چھوٹا تھا۔ اتنا چھوٹا کہ تتلی کے لئے اس سے باہر آنا ممکن نہیں تھالیکن تتلی خوب زور لگاتے ہوئے اس سوراخ کے ذریعے باہر آنے کی کوشش میں مصروف ہے۔سائنس دان نے سوچا کیوں نہ میں اس تتلی کی مشکل آسان کرتے ہوئے اس سوراخ کو ذرا وسیع کردوں تاکہ تتلی آسانی سے باہر آسکے۔ اور اس نے ایسا ہی کیا۔ ایک آلےکی مدد سے اس نے لاروے کے خول میں سوراخ کو اتنا چوڑا کردیا کہ تتلی آسانی سے باہرآسکتی تھی۔ آخر کار تتلی ذرا سے دیر میں لاروے سے باہر آگئی۔مگر . سائنسدان کو اس وقت شدید حیرت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ تتلی باوجود کوشش کے اڑ نہیں پارہی

Offline
 

حتیٰ کہ اس کے پر تک پورے نہیں کھل رہے۔ بظاہر ایسے عوامل نظر نہیں آرہے تھےجو تتلی کی اس معذوری کی وجہ ہوں۔ ایسی پریشانی کے عالم میں وہ سائنس دان تتلی کواپنے سنیئر سائنس دان کے پاس لے گیا اور سارا ماجرا سنا۔
سنیئر سائنس دان نےایک سرد آہ بھری اور کہا " رے نا وہی انسان کے انسان! .... اور دے دی نا اسے عمربھر کی معذوری ۔ جب تتلی لاروے سے باہر آنے کے لئے زور لگا رہی ہوتی ہے تو اس وقت چند مادے اس کے پروں میں سرایت کرجاتے ہیں۔ انہی مادوں کی وجہ سے تتلی کے پروں میں جان آتی ہے اور تتلی اڑنے کے قابل ہوجاتی ہے۔"
زندگی بھی ایک ایسی ہی تتلی ے جو مشکلات کے لاروے میں بند ہے۔ مشکلات سے گزر کر ہی زندگی اپنے اصل مقصد کوپاتی ہے۔
تو اپنی کوشش جاری رکھئے اور دوسروں پر انحصار نہ کریں۔ آپ کی مشکلات، اللہ اور خود آپ کے سوا کوئی دوسرا دور نہیں کرسکتا

Offline
 

جس کے پھندے میں پھنسا ہے دل ہمارا آج کل
وہ نظر آتا نہیں صیّاد پیارا آج کل

Offline
 

کیا بتاؤں اِس دلِ بیتاب کی بیتابیاں
کر لیا ہے اُس سِتمگر نے کنارہ آج کل

Offline
 

اس ادا سےاُس نے دکھلائی مجھے اپنی جھلک
ہو گیا جان سے بھی وہ پیارا آج کل

Offline
 

آئینہ اس بت کی صورت کا بنا کر سامنے
کر رہا ہوں قدرتِ حق کا نظارہ آج کل

Offline
 

اب سنوارو یا بگاڑو بات اتنی جان لو
ہے تمہارے ہاتھ میں بیچارے کا چارہ آج کل