Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

اب سنوارو یا بگاڑو بات اتنی جان لو
ہے تمہارے ہاتھ میں بیچارے کا چارہ آج کل

Offline
 

الله الله اس دل مجبور کی مجبوریاں
کر رہا ہے جو نہ کرنا تھا گوارہ آج کل

Offline
 

دشتِ غربت میں اکیلا چھوڑ کر وہ چل دئیے
پھر رہا ہوں مارا مارا بے سہارا آج کل

Offline
 

یہ نہیں معلوم تو میرا ہوا ہے یا نہیں
جان و دل سے ہو چکا ہوں میں تمہارا آج کل

Offline
 

اب تو اپنا لیجیۓ حضرت دلِ مشتاق کو
کھا رہا ہے ٹھوکریں قسمت کا مارا آج کل

Offline
 

سُنو جاناں ،
میں تھک گیا ہوں بہت
اب ہو جاؤ میرے مُکمل ، یا
مجھے مکمل تنہا کر دو

نمی دانم
O  : نمی دانم - 
The gradient of color on this tree
O  🔥 : The gradient of color on this tree - 
Offline
 

سوال : ہمیں۔کیسے پتہ چلتا ہے کہ فیض کہاں سے ملنا ہے؟
”وہ جگہ جہاں پر رقت طاری ہو، آنکھ میں نمی آ جائے، اس جگہ تمہارا فیض پڑا ہوتا ہے“.
”ہروہ مزار، ہروہ بزرگ اور ہروہ جگہ جہاں پرآ پ کی آنکھ میں نمی آ جائے اس مقام کے ساتھ آپ کی روحانیت جڑی ہوتی ہے۔“

Offline
 

جس دل میں سچی مُحبت ہو
وہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی
آپ کا احساس سر آنکھوں پہ
اُٹھائے پھرتے ہیں

Offline
 

سکون وہی پاتے ہیں
جو سکون مہیا کرتے ہیں

Offline
 

ایک بدکار تائب ہوگیا۔ لیکن زبانِ خلق سے نہ بچ سکا۔لوگ یہی کہتے رہے کہ مکر کر رہا ہے۔آخر تنگ آ کر اپنے مرشد کے پاس گیا اور صورتِ حال بیان کی ۔
مرشد نے کہا!
شکر ایں نعمت چگونہ گزاری
کہ بہتر ازانی کہ می پندار ندست
الله؂ کا شکر ادا کرو کہ جو کچھ تمہیں لوگ سمجھتے ہیں تم اس سے بہتر ہو
سعدیؒ

Offline
 

آپ تنہا نہ رہ جائیں، تو چلنا کیسے سیکھیں؟
الله پر بھروسہ کرنا کیسے سیکھیں؟ بیساکھیوں کے سہارے چلنے والے بھی بھلا طوفانوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟
اس پیارے رب کی پلیننگ، اس کی ٹائمنگ کتنی پرفیکٹ ہے، سوچتی ہوں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے، جس طرح سٹپ بائے سٹپ بچے کو سیڑھیاں چڑھائی جاتی ہیں اسی طرح وہ رب اپنے بندوں کو مصائب اور آزمائش سے گزار کر اوپر لے جاتا ہے۔
کبھی لگتا یے کہ میرا بندا اکیلا نہ سنبھال پائے گا تو مدد بھیج دیتا ہے، تو کبھی ایسے احساس دلاتا یے کہ میں اکیلا ہی تیرے لئے کافی ہوں، وہ رب تو رحیم، کریم، کن الفاظ میں اس کی محبت بیان کریں، الفاظ ہی نہیں ہیں.

Offline
 

مجھے خادم ان کی جو دید ہو تو مراد دل کی نصیب ہو
کبھی صدقے جان حزیں کروں کبھی دل کو اپنے فدا کروں

Offline
 

تجھے فکر درماں ہے چارہ گر مجھے درد اپنا عزیز ہے
یہ نشانی دی ہوئی یار کی بھلا کس طرح سے جدا کروں

Offline
 

میں نے رنج و غم سے وضو کیا میں نے کلمہ تیرا صنم پڑھا
ذرا بیٹھ جا میرے سامنے ، کہ نماز عشق ادا کروں

Offline
 

میرے پیارے مجھ کو تو ہی بتا کہ ہے بے کلی کا علاج کیا
کوئی پھانس ہو تو نکل سکے کوئی درد ہو تو دوا کروں

Offline
 

میں مروں تو تیرے لیے مروں، میں جیئوں تو تیرے لیے جیئوں
تیرے واسطے میری موت ہو تیرے واسطے میں جیا کروں

Offline
 

میرے دل کو درد عطا کیا ، مجھے درد والا بنا دیا
تیرا شکریہ میرے دلربا ، بھلا کس طرح سے ادا کروں

Offline
 

کیوں نہ اشکبار ہوا کروں ، کیوں نہ بے قرار رہا کروں
نہ قرار آئے تیرے سوا ، تو تُو ہی بتا کہ میں کیا کروں