اب سنوارو یا بگاڑو بات اتنی جان لو
ہے تمہارے ہاتھ میں بیچارے کا چارہ آج کل
الله الله اس دل مجبور کی مجبوریاں
کر رہا ہے جو نہ کرنا تھا گوارہ آج کل
دشتِ غربت میں اکیلا چھوڑ کر وہ چل دئیے
پھر رہا ہوں مارا مارا بے سہارا آج کل
یہ نہیں معلوم تو میرا ہوا ہے یا نہیں
جان و دل سے ہو چکا ہوں میں تمہارا آج کل
اب تو اپنا لیجیۓ حضرت دلِ مشتاق کو
کھا رہا ہے ٹھوکریں قسمت کا مارا آج کل
سُنو جاناں ،
میں تھک گیا ہوں بہت
اب ہو جاؤ میرے مُکمل ، یا
مجھے مکمل تنہا کر دو
سوال : ہمیں۔کیسے پتہ چلتا ہے کہ فیض کہاں سے ملنا ہے؟
”وہ جگہ جہاں پر رقت طاری ہو، آنکھ میں نمی آ جائے، اس جگہ تمہارا فیض پڑا ہوتا ہے“.
”ہروہ مزار، ہروہ بزرگ اور ہروہ جگہ جہاں پرآ پ کی آنکھ میں نمی آ جائے اس مقام کے ساتھ آپ کی روحانیت جڑی ہوتی ہے۔“
جس دل میں سچی مُحبت ہو
وہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی
آپ کا احساس سر آنکھوں پہ
اُٹھائے پھرتے ہیں
سکون وہی پاتے ہیں
جو سکون مہیا کرتے ہیں
ایک بدکار تائب ہوگیا۔ لیکن زبانِ خلق سے نہ بچ سکا۔لوگ یہی کہتے رہے کہ مکر کر رہا ہے۔آخر تنگ آ کر اپنے مرشد کے پاس گیا اور صورتِ حال بیان کی ۔
مرشد نے کہا!
شکر ایں نعمت چگونہ گزاری
کہ بہتر ازانی کہ می پندار ندست
الله کا شکر ادا کرو کہ جو کچھ تمہیں لوگ سمجھتے ہیں تم اس سے بہتر ہو
سعدیؒ
آپ تنہا نہ رہ جائیں، تو چلنا کیسے سیکھیں؟
الله پر بھروسہ کرنا کیسے سیکھیں؟ بیساکھیوں کے سہارے چلنے والے بھی بھلا طوفانوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟
اس پیارے رب کی پلیننگ، اس کی ٹائمنگ کتنی پرفیکٹ ہے، سوچتی ہوں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے، جس طرح سٹپ بائے سٹپ بچے کو سیڑھیاں چڑھائی جاتی ہیں اسی طرح وہ رب اپنے بندوں کو مصائب اور آزمائش سے گزار کر اوپر لے جاتا ہے۔
کبھی لگتا یے کہ میرا بندا اکیلا نہ سنبھال پائے گا تو مدد بھیج دیتا ہے، تو کبھی ایسے احساس دلاتا یے کہ میں اکیلا ہی تیرے لئے کافی ہوں، وہ رب تو رحیم، کریم، کن الفاظ میں اس کی محبت بیان کریں، الفاظ ہی نہیں ہیں.
مجھے خادم ان کی جو دید ہو تو مراد دل کی نصیب ہو
کبھی صدقے جان حزیں کروں کبھی دل کو اپنے فدا کروں
تجھے فکر درماں ہے چارہ گر مجھے درد اپنا عزیز ہے
یہ نشانی دی ہوئی یار کی بھلا کس طرح سے جدا کروں
میں نے رنج و غم سے وضو کیا میں نے کلمہ تیرا صنم پڑھا
ذرا بیٹھ جا میرے سامنے ، کہ نماز عشق ادا کروں
میرے پیارے مجھ کو تو ہی بتا کہ ہے بے کلی کا علاج کیا
کوئی پھانس ہو تو نکل سکے کوئی درد ہو تو دوا کروں
میں مروں تو تیرے لیے مروں، میں جیئوں تو تیرے لیے جیئوں
تیرے واسطے میری موت ہو تیرے واسطے میں جیا کروں
میرے دل کو درد عطا کیا ، مجھے درد والا بنا دیا
تیرا شکریہ میرے دلربا ، بھلا کس طرح سے ادا کروں
کیوں نہ اشکبار ہوا کروں ، کیوں نہ بے قرار رہا کروں
نہ قرار آئے تیرے سوا ، تو تُو ہی بتا کہ میں کیا کروں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain