محبت آپ لوگ کسی سے بھی کہیں بھی کر سکتے ہو یہ بار بار بھی ہو سکتی ہے لیکن عشق صرف ایک بار ہی ہوتا ہے اور ایک ہی ہستی سے ہوتا ہے اب وہ چاہے مجازی ہو یا حقیقی عشق میں دوئی کا عنصر نہیں ہوتا عشق تو اس کیفیت کا نام ہے جسے حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ
من تو شُدم تو من شُدی
من تن شُدم تو جاں شُدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں
من دیگرم تو دیگری
میں تُو بن گیا ہوں اور تُو میں بن گیا ہے
میں تن ہوں اور تو جان ہے پس اس کے بعد
کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے
جن لوگوں سے ہم تعریف سننا چاہتے ہیں اگر وہ تعریف کریں تو تعریف کا ایک ایک لفظ ہماری رگوں و جاں میں اترتا جاتا ہے ۔ خوشی کی انتہا ہوتی ہے۔
مگر وہ ہی الفاظ کوئی انجان یا غیر متوقع انسان بولے تو اسکو ہم دل پھینک یا فلرٹکا نام دے ریتے ہیں۔
الفاظ وہی ہوتے ہیں
صرف سننے والے کی سوچ مختلف ہوتی ہے ۔
کسی کو آزمایا نہ کریں بشری ضروریات کمزوریاں غالب آہی جاتی ہیں فرشتہ کوئی نہیں ہوتا زندگی میں تعلقات سمجھوتے ہی کی بنا پر مسلسل و مستقل قائم رہتے ہیں۔
گھر سے باہر نکلنے کے لیے صرف وہ جوتے ہی ضروری نہیں ہوتے جو پہن کر باہر جایا جاتا ہے۔وہ ہوش مندی اور پھرتی بھی ضروری ہوتی ہے جو گرنے نہ دے۔چوٹ تو ہرگز نہ لگنے دے۔
ادب یہ نہیں ہوتا،،،،جو ہم کرتے ہیں اپنے ماں باپ کا،،، اپنے استائذہ کا،،، اپنے بزرگوں کا،،، کہ سامنے آجائیں تو بس احترام سے کھڑے ہو جاؤ۔۔۔۔۔ادب یہ ہے کہ آپ اف تک نہ کرو،،، خاموش ہو جاؤ،،، ان کی بات پر انگلی نہ اٹھاؤ،،، ان کی تعلیمات پر عمل کرو۔۔۔۔۔۔۔ان کی غیر موجودگی میں ایسے رہو،،، جیسے ان کی موجودگی میں رہتے ہو۔۔
سنو ____
سنا ہے اکتوبر آیا ہے پھر-__
پت جھڑ کا موسم لے کر___
دیکھو اب ان پتوں کو
یہ بھی زرد ہونا شروع کر دیں گے___
جانتی ہو یہ ایسا کیوں کرتے ہیں
کیوں کہ اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ ہوتا ہے ___
جب یہ شاخوں کو چھوڑ جاتے ہیں
پھر ہوا جہاں چاہے لے جائے ان کو___
کون روک سکتا ہے کسی کو جانے سے
جیسے تم چلے گئے اور میں روک نہیں سکا تمہیں ___
اکثر اس موسم کے آتے ہی زخم ہرے ہوجاتے ہیں
لوگ کہتے ہیں پتے سوکھنے کا موسم آیا ہے___
لیکن ___
یہ موسم اور یہ ماہ مجھے پھر ہرا کرنے آیا ہے
مجھے دنیا کی چیزیں متاثر نہیں کرتیں۔۔۔اچھے لباس، اونچے عہدے، اونچے سٹیٹس اور دولت مرعوب نہیں کرتی۔۔۔مجھے تو اللہ کی محبت چاہیے بس جو ان سب چیزوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔اب مجھے وہ لوگ مرعوب کرتے ہیں جو مجھ سے اللہ کی محبت میں آگے ہیں جو دین میں مجھ سے آگے ہیں جو اللہ کی محبت میں شدید ہیں جن کا عمل مضبوط ہے۔۔۔جن کا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہے جنکی باتوں میں اللہ ہی کا ذکر ہوتا ہے۔۔۔جو ہر بات میں اللہ کو کریڈٹ دیتے ہیں۔۔۔اب مجھے ایسے لوگ آٸیڈیل لگتے ہیں جن کو دیکھ کے مجھے اللہ یاد آ جاۓ۔
خدا کی بتائی گئی حدود کو توڑ کر خدا سے ہی پھر بے سکونی کا کیوں شکوه کرتے ہو؟
ان عارضی محبتوں کے لیے تو خوب لڑتے ہو مگر خدا کی محبت کا تم ذرا بھرم نہیں رکھتے ہو
خود ہی ظلم کرتے ہو خود پر اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں عمر بھر جلتے ہو
یقین ہے اگر خدا پر تو برا گماں کیوں رکھتے ہو؟
تم دعا تو کرتے ہو لیکن صبر نہیں کرتے ہو،
تمہاری نظر تمہاری شخصیت کا آئینہ ہے، تم جیسے خود ہو ویسا ہی دوسروں کیوں سمجھتے ہو
تلاش کرتے ہو،
کیوں تلاش کرتے ہو ان لوگوں میں ہنسی؟ جن کی وجہ سے تم دن رات تڑپتے ہو؟
خدا تم پر رحم تو کرتا ہے ہر شخص کی اصلیت دیکھا کر مگر افسوس تم خود ہی خود پر رحم نہیں کرتے ہو،
اتنی محبت خدا سے کرتے تو سرخرو ہو جاتے، جتنی انسانوں سے کر کے واپس زمیں پہ آگرتے ہو
کاش کارِ جہاں سے فُرصت ہو
ہم تُمھیں اہتمام سے سوچیں۔
تمھیں سوچتا ہوں _ جیسے خُوشبو سوچتا ہوں
سوچ کا زاویہ
کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ کے سامنے چار آدمی بیٹھے تھے۔
1 : اندھا
2 : فقیر
3 : عاشق
4 : عالم
بادشاہ نے ایک مصرع کہہ دیا۔
"اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں"
اور سب کو حکم دیا کہ اس سے پہلے مصرع لگا کر شعر پورا کرو۔
1 : اندھے نے کہا:
اس میں گویائی نہیں اور مجھ میں بینائی نہیں
اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں
2 : فقیر نے کہا:
مانگتے تھے زر مصور جیب میں پائی نہیں
اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں
3 : عاشق نے تو آہ لی اور کہا:
ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں
اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں
4 : عالمِ دین نے تو کمال ہی کردیا:
بُت پرستی دین احمد ﷺ میں کبھی آئی نہیں
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں
سوچ کا زاویہ ہر ایک کا جدا ہوتا ہے، ہر کسی کا فکری انداز اس کے مطالعے، مجالست اور تربیت کی مناسبت سے ہوتا ہے. غالبا" یہی جداگانہ انداز فکر قدرت کی نعمت ہے۔۔۔!!!
مجھ کو معلوم ہے طیبہ سے جدائی کا اثر
شام کو شمس بھی روتا ہوا ڈھلتا ہو گا
صلی اللہ علیك وسلم
حضرت جنید بغدادیؒ سے محبت کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا
محب کی صفات کے عوض محبوب کی صفات کا داخل ہو جانا محبت ہے
سالک کو رضا کا مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ غم بھی اس کے لئے ایسا خوشگوار ہو جیسا کہ خوشی
حضرت رابعہ بصریؒ
دعا کا تسلسل , طلب کی کیفیت کا عکاس ہوتا ہے۔
،جہاں شک ہو وہاں سوال ہوتے .. جہاں سوال ہوں وہاں وہ مقام نہیں رہتا جسکے ہم لائق ہیں ..
اللہ کی بارگاہ میں آگئے ہوں تو کیا کیوں اور کیسے میں مت الجھو ..
نا ماضی کی باتوں کا دہراؤ نا حال کی باتوں میں الجھوں اسکے سامنے سر جھکا کر بس مان لو
وہ ہے نا سب ٹھیک کرنے کے لیے ..
جو کھو گیا اس پہ دل کو مطمئن کرلو جو مل گیا اس پہ مسکراہٹ ...
ان للہ .. ہم کل بھی اسکے تھے آج بھی اسکے ہیں ..
یہ واضح حق ہے .. اور سب سے بڑی حقیقت اسی کی طرف بہت جلد لوٹنا ہے ..
پھر کاہے کا حزن کاہے کا ملال ..؟
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺠﮭﮯ
ﺟﺎﻥ ﭘﺎﺋﮯ ﮨﻮ ۔ ﺳﺐ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﻮ ؟
ﺳﺐ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﻮ ؟
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ہو۔۔
رابطے بَھلے نہ ہوں
چاہتیں تو رہتی ہیں
دَرد کے وجود سے
نِسبتیں تو رہتی ہیں
چَھوڑ جانے والوں کو
روک تو نہیں سکتے
مُدتوں مگر اُن کی
عادتیں تو رہتی ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain