“ محبت پانے کے لئے... محبت بانٹنا بڑا ضروری ہے۔
آنکھ کے اندر دل آنے کا مطلب ہے کہ ...آپ جو دیکھ رہے ہیں اسکے بارے میں مثبت ہو جائیں ...منفی نہ ہوں ...جج نہ کریں ....آپ کی آنکھ اگر اچھی چیزوں کی طرف متوجہ ہو گئی ہے تو پھر آپکے دل کی آنکھ کھل جائے گی ......آپکی آنکھ اگر برے نظارے کو دیکھے گی ..تو اسکا اثر آپکے دماغ پر ہو گا ....نفس حرکت میں آئے گا ...دل پر مہر لگ جائے گی ......اسی لیے کہتے ہیں ...آپکا نظارہ اگر اچھا ہو جائے ...آپ اگر اچھی جگہوں پر جانے لگ جاؤ ...آپ اگر بری چیزوں کو دیکھنے سے بچ جاؤ ...آپکا نظارہ ٹھیک ہو جائے تو ....پھر ابتدا ہو جاتی ہے ...جس کی انتہا یہ ہے کہ آپ ہر چیز کو دل کی آنکھ سے دیکھتے ہو ....آپکو ہر چیز میں الله کی حکمت نظر آتی ہے ...جزاک الله
با ہمت رہنے کے لیۓ اچھا سوچا کریں۔
یقین رکھیں کہ آپ کا رب آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔
کل اچھا ہو گا جب آپ رب پر بھروسہ رکھتے ہوۓ آگے بڑھیںگے ۔
ان شاء اللہ
زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی آتے ہیں جن پر ہمیں بہت اعتبار اور ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں اور یہ یقین کر بیٹھتے ہیں کہ وہ ہمیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے .. آہستہ آہستہ دل کی ہر بات ان سے شئیر کرتے ہیں ..اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، اپنے چھوٹے چھوٹے غم صرف ان ہی کو بتانا چاہتے ہیں مگر نہ جانے کیوں وہی لوگ اکثر ہمیں منہ کے بل گرا کر چھوڑ جاتے ہیں .. ہاں! دنیا میں بہت کم لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جنہیں مان رکھنا آتا ہے۔
گمان ہو یا قیاس ....یہ ہمیشہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی بھی انسان آپکو اچھا یا برا محسوس کرواتا ہے .....مطلب یہ کہ جیسا آپ محسوس کر رہے ہیں ...ویسا ہی گمان پیدا ہوتا ہے ...آپ کو کوئی اچھے الفاظ بولے گا تو آپ اچھا محسوس کریں گے ..بھلے وہ الفاظ جھوٹ ہی کیوں نہ ہوں ...آپکو کوئی سخت الفاظ بولے گا تو آپ کے جذبات منفی ہونگے ...بھلے وہ الفاظ سچ ہی کیوں نہ ہوں ....تو ثابت یہ ہوا کہ اصل چیز آپکی feelings ہیں ...وہ اچھی ہیں تو گمان اچھا ..وہ بری ہیں تو منفی پن زیادہ ہو گا ...انسان کی فطرت ہے کہ وہ اعتدال رکھنے میں ناکام رہتا ہے ...اور اسی اعتدال کا حصول اسکی کوشش اور محنت میں آتا ہے ...اس کی کوئی تعریف کر دے تو وہ پھول جاتا ہے ...اور بھول جاتا ہے اپنی اوقات بھی ...اور اگلے پر بھروسہ کرنا شروع کر دیتا ہے ...اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے
..اس سے کوئی سختی سے پیش آئے تو ....وہ اس بندے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتا ہے ...چاہے وہ صحیح ہی کیوں نہ ہو ....آ پ جب کسی کے بارے میں بہت مثبت ہیں تب بھی آپ دھوکہ کھا جاتے ہیں ...آپ کسی کے بارے میں انتہائی منفی ہوں ..تب بھی آپ نقصان اٹھاتے ہیں ....جب آپ کے جذبات ...آپکی feelings کسی بھی انسان کے بارے میں انتہائی مناسب ہوں ....نہ بہت مثبت ..نہ منفی ....تو یقین کریں ...اس وقت جو گمان اور جو قیاس آتا ہے ...وہ زیادہ تر صحیح ہی ہوتا ہے ...اصل ہوتا ہے ...حقیقت ہوتا ہے ...اشفاق صاحب فرماتے ہیں ..اگر آپ کسی انسان کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں ..تو پہلے اسکے بارے میں اپنے دل کو مکمل طور پر منفی جذبات سے پاک کیجئے ..اس سے منسوب تمام مفادات اور لالچ کوسائیڈ پر رکھی دیجئے ...آپ کو خود بخود اس کی پہچان ہو جائے گا ...جزاک الله
آرزو ہے وفا کرے کوئی
جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں
میرا مطلب ادا کرے کوئی
چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے
مجھ کو چاہے خدا کرے کوئی
ذات "بشر" میں کوئی راز پنہاں ضرور ھے
کہ بات بات اس کی فرشتے ھیں لکھ رھے.
آپ آتے تو بات بنتی بھی
آپ رکتے تو حال کہتے ناں
آپ کا ہجر سہہ لیا ہم نے
یہ قیامت جو آپ سہتے ناں
آپ ملتے تھے جی رہے تھے ہم
ملتے رہتے تو زندہ رہتے ناں
میرے پہلو میں چین ملتا تھا
میرے پہلو میں آپ رہتے ناں
آپ کہتے کہ لوٹ آؤں گا
آپ اک بار تو یہ کہتے ناں
جس پر غصہ ہے۔
جس سے بار بار جھگڑا ہوتا ہے۔
جو آپ کا اپنا ہے مگر معاملہ اس کے ساتھ بگڑتا بھی ہے ۔
پلیز سوچیں ! اگر وہ کل نہ رہا تو ؟؟
دل بڑا کریں، موقع دیں ، اچھائیوں پر نظر رکھیں۔
دنیا رلائے تو رو لیں، دل پہ بوجھ نہ رکھیں، ہلکا کر لیں خود کو، روئیں گے نہیں تو ایک وقت آئے گا جب برداشت نہیں ہو گا، دل کمزور پڑ جائے گا، تب لوگوں کے سامنے رونا پڑے گا، اس لئے جب بھی کوئی رلائے، علیحدگی میں رو لیں، رو رو کر اللہ سے دعا مانگیں، خود کو ہلکا کر لیں،، تاکہ بعد میں آپ دنیا کے سامنے کمزور نہ ہوں
کبھی کبھی ہمارے راستے میں آیا ٹوٹا ہوا پل برا نہیں ہوتا وہ آپ کو ایسی جگہ جانے سے روکتا ہے جہاں آپ کو نہیں جانا چاہیے
زندگی کے سفر میں رکاوٹ کا کوئی نا کوئی مقصد ہوتا ہے__ بس ہمیں اس رکاوٹ سے سبق سیکھنا چاہئے.
آزمائشیں پہاڑ نہیں ہوتیں
بلکہ آزمائشیں پہاڑ لگ رہیں ہوتیں ہیں
کچھ شیطانی وسوسوں سے اور کچھ ہماری اپنی سوچ سے ،،
ہمارا کام صرف صبر کا ہوتا ہے یہ جو درد کی شدت اور آزمائش ہمیں بوجھ لگنے لگتی ہے یہ ہمارے بہت زیادہ سوچنے کے باعث ہوتا ہے
ہمیں اللہ رب العزت کی ذات پہ یقیں نہیں ہوتا کہ میرا وہ رب جس نے مجھے پیدا کیا مجھے ہر سانس سکھ اور سکون کی دی
اگر کبھی درد ابھی گیا تو اسکی رضا سمجھ کر مسکرا کر سہہ لینا
کہ میرا رب مجھ سے بہتر جانتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا ٹھیک ہے کیا نہیں ...؟ پھر ہاتھ پاؤں مارنے کا فائدہ ؟؟
یقین کرنا سیکھیں تحمل مزاجی سیکھیں اور زیادہ سوچنا چھوڑ دیں
کیونکہ ایسے میں زیادہ سوچ کر کچھ بھی نہیں ہوتا
اس غریب کے حال سے تغافل مت برت ،آنکھیں نہ پھیر باتیں بنا کر
میری جاں اب جدائی کی تاب نہیں، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے
جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصر
اے دوست محبوب کو دیکھے بِنا یہ اندھیری راتیں کیونکر کاٹوں
.
پلک جھپکنے میں وہ دو جادو بھری آنکھیں میرے دل کا سکون لے اُڑیں
اب کسے پڑی ہے کہ جا کر محبوب کو ہمارے دل کا حال سنایۓ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain