*آپ کے اعضاء کب ڈرتے ہیں.. 1۔ *معدہ(Stomach)* اس وقت ڈرا ہوتا ہے جب آپ صبح کا ناشتہ نہیں کرتے ۔ 2۔ *گردے(Kidneys)* اس وقت خوفزدہ ہوتے ہیں جب آپ 24 گھنٹے میں 10 گلاس پانی نہیں پیتے۔ 3۔ *پتہ( Gall bladder )* اس وقت پریشان ہوتا ہے جب آپ رات 11بجے تک سوتے نہیں اور سورج طلوع سے پہلے جاگتے نہیں ہیں 4۔ *چھوٹی آنت(small intestines )* اس وقت تکلیف محسوس کرتی ہے جب آپ ٹھنڈے مشروبات پیتے ہیں اور باسی کھانا کھاتے ہیں ۔ 5۔ *بڑی میں آنت(Large intestine)* اس وقت خوفزدہ ہوتی ہے جب زیادہ تلی ہوئی یا مصالحہ دار چیز کھاتے ہیں
6۔ *پھیپھڑے ( Lungs )* اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں جب آپ دھواں دھول سگریٹ بیڑی سے آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں ۔ 7۔ *جگر(Liver)* اس وقت خوفزدہ ہوتا ہے جب آپ بھاری تلی ہوئی خوراک اور فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں ۔ 8۔ *دل(Heart )* اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتا ہے جب آپ زیادہ نمکین اور کولیسٹرول والی غذا کھاتے ہیں 9۔ *لبلبہ(Pancreas )* لبلبہ اس وقت بہت ڈرتا ہے جب آپ کثرت سے مٹھائی کھاتے ہیں اور خاص کر جب وہ فری دستیاب ہو۔ 10۔ *آنکھیں(Eyes )* اس وقت تنگ آ جاتی ہیں جب اندھیرے میں موبائل اور کمپیوٹر پر ان کی تیز روشنی میں کام کرتے ہیں ۔ 11۔ *دماغ(Brain )* اس وقت بہت دکھی ہوتا ہے جب آپ منفی negative سوچتے ہیں ۔ اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے۔ *یاد رکھئے یہ اعضاء مارکیٹ میں دستیاب نہیں ھیں*
ایک چھوٹا بچہ جو نہانے اور ہاتھ منہ دھلوانے سے گھبراتا ہے اور اس کو نہانے سے تکلیف ہوتی ہے لیکن ماں زبردستی پکڑ کر اس کو نہلادیتی ہے اور اس کا میل کچیل دور کردیتی ہے.. بچہ نہانے کے دوران روتا بھی ہے' چیختا بھی ہے لیکن ماں اس کے باوجود اسکو نہیں چھوڑتی ھے۔۔۔ اب بچہ تو سمجھ رہا ہے کہ مجھ پر ظلم اور زیادتی ہورہی ہے' مجھے تکلیف پہنچائی جا رہی ہے لیکن ماں شفقت اور محبت کیوجہ سے اس کو نہلارہی ہے' اس کا میل کچیل دور کررہی ہے' اس کا جسم صاف کررہی ہے۔۔
چنانچہ جب بچہ بڑا ہوگا تو اس وقت اس کی سمجھ میں آئے گا کہ یہ نہلانے دھلانے کا جو کام میری ماں کرتی تھی وہ بڑی محبت اور شفقت کا عمل تھا جس کو میں ظلم و زیادتی سمجھ رہا تھا.. اگر میری ماں میرا میل کچیل دور نہ کرتی تو میں گندہ رہ جاتا۔۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر حالات کی سختی اور آزمائشوں سے گزار کر اس کے گناہوں کو صاف کردیتا ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا اس طرح پاک وصاف ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں
سنو ۔۔۔!!! وہ تمہیں بے حساب "دینے "کے لیے آزما رہا ہے۔۔۔۔ وہ تم سے اتنی محبت کرتاہے کہ تمہیں اسکی مقدار معلوم ہوجاۓ تو تمہارا جوڑ جوڑ علیحدہ ہوجاۓ اس احساسِ محبت سے
بس تم ایک کام کر لو۔۔۔۔!!!!!! میری ایک بات مان لو کہ اس سے راضی ہو جاٶ۔۔۔۔ اس حال میں کہ جب زبان سے شکوے آنکھ سے آنسو۔۔۔۔۔ دل سے ناشکری کے بول امڈے چلے آتے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر تم یہی کہتے رہو کہ اللہ جی میں آپ سے راضی ۔۔۔۔۔♥️ آپ کی محبت سے راضی ۔۔۔۔۔۔ آپ کی دی ہوٸی آزماٸش پر راضی ۔۔۔۔۔۔ دل سے نکلتی آہوں اور آنکھ سے بہتے آنسوٶں میں راضی ۔۔۔۔۔ آپ کی مصلحتوں پر راضی ۔۔۔۔۔۔ بس جھک جاٶ کیونکہ " جو نہ جھک سکا۔۔۔۔۔۔ وہ نہ پا سکا۔۔۔۔۔!!!
کوٹ مٹھن میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ " عید کڈاں" ( عید کب ہو گی ) کچھ لوگ اس مجذوب کی بات اَن سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر مذاق اُڑاتے گُزر جاتے ۔ ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرے تو اُس مجذوب نے اپنا وہی سوال دہرایا، “عید کڈاں “( عید کب ھو گی ) آپ صاحبِ حال بزرگ تھے ،اُس کا سوال سُن کر مسکرائےاور کہا ، یار ملے جڈاں ( جب محبوب ملے وھی دن عید کا دن ھو گا ) یہ الفاظ سُنتے ھی مجذوب کی آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسو جاری ھو گئےاور وہ مزید
ترستی آنکھوں سے گویا ھوا “سرکار یار ملے کڈاں” (محبوب کب ملے گا ؟) خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا "میں مرے جڈاں " ( جب" میں " مرے گی) بس یہ فرمانا تھا کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ھوۓ عرض کیا کہ “حضور میں مرےِ کڈاں " ( میں کب مرے گی ) سرکار رحمتہ اللہ علیہ مسکراۓ اُسے پیار سے تھپکی دیتےہوئے یہ کہتے چل دیے "یار تکے جڈاں " ( جب محبوب دیکھے گا) ۔
کچھ روگ بڑے مبارک ہوتے ہیں لگ جائیں تو آپ کو پہلے سے مختلف انسان بنا دیتے ہیں آپ تخلیقی اورتعمیری بن جاتے ہیں کچھ ٹھوکریں بھی بڑی معتبر ہوتی ہے سیدھا اس کے دربار میں سر کے بل لا کھڑا کرتی ہیں کچھ بے توجیہاں بھی بڑی انمول ہوتی ہیں آپ کی توجہ اور دھیان کا ارتکاز چہروں کے ہجوم سے نکال کر کتب نما کی طرح ایک ذات کی طرف مبذول کر دیتی ہیں ایسے ہر درد، ہر ٹھوکر ، ہر روگ ہر خلش، ہر بےبسی، ہر بے اعتنائی ہر بے رخی ، ہر بے توجہی کو سلام جس نے آپ کو پہلے سے بہتر انسان بنایا اور صاحب کن فیکون سے جا ملایا