میں نے پوچھا قسمت کے فیصلے خدا آسمانوں پر لکھتا ہے نا؟
بولا ہاں سنا تو کچھ ایسا ہی ہے
میں نے پھر پوچھا تو وہ ہمیں وہی عطا کرتا ہے نا جو ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے ؟
جواب آیا ہاں بلکل ایسا ہی ہے
میں نے کہا تو خدا کے کیے فیصلے بھی بعض اوقات اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں ۔۔اور وہ ہمیں عطا کر کے ہم سے بعض اوقات واپس کیوں لے لیتا ہے ؟
بولا جب ہم خدا کے فیصلوں کی قدر نہیں کرتے تو وہ ہم سے اپنی دی نعمت واپس لے لیتا ہے کبھی آزماعش کے طور پر اور کبھی سزا کے طور پر کیوں کے وہ ہمیں دے کر بھی آزماتا ہے اور ہم سے لے کر بھی۔۔ اور ہماری ہر تکلیف یا تو ہمارے کیے کی سزا ہوتی یا خدا کی آزماعش
میں نے پوچھا تو پتا کب چلتا ہے ک ہمارا دکھ سزا ہے یا آزماعش ؟ اور اس بات کے جواب نے مجھے ایک دم مطمعین کر دیا تھا
کہنے لگا اگر تمہاری تکلیف تمہارا دکھ تمہے خدا کے قریب کر دے تو آزماعش اور اگر گمراہ کر دے تو سزا ۔۔
ﮨﻢ ﺳﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﺩﺍﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺑﮯ ﺭُﺧﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺗِﺮﺍ ﺍﺣﺴﺎﮞ ﺟﺎﻧﺎﮞ
جب کسی دل کو اللہ جب اپنے لیے خالص کرنا چاہتا ہے ناں تو اسے توڑتا ہے۔۔
بار بار توڑتا ہے۔۔
جب بھی اس دل میں اللہ کے سوا کسی اور کی محبت آنے لگتی ہے۔۔
وہ رب اس محبوب چیز یا انسان کو اس سے دور کردیتا ہے۔۔
جتنی بار وہ دل دنیا کی محبت کی طرف لپکتا ہے اتنی بار اسکا دل توڑا جاتا ہے،اتنا ہی اسے ٹھکرایا جاتا ہے۔۔
یہاں تک کہ اس کو احساس ہو جاتا ہے کہ اس دل میں رہنے لائق محبت صرف "اس رب " کی ہے۔۔
اور پھر جب انسان ٹوٹ کر بکھر کر رب کے آگے گرتا ہے ناں۔۔
تو وہ رب اسے تھام کر اسے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے۔۔اسے اپنے رستے پر چلاتا ہے۔۔
اسکے دل کو اپنی محبت کے گھیرے میں لے لیتا ہے۔۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے جب اس دل میں "رب" کے سوا کوئی خواہش نہیں رہتی۔۔۔
یہ ٹوٹے ہوئے،ٹھکرائے ہوئے دل بڑے نایاب ہوتے ہیں۔۔
جن میں رب کی محبت بڑی تیزی سے سما جاتی ہے۔۔
بے شک بہت خاص ہوتے ہیں وہ دل جنھیں وہ اپنی محبت کے لیے چنتا ہے۔۔۔
مجھے حیرت ہوتی ہے ایسے لوگوں پہ جو لوگوں سے ان کی زندگی میں ناراض ہو جاتے ہیں
ان سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں
ان کے ذکر سے بھی نفرت ہوتی ہے
ان سے کبھی ملنے کا بھی نہیں سوچتے
اگر ایسے لوگ اچانک دنیا سے چلے جائے تو پھر وہی لوگ ساری زندگی ان سے صرف ایک سوری بولنے کے لیے تڑپ جائینگے، زندگی بہت بہت چھوٹی ہوتی ہے لیکن یہ ناراضگی بہت بڑی ہو جاتی ہے.
کاش یہ ناراضگی زندگی سے بھی چھوٹی ہوتی تو یہ زندگی اتنی مشکل نہیں ہوتی.
یہ موت اتنی آسان نہیں ہوتی...
میں نے مرنے والوں کے پیچھے زندہ رہنے والوں کو تڑپتے ہوئے دیکھا ہے۔
اپنے ناراض لوگوں کو منا لیں اس پہلے کہ یہ زندگی ہار جائے اور یہ ناراضگی جیت جائے۔
لہجے نرم رکھیں ،
آپ کے گھر والے سب سے زیادہ اس کے حقدار ہیں