مجھے اکثر یہ لگتا ہے کہ جیسے ہوں نہیں ہوں میں مجھے ہونے نہ ہونے کے یہ خدشے مار دیتے ہیں کبھی مرنے سے پہلے بھی بشر کو مرنا پڑتا ہے یہاں جینے کے ملتے ہیں جو صدمے مار دیتے ہیں بہت احسان جتانے سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے بہت ایثار وقربانی کے جذبے مار دیتے ہیں کبھی طوفاں کی زد سے بھی سفینے بچ نکلتے ہیں کبھی سالم سفینوں کو کنارے مار دیتے ہیں وہ حصہ کاٹ ڈالا زہر کا خدشہ رہا جس میں جو باقی رہ گئے مجھ میں وہ حصے مار دیتے ہیں جو آنکھوں میں رہیں نزہتؔ وہی تو خواب اچھے ہیں جنھیں تعبیر مل جائے وہ سپنے مار دیتے ہیں
میں کہوں تو بس وہ سنا کرے.. میری فرصتیں. میرے مشغلے.. سبھی اپنے __ نام کیا کرے.. کوئی بات ہو کسی شام کی.. جو سنانے بیٹھوں اسے کبھی.. وہ سنے تو سن کے ہنسا کرے.. جو میں کہوں چلو اس نگر.. جہاں جگنوؤں کا ہجوم ہو.. وہ پلٹ کے دیکھے میری طرف.. اور مجھکو پاگل کہا کرے.. بس میرے ساتھ چلا کرے
تمہارے دکھ درد کا منبع تمہاری ذات ہے لیکن تم محسوس نہیں کرتے، اور تمہارے درد کی دوا بھی تمہارے اندر ہی موجود ہے لیکن تمہیں پتہ نہیں چلتا۔ تم سمجھتے ہو کہ تم ایک حقیر ذرّہ ہو، حالانکہ پوری کائنات تمہارے اندر ملفوف ہے۔ تم وہ روشن کتاب ہو کہ جس کے حروف سے چُھبے ہوئے معانی ظاہر ہوتے ہیں۔ پس تمہیں اپنے سے باہر کچھ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سب کچھ اندر ہی لکھا ہوا ملے گا، اپنے صفحہ وجود کو پڑھو۔۔۔۔۔
آج کے انسان کی حقیقت : کہاں ہیں سیکھنے والے ؟؟ میں نے تو صرف سکھانے والے دیکھے ۔ یا اللہ ! مجھے سیکھنے والوں میں ہی شامل رکھنا ۔ جہاں اپنی غلطی نظر آۓ تو اس کی اصلاح کی فکر کروں نہ کہ اپنی غلطی سے بے فکر ہونے کے لیۓ زاویہ ہی بدل لوں ۔ آج مجھے سب ایسے ہی دکھے ۔۔۔۔