اندر کا انسان آپ کا اصل ساتھی اور آپکا صیحیح تشخص آ پ کے اندر کا انسان ہے۔ اسی نے عبادت کرنی ہے اور اسی نے بغاوت۔ ۔وہی دنیا والا بنتا ہے۔وہی آ خرت والا۔ ۔اسی اندر کے انسان نے آ پ کو جزا اور سزا کا مستحق بنانا ہے۔ فیصلہ آ پ کے ہاتھوں میں یے۔اپ کا باطن ہی آ پ کا بہترین دوست ہے۔اوروہی بدترین دشمن۔ آ پ خود ہی اپنے لیے دشواری سفر ہو اور خود ہی شادابی منزل۔باطن محفوظ ہو گیا ظاہر بھی محفوظ ہو گیا۔
کبھی خُود بھی میرے پاس آ میری بات سُن میرا ساتھ دے جو خلش ہے دل سے نکال کے مجھے الجھنوں سے نجات دے تیرا سوچنا میرا مشغلہ تجھے دیکھنا میری آرزو مجھے دن دے اپنے خیال کا مجھے اپنے قُرب کی رات دے میں اکیلا بھٹکُوں کہاں کہاں یہ سفر بہت طویل ہے میری زندگی میرے ساتھ چل میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے
وقت گزر جاتا ھے - اچھا ھو یا برا ، لیکن انسانوں کے رویے ، ہمیشہ یاد رہ جاتا ہیں ۔ وہ تو محفوظ ھو جاتے ، یادوں میں ، کتابوں میں لکھے حروف کی طرح ، کوشش کریں اگر کسی کے برے وقت میں کچھ اچھا نہیں کر سکتے تو برا بھی مت کجیئے ۔ یاد رکھیں "وقت" وقت کی بات ہوتی اور وقت بدلنے میں وقت نہیں لگت
کوئی رات ایسی نہیں جو ختم نہ ہوئی ہو ۔۔۔۔ ، کوئی غلطی ایسی نہیں جو معاف نہ کی جا سکے۔۔۔۔، کوئی انسان ایسا نہیں جس پر رحمت کے دروازے بند ہوں ، رحم کرنے والے کا کام ہی یہی ہے کہ رحم کرے ۔۔۔۔، رحم اس فضل کو کہتے ہیں جو انسانوں پر ان کی خامیوں کے باوجود کیا جائے ۔۔۔۔۔، اور یہ رحم ہوتا ہی رہتا ہے ۔ دعا سے خوف دُور ہوتا ہے ۔ اور دعا کا حاصل اور ماحصل ہی یہی ہے کہ یہ ہمیں ہمارے خوف سے نجات دلاتی ہے ۔