Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

آج کل ان چڑوں کو تو دیکھو۔ کیسے آشیانوں کی تلاش میں دربدر نظر آتے ھیں۔ کھڑکیوں اور کھڑکیوں چھجوں روشندانوں ایگزاسٹ فین کے درمیانی خلا دیواروں کے چھوٹے بڑے شگاف چھتوں کی ممٹیوں غرض کے ھر چھتے نیم چھتے خلا میں داخل ہوکر چاردیواری کا یوں جائزہ لیتے ھیں۔ جیسے کسی پراپرٹی ایجنٹ کے ساتھ نیا بنگلا پسند کرنے آئے ھیں۔دوچار کوششوں میں بات بن جائے تو ٹھیک ورنہ یہ حضرت چڑے پھولی پھولی سانسوں کیساتھ دیوار پر بیٹھ کر یوں چڑچڑاتے ھیں۔ جیسے گھر بیٹھی بیگم کو کوس رھے ھوں۔ کچھ کپلز میاں بیوی گاڑی کے دوپہیے کے مقولے پریقین رکھتے ھوئے ایک ساتھ نکلتے ھیں۔ایسے میں چڑا اگر ایک خلا میں گھستا ھے تو چڑیا دوسرے میں اور اگر چڑے کو بات بنتی نظر آئے تو وہ

Offline
 

جھانک کر چڑیا کو چیں چیں سے پکارتا ھے۔اور اگر چڑیا کو کچھ پسند آجائے تو وہ باہر آکر چوچوں پکارتی ھے۔جس کا اردو ترجمہ شائد آنیوالے چوچوں کے ابا ہوسکتا ھے۔ یا پھر ان چڑوں چڑیوں نے اپنے درمیان تذکیر و تانیث کی تخصیص چوں چوں اور چیں چیں سے کر رکھی ھے۔ بہر حال بات ڈن ہونیکی صورت میں چڑا فوری طور پہ گھاس پھونس کی صورت میں سامان کی رسد شروع کردیتا ھے۔اور بی چڑیا اندر تزئین و آرائش میں مشغول ہو جاتی ہیں

Offline
 

بہار کے دن ٹکسال کے سکوں کی طرح چمکیلے ہوتے ہیں
اور راتیں کسی زرتار چلمن کے جیسی
اے موسم دلربا !!!
تو اتنا مختصر کیوں ھے
شب بخیر ۔ ۔۔

Offline
 

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
ایک دفعہ مرزا غالب نے اپنے ایک دوست کو اپنے گھر بلایا لیکن خود بھول گئے اور کسی کام کے سلسلے میں کہیں چلے گئے. مرزا کا دوست کچھ دیر تک انکا انتظار کرتا رہا، جب وہ نہ آئے تو دروازے پر غالب کو ' گدھا ' لکھ کر چلا گیا.
اگلے دن وہ مرزا سے ملا اور کہا ، " میں کل آپ کے گھر آیا تھا " تو مرزا بولے، " ہاں میں نے دروازے پر تمہارے دستخط دیکھ لیے تھے".

Offline
 

ہماری آنکھیں اداس غزلوں کا قافیہ ہیں
۔
۔
ہمارا چہرہ پرانے وقتوں کی شاعری ھے

Offline
 

دوسروں کے دلوں میں تو شائد ہم اپنے مقام کا تعین کبھی نہ کر پائیں۔لیکن دوسروں کے روئیے وہ آئینے ھیں جس میں ہم اپنا قد دیکھ سکتے ہیں

Offline
 

سردیوں کی صبح کی سب سے پیاری بات پتہ ھے کیا ھے
کھڑکیوں کے اوس جمے شیشوں پر
تمہارے نام کا پہلا حرف لکھنا
.. .. ..

Offline
 

میں کتنا بہادر ھوں اس کا اندازہ اس چھوٹے سے واقعے سے لگائیں کہ جب میں چھوٹا سا تھا تو میں نے کوئین وکٹوریہ کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور یہ واقعہ لاہںور میوزیم کے تفریحی ٹور کے دوران پیش آیا

Offline
 

میں اس سال درختوں کا دن مناؤں گا
۔
۔
میری قریب کے جنگلوں سے بات ہو گئی ھے
شب بخیر ۔ ۔۔

Offline
 

پاؤں تلے آئے ھوئے چرمراتے خزاں رسیدہ پتے کی صدا غور سے سنو۔
وہ کہتا ھے _______
خزاں تم پہ بھی آئے گی

Offline
 

جو معاف نہیں کرسکتا ہے وہ اس پُل کو توڑتا ہے جو اسے انسانوں سے اور مخلوقِ خُدا سے ملاتا ہے اور لوگوں سے جوڑتا ہے -
بہت ممکن ہے اس کی اپنی زندگی میں ایک ایسا وقت آجائے کہ اسے لوگوں سے ملنے کی ضرورت پڑے تو وہ اُن سے کیسے ملے گا...؟
اس نے تو پُل توڑ دیا ہوگا اور خود اپنے ہاتھوں سے توڑا ہوگا

Offline
 

اَج دی رات میں کلّا وَاں
کوئی نئیں میرے کول...
اَج دی رات تے میریا ربّا
نیڑے ہو کے بول
شب بخر ۔ ۔۔

Offline
 

کچھ لوگ خوبصورت نہیں ہوتے
مگر ۔ ان میں ایک عجیب طرح کا اسرار ہوتا ھے
ان کے پھیلے نقوش کسی مورت کی طرح تراشیدہ ہوتے ھیں
ان کی گہری سانولی رنگت میں کندنی سی ملاحت گھلی ھوتی ھے
ان کی عام سی کالی آنکھیں جادو نگریوں کے دریچے معلوم ہوتی ہیں
ان کے بے چمک بالوں میں سیاہ رات سوئی ھوتی ھے
وہ جو بے خبری کے عالم میں گم صم بیٹھے ہوں تو
کسی مجسمے کی طرح ایستادہ لگتے ھیں
اور ۔ جو وہ اچانک سے چونک جائیں تو
ٹھہرے طلسم ٹوٹ جاتے ھیں

Offline
 

من گھڑت چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں جیسے کہ
.
.
تمہاری اور میری وہ ملاقات جو چاند کے اس پار تھی

Offline
 

اور جب نارنجی سورج کی ٹکیہ
سبز درختوں کے پیچھے سے ابھرتی ھے
اور جب سیاہ سفید اور مٹیالے پرندوں کی قطاریں
آسمان کے نیلے قرطاس پہ
نظم کے مصرعوں کی صورت بکھرتی ھیں
اور جب مسجدوں سے لوٹتے
بوڑھوں کی کھاؤں کھاؤں
اور۔ دودھ فروشوں کے سائیکلوں کی گھنٹیاں
دبیز پردوں سے کمروں کی خاموشی میں
داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں
اور جب دور شہر کے مضافات سے
بسوں کی مدھم پوں پوں سنائی دیتی ھے
اور جب شہر کی آبادی کسمسا کر

Offline
 

نیند میں انگڑائی لیتی ھے
تو مجھے اس منظر کو دیکھنے کے لیئے
اپنے گھر کی چھت کی عقبی دیوار پہ
سٹول رکھ کے جھانکنا پڑتا ھے
ریت سیمنٹ اور بجری سے بنی یہ دیواریں
اور ان دیواروں کا جنگل
میری آنکھ کے کتنے مناظر کو نگل چکا ھے
آواز کا سماعت سے
نظر کا منظر سے
وہی تعلق ھے
جو جسم کا جان سے ھے
اب میرے شہر میں
پتھرائی آنکھوں والے لوگ بستے ھیں

Offline
 

برس خواہ کتنے بھی گزر جائیں ۔ میں وہی کا وہی ‛ وہیں کا وہیں ‛ ویسا کا ویسا رہوں گا
شب بخیر ۔ ۔۔

Offline
 

یہ اداسی کا سبب پوچھنے والے اجملؔ
.
.
کیا کریں گے جو اداسی کا سبب بتلایا

Offline
 

تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
.
.
آپ تو آگ لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں

Offline
 

ضروری ہدایت!
اپنے محبوب کو سستے ناموں سے نہ پکاریں
جیسے میرا شونا،، میرا جانو
،،بےبی ،،شوگر،،چاکلیٹ
سویٹ کینڈی،بسکٹ،،کیک وغیرہ
یہ محبوب کی ویلیو کم کرتے ہیں
یہ چیزیں تو 100 یا 1000 روپے میں بھی مل جاتی ہیں
نیا سوچیں اور محبوب کو مہنگے ناموں سے پکاریں جیسے۔۔
میرا پیٹرول،، میرا ڈیزل،، میرا آئی فون،، میرا ہیلی کاپٹر
میرا اے سی،، میرا تیل کا کنواں،،
میرا محل،، میری فیکٹری ،
محبوب کی ویلیو بڑھائیں۔
زندگی کو آسان بنائیں۔۔۔
اور ہاں موسم کے حساب سے محبوب کو
چلغوزہ بھی کہہ سکتے ہیں