آج کل ان چڑوں کو تو دیکھو۔ کیسے آشیانوں کی تلاش میں دربدر نظر آتے ھیں۔ کھڑکیوں اور کھڑکیوں چھجوں روشندانوں ایگزاسٹ فین کے درمیانی خلا دیواروں کے چھوٹے بڑے شگاف چھتوں کی ممٹیوں غرض کے ھر چھتے نیم چھتے خلا میں داخل ہوکر چاردیواری کا یوں جائزہ لیتے ھیں۔ جیسے کسی پراپرٹی ایجنٹ کے ساتھ نیا بنگلا پسند کرنے آئے ھیں۔دوچار کوششوں میں بات بن جائے تو ٹھیک ورنہ یہ حضرت چڑے پھولی پھولی سانسوں کیساتھ دیوار پر بیٹھ کر یوں چڑچڑاتے ھیں۔ جیسے گھر بیٹھی بیگم کو کوس رھے ھوں۔ کچھ کپلز میاں بیوی گاڑی کے دوپہیے کے مقولے پریقین رکھتے ھوئے ایک ساتھ نکلتے ھیں۔ایسے میں چڑا اگر ایک خلا میں گھستا ھے تو چڑیا دوسرے میں اور اگر چڑے کو بات بنتی نظر آئے تو وہ
جھانک کر چڑیا کو چیں چیں سے پکارتا ھے۔اور اگر چڑیا کو کچھ پسند آجائے تو وہ باہر آکر چوچوں پکارتی ھے۔جس کا اردو ترجمہ شائد آنیوالے چوچوں کے ابا ہوسکتا ھے۔ یا پھر ان چڑوں چڑیوں نے اپنے درمیان تذکیر و تانیث کی تخصیص چوں چوں اور چیں چیں سے کر رکھی ھے۔ بہر حال بات ڈن ہونیکی صورت میں چڑا فوری طور پہ گھاس پھونس کی صورت میں سامان کی رسد شروع کردیتا ھے۔اور بی چڑیا اندر تزئین و آرائش میں مشغول ہو جاتی ہیں
بہار کے دن ٹکسال کے سکوں کی طرح چمکیلے ہوتے ہیں
اور راتیں کسی زرتار چلمن کے جیسی
اے موسم دلربا !!!
تو اتنا مختصر کیوں ھے
شب بخیر ۔ ۔۔
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
ایک دفعہ مرزا غالب نے اپنے ایک دوست کو اپنے گھر بلایا لیکن خود بھول گئے اور کسی کام کے سلسلے میں کہیں چلے گئے. مرزا کا دوست کچھ دیر تک انکا انتظار کرتا رہا، جب وہ نہ آئے تو دروازے پر غالب کو ' گدھا ' لکھ کر چلا گیا.
اگلے دن وہ مرزا سے ملا اور کہا ، " میں کل آپ کے گھر آیا تھا " تو مرزا بولے، " ہاں میں نے دروازے پر تمہارے دستخط دیکھ لیے تھے".
ہماری آنکھیں اداس غزلوں کا قافیہ ہیں
۔
۔
ہمارا چہرہ پرانے وقتوں کی شاعری ھے
دوسروں کے دلوں میں تو شائد ہم اپنے مقام کا تعین کبھی نہ کر پائیں۔لیکن دوسروں کے روئیے وہ آئینے ھیں جس میں ہم اپنا قد دیکھ سکتے ہیں
سردیوں کی صبح کی سب سے پیاری بات پتہ ھے کیا ھے
کھڑکیوں کے اوس جمے شیشوں پر
تمہارے نام کا پہلا حرف لکھنا
.. .. ..
میں کتنا بہادر ھوں اس کا اندازہ اس چھوٹے سے واقعے سے لگائیں کہ جب میں چھوٹا سا تھا تو میں نے کوئین وکٹوریہ کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور یہ واقعہ لاہںور میوزیم کے تفریحی ٹور کے دوران پیش آیا
میں اس سال درختوں کا دن مناؤں گا
۔
۔
میری قریب کے جنگلوں سے بات ہو گئی ھے
شب بخیر ۔ ۔۔
پاؤں تلے آئے ھوئے چرمراتے خزاں رسیدہ پتے کی صدا غور سے سنو۔
وہ کہتا ھے _______
خزاں تم پہ بھی آئے گی
جو معاف نہیں کرسکتا ہے وہ اس پُل کو توڑتا ہے جو اسے انسانوں سے اور مخلوقِ خُدا سے ملاتا ہے اور لوگوں سے جوڑتا ہے -
بہت ممکن ہے اس کی اپنی زندگی میں ایک ایسا وقت آجائے کہ اسے لوگوں سے ملنے کی ضرورت پڑے تو وہ اُن سے کیسے ملے گا...؟
اس نے تو پُل توڑ دیا ہوگا اور خود اپنے ہاتھوں سے توڑا ہوگا
اَج دی رات میں کلّا وَاں
کوئی نئیں میرے کول...
اَج دی رات تے میریا ربّا
نیڑے ہو کے بول
شب بخر ۔ ۔۔
کچھ لوگ خوبصورت نہیں ہوتے
مگر ۔ ان میں ایک عجیب طرح کا اسرار ہوتا ھے
ان کے پھیلے نقوش کسی مورت کی طرح تراشیدہ ہوتے ھیں
ان کی گہری سانولی رنگت میں کندنی سی ملاحت گھلی ھوتی ھے
ان کی عام سی کالی آنکھیں جادو نگریوں کے دریچے معلوم ہوتی ہیں
ان کے بے چمک بالوں میں سیاہ رات سوئی ھوتی ھے
وہ جو بے خبری کے عالم میں گم صم بیٹھے ہوں تو
کسی مجسمے کی طرح ایستادہ لگتے ھیں
اور ۔ جو وہ اچانک سے چونک جائیں تو
ٹھہرے طلسم ٹوٹ جاتے ھیں
من گھڑت چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں جیسے کہ
.
.
تمہاری اور میری وہ ملاقات جو چاند کے اس پار تھی
اور جب نارنجی سورج کی ٹکیہ
سبز درختوں کے پیچھے سے ابھرتی ھے
اور جب سیاہ سفید اور مٹیالے پرندوں کی قطاریں
آسمان کے نیلے قرطاس پہ
نظم کے مصرعوں کی صورت بکھرتی ھیں
اور جب مسجدوں سے لوٹتے
بوڑھوں کی کھاؤں کھاؤں
اور۔ دودھ فروشوں کے سائیکلوں کی گھنٹیاں
دبیز پردوں سے کمروں کی خاموشی میں
داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں
اور جب دور شہر کے مضافات سے
بسوں کی مدھم پوں پوں سنائی دیتی ھے
اور جب شہر کی آبادی کسمسا کر
نیند میں انگڑائی لیتی ھے
تو مجھے اس منظر کو دیکھنے کے لیئے
اپنے گھر کی چھت کی عقبی دیوار پہ
سٹول رکھ کے جھانکنا پڑتا ھے
ریت سیمنٹ اور بجری سے بنی یہ دیواریں
اور ان دیواروں کا جنگل
میری آنکھ کے کتنے مناظر کو نگل چکا ھے
آواز کا سماعت سے
نظر کا منظر سے
وہی تعلق ھے
جو جسم کا جان سے ھے
اب میرے شہر میں
پتھرائی آنکھوں والے لوگ بستے ھیں
برس خواہ کتنے بھی گزر جائیں ۔ میں وہی کا وہی ‛ وہیں کا وہیں ‛ ویسا کا ویسا رہوں گا
شب بخیر ۔ ۔۔
یہ اداسی کا سبب پوچھنے والے اجملؔ
.
.
کیا کریں گے جو اداسی کا سبب بتلایا
تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
.
.
آپ تو آگ لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں
ضروری ہدایت!
اپنے محبوب کو سستے ناموں سے نہ پکاریں
جیسے میرا شونا،، میرا جانو
،،بےبی ،،شوگر،،چاکلیٹ
سویٹ کینڈی،بسکٹ،،کیک وغیرہ
یہ محبوب کی ویلیو کم کرتے ہیں
یہ چیزیں تو 100 یا 1000 روپے میں بھی مل جاتی ہیں
نیا سوچیں اور محبوب کو مہنگے ناموں سے پکاریں جیسے۔۔
میرا پیٹرول،، میرا ڈیزل،، میرا آئی فون،، میرا ہیلی کاپٹر
میرا اے سی،، میرا تیل کا کنواں،،
میرا محل،، میری فیکٹری ،
محبوب کی ویلیو بڑھائیں۔
زندگی کو آسان بنائیں۔۔۔
اور ہاں موسم کے حساب سے محبوب کو
چلغوزہ بھی کہہ سکتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain