خواتین کا ہاتھ بٹانا
کبھی بھول کر بھی کچن کے کام میں خواتین کا ہاتھ نہ بٹاٸیں یہاں تک کہ چولہا جلا کر دینے سے بھی گریز کریں۔
خدانخواستہ نمک تیز ہو گیا، ہانڈی لگ گٸی یا روٹی جل گٸی تو سارا الزام آپ پر لگ سکتا ہے کہ چولہا درست نہیں جلایا۔
یہ وقت بھی گذر جاۓ گا
کچھ الفاظ کہنے میں جتنے آسان ہوتے ہیں ان کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور مشکل ہوتی ہے۔
”یہ وقت بھی گذر جاۓ گا“ یہ الفاظ کہنے اور سننے میں بہت بھلے لگتے ہیں لیکن درپیش وقت ایسے گذرتا ہے کہ انسان کو ہلا ڈالتا ہے،اس کی پوری لاٸف کیمسٹری کو تبدیل کر دیتا ہے،خوش فہمیوں اور توقعات کے سارے محل زمین بوس کر دیتا ہے۔
”یہ وقت بھی گذر جاۓ گا“ وقت ان کا گذرتا ہے جو وقت کی مشکلات کا پوری ہمت کے ساتھ سامنا کرتے ہیں جو راہ فرار اختیار نہیں کرتے،جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے معجزوں کا انتظار نہیں کرتے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ کل ہم جِن کے دِلوں میں بستے تھے آج اُنکے دماغوں میں رہتے ہیں، اور کل تک جِن کے دماغوں میں رہتے تھے آج
کل اُن کے دِلوں میں بستے ہیں۔
؎ ہر دم تغیرات کی زد میں ہے کائنات
دیکھیں پلک جھپک کے تو نقشہ کُچھ اور ہے
چلو تُمہیں اُس نگر لے چلوں
جہاں پُھول کِھلتے ہیں،
جہاں جُگنو بستے ہیں،
جہاں تِتلیاں رنگ بھرتی ہیں،
جہاں مُحبت ہی مُحبت مِلتی ہے۔
جہاں میں رہتا ہوں
چلو تُمہیں اُس نگر لے چلوں
شب بخیر ۔ ۔۔
ہجرت
کل رات ہوا تو کچھ بھی نہیں تھا
بس یونہی سوتے میں کروٹ بدلنے سے
ایک آنکھ کا سارا پانی
دوسری آنکھ میں چلا گیا تھا
خود پسند ایسے نہ ہوں کہ بس خود کو ہی پسند کیے جائیں لیکن اپنی ذات کی ایسی نفی بھی مطلوب نہیں کہ لوگ آپ کو ڈور میٹ سمجھنے لگیں۔ احساسِ تفاخر ہو، نہ احساسِ محرومی۔
ان کے عین بیچ میں ایک پر اعتماد اور بردبار شخصیت
مجھے کوئی یا د کرے گا کیوں. کوئی میری بات کیوں سنے گا
کوئی میری ساتھ کیوں چلے گا میں ایک پل ہوں سو جب یہ پل بھی گزر چکے گا
.مجھے کوئی یاد کیوں کرے گا
شب بخیر ۔۔ ۔
ساری دوائیں فارمیسی سے نہیں ملتی کچھ دوائیں ۔
کسی کے قرب سے کسی کے لمس سے ،کسی کی آغوش سے، کسی کے کندھے اور کسی کے دست شفقت سے مل جایا کرتی ہیں ۔۔۔!
استاد ہمیشہ یہ کہنے سے گریز کرتی تھیں: "غلط جواب"۔
وہ کہتی تھیں: "تم صحیح جواب کے قریب ہو، کون دوسرا جواب دے سکتا ہے؟"
لیکن سب سے بہترین جملہ وہ تھا جب استاد نے ایک طالب علم کو غلط جواب دینے پر کہا: "یہ جواب کسی اور سوال کے لیے بالکل درست ہے۔"
یہ وہ دل ہیں جو حوصلہ شکنی کا راستہ نہیں جانتے
ہجوم درد میں کیا مسکرایئے کہ یہاں 🥀
.
.
خزاں میں پھول کھلے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟
شب بخیر ۔ ۔ ۔
البرٹ آئن سٹائین نے کہا تھا
اگرچہ میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایک عام سا اور تنہا شخص ہوں، لیکن سچائی، خُوبصورتی کو دیکھنے اور انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی پوشیدہ برادری سے تعلق رکھنے کی میری آگاہی نے
مجھے تنہائی کے احساس سے روک رکھا ہے۔
ہمیں پھنسا کے یہاں فاصلوں کی الجھن میں
.
.
زمیں ضرور کہیں آسمان سے ملتی ھے
تہیہ
" اگر آپ دُکھ درد کی کہانیاں بند کردیں کسی نہ کسی طور پر " تگڑے " ہو جائیں اور یہ تہیہ کرلیں کہ ﷲ نے اگر ایک دروازہ بند کیا تو وہ اور کھولے گا‘ تو اور یقینًا اور دروازے کُھلتے جائیں گے۔"
ممکن ہے
کسی کے لیے آپ سرورق ہوں
اور آپ اسے فہرست میں گننے لگیں
وہ آپ کو متن سمجھے اور
آپ حاشیہ خیال کریں
اس کے نزدیک آپ معانی ہوں
اور آپ اسے صرف لفظ شمار کریں۔۔
یا
آپ۔۔۔ اسے عجلت میں پڑھیں
وہ آپ کو خلوت میں تلاوت کر رہا ہو۔۔
"کہاوت ہے کہ حالات انسانوں کو بدل دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ حالات انسانوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ہم اکثر اپنے اندر کی کمزوریوں یا بے راہ روی کو حالات کا الزام دے دیتے ہیں، حالانکہ یہ ہماری خود کی کمزوریوں کا عکس ہوتا ہے۔ انسان کبھی برے نہیں ہوتے، ان کے اندر کی سوچ، نیت اور ارادے ہی حالات کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جب ہم خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو حالات بھی ہمارے حق میں بدلنے لگتے ہیں۔
سائیڈ ایفکٹس صرف دوائیوں کے ہی نہیں ہوتے ۔ رویوں اور الفاظ کے بھی ہوتے ہیں
ضروری تو نہیں کہ تم ایک انسان کے
ہر رنگ سے واقف ہو
انسانوں سے سر زد ہونے والے سارے اعمال اختیاری ہیں۔ ___________________ سوائے محبت کے
شب بخیر ۔۔۔۔
دُکھ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔۔۔۔
یہ ہمیشہ دل و دماغ کے کسی کونے کھدرے میں موجود رہتے ہیں۔
کچھ لمحات کیلئے ان کی دماغ تک رسائی رک جاتی ہے۔ تب دماغ کچھ پل کیلئے ان سانحات سے آزاد ہو جاتا ہے، اپنی اذیت بھول جاتا ہے۔ زندگی کی روانی میں ڈھلنے لگتا ہے۔ وقت کی رفتار سے چلنے لگتا ہے۔ محفلوں میں شرکت کرنے لگتا ہے۔ معاملات زندگانی سدھارنے لگتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب گزرے دنوں کے عذاب انسان کو آ گھیرتے ہیں۔ رونقیں ماند پڑ جاتی ہیں، زندگی میں موجود معمولی سی چاشنی پھیکی پڑ جاتی ہے۔
انسان پھر اپنے غموں کے طرف لوٹ جاتا۔
یہ دُکھ واقعی کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔
یہ غم جواں رہتے ہیں
احساس پھر سے نیلی نارنجی روشنی کی اوٹ میں بھیگی گیلی شام کو محسوس کر نا چاہتا ھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain