Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

خواتین کا ہاتھ بٹانا
کبھی بھول کر بھی کچن کے کام میں خواتین کا ہاتھ نہ بٹاٸیں یہاں تک کہ چولہا جلا کر دینے سے بھی گریز کریں۔
خدانخواستہ نمک تیز ہو گیا، ہانڈی لگ گٸی یا روٹی جل گٸی تو سارا الزام آپ پر لگ سکتا ہے کہ چولہا درست نہیں جلایا۔

Offline
 

یہ وقت بھی گذر جاۓ گا
کچھ الفاظ کہنے میں جتنے آسان ہوتے ہیں ان کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور مشکل ہوتی ہے۔
”یہ وقت بھی گذر جاۓ گا“ یہ الفاظ کہنے اور سننے میں بہت بھلے لگتے ہیں لیکن درپیش وقت ایسے گذرتا ہے کہ انسان کو ہلا ڈالتا ہے،اس کی پوری لاٸف کیمسٹری کو تبدیل کر دیتا ہے،خوش فہمیوں اور توقعات کے سارے محل زمین بوس کر دیتا ہے۔
”یہ وقت بھی گذر جاۓ گا“ وقت ان کا گذرتا ہے جو وقت کی مشکلات کا پوری ہمت کے ساتھ سامنا کرتے ہیں جو راہ فرار اختیار نہیں کرتے،جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے معجزوں کا انتظار نہیں کرتے۔

Offline
 

ایسا بھی ہوتا ہے کہ کل ہم جِن کے دِلوں میں بستے تھے آج اُنکے دماغوں میں رہتے ہیں، اور کل تک جِن کے دماغوں میں رہتے تھے آج
کل اُن کے دِلوں میں بستے ہیں۔
؎ ہر دم تغیرات کی زد میں ہے کائنات
دیکھیں پلک جھپک کے تو نقشہ کُچھ اور ہے

Offline
 

چلو تُمہیں اُس نگر لے چلوں
جہاں پُھول کِھلتے ہیں،
جہاں جُگنو بستے ہیں،
جہاں تِتلیاں رنگ بھرتی ہیں،
جہاں مُحبت ہی مُحبت مِلتی ہے۔
جہاں میں رہتا ہوں
چلو تُمہیں اُس نگر لے چلوں
شب بخیر ۔ ۔۔

Offline
 

ہجرت
کل رات ہوا تو کچھ بھی نہیں تھا
بس یونہی سوتے میں کروٹ بدلنے سے
ایک آنکھ کا سارا پانی
دوسری آنکھ میں چلا گیا تھا

Offline
 

خود پسند ایسے نہ ہوں کہ بس خود کو ہی پسند کیے جائیں لیکن اپنی ذات کی ایسی نفی بھی مطلوب نہیں کہ لوگ آپ کو ڈور میٹ سمجھنے لگیں۔ احساسِ تفاخر ہو، نہ احساسِ محرومی۔
ان کے عین بیچ میں ایک پر اعتماد اور بردبار شخصیت

Offline
 

مجھے کوئی یا د کرے گا کیوں. کوئی میری بات کیوں سنے گا
کوئی میری ساتھ کیوں چلے گا میں ایک پل ہوں سو جب یہ پل بھی گزر چکے گا
.مجھے کوئی یاد کیوں کرے گا
شب بخیر ۔۔ ۔

Offline
 

ساری دوائیں فارمیسی سے نہیں ملتی کچھ دوائیں ۔
کسی کے قرب سے کسی کے لمس سے ،کسی کی آغوش سے، کسی کے کندھے اور کسی کے دست شفقت سے مل جایا کرتی ہیں ۔۔۔!

Offline
 

استاد ہمیشہ یہ کہنے سے گریز کرتی تھیں: "غلط جواب"۔
وہ کہتی تھیں: "تم صحیح جواب کے قریب ہو، کون دوسرا جواب دے سکتا ہے؟"
لیکن سب سے بہترین جملہ وہ تھا جب استاد نے ایک طالب علم کو غلط جواب دینے پر کہا: "یہ جواب کسی اور سوال کے لیے بالکل درست ہے۔"
یہ وہ دل ہیں جو حوصلہ شکنی کا راستہ نہیں جانتے

Offline
 

ہجوم درد میں کیا مسکرایئے کہ یہاں 🥀
.
.
خزاں میں پھول کھلے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟
شب بخیر ۔ ۔ ۔

Offline
 

البرٹ آئن سٹائین نے کہا تھا
اگرچہ میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ایک عام سا اور تنہا شخص ہوں، لیکن سچائی، خُوبصورتی کو دیکھنے اور انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی پوشیدہ برادری سے تعلق رکھنے کی میری آگاہی نے
مجھے تنہائی کے احساس سے روک رکھا ہے۔

Offline
 

ہمیں پھنسا کے یہاں فاصلوں کی الجھن میں
.
.
زمیں ضرور کہیں آسمان سے ملتی ھے

Offline
 

تہیہ
" اگر آپ دُکھ درد کی کہانیاں بند کردیں کسی نہ کسی طور پر " تگڑے " ہو جائیں اور یہ تہیہ کرلیں کہ ﷲ نے اگر ایک دروازہ بند کیا تو وہ اور کھولے گا‘ تو اور یقینًا اور دروازے کُھلتے جائیں گے۔"

Offline
 

ممکن ہے
کسی کے لیے آپ سرورق ہوں
اور آپ اسے فہرست میں گننے لگیں
وہ آپ کو متن سمجھے اور
آپ حاشیہ خیال کریں
اس کے نزدیک آپ معانی ہوں
اور آپ اسے صرف لفظ شمار کریں۔۔
یا
آپ۔۔۔ اسے عجلت میں پڑھیں
وہ آپ کو خلوت میں تلاوت کر رہا ہو۔۔

Offline
 

"کہاوت ہے کہ حالات انسانوں کو بدل دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ حالات انسانوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ہم اکثر اپنے اندر کی کمزوریوں یا بے راہ روی کو حالات کا الزام دے دیتے ہیں، حالانکہ یہ ہماری خود کی کمزوریوں کا عکس ہوتا ہے۔ انسان کبھی برے نہیں ہوتے، ان کے اندر کی سوچ، نیت اور ارادے ہی حالات کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جب ہم خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو حالات بھی ہمارے حق میں بدلنے لگتے ہیں۔

Offline
 

سائیڈ ایفکٹس صرف دوائیوں کے ہی نہیں ہوتے ۔ رویوں اور الفاظ کے بھی ہوتے ہیں

Offline
 

ضروری تو نہیں کہ تم ایک انسان کے
ہر رنگ سے واقف ہو

Offline
 

انسانوں سے سر زد ہونے والے سارے اعمال اختیاری ہیں۔ ___________________ سوائے محبت کے
شب بخیر ۔۔۔۔

Offline
 

دُکھ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔۔۔۔
یہ ہمیشہ دل و دماغ کے کسی کونے کھدرے میں موجود رہتے ہیں۔
کچھ لمحات کیلئے ان کی دماغ تک رسائی رک جاتی ہے۔ تب دماغ کچھ پل کیلئے ان سانحات سے آزاد ہو جاتا ہے، اپنی اذیت بھول جاتا ہے۔ زندگی کی روانی میں ڈھلنے لگتا ہے۔ وقت کی رفتار سے چلنے لگتا ہے۔ محفلوں میں شرکت کرنے لگتا ہے۔ معاملات زندگانی سدھارنے لگتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب گزرے دنوں کے عذاب انسان کو آ گھیرتے ہیں۔ رونقیں ماند پڑ جاتی ہیں، زندگی میں موجود معمولی سی چاشنی پھیکی پڑ جاتی ہے۔
انسان پھر اپنے غموں کے طرف لوٹ جاتا۔
یہ دُکھ واقعی کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔
یہ غم جواں رہتے ہیں

Offline
 

احساس پھر سے نیلی نارنجی روشنی کی اوٹ میں بھیگی گیلی شام کو محسوس کر نا چاہتا ھے