دیتے ہیں اور حق کا چرچا کرکے اسے زندہ رکھتے ہیں ان کو شوق دلوایا گیا تو انکو رغبت پیدا ہوگئی ہے اور انکو ڈرایا گیا تو وہ لرزتے رہتے ہیں ایک بار ڈر کر وہ کبھی خود کو خطرے سے باہر نہیں سمجھتے۔ انہوں نے ایسی حقیقتوں کا پتا پالیا ہے جسکا مشاہدہ انہیں نصیب نہیں ہوا۔ پھر وہ ایسے مقام پر جا پہنچے جہاں سے کبھی نہیں ہٹے موت نے انہیں مخلص اور یکسو بنا دیا ہے جو کچھ ان سے چھن گیا ہے اس سے کنارہ کش ہوگئے اور اسے اختیار کرلیا جو انکے پاس سدا باقی رہے گا زندگی انکے لئے ایک نعمت ہے اور موت انکے لئے ایک اعزاز ہے"۔
حُسن سلوک
ایک بد مزاج افسر نے قدرے معذرت خواہانہ لہجے میں اپنے ماتحت سے کہا۔ حامد میاں ! میں اکثر بلا وجہ تمہیں ڈانٹتا رہتا ہوں مگر جواب میں تم ہمیشہ مسکرا کر معذرت کر لیتے ہو یا اپنی کوئی ایسی غلطی تسلیم کر لیتے ہو جو تم نے کی نہیں ہوتی ۔ آج میں یہ بات سمجھنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ مجھے ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہیے ۔“ باس کی بات سن کر حامد میاں کا چہرہ کھل اٹھا اور وہ جلدی سے بولے :
”سر! میرے دادا مرحوم کہا کرتے تھے کہ حُسنِ
سلوک سے کمینے سے کمینہ انسان بھی موم ہو جاتا ہے، واقعی
انہوں نے سچ کہا تھا ۔
کس توقع پہ کسی کو دیکھیں
.
.
کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا
شب بخیر ۔۔۔
باہرلے مُلک:
Aww! Your baby is so cute. Is it ok if I touch his cheeks?
ہماری طرف:
ماں صدقے، کننا سوہنا کاکا اے۔ ادھر آؤ خالہ پاش
اب منا بیچارہ لپک لپک کر ماں سے لپٹ رہا ہے اور “خالہ” کھینچ رہی ہیں۔
آؤ چیجی دوں
وہ دیکھو مانو۔ آؤ مانو دکھاؤں
آؤ دور جائیں۔
یہ دیکھو موبائل
ساتھ ساتھ ماں پر نظر ڈال کر “کوئی نہیں، ابھی ٹھیک ہو جائے گا” کا ورد بھی جاری ہے
۔۔۔۔
باہرلے ملک:
You can return this product within 30 days of purchase.
ہماری طرف، کپڑے سکیڑتے وقت ہی زیادہ سکڑ جانے پر:
دکاندار: آپ نے ٹھنڈے پانی میں بھگوئے تھے؟
اسی لئے “شلنگ” ہوا ہے۔
“آپ نے گرم پانی میں بھگوئے تھے؟
اسی لئے “شلنگ” ہوا ہے۔
باہرلے ملک:
Everything is on the table. It’s this and it’s that. Feel free to take please.
ہماری طرف:
اور لیں نا
کیوں مزے کا نہیں لگا؟
تو پھر اور لیں نا
اچھا چلیں یہ لے لیں۔
ارے پرہیز کی ایک دن چھٹی کر لیں۔
یہ تو چکھنا ہی پڑے گا۔ بہت محنت سے بنایا ہے۔
اچھا تھوڑا سا تو اور۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
باہرلے ملک:
Oh my! How did you get that tan? I want that too.
ہماری طرف:
ہا ہائے! اتنی کالی کدھر سے ہو کے آ گئی ہو؟ دھوپ میں باہر نہ نکلنا اس کے بعد۔
باہرلے ملک؛
Get me shoes for my boy. Size 8
ہماری طرف:
منے کی جوتی لے آنا۔ ایک گِٹھ تین انگلیوں برابر سائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔
باہرلے ملک:
Let’s go picnic. Let’s get some snacks (chips, drinks, chewing gum)
ہماری طرف:
پکنک پر چلتے ہیں۔ مینو کیا ہو گا؟
فلانے تم چاول لے آؤ۔
اور فلانے تم نان کباب لے آنا۔
رائتہ سلاد اور ڈرنکس میں لے آتا ہوں۔
چائے کا سامان بھی رکھ لینا یاد سے۔
میٹھا وہیں سے لیکر کھا لیں گے۔
۔۔۔۔۔۔
باہرلے ملک:
What a lovely picture!
ہماری طرف:
یار یہ کون سی جگہ ہے؟ لگ ہی نہیں رہا پاکستان ہے۔
باہرلے ملک
Mom, I am going to marry Katherine.
Sure!
ہماری طرف:
ماما، مجھے سعدیہ اچھی لگتی ہے
اب ماں دنیا کی ہر طاقت لگا دے گی کہ سعدیہ سے شادی نہ ہونے پائے۔ استخارہ بھی ٹھیک نہیں آئے گا۔ مجبوراً شادی امی کی سہیلی کی ہمسائی کی بیٹی سے کرنی پڑے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔
باہرلے ملک:
You guys look great together.
ہماری طرف:
ہور فیر۔ خوش خبری کب سنا رہے ہو؟
۔۔۔۔۔
باہرلے ملک:
It’s raining again. I want some sunshine.
ہماری طرف:
بھیگا بھیگا سا یہ دسمبر ہے۔
ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم
شاید وہ بہتر کی تلاش میں ہے
ہم تو اچھے بھی نہیں
شب بخیر ۔۔۔
پنجابی لفظ "وٹ" کی وسعت
ایک انگریز کو پنجابی سیکھنے کا بہت شوق تھا, کسی نے اسے بتایا کہ چک نمبر 136 کے قدیم بزرگ بابا بخشی پنجابی کی بہترین تعلیم دیتے ہیں, ان کے پاس چلے جاؤ.
انگریز نے بس پر سوار ہو کر 136 چک کی راہ لی, بس نے اسے جس جگہ اتارا چک وہاں سے ایک گھنٹے کی پیدل مسافت پر تھا, انگریز بس سے اتر کر چک نمبر 136 کی طرف پیدل چل پڑا, ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک
شخص چارپائی کا بان بنا رہا تھا,
انگریز نے پوچھاتم یہ کیا کرتا؟
اس آدمی نے جواب دیا: گورا صاب...! میں وان "وٹ" رہا ہوں, انگریز نے حساب لگایا کہ ٹوئسٹ کرنا کو پنجابی میں "وٹ" کہتے ہیں.
انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگے چلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہے,
انگریز نے پوچھاتم اداس کیوں بیٹھا؟
دکاندار بولا: گورا صاب...! سویر دا کج وی نئیں "وٹیا", انگریز سوچ میں پڑ گیا کہ پنجابی میں پیسے کمانے کو "وٹ" کہتے ہیں
خیر انگریز کچھ اور آگے چلا تو ایک شخص کو دیکھا, جو پریشانی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا.
انگریز نے پوچھا کیا ہوا؟
وہ شخص بولا: گورا صاب ہوا بند اے تے بڑا "وٹ" لگیا اے, انگریز سوچنے لگا کہ پنجابی میں مرطوب موسم کو بھی "وٹ کہتے ہیں,
انگریز اسے چھوڑ کر آگے چلا, سامنے چودھری کا بیٹا کلف لگے کپڑے پہنے چلا آ رہا تھا۔
انگریز اس سے گلے ملنے کے لئے آگے بڑھا.
وہ لڑکا بولا: گورا صاب...! ذرا آرام نال، کپڑیاں نوں "وٹ" ناں پا دینا.
انگریز سر پر ہاتھ پھیرنے لگا کہ شکنوں کو بھی "وٹ" ہی کہا جاتا ہے.
کچھ آگے جا کر انگریز کو ایک شخص پریشانی کے عالم میں لوٹا پکڑے کھیتوں کی طرف بھاگتا ہوا نظر آیا,
انگریز نے کہا: ذرا بات تو سنو,
وہ شخص بولا: گورا صاب واپس آ کے سنداں، ڈڈھ اچ بڑے زور دا "وٹ" پھریا اے۔
انگریز کو پسینہ آنے لگا یعنی پنجابی میں پیٹ میں گڑ بڑ ہو تو اسے "وٹ " کہتے ہیں,
تھوڑا آگے جانے پر انگریز کو ایک بزرگ حقہ پکڑے سامنے سے آتا دکھائی دیا۔
قریب آنے پر انگریز نے پوچھا: یہ 136 چک کتنی دور ہے؟
وہ بولا: "وٹو وٹ" ٹری جاؤ، زیادہ دور نئیں اے۔
انگریز کو غش آتے آتے بچا کہ پنجابی میں راستہ بھی "وٹ" کہلاتا ہے,
کچھ اور آگے گیا تو کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں بری طرح لڑ رہے ہیں,
گورا لڑائی چھڑانے کے لئے آگے بڑھا, تو ان میں سے ایک بولا, گورا صاب تسی وچ نہ آؤ میں اج ایدھے سارے "وٹ" کڈ دیاں گا۔
انگریز پریشان ہو گیا کہ کسی کی طبیعت صاف کرنا بھی "وٹ نکالنا" ہوتا ہے
انگریز نے لڑائی بند کرانے کی غرض سے دوسرے آدمی کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ بولا, او جان دیو بادشاؤ،
مینوں تے آپ ایدھے تے بڑا "وٹ" اے۔
انگریز ششدر رہ گیا کہ غصہ کو بھی پنجابی میں "وٹ" کہا جاتا ہے,
قریب ایک آدمی کھڑا لڑائی دیکھ رہا تھا, وہ بولا, گورا صاب.....! تسی اینوں لڑن دیو ,ایدھے نال پنگا لیا تے تہانوں وی "وٹ" کے چپیڑ کڈ مارے گا.
انگریز ہکا بکا ہو کر اس آدمی کا منہ دیکھنے لگا, انگریز آگے چل دیا, تھوڑی دور گیا تو کیا دیکھا کہ ایک شخص گم سم بیٹھا ہے۔
انگریز نے پوچھا, یہ آدمی کس سوچ میں ڈوبا ہے؟
جواب ملا: گورا صاب.....! یہ بڑا میسنا ہے، یہ دڑ "وٹ" کے بیٹھا ہے.
انگریز سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا, کچھ دیر بعد طبیعت کچھ بحال ہوئی, تو اس نے یہ کہتے ہوئے واپسی کی راہ لی کہ...
What a comprehensive language, I can never learn it in my short life...
منقول
ایک یہ خواہش کہ کوئی زخم نہ دیکھے دل کے۔۔
.
.
ایک یہ حسرت کہ کوئی دیکھنے والا ہوتا
شب بخیر ۔۔۔
وہ کتابوں سے الفاظ کا جنگل اٹھا لائے ہیں
.
.
سنا ہے اب میری خاموشی کا ترجمہ ہو گا
وہ عکس بن کر مری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
شب بخیر۔۔۔
موت صرف زندگی کا نہیں بلکہ ایک عظیم الشان موقع اور مہلت کا بھی خاتمہ ہے
عراقی مصنف "علی الحدیثی" کو جب مکان مالک نے گھر خالی کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تصویر نشر کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے:
"ایک بار پھر میری کتابوں کی گٹھری بندھنے کو ہے،
یہ میری ساتویں ہجرت ہے۔
جس کے پاس اپنی چھت نہ ہو، اسے کتابیں رکھنے کا کیا حق؟
کتابیں تو محبوبہ کی مانند ہوتی ہیں،
اور محبوبہ ہمیشہ اپنی ملکیت میں رہنا چاہتی ہے،
اسے کرایے پر رکھنا ممکن نہیں۔
کرایہ دار کا نہ کوئی اپنا وطن ہوتا ہے، نہ کوئی اپنی لائبریری۔"
اور یہ بھی ایک فطری عمل ہے بھولنے والی بات ہمیشہ دماغ کے پہلی سیڑھی پر تکیہ لگائے بیٹھی ہوتی ہے۔۔۔
"آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کرسکتے۔ حصول آزادی کیلئےاپ کو ایک عمل سے گزرنا ہوگا۔ آپ کو آگ کے دریا، ابتلا اور قربانیوں کی راہ سے گزرنا پڑے گا۔ مایوس نہ ہوں ۔
قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں لیکن جیسا کہ ہم رواں دواں ہیں ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہیں جو ہمیں آگے کی طرف لے جائیں۔ آپ حقائق کا مطالعہ کریں۔ ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنے فیصلوں کی تعمیر کریں۔"
(کلکتہ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجوایٹ طلباء سے قائداعظم کا خطاب۔کلکتہ۲۱ اگست ۱۹۳۶)
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain