میں یہ پھٹی ہوئی پینٹ پہن کر بیٹھنا اچھا نہیں لگتا‘‘۔ اس نے زور سے گاڑی کو بریک لگائے اور دانت پیستے ہوئے بولا ''اوئے... یہ میری اپنی گاڑی ہے اور میں شوق سے فارغ وقت میں اسے بطور ٹیکسی چلاتا ہوں اور جس پینٹ کو تم پھٹی ہوئی کہہ رہے ہو وہ آج کل کا فیشن ہے‘ یہ پھٹی ہوئی پینٹ دس ہزار کی ہے...‘‘ میں یکدم سہم گیا اور گھر کے باہر پہنچتے ہی ''نیواں نیواں‘‘ ہو کے اندر چلا گیا۔
میں فیشن ایبل تو ہونا چاہتا ہوں لیکن ہو نہیں پاتا۔ موٹے فریم والی عینک آج کل کا فیشن ہے لیکن اللہ جانتا ہے ایسی ہی عینک میری نانی پہنا کرتی تھیں‘ میں نانی کی عینک کو بطور فیشن کیسے پہن لوں؟ آپ نے کبھی لال رنگ کی پینٹ پر گہرے پیلے رنگ کی شرٹ اور پائوں میں نیلے بوٹ دیکھے ہیں؟ کہتے ہیں یہ بھی فیشن ہے۔ میں نے ایک فیشن ایبل دوست سے پوچھا
تھا کہ میرے لیے کوئی ہلکا پھلکا سا فیشن تجویز کرو۔ اس نے غور سے میرا جائزہ لیا اور کہنے لگا ''تم بال کھڑے کر لو‘‘۔ میرے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ کیوں‘ میں کوئی...‘‘ اس نے جلدی سے میری بات کاٹی ''یقین کرو‘ کچھ کچھ فیشن ایبل لگو گے‘ چھوڑو یہ ڈریس شرٹس اور فارمل ڈریسنگ‘ کچھ مختلف نظر آئو۔ میں نے خوش ہو کر اس سے درخواست کی کہ وہ خود ہی میرے بال سیٹ کروا دے۔ موصوف مجھے ایک زنانہ نما مردانہ پارلر پر لے گئے۔ واپسی پر میں نے شیشہ دیکھا تو کانپ گیا‘ میرے بال کانٹوں کی طرح کھڑے تھے۔ اپنے گھر کی گلی کا موڑ مڑتے ہی ایک محلے دار کی نظر پڑ گئی‘ پہلے تو آنکھیں پھاڑے میرے بال دیکھتا رہا‘ پھر قریب آ کر اِدھر اُدھر دیکھ کر آہستہ سے بولا ''بھابی سے لڑائی ہوئی ہے؟‘‘
میں ہونٹ سکیڑ کر سیلفی بھی بنانا چاہتا ہوں لیکن مجھ سے موبائل ہی ٹھیک سے نہیں
پکڑا جاتا‘ پتا نہیں لوگ کیسے ایک ہاتھ سے موبائل سیدھا کرکے سیلفی بنا لیتے ہیں۔ میں نے تو جب بھی سیلفی بنانے کی کوشش کی موبائل پر نیا گلاس پروٹیکٹر لگوانا پڑا۔ میں جھینگے اور کیکڑے بھی کھانا چاہتا ہوں تاکہ شکل سے نہ سہی‘ کھانے سے ہی فیشن ایبل نظر آئوں لیکن پتا نہیں کیوں کسی چائنیز ریسٹورنٹ جاتے ہوئے راستے میں کسی چھوٹے سے ہوٹل پر دال ماش اور تندور کی تازہ روٹیاں دیکھتا ہوں تو غش پڑ جاتا ہے اور پھر میرے لیے آگے جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں بات بات پر انگریزی بھی بولنا چاہتا ہوں تاکہ یکدم سامنے والے پر حاوی ہو جائوں لیکن یہاں بھی بڑی مشکل پیش آتی ہے۔
مردانہ کانوں میں بالی پہننا بھی فیشن ہے‘ بغیر جرابوں کے بوٹ پہننا بھی فیشن ہے‘ شرٹ کا اوپر سے دوسرا بٹن کھلا رکھنا بھی فیشن ہے حالانکہ پہلے یہ لفنگا پن کہلاتا تھا۔ کھانے پینے سے لے کر بول
چال‘ گھرکی بناوٹ‘ چہرے کے تاثرات‘ بالوں کی تراش خراش تک ہر چیز فیشن کی محتاج ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک فیشن شو میں تو میں نے ایسے ماڈل لڑکوں کو بھی دیکھا جنہوں نے ''غرارے‘‘ پہن رکھے تھے۔ غرارے مجھے بھی پسند ہیں لیکن صرف گرم پانی کے۔ مجھے لگتا ہے میں کبھی فیشن ایبل نہیں بن سکوں گا‘ یہ دُکھ مجھے کھاتا جا رہا ہے۔ میں ٹنڈ کروا کے اپنے بازو پر ''ٹیٹو‘‘ بنوانا چاہتا ہوں... ٹی شرٹ اور شارٹ کے نیچے جوگر پہن کر کانوں میں ہینڈز فری لگا کر‘ ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل پکڑ کر شاپنگ کرنا چاہتا ہوں... باتھ ٹب میں نہانا چاہتا ہوں... کڑوی کسیلی کافی پینا چاہتا ہوں... بلکہ یہ سب تو کچھ نہیں‘ میں تو کانٹے سے چائے پینے کا بھی پروگرام بنا رہا ہوں لیکن تاحال کامیابی نہیں ہو رہی۔ جتنا فیشن ایبل ہونے کی کوشش کرتا ہوں اُتنا ہی روائتی زندگی میں دھنستا چلا جاتا
ہوں۔ میں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ بیکری میں میرا ہاتھ چاکلیٹ کی طرف اٹھ جائے لیکن دوسری طرف کریم رول بھی رکھے ہوتے ہیں... ''لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے‘‘...‘ کلیجہ دھک سے رہ جاتا ہے... پھر میں‘ میں نہیں رہتا‘ تم ہو جاتا ہوں... کسی فوڈ چین سے سات سو روپے کا برگر کھا لوں تو گھر پہنچتے ہی پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہوں۔ سو طے ہوا کہ میں فیشن سے کوسوں دور ہوں۔ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ میں صرف اسی صورت میں فیشن ایبل بن سکتا ہوں اگر میں کسی کی پروا نہ کروں۔ یہ طریقہ بھی میں آزما کر دیکھ چکا ہوں‘ ایک دفعہ اُس نے مجھے فیشن ایبل بنانے کی کوشش کرتے ہوئے سختی سے تاکید کی کہ کل میرے ہاں کھانے پر صرف جینز اور ٹی شرٹ پہن کر آنا..
. میں نے ایسا ہی کیا‘ لیکن جب وہاں پہنچا تو پتا چلا کہ لوگ جوتے بھی پہن کر آئے ہوئے تھے
"میں نے درخت سے شفقت سیکھی"
میں نے اسے پتھر مارا، اس نے مجھ پہ پھل اور پھول برسائے وہ شرمندگی میرے لئے سبق بن گئی۔!!!
"وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئندہ بھی
مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے
سوکھے پھول
اور مہکے ہوئے رقعے
کتابیں مانگنے گِرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے۔
ان کا کیا ہوگا ؟؟
وہ شاید۔۔۔ اب نہیں ہوں گے"۔
جو لوگ جلدی مر جاتے ہیں
وہ اپنی عمر یقینا پوری کرتے ہوں گے
کسی دور کی کہکشاں میں
جہاں ہر ستارے کے اپنے ڈھیروں چاند ہوتے ہیں
جن کے عکس سے ہر ایک ستارہ ہر روز منور ہوتا ہے
جہاں چاندنی کسی تپتے جلتے سورج کی محتاج نہیں ہو تی
اور نا ہی کسی گرہن کا خوف آڑے آتا ہے
ٹھنڈی میٹھی چھاؤں یقینا ماں کی گودجیسی ہوتی ہو گی ؟
ورنہ جلدی جانے والوں کو سکوں کہاں ملتا ہو گا
ہر اگتے چاند کو ایسے جلد بازوں نے نام دیے ہوں گے
نام ، جو موت کی جلدی میں پیچھے رہ گۓ
پر بازگشت چپکے سے کفن میں آ کر سو جاتی ہے
کسی چاند کا نام پہلی گود ہو گا
کسی کو ناز سے پہلا پیار پکارا جاتا ہو گا
کوئی چاند روح اور جسم کی جیت ہو گا
اور کسی چاند کا نام حسرت ہوگا
یہ جلدی جانے والے لوگ ہر روز چاندنی میں نہاتے ہوں گے
اور حسرتوں کے چاند کو ہر روز گھٹتااور بڑھتا دیکھ کر ان ناموں کو دہراتے ہوں گے
روزروز کے اس کھیل میں نا چاند سوتا ہے
نا حسرتیں کم ہوتی ہیں
اور نا واپسی کے لئے کوئی سیڑھی ملتی ہے
ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کے پابند ہیں
اور ان کے مکین اس گردش کے رکھوالے
کبھی نا رکنے والی اس آنکھ مچولی کو کوئی ایسا نہیں ہے جو روک دے
مسیحا تو صرف سانس لیتی روحوں پر نازل ہوتے ہیں
خاک سے خاک کے سفر میں جلدی کرنے والے بس تماشائی ہیں
پورے وجود سے بنی ادھوری روحیں ہیں
جن کی کوئی کہانی نہیں ہوتی
بس وہ ایک ایسے اداکار کی ماند ذہن میں نقش رہ جاتے ہیں
جن کو اپنی لائنیں پوری ہونے سے پہلے ہی سٹیج سے اتار دیا جاتا ہے
وہ کیا کہنا چاہتے تھے ؟
ان کے ہونے سے کیا کہانی بدل جاتی ؟
بس ان سوالوں کی تشنگی یاداشت میں ان کرداروں کو امر کر دیتی ہے
یہ جلدی جانے والے بس یہیں جیت جاتے ہیں
ادھوری کہانیوں کی پوٹلی اٹھائے ،، اپنے ستاروں کی جانب گامزن
تشنگی کا آسیب پیچھے رہ جانے والوں کو تحفے میں دے جاتے ہیں
تحفہ بھی ایسا جو کوئی نہیں چاہتا
لیکن چاہنے سے کبھی کچھ نہیں بدلتا
نا جلدی جانے والے رکتے ہیں
نا پیچھے رہ جانے والے روک پاتے ہیں
یہ کھیل تمہاری اور میری کہانی سے صدیوں پرانا ہے
میں بس اتنا چاہتی ہوں
اس سفر میں ستارے کھوجنے پہلے میں جاؤں
تو میری پوٹلی میں ادھوری کہانیوں کی رنگ بِرنگ کترنیں نا ہوں
نا الجھے خوابوں کے دھاگے لپٹے پڑے ہوں
مجھے کسی چاند کا نام حسرت نا رکھنا پڑے
اور تحفے میں تشنگی کا کوئی بھوت تمہارے گھر بسیرا نا کرے
خط میں میرے ہی خط کے ٹُکڑے تھے۔۔۔!!
اور میں سمجھا!!!
جواب آیا ہے۔۔۔۔۔
جب اُس نے مُجھ سے کہا مُجھے تُم سے مُحبت ہے تو میں چَھت سے کُود کر فوراً کمرے میں آ گیا
اُس رات میں نے پہلی بار موبائل کے فرنٹ کیمرہ کو بطور آئینہ استعمال کرتے ہُوئے خُود کا بغور مطالعہ کِیا
گھنٹوں خُود کو تسلیاں دینے کے بعد اِس نتیجے پر پہنچا کہ نہیں
یہ سب دھوکا ہے، جُھوٹ ہے، فریب ہے
خوش نصیبی کسی شے کا نام نہیں‘ سماجی مرتبے کا نام نہیں ‘ بینک بیلینس کا نام نہیں ‘ بڑے بڑے مکانوں کا نام نہیں …. خوش نصیبی صرف اپنے نصیب پر خوش رہنے کا نام ہے ۔
کوشش ترک کرنے کا مقصد نہیں ۔ کسی خوش نصیب نے آج تک کوشش ترک نہیں کی، لیکن یہ کوشش بامقصد ہونی چاہئے۔ایسی کوشش کہ زندگی بھی آسان ہو اور موت بھی آسان ہو۔ یہ دنیا بھی اچھی اور وہ دنیا بھی بہتر۔
ایسی زندگی کہ ہم بھی راضی رہیں اور ہماری زندگی پر خدا بھی راضی ہو۔…. خوش نصیبی ایک متوازن زندگی کا نام ہے …. خوش نصیب انسان حق کے قریب رہتا ہے ، وہ ہوس اور حسرت سے آزاد ہے ، وہ فنا کے دیس میں بقا کا مسافر ہے۔
واصف علی واصفؒ
شادی کی تقریب میں نہایت مع٘زز لوگ مدعو تھے
فلسفہ، سیاسیات۔ طبعیات و مابعد الطبیعیات اور معیشت پہ باتیں ہو رہی تھی کہ روٹی کُھل گئی۔۔۔
اور پھر۔۔سب کی اصلیت کھل گئی۔۔
زندگی روز مجھ سے پوچھتی ہے
آخری شعر ہوگیا ، تو چلیں؟
شب بخیر۔۔۔
دو وجوہات پہ اس دل کی آسامی نہ ملی
ایک درخواست گزار اتنے دوسرا سارے لائق
بارش اور اذانوں کا
اداسی سے
خاصا پرانا اور گہرا تعلق ھے
جو لوگ آدھے ادھورے اداس رہتے ہیں
انہیں سکھاؤں گا کیسے اداس رہتے ہیں
اداس تم ہو وہاں پر اداس ہم ہیں یہاں
کبھی ملو تو اکٹھے اداس رہتے ہیں
بنائے رکھتے ہیں ہر حال میں توازن ہم
کہ خوش بھی اتنے تھے جتنے اداس رہتے ہیں
اداسی تیرے ملازم نئے ہیں ہم لیکن
پرانے والوں سے اچھے اداس رہتے ہیں
شریک ہوتے ہیں کم محفل اداسی میں
زیادہ تر تو اکیلے اداس رہتے ہیں
تمہارے سامنے جلتا نہیں ہے ان کا چراغ
کہ چاند ہو تو ستارے اداس رہتے ہیں
کسے دکھاؤ گے اپنی اداسیاں شرجیلؔ
یہاں تو تم سے بھی اچھے اداس رہتے ہیں
عام ناول
لڑکے نے لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور دونوں ہنسی خوشی اپنی منزل کی جانب چل دیئے۔
عمیرہ احمد کے ناول:
لڑکے نے فجر کے وضو میں دھوئے ہوئے ہاتھوں سے ماہِ مبارک میں چھٹکتی چاندنی جیسی دودھیا رنگت کی حامل لڑکی کا سیاہ دستانوں میں ملبوس گورا اجلا ہاتھ تھاما اور دونوں بآوازِ بلند الحمد للہ کہتے ہوئے ننگے پیر ساحلِ سمندر کی پاک ریت پر دھیمے قدموں سے چلنے لگے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain