اس کو آواز دو محبت سے
اس کے سب نام پیارے پیارے ہیں
'اچھا میں تمہیں اردو میں خط لکھوں گا
پڑھ لو گے نا؟
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اب اردو بولتے یا لکھتے ہوئے شرماتے کیوں ہیں، ہر کسی کو انگریزی کی پڑی ہوئی ہے۔ حالانکہ اردو میں اظہار خوبصورت ہوتا ہے۔
ذرا سوچیں! انگریزی میں کسی کو
" Take care "
کہو تو لگتا ہے کہ بس مروت میں بات کہی گئی ہے۔
جبکہ کوئی یہ کہے کہ " اپنا خیال رکھنا " تو لگتا ہے کہ کوئی کہانی مکمل ہو رہی ہو
وه میری اس قدر محبت پر
چونکتا بھى نہیں ھے حيرت ھے
ہم کیسے تیری رہگزر کے مسافر
بنتے
جہاں کے رستے بھی بے رخی سے
تکتے ہیں
اُداسی کا کوئی موسم نہیں ہوتا
ہو فصلِ غم کا موسم
یا کوئی لمحہءپرکیف
ہو کوئی موسمِ گُل
یا کوئی آہِ زار و حیف
یہ سارا سال رہتی ہے
لہو میں ساتھ بہتی ہے
کہ جب جب تم نہیں ہوتے
یہ میرے ساتھ سہتی ہے
کبھی اُسکو لکھتے
یہ سناٹے جو میرے شہر پہ چھائے ہیں
یہ سناٹے مری روح کے ہی سائے ہیں
درد ہے اتنا رگِ جاں ٹوٹتی ہے یوں
بیمارِ مرگ کی نبض ڈوبتی ہو جوں
یہ سناٹے نِگل نہ لیں مجھے تنہا
مرے دل میں بہت باتیں ہیں
فقط جوتم سے کہنی ہیں
اُداسیاں اُداسیاں
اسے لوگوں کو یاد کرنا, منانا نہیں آتا تھا
اور جو انسان کو نہیں آتا
وہ انسان کی جان لے لیتا ھے
کُوزے بنانے والے کو عجلت عجیب تھی
پورے نہیں بنائے تھے، سارے بنائے تھے
یہ جو آڑھی ترچھی
ٹوٹی پھوٹی چند
تحریریں تم پڑھتے ہو
کیا جانتے ہو؟
کیا سمجھتے ہو ؟
تحریروں میں کہاں درد سِمٹ سکتے ہیں !
تحریروں سے کب گئے ہوئے پلٹ سکتے ہیں؟
اک بے سود و لاحاصل کوشش کے سوا
اک بے فیض و بے مراد خواہش کے سوا
تحریریں !!! کیا دے سکتیں ہیں ؟
کیا حالِ دل کہہ سکتی ہیں ؟؟
عجیب شرط لگائی ہے احتیاطوں نے
کہ تیرا ذکر کروں ، اور تیرا نام نہ
ہو
وہ درد تھا اور درد سہہ جاتا ھے انسان...... لیکن"محبت" پر بند کیسے باندھے تھے اس نے
مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر نے خواب دیکھا. دیکھا کہ انکا صرف ایک دانت سلامت ہے باقی سارے دانت نکل چکے. جاگے تو انکا موڈ خراب تھا فورا دربار بلایا اور اپنا خواب سنایا. ایک وزیر نے انتہائی دکھ سے تعبیر بتائی بادشاہ سلامت آپ کے سارے قریبی رشتے آپ کی آنکھوں کے سامنے دُنیا چھوڑ جائیں گے.
بادشاہ اور غمزدہ ہوا اور تعبیر بتانے والے کی طرف سے منہ پھیر لیا. بیربل بھی دربار میں تھا اس نے کہا بادشاہ سلامت اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ اپنے خاندان میں سب سے طویل العمر ہوں گے. بادشاہ سلامت کا موڈ ٹھیک ہوگیا اور بیربل کو انعام سے نوازا گیا. تعبیر دونوں کی ٹھیک تھی بس ایک کا انداز بیان غلط
تھا.
امریکہ میں ایک ادھیڑ عمر بھکاری بلی رے ہیرس تھا. ایک دن اس نے دیکھا سکوں کے درمیان ایک انگوٹھی پڑی ہے. جو چند لوگ پابندی سے اسے بھیک دیتے تھے اسے یاد آیا ان میں ایک خاتون کی انگلی پر اس نے یہ انگوٹھی بار بار دیکھی تھی. غالباً بھیک کے کٹورے میں سکہ ڈالتے یہ گر گئی تھی. یہ 4 ہزار ڈالر کی آنگوٹھی تھی.
دو دن بعد شاپنگ سنٹر کے پاس بلی ہیرس کو وہی خاتون نظر آئی. اس نے آنگوٹھی واپس کردی. وہ خاتون کافی سوشل تھی. اس نے یہ بات میڈیا پر ڈال دی. لوگوں نے بلی ہیرس کی مدد شروع کردی. چند دن میں ہی اس کو نوکری مل گئی گھر مل گیا اور پونے دو لاکھ ڈالر کیش بھی جمع ہوگیا. اب وہ بے گھر بھکاری نہیں رہا. انگوٹھی بیشک قیمتی تھی لیکن بلی رے ہیرس کا اسے واپس کرنا اس سے زیادہ قیمتی عمل تھا.
دل بھی تھا ڈوبنے والوں میں سے ایک
پھر بھی سورج کا ، زیادہ افسوس
شب بخیر
میں اک گلاس زمیں پر گرانا چاہتا ہوں
ہمارے بیچ کی خاموشی بڑھتی جا رہی ہے
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے
مہینہ کوئی بھی آئے
مہینہ کوئی بھی جائے
کسی موسم کسی رت کی
تمنا اب نہیں باقی
وہ سارے موسموں کے ساتھ
بستا ھے مرے اندر
یوں بھی ہوتا ھے کہ جب کوئی ایک غم ہمیں مل جاۓ, یا وہ ہم خود ڈھونڈ لیں‘
تو ہم خوشی کی بچی کچی آہٹوں کو بھی ان سنا
کیے دیتے ہیں‘ کچھ ماضی کے غموں کو بھی بلاوا
بھیج دیتے ہیں, وہ آنے سے انکار کریں
تو گھسیٹ کر لاتے ہیں ‘
ہم اور آپ مستقبل کے اندیشوں کو بھی اٹھا لیتے ہیں‘
آس‘ حوصلہ‘ ہمنوائی‘ اور آسودگی کے متضاد
بھی ڈھونڈ لیتے ہیں ‘
یعنی ہر وہ چیز جو مار دینے کیلیے کافی ہو‘ اس پہ بہت محنت کر لیتے ہیں ‘ حالانکہ سچ پوچھیں تو
ایک یہ غم ہے جسے پانا آسان ہے‘ آپ حسین ترین منظر کو بھی اپنے معانی پہنا کر
اسے غم کا استعارا بنا سکتے ہیں,
تو جو چیز اتنی آسانی سے حاصل بن جاتی ہو,
اسکے لیے اتنی دشواری کیوں اٹھاتے ہیں ؟؟
ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ
کچھ دیر کیلیے بچپن کا ایک کھیل کھیلیں'
”آنکھ مچولی“_
یاس کو کہیں میں ابھی لوٹا, اسکی آنکھوں پہ کالی پٹی باندھ کر, (اس خیال کیساتھ اس پٹی کی گانٹھ مضبوط ھو) اوجھل ہو جائیں‘
اور آواز دیں ماضی کے کچھ خوش کن خیالات کو‘
مستقبل کی روشنی کو‘ اذن محبت کی آہٹوں کو‘
سب کو پناہ دے دیجیے
خون میں ‘ آنکھوں میں ‘ روح میں ‘ اور سب سے بڑھ کر دل میں___
کہ یقین کیجیے
یہ بھی بھٹکے مسافر ہی کی طرح ہیں, جنہیں لیے بناء ہی کشتیاں ساحلوں پہ آتی اور جاتی رہتی
ہیں ‘
اور کہتے ہیں دل سے بڑھ کر کوئی ایسی
پناہ نہیں ہوتی , جو "راس" آ جاۓ
سہلا دو من کو، کیوں یہ روتا رہے
ڈھلے گی پھر یہ رات، جو ہوتا رہے
پر یہ من مایوس ہے بہت، ہنگامے میں گرفت
اِس شور میں، اِس بھیڑ میں اکیلا ہے من، اکیلا ہوں میں
شب بخیر
ھم لکھیں گے کتاب کوئی
تو خالی صفحوں سے لکھیں گے___
یا سفید رنگ کے لفظوں سے
اِک بات انوکھی لکھیں گے___
ھم لکھیں گے جو ھم نے کہا
سب جھوٹ تھا، لیکن سچ تھا جو
ھم لکھیں گے جو تم نے کہا
جو سچ سا تھا، پر جھوٹ تھا وہ
ھم لکھیں گے وہ زیست کے رنگ
جو پھولوں کے، اور قوسِ قزح
کے رنگوں سے کہیں دور تلک
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain