Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

پھیلے تھے جیسے جنت ھوں
پر جو بھی ھم یہ لکھیں گے___
تو کون پڑھے گا، دیکھے گا
بے رنگ سفیدی سے لفظوں کو
کون زباں پر چکھے گا
سو سوچا ھے کہ ھم اپنے
اِس دل کی دیواروں پر کوئی
اِک سچی کہانی لکھیں گے
ھاں صدیوں پرانی لکھیں گے_____
جب بھی تم واپس آنا تو
آنکھوں کے رستے اِس دل میں
تو پڑھ لینا دیواروں کو
اِس شرط پہ سارا لکھیں گے
ہر لفظ دوبارہ لکھیں گے

Offline
 

اپنی آواز کی خیرات نہیں کی اس نے
میں نے چاہا بھی مگر بات نہیں کی اس نے

Offline
 

ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻮﺣﮧ ﮔﺮﯼ،
ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺳﮯ !!_____
ﺍﮎ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ______
ﻧﻤﺪﯾﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ
ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺗﻠﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﺮﻣﺮﺍﮨﭧ ﭘﺮ
ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ _ ﻓﺎﻧﯽ ﮐﺎ
ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ____ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺳﺎ،
ﻗﺼﯿﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ
ﮔﺮ ﻟﮑھ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﻢ ﺗﻮ !!
ﺷﻮخی _ ﺩﻭ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮ _____
ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ

Offline
 

ﺳﺎﺭﮮ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ
ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﺗﮯ
ﭘﮭﺮ ﺑﯿﭩھ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ______
ﺭﻧﺠیدﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ
ﮬﻢ ﺍﮔﺮ ﻟﮑﮭﺘﮯ !!_____
ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻟﮑﮭﺘﮯ
ﺍﺳﮑﮯ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﻮﺭﯾﺪﮦ ﮐﮩﺘﮯ
ﺍﻧﮑﯽ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﯿﻠﯿﮟ !!____
ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﮐﻮ _____
ﺁﺑﺪﯾﺪﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ
ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﯽ ﮬﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ !!_______
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻮﺣﮧ ﮔﺮﯼ ______
ﮨﻮﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﺳﮯ

Offline
 

یہ رویے تو مجھے مار ہی دیں
گے طالبؔ
اپنی حساس طبیعت سے پریشاں
ہو بہت

Offline
 

ممکن ہےترےغم نےہمیں باندھ رکھا ہو
ممکن ہےکہ یہ بوجھ ہٹانے سےبکھر جائیں

Offline
 

اک احساسِ جرم جو تھا چپ
رہنے کا
شعر لکھے اور ساری عمر
تلافی کی

Offline
 

اپنی زندگی میں جتنے دل راضی کرو گے اتنے ہی اپنی قبر پر چراغ جلا لو گے۔

Offline
 

اے اللہ میری ضرورتیں پوری فرما،حاجت روائی فرما،مجھے پتا نہیں کیسے،جس طرح کر بس کر دے۔

Offline
 

ﻭﺳﻌﺖ - ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮓ ﺩﻟﯽ
ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ_______
_____
ﺍﮎ ﭼﺎﮨﻨﺎ، ﻓﻘﻂ ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﻨﺎ، ﭘﮭﺮ ﮐﭽھ
ﻧﮧ ﭼﺎﮨﻨﺎ_______!!!!

Offline
 

مشہور جرمن ٹینس کھلاڑی سٹیفی گراف میچ کھیل رہی تھی کہ سٹیڈیم کے پچھلی بنچوں پر بیٹھے ایک لڑکے نے آواز لگائی سٹیفی کیا تم مجھ سے شادی کرو گی.؟ سٹیفی نے پلٹ کر صرف یہ پوچھا تمہارے پاس پیسے ہیں.؟ اور رشتہ ٹوٹ گیا.
مشہور سائنس دان آئین سٹائن 1930 میں جرمنی کی ایک فزکس کانفرنس میں شریک تھا. اس نے بلیک بورڈ پر سامعین کو اپنے فارمولوں کی وضاحت کی اور ہھر چاک رکھ کر سامعین کی طرف دیکھا. آخری بنچوں سے ایک پتلا لمبا لڑکا کھڑا ہوا. اسکا چہرہ غصیلا اور سخت تھا. غصیلے لہجے میں ہی اس نے کہا جناب آئن سٹائن آپ کا پہلا فارمولا

Offline
 

تو ٹھیک ہے لیکن دوسرا فارمولا اس کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا.
لڑکے نے پھر اپنی وضاحت دی. ہال میں خاموشی چھا گئی. آئین سٹائن غور سے اپنے فارمولے کو دیکھنے لگا اور پھر تسلیم کیا یہ لڑکا ٹھیک کہہ رہا ہے. یہ لڑکا لیو ڈیوڈوچ تھا جو بعد میں مشہور زمانہ نوبل انعام یافتہ روسی سائنسدان بنا. زندگی نے آپ کو آج پچھلی قطاروں میں کھڑا کر دیا ہے تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں. آج لیکن آپ اہنے کل سے کیا سوال کریں گے.
یہ آپ کے یہی سوال و جواب ہوتے ہیں جو آپ کو اٹھا کر اگلی قطاروں میں پہنچا دیتے ہیں. مثلاً یہاں پہلے لڑکے کو دیا گیا جواب مشہور ہوا وہ لیکن گمنام رہا جبکہ دوسرے لڑکے کے سوال و جواب نے اسے عظمت دے کر تاریخ کا حصہ بنا دیا

Offline
 

تم سے ایک گزارش ہے
چاہے تلخ ہی بولو۔۔۔ چاہے زہر ہی گھولو۔۔لیکن اب ضروری یے
گفتگو کرو ہم سے۔۔۔
شب بخیر

Offline
 

"کسی کو جیتا کیسے جاتا ھے؟"
"اپنا دل ہار کر"__
" اور دل کیسے ہارا جاتا ھے؟"
"اپنی ذات کو مٹی میں ملا کر"_
" اور تب بھی وہ نہ ملے جسکی تمنا کی ھو؟"
"تو صبر کر لیا جاتا ھے!
اللہ کسی کی ریاضت کو ضائع نہیں کرتا"_

Offline
 

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮨﻤﯿﮟ
ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ھے _____
ﺻﺮﻑ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ھے____
ﮐﺎ ﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻧﮩﮟ ﺁﺗﯽ _______
ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﮟ ﭘﮍﺗﺎ

Offline
 

ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮐﮩﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ، ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮐﮩﮯ ﻣﯿﮟ
ھوں_____
مجھ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭼُﭗ ﺑﮭﯽ ھﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﯽ
ﻃﺮﺡ_

Offline
 

اک روز
علی الصبح کھڑکی کے پاس
میں نے اس کی پایل کی چھم چھم سنی،
دل نے کیا وہ رک جائے..
وہ سچ تھا یا سراب..
میں نہ جان پایا..
وہ کہہ رہی تھی..
وہ اس حویلی کی رانی..
پھولوں سے باتیں کیا کرتی تھی..
تتلیاں اس کی سہیلیاں..
وہ مٹی سے محبت کرتی تھی..
جیسے وہ کہے جا رہی تھی..
میں سنے جا رہا تھا..
پر وہ تھی تو نہیں..
شاید ہزاروں سال پہلے،،
میری گلی سامنے ہی..
اس کی حویلی ہوتی ہوگی..
اور پھر چھم چھم کی آواز آئی..
دل اک لمحے میں ہزاروں سال جی آیا

Offline
 

بعض اوقات ہمارے پاس دوسروں کو دینے کیلیے
کچھ بھی نہیں ھوتا...
اور کبھی کبھی اپنے پاس کچھ رکھنے کو
جی نہیں چاہتا...
کبھی کبھی ایک لمحہ کرب در کرب گزرتا ھے
اور کبھی کبھی ریاضتیں بے ثمر جانے پر بھی
دکھ نہیں ھوتا_
کسی ایک پل میں کبھی کبھی خالی پن کے باوجود خلوص بانٹ دیتے ھیں,
اور کبھی دوسرے پل کسی کے خلوص
کو بھی دامن میں جگہ دینے کو جی نہیں
چاہتا ____
انسان پر بھی کبھی کبھی وہ بیت جاتی ھے جو
موت کی قربت پر سانس پر
بیتتی ھے

Offline
 

مُجھ کو تو ڈھنگ ہی نہیں
ناں
تُم کرو! کیسے بات کرتے
ھیں

Offline
 

مُڑے مُڑے سے ھیں کتابِ حیات کے
صفحات__
یہ کون ھے جو مجھے میرے بعد
پڑھتا ھے______؟؟