پھیلے تھے جیسے جنت ھوں پر جو بھی ھم یہ لکھیں گے___ تو کون پڑھے گا، دیکھے گا بے رنگ سفیدی سے لفظوں کو کون زباں پر چکھے گا سو سوچا ھے کہ ھم اپنے اِس دل کی دیواروں پر کوئی اِک سچی کہانی لکھیں گے ھاں صدیوں پرانی لکھیں گے_____ جب بھی تم واپس آنا تو آنکھوں کے رستے اِس دل میں تو پڑھ لینا دیواروں کو اِس شرط پہ سارا لکھیں گے ہر لفظ دوبارہ لکھیں گے
مشہور جرمن ٹینس کھلاڑی سٹیفی گراف میچ کھیل رہی تھی کہ سٹیڈیم کے پچھلی بنچوں پر بیٹھے ایک لڑکے نے آواز لگائی سٹیفی کیا تم مجھ سے شادی کرو گی.؟ سٹیفی نے پلٹ کر صرف یہ پوچھا تمہارے پاس پیسے ہیں.؟ اور رشتہ ٹوٹ گیا. مشہور سائنس دان آئین سٹائن 1930 میں جرمنی کی ایک فزکس کانفرنس میں شریک تھا. اس نے بلیک بورڈ پر سامعین کو اپنے فارمولوں کی وضاحت کی اور ہھر چاک رکھ کر سامعین کی طرف دیکھا. آخری بنچوں سے ایک پتلا لمبا لڑکا کھڑا ہوا. اسکا چہرہ غصیلا اور سخت تھا. غصیلے لہجے میں ہی اس نے کہا جناب آئن سٹائن آپ کا پہلا فارمولا
تو ٹھیک ہے لیکن دوسرا فارمولا اس کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا. لڑکے نے پھر اپنی وضاحت دی. ہال میں خاموشی چھا گئی. آئین سٹائن غور سے اپنے فارمولے کو دیکھنے لگا اور پھر تسلیم کیا یہ لڑکا ٹھیک کہہ رہا ہے. یہ لڑکا لیو ڈیوڈوچ تھا جو بعد میں مشہور زمانہ نوبل انعام یافتہ روسی سائنسدان بنا. زندگی نے آپ کو آج پچھلی قطاروں میں کھڑا کر دیا ہے تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں. آج لیکن آپ اہنے کل سے کیا سوال کریں گے. یہ آپ کے یہی سوال و جواب ہوتے ہیں جو آپ کو اٹھا کر اگلی قطاروں میں پہنچا دیتے ہیں. مثلاً یہاں پہلے لڑکے کو دیا گیا جواب مشہور ہوا وہ لیکن گمنام رہا جبکہ دوسرے لڑکے کے سوال و جواب نے اسے عظمت دے کر تاریخ کا حصہ بنا دیا
"کسی کو جیتا کیسے جاتا ھے؟" "اپنا دل ہار کر"__ " اور دل کیسے ہارا جاتا ھے؟" "اپنی ذات کو مٹی میں ملا کر"_ " اور تب بھی وہ نہ ملے جسکی تمنا کی ھو؟" "تو صبر کر لیا جاتا ھے! اللہ کسی کی ریاضت کو ضائع نہیں کرتا"_
اک روز علی الصبح کھڑکی کے پاس میں نے اس کی پایل کی چھم چھم سنی، دل نے کیا وہ رک جائے.. وہ سچ تھا یا سراب.. میں نہ جان پایا.. وہ کہہ رہی تھی.. وہ اس حویلی کی رانی.. پھولوں سے باتیں کیا کرتی تھی.. تتلیاں اس کی سہیلیاں.. وہ مٹی سے محبت کرتی تھی.. جیسے وہ کہے جا رہی تھی.. میں سنے جا رہا تھا.. پر وہ تھی تو نہیں.. شاید ہزاروں سال پہلے،، میری گلی سامنے ہی.. اس کی حویلی ہوتی ہوگی.. اور پھر چھم چھم کی آواز آئی.. دل اک لمحے میں ہزاروں سال جی آیا
بعض اوقات ہمارے پاس دوسروں کو دینے کیلیے کچھ بھی نہیں ھوتا... اور کبھی کبھی اپنے پاس کچھ رکھنے کو جی نہیں چاہتا... کبھی کبھی ایک لمحہ کرب در کرب گزرتا ھے اور کبھی کبھی ریاضتیں بے ثمر جانے پر بھی دکھ نہیں ھوتا_ کسی ایک پل میں کبھی کبھی خالی پن کے باوجود خلوص بانٹ دیتے ھیں, اور کبھی دوسرے پل کسی کے خلوص کو بھی دامن میں جگہ دینے کو جی نہیں چاہتا ____ انسان پر بھی کبھی کبھی وہ بیت جاتی ھے جو موت کی قربت پر سانس پر بیتتی ھے