مُجھ کو تو ڈھنگ ہی نہیں
ناں
تُم کرو! کیسے بات کرتے
ھیں
مُڑے مُڑے سے ھیں کتابِ حیات کے
صفحات__
یہ کون ھے جو مجھے میرے بعد
پڑھتا ھے______؟؟
کاش کچھ دیر کے لیے سب کچھ بھلا سکیں۔
الجھنیں ، ناانصافیاں ، دھوکے ، ناراضگیاں ۔ یہ جو دماغ ہے نا، یہ تھک گیا ہے اور یہ جو دل ہے نا، یہ اکتا گیا ہے ۔ دماغ آرام چاہتا ہے اور دل سکون ۔ دونوں مل کر چھوٹے بچے کی طرح بے پرواہ بننا چاہتے ہیں۔ نا کوئی ڈر نا دھڑکا۔ پتہ ہے نا کہ بچانے والے موجود ہیں۔ جتنا مرضی جھولے جھولیں ، کوئی گرنے نہیں دے گا نا کوئی نقصان پہنچنے دے گا۔ لیکن پھر جھولتے جھولتے جب گر جاتے ہیں اور
چوٹ لگتی ہے تو خیال آتا ہے کہ ارے ! اب تو ہم بڑے ہوگئے ہیں۔ اب ہمیں خود کو ، خود ہی سنبھالنا ہے ۔ دل و دماغ دونوں ہڑبڑا کر پھر سے اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور یاد کرنے لگتے ہیں کہ کس نے ہمیں دھوکہ دیا۔ کس نے تکلیف دی ۔ کس نے ناانصافی کی۔ ویسے یاد تو یہ بھی کرنا چاہیے کہ ہم نے کس کے ساتھ کیا ، کیا ؟
لیکن وہ کیا ہے نا کہ دل و دماغ ہمارا ہے
تو ہمارے بارے میں ہی سوچے گا نا
چپ چاپ اک جگہ _بیٹھے رہے تھے دونوں
وہ کسی اور کے میں اس کے دھیان میں تھا
وہ بھرے شہر میں کسی سے بھی
میرے بارے میں پُوچھتا ہی نہیں
رحمت حق اس شخص کی تلاش
میں رھتی ھے جسکی آنکھ پرنم رھتی ھے
السلام علیکم
صبح بخیر
سب سمجھتے ہیں میں تمہارا ہوں
تم بھی رہتے ہو اسی گماں میں کیا
راستوں کا غرور تو دیکھو
جیسے اُنکی گلی کو جاتے ہیں
محبت کے قلعوں میں محب و محبوب کو موت نہیں آتی,مگر جو رازدار ہوتے ہیں ناں مر جاتے ہیں
ہائے وہ حرفِ تمنا جو سرِ دار چڑھے
ہائے وہ لفظِ محبت جو خفا رہتا ہے
"بڑی نعمت ہے دل کا دنیا میں
نہ لگنا"
کوئی اتنا پیارا ، کیسے ھو سکتا ھے ؟
پھر سارے کا سارا ، کیسے ھو سکتا ھے ؟
تُجھ سے جب مل کر بھی ، اُداسی کم نہیں ھوتی
تیرے بغیر گزارا ، کیسے ھو سکتا ھے؟
کیسے کسی کی یاد ، ھمیں زندہ رکھتی ھے؟
ایک خیال سہارا ، کیسے ھو سکتا ھے؟
یار ! ھَوا سے کیسے آگ بَھڑک اُٹھتی ھے؟
لفظ کوئی انگارا ، کیسے ھو سکتا ھے ؟
کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر ، خوش ھے؟
درد کسی کو پیارا ، کیسے ھو سکتا ھے؟
ہم بھی کیسے ایک ھی شخص کے ھو کے رہ جائیں
وہ بھی صرف ھمارا ، کیسے ھو سکتاھے؟
کیسے ھو سکتا ھے , جو کچھ بھی میں چاھُوں؟
بول نہ میرے یارا ، کیسے ھو سکتا ھے؟
دل کسی سے کتنا بھی خفا ہو جاۓ تم
خاموش ہو جانا
مگر بے ادبی نہ کرنا
شب بخیر
بعض دفعہ سمجھ نہیں آتا ہم کسی کو یاد کیوں
کرتے ھیں ؟؟
یاد کرتے ھیں تو یاد آتا ھے,
یا یاد آتا ھے تو یاد کرتے ھیں, دل یہ معمہ کہاں
حل کر پاتا ھے
نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں
مصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر
لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں
اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح
کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں ۔۔۔۔
سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا
بس ترا نام ہی مکمل ہے
اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی!
ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻑ ہوتی ﺗﻮ تمہارے قدموں ﭘﺮ ﮔﺮﺗﯽ"
ﺗﻢ ﺑﺮﻑ ہوتی ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﻑ ہوتا۔۔۔ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ہی ہونا ہے ﺟﻮ تمہیں ہونا ہے
کل مقصدِ حیات کی
کچھ بحث چھڑ گئی
تیرا ہی نام ہم نے لیا
بار ها لیا
محبت قابلِ تعریف ہےاس کی تعریف ہونی چاہیئے لیکن تعریف نہیں ہوسکتی
کچھ آنکھوں میں تو ہو گیا آباد وہ چہرہ
کچھ بستیوں میں آج بھی بجلی نہیں آئی
ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے
ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی
وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجوڑا
ورنہ یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں آئی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain