کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال
کن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں ،کہاں رہتا ہوں
ایک دن آئے گا جب آپ خوش ہوں گے جیسے آپ پر کبھی بوجھ نہیں پڑا۔
صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں
آج نظم نہیں لکھتے
ورنہ شام ہو جائے گی
اور کسی کو اپنا منتظر نہ پا کر
بوٹوں سمیت کرسی پر بیٹھ جائے گی
ان نامعلوم افراد کے انداز میں
جن میں شمار ہونے سے
سب کو خوف آتا ہے
آج خوفزدہ نہیں ہوتے
صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں
اور خواب ٹوٹنے کی آواز پر
نیند نہیں توڑتے
بیدار نہیں ہوتے
یہ اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کرتے
کہ دروازہ کس طرف ہے
بس مان لیتے ہیں
کہ دستک کی امید
کوئے کی آواز سے باندھ کر
دروازے پر لٹکا دینا
اچھا شگون ہوتا ہے
بہت مشکل ہے کچھ کہنا یقیں سے
چمکتے ہیں کہ تارے کانپتے ہیں
شب بخیر
پہنچی ہے کس طرح مرے لب تک ،نہیں پتہ
وہ بات جس کا خود مجھے اب تک نہیں پتہ
اک دن اداسیوں کی دوا ڈھونڈ لیں گے لوگ
ہم لوگ ہوں گے یا نہیں تب تک ،نہیں پتہ!
کب سے ہے، کس قدر ہے ، یہ کیسے پتہ چلے ؟
مجھ کو تو اس جنوں کا سبب تک نہیں پتہ
جس کے سبب میں اہلِ محبت کے ساتھ ہوں
وہ شخص میرے ساتھ ہے کب تک، نہیں پتہ
میں آج کامیاب ہوں، خوش باش ہوں، مگر
کیا فائدہ ہے یار! اسے جب تک نہیں پتہ
ہم کیا خوشی، غمی کی محافل میں ہوں شریک
ہم کو تو فرقِ رنج و طرب تک نہیں پتہ
خدا کو صرف مہربان ہی نہ سمجھو اس سے زیادہ گرفت بھی کسی کی نہیں ہے
محب کو محبوب میں کجی یا خامی نظر نہیں آتی
اگر نظر آ بھی جائے تو محسوس نہیں ہوتی ، محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی
محبوب کی ہر ادا دلبری ہے ۔۔۔۔
یہاں تک کہ اس کا ستم بھی کرم ہے ۔
اس کی وفا بھی پر لطف اور جفا بھی پر کشش
خواب اور محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی
ہمیں خبر ہے
ہمارے درمیان بے خبری کی دھند پھیلی ہوئی ہے
تلاش کے راستے پر چلتے ہوئے
ہمارے قدم اپنی منزل نہیں دیکھ پاتے
تمہارا اندر میری نظموں سے زیادہ خوبصورت اور اجلا ہے
مگر میری عینک کے شیشے روز بروز دبیز ہوتے جا رہے ہیں
پتا ہے ہمیں لکھتے ہوئے
نظمیں اور کہانیاں بے لفظ کیوں ہو جاتی ہیں ؟
وہ ہماری جائے پیدائش، تاریخ اور عمر جاننا چاہتے ہیں
انہیں کیا معلوم
کہ خواب نہ پیدا ہوتے ہیں نہ مرتے ہیں
ان کا اندراج کسی رجسٹر میں نہیں ہوتا
میں نہیں جانتا
تم نے کب خواب کی انگلی تھامے ہوئے
نیند میں چلنا سیکھا
لیکن میں وہ خواب ہوں
جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا
بہت دُور ایک گاؤں
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں میرے بچپن کے جگنو
ابھی تک گھنے پیپلوں پر چمکتے ہیں
میری زباں سے گرے توتلے لفظ اب بھی
کئی سال سے غیرآباد گھر کی
پرانی، جھکی، آخری سانس لیتی ہوئی
سیڑھیوں پر پڑے ہیں
کہ جیسے خموشی کے سینے میں خنجر گڑے ہیں
بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں شام ہوتے ہی تاریکیاں پھیل جاتی ہیں
آٹے کی چکی کی تُک تُک
پرندوں کی ڈاریں
کہیں دُور جاتی ہوئی
گھنٹیوں کی صدائیں
سبھی ایک خاموش لَے میں بدل کر
سیہ رات کی جھیل میں ڈوبتی ہیں
بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں لالٹینوں کی مدھم لرزتی ہوئی روشنی میں
سبق یاد کرتے ہوئے
میں نے اچھے دنوں کے کئی خواب دیکھے
بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں میری پہلی محبت کی پرچھائیاں ہیں
اداسی میں ڈوبے ہوئے راستے،
کھیت، اسکول، جوہڑ، درختوں کے جھرمٹ،
پُراسرار تنہائیاں ہیں
بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں چاند راتوں میں خاموش گلیوں سے،
بوڑھے درختوں کی شاخوں سے،
سوئے ہوئے آنگنوں سے گزر کر
ہوا اب بھی آتی ہے
چُپکے سے مجھ کو بلاتی ہے
لیکن نہ پا کر مجھے لوٹ جاتی ہے
عادت ہوا کی ابھی تک وہی ہے
کہ فطرت ہوا کی ابھی تک وہی ہے
مگر زندگی نے مجھے روند ڈالا ہے
شہروں کی بے راستہ بھیڑ میں ۔۔۔۔۔۔۔!
کتابوں سے محبت کرنے والے لوگ اس قدر سنجیدہ ہوجاتے ہیں کہ مزاح ان کی زندگی سے مکمل طور پر نکل جاتا ہے اور وہ سارا وقت لمبا جبہ پہن کر پڑھے ہوئے نظریات کی لاٹھی سے دوسروں کی پٹائی میں مصروف رہتے ہیں۔
بانو قدسیہ "راجہ گدھ"
ہم خدا کے بارے میں جو گمان رکھتے ہیں، وہ دراصل ہماری اپنی شخصیت کے بارے میں ہمارے گمان کا ایک عکس ہوتا ہے۔اگر خدا کے ذکر سے ذہن میں محض الزام اور خوف ہی ابھرے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خوف اور الزام تراشی ہمارے اپنے سینے کی گھٹن میں پنپ رہی ہے۔ اور اگر خدا ہمیں محبت اور شفقت سے چھلکتا ہوا دکھائی دے، تو یقیناّ ہم بھی محبت اور شفقت سے چھلک رہے ہیں۔
شب بخیر
بچھڑنے والے ترے لیے ایک مشورہ ہے
کبھی ہمارا خیال آئے تو آنے دینا
دل بتاتا ہے مجھے عقل کی باتیں کیا کیا
بندہ پوچھے کہ ترا ہے کوئی لینا دینا
وہ مجھ سے اور نالاں ہو گیا ہے
مرے تعویذ الٹے پڑ گئے ہیں
اُس کی منزل تھی , کہیں کوہ قاف سے آگے
میں راہ میں پڑتے , کسی گاؤں کی طرح تھا
ڈور کم پڑ رہی ہے اور ہمیں
اس کے گھر تک پتنگ اڑانی ہے
وہ جہاں تک دکھائی دیتا ہے
اس سے آگے میں دیکھتا ہی نہیں
تیرے موجود رہنے تک حسین ہیں
ستارے ۔۔۔، آسمان ۔۔۔۔، دنیا وغیرہ
تُو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لُٹا دی ہم نے
تُجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تُجھ کو معلوم ہے کیوں عُمر گُنوا دی ہم نے
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ اُلفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اِس عِشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جُز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں
عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے دُکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے رُخِ زرد کے معنی سیکھے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے اُبلتی ہے نہ پُوچھ
اپنے دِل پر مُجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain