Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال
کن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں ،کہاں رہتا ہوں

Offline
 

ایک دن آئے گا جب آپ خوش ہوں گے جیسے آپ پر کبھی بوجھ نہیں پڑا۔

Offline
 

صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں
آج نظم نہیں لکھتے
ورنہ شام ہو جائے گی
اور کسی کو اپنا منتظر نہ پا کر
بوٹوں سمیت کرسی پر بیٹھ جائے گی
ان نامعلوم افراد کے انداز میں
جن میں شمار ہونے سے
سب کو خوف آتا ہے
آج خوفزدہ نہیں ہوتے
صرف شام ہونے کا انتظار کرتے ہیں
اور خواب ٹوٹنے کی آواز پر
نیند نہیں توڑتے
بیدار نہیں ہوتے
یہ اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کرتے
کہ دروازہ کس طرف ہے
بس مان لیتے ہیں
کہ دستک کی امید
کوئے کی آواز سے باندھ کر
دروازے پر لٹکا دینا
اچھا شگون ہوتا ہے

Offline
 

بہت مشکل ہے کچھ کہنا یقیں سے
چمکتے ہیں کہ تارے کانپتے ہیں
شب بخیر

Offline
 

پہنچی ہے کس طرح مرے لب تک ،نہیں پتہ
وہ بات جس کا خود مجھے اب تک نہیں پتہ
اک دن اداسیوں کی دوا ڈھونڈ لیں گے لوگ
ہم لوگ ہوں گے یا نہیں تب تک ،نہیں پتہ!
کب سے ہے، کس قدر ہے ، یہ کیسے پتہ چلے ؟
مجھ کو تو اس جنوں کا سبب تک نہیں پتہ
جس کے سبب میں اہلِ محبت کے ساتھ ہوں
وہ شخص میرے ساتھ ہے کب تک، نہیں پتہ
میں آج کامیاب ہوں، خوش باش ہوں، مگر
کیا فائدہ ہے یار! اسے جب تک نہیں پتہ
ہم کیا خوشی، غمی کی محافل میں ہوں شریک
ہم کو تو فرقِ رنج و طرب تک نہیں پتہ

Offline
 

خدا کو صرف مہربان ہی نہ سمجھو اس سے زیادہ گرفت بھی کسی کی نہیں ہے

Offline
 

محب کو محبوب میں کجی یا خامی نظر نہیں آتی
اگر نظر آ بھی جائے تو محسوس نہیں ہوتی ، محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی
محبوب کی ہر ادا دلبری ہے ۔۔۔۔
یہاں تک کہ اس کا ستم بھی کرم ہے ۔
اس کی وفا بھی پر لطف اور جفا بھی پر کشش

Offline
 

خواب اور محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی
ہمیں خبر ہے
ہمارے درمیان بے خبری کی دھند پھیلی ہوئی ہے
تلاش کے راستے پر چلتے ہوئے
ہمارے قدم اپنی منزل نہیں دیکھ پاتے
تمہارا اندر میری نظموں سے زیادہ خوبصورت اور اجلا ہے
مگر میری عینک کے شیشے روز بروز دبیز ہوتے جا رہے ہیں
پتا ہے ہمیں لکھتے ہوئے
نظمیں اور کہانیاں بے لفظ کیوں ہو جاتی ہیں ؟
وہ ہماری جائے پیدائش، تاریخ اور عمر جاننا چاہتے ہیں
انہیں کیا معلوم
کہ خواب نہ پیدا ہوتے ہیں نہ مرتے ہیں
ان کا اندراج کسی رجسٹر میں نہیں ہوتا
میں نہیں جانتا
تم نے کب خواب کی انگلی تھامے ہوئے
نیند میں چلنا سیکھا
لیکن میں وہ خواب ہوں
جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا

Offline
 

بہت دُور ایک گاؤں
بہت دور گاؤں ہے میرا
جہاں میرے بچپن کے جگنو
ابھی تک گھنے پیپلوں پر چمکتے ہیں
میری زباں سے گرے توتلے لفظ اب بھی
کئی سال سے غیرآباد گھر کی
پرانی، جھکی، آخری سانس لیتی ہوئی
سیڑھیوں پر پڑے ہیں
کہ جیسے خموشی کے سینے میں خنجر گڑے ہیں
بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں شام ہوتے ہی تاریکیاں پھیل جاتی ہیں
آٹے کی چکی کی تُک تُک
پرندوں کی ڈاریں
کہیں دُور جاتی ہوئی
گھنٹیوں کی صدائیں
سبھی ایک خاموش لَے میں بدل کر
سیہ رات کی جھیل میں ڈوبتی ہیں

Offline
 

بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں لالٹینوں کی مدھم لرزتی ہوئی روشنی میں
سبق یاد کرتے ہوئے
میں نے اچھے دنوں کے کئی خواب دیکھے
بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں میری پہلی محبت کی پرچھائیاں ہیں
اداسی میں ڈوبے ہوئے راستے،
کھیت، اسکول، جوہڑ، درختوں کے جھرمٹ،
پُراسرار تنہائیاں ہیں
بہت دُور گاؤں ہے میرا
جہاں چاند راتوں میں خاموش گلیوں سے،
بوڑھے درختوں کی شاخوں سے،
سوئے ہوئے آنگنوں سے گزر کر
ہوا اب بھی آتی ہے
چُپکے سے مجھ کو بلاتی ہے
لیکن نہ پا کر مجھے لوٹ جاتی ہے
عادت ہوا کی ابھی تک وہی ہے
کہ فطرت ہوا کی ابھی تک وہی ہے
مگر زندگی نے مجھے روند ڈالا ہے
شہروں کی بے راستہ بھیڑ میں ۔۔۔۔۔۔۔!

Offline
 

کتابوں سے محبت کرنے والے لوگ اس قدر سنجیدہ ہوجاتے ہیں کہ مزاح ان کی زندگی سے مکمل طور پر نکل جاتا ہے اور وہ سارا وقت لمبا جبہ پہن کر پڑھے ہوئے نظریات کی لاٹھی سے دوسروں کی پٹائی میں مصروف رہتے ہیں۔
بانو قدسیہ "راجہ گدھ"

Offline
 

ہم خدا کے بارے میں جو گمان رکھتے ہیں، وہ دراصل ہماری اپنی شخصیت کے بارے میں ہمارے گمان کا ایک عکس ہوتا ہے۔اگر خدا کے ذکر سے ذہن میں محض الزام اور خوف ہی ابھرے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خوف اور الزام تراشی ہمارے اپنے سینے کی گھٹن میں پنپ رہی ہے۔ اور اگر خدا ہمیں محبت اور شفقت سے چھلکتا ہوا دکھائی دے، تو یقیناّ ہم بھی محبت اور شفقت سے چھلک رہے ہیں۔
شب بخیر

Offline
 

بچھڑنے والے ترے لیے ایک مشورہ ہے
کبھی ہمارا خیال آئے تو آنے دینا

Offline
 

دل بتاتا ہے مجھے عقل کی باتیں کیا کیا
بندہ پوچھے کہ ترا ہے کوئی لینا دینا

Offline
 

وہ مجھ سے اور نالاں ہو گیا ہے
مرے تعویذ الٹے پڑ گئے ہیں

Offline
 

اُس کی منزل تھی , کہیں کوہ قاف سے آگے
میں راہ میں پڑتے , کسی گاؤں کی طرح تھا

Offline
 

ڈور کم پڑ رہی ہے اور ہمیں
اس کے گھر تک پتنگ اڑانی ہے

Offline
 

وہ جہاں تک دکھائی دیتا ہے
اس سے آگے میں دیکھتا ہی نہیں

Offline
 

تیرے موجود رہنے تک حسین ہیں
ستارے ۔۔۔، آسمان ۔۔۔۔، دنیا وغیرہ

Offline
 

تُو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لُٹا دی ہم نے
تُجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تُجھ کو معلوم ہے کیوں عُمر گُنوا دی ہم نے
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ اُلفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اِس عِشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جُز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں
عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے دُکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے رُخِ زرد کے معنی سیکھے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے اُبلتی ہے نہ پُوچھ
اپنے دِل پر مُجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے