ہم سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اس لیے خیال رکھنا کسی کا دل نہ دکھانا چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
یوں نا تھا، میں نے چاہا تھا فقط یوں ہو جائے
تھا کا کرب جانتے ہو…؟
میں اُونچیاں اُونچیاں دیواراں رکھیاں
اِس دل دے چار چوفیرے
نال دو کرنٹ دی تاراں چھڈیاں
کوئی دل چے ناں لا لے ڈیرے
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
" ہم سب کے پاس اپنی اپنی ٹائم مشینیں ہیں ۔۔۔ کُچھ ہمیں واپس ( گُزرے وقت میں ) لے جاتی ہیں جِنہیں ہم یادیں کہتے ہیں اور کُچھ ہمیں آگے لے جاتی ہیں جِنہیں ہم خواب کہتے ہیں! ۔ "
ہم ہیں کہاں کے کوزہ گر ابرک
ہم سے جب آپ سا نہیں بنتا
تری آواز کو کاغذ پہ رکھ کے ، میں نے چاہا تھا کہ "پن" کر لوں
وہ جیسے تتلیوں کے پر لگا لیتا ہے کوئی اپنی البم میں
کمرۂ عدالت میں جج نے ملزم سے پوچھا: "دس جون کو تم نے بیوی کو کلھاڑی اٹھا کر ڈرایا دھمکایا؟"
ملزم نے اقرار کیا: "جی جناب! ایسا ہی ہوا تھا۔"
عدالت میں موجود ایک آدمی نے چلا کر کہا: "شرم کرو بے غیرت انسان۔"
جج نے اس آدمی کو ڈانٹا کہ عدالت میں اونچا نہیں بولتے؛ پھر جج نے ملزم کو مخاطب کیا: "بیس جون کو تم نے اپنی بیوی کو پھر دھمکایا اور بیلچہ اٹھا کر اس کو زندہ دفن کرنے کی دھمکی دی؟"
یہ سن کر وہی آدمی پھر کھڑا ہو گیا اور ملزم پر لعن طعن کرنے
لگا۔ اب جج کو غصہ آ گیا: "میں تمھارے جذبات سمجھتا ہوں، کوئی بھی غیرت مند شخص اپنی بیوی کو ایسی دھمکی نہیں دے سکتا، لیکن میں نے تمھیں پہلے بھی منع کیا تھا، کہ عدالت کا احترام لازم ہے۔ اب تم بولے تو تم پر توہین عدالت لگا دوں گا۔"
وہ آدمی گویا ہوا: "جناب! آپ نہیں جانتے یہ ملزم کتنا مکار اور جھوٹا ہے؛ میں نے کئی بار اس سے کلھاڑی اور بیلچہ ادھار مانگے، اس نے کہا کہ اس کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں۔"۔
کاش
تم سے بچھڑتے وقت میں
چاند پہ ہوتا
تو
گریویٹی مجھے
یوں نہ کھینچتی
اور میں
اتنی جلدی
زمین میں نہ دھنستا
کچھوے اور خرگوش کی کہانی تو سب نے سنی ہوگی لیکن کم لوگ ہی جانتے ہوں گے وہ خرگوش آخر کیوں سو گیا تھا.؟ کیسے ہار گیا تھا.؟ پھر اس خرگوش نے بھی اپنی کہانی سنائی.
خرگوش کہتا ہے میری لیڈ بہت زیادہ تھی. میں کچھوے سے بہت آگے تھا پھر ایک جگہ ہری بھری گھاس دیکھ کر میں لیٹ گیا. ایک باباجی آگئے پوچھا میاں خرگوش کیا ہو رہا ہے.؟ میں نے کہا کچھوے کے ساتھ ریس میں دوڑ رہا ہوں. بابا جی نے کہا کیوں؟ تمہیں کیا مل جائے گا.؟ میں نے کہا جنگل میں میری رفتار کی دھاک ہوگی مجھے جیت کا میڈل مل جائے گا.
باباجی نے کہا کیا کرو گے یہ
سارے میڈلز جمع کر کے. تم سے پہلے اس جنگل میں کتنے شیر گزرے چیتے ہاتھی گزرے. کیا تم نے ان کی طاقت، رفتار اور دبدبے کے میڈلز دیکھے. ؟ نہیں دیکھے ہوں گے. کیونکہ ان کی کہانی جب ختم ہوئی تو ان کے سارے میڈلز بھی گمنام ہوگئے. تم دیکھو کتنا ہرا بھرا جنگل ہے اس میں کیا ہی خوبصورت زندگی جی جا سکتی ہے لیکن تم یہ سب چھوڑ کر دوسروں کو ہرانے کی دوڑ میں لگے ہو.
آج کچھوے نے چیلنج کیا ہے کل لومڑی ہرن زرافہ زیبرا چیلنج کرے گا. کیا تم زندگی بھر دوڑتے رہنا چاہتے ہو. خرگوش کہتا ہے باباجی تو چلے گئے لیکن میں سوچ میں پڑ گیا. واقعی کچھوے کو ہرانے کا کیا فائدہ؟ جیت کا یہ میڈل نہ ملا تو کیا ہوا. اور میں سو گیا. میں نے میڈلز کی دوڑ چھوڑ کر زندگی جینے کا فیصلہ کر لیا تھا
وہ کچی عمر کے پکے عشق
وہ دھڑکنوں کی تلملاہٹ
وہ قہقہوں کی گھنگھائٹ
وہ ابرووں کی سرسرائٹ
وہ سانسوں کی گنگاہٹ
وہ ہواوں میں اڑنا
وہ خو شبو بکھرنا
وہ بہتی ہواوں میں اڑنا
وہ دلوں کو تھامنا
وہ آنسو بہانا
پھر کھل کھلانا
وہ وصال جاناں
وہ کرب و بلا جاناں
وہ کچی عمر کے پکے عشق
وہ کچی عمر کے سچے عشق
شوہر؛ بیگم تم ویسی روٹیاں نہیں بناتیں
جیسی امی بناتی ہیں
بیگم؛ آپ آٹا ویسے گوندا کریں نا
جیسے آپکے ابا گوندتے ہیں
وہ کہتی ہے
ہم کب ملیں گے میں کہتا ہوں ، جنگ ختم ہونے کے بعد
وہ کہتی ہے ، جنگ کب ختم ہو گی میں کہتا ہوں ، جب ہم ملیں گے
اس نے کہا
سن
عہد نبھانے کی خاطر مت آنا
عہد نبھانے والے اکثر
مجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیں
تم جاؤ
اور دریا دریا پیاس بجھاؤ
جن آنکھوں میں ڈوبو
جس دل میں اترو
میری طلب آواز نہ دے گی
لیکن جب میری چاہت
اور مری خواہش کی لو
اتنی تیز اور اتنی
اونچی ہو جائے
جب دل رو دے
تب لوٹ آنا
"اے محبت ! خدا تجھے عزت بخشے ۔ تیری ابتداء ہنسی مذاق اور انتہا سنجیدہ ہے ۔
اس شخص کے سوا تیری حقیقت کوئی نہیں جان سکتا جس کا تجھ سے سامنا ہوا"
شوہرِ نامدار کو بیوی کی دماغی حالت پر شبہ تھا لہٰذا دماغی امراض کے بہت ہی مقبول ڈاکٹر سے ٹائم لیا اور بیوی کو لے کر پہنچے.....
ڈاکٹر: "جی بی بی.... کیا مسئلہ ہے؟"
"ڈاکٹر صاحب!! یہ تو آپ نے بتانا ہے نا؟"☻
ڈاکٹر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئے اور پھر سنبھلتے ہوئے گویا ہوئے....
"اچھا تو یہ بتائیں کہ کیا مصروفیات ہیں آپکی؟ میرا مطلب ہے سارا دن کیسے بتاتی ہیں؟"
"ڈاکٹر صاحب! گھریلو کام کاج میں ہی گزرتا ہے گھر میں شوہر ہیں..... انکی والدہ ہیں..... ہمارے بچے ہیں گھر بار کو دیکھنا..... سارا دن ایسے ہی
گزرتا ہے جی..."
ڈاکٹر؛ "اسکے علاوہ کیا مشاغل ہیں؟"
"بس سر! تھوڑا بہت لکھنے کا شوق ہے..."
ڈاکٹر "اوہو... تو میں اس وقت ایک لکھاری سے بات کر رہا ہوں....."
"نہیں سر! لکھاری کہاں.. میری تو دماغی حالت ہی صحیح نہیں تو......."
"اچھا... یہ بتائیں زیادہ تر کیا لکھتی ہیں؟ یعنی کن موضوعات پر لکھنا پسند ہے؟"
"ایسا کچھ خاص تو نہیں بس عام فہم سا لکھتی ہوں... ہلکی پھلکی تحریریں.... جو سامنے بیت رہا ہو.... جو دیکھ رہی ہوتی ہوں..... بس اسی پہ قلم چل جاتا ہے.. .."
"مثال کے طور پر.....؟"
"مثال کے طور پر یہ آپکی میز پر آدھا بھرا ھوا گلاس پڑا ہے... تو اس پر ہی لکھ دوں گی.... کہ ایک ڈاکٹر کی
میز پر پانی کا گلاس پڑا ہوا تھا جو کہ ڈھکا ہوا نہیں تھا اور میرے سامنے دو مرتبہ اسکے اوپر مکھی بیٹھی جس کو ڈاکٹر نے ہاتھ مار کر اڑایا.... اور پھر کچھ دیر بعد وہی پانی اٹھا کر پی لیا تھا....
یا پھر ایسے بھی لکھ سکتی ھوں کہ میں دماغی امراض کے ڈاکٹر کے کلینک پر گئی تو اس نے میرے سامنے آدھا پیا ھوا سگریٹ ایش ٹرے میں رگڑ کر بجھایا.... تو میں سوچنے لگی.... یہ ڈاکٹر دماغ کا علاج کرتا ہے تو یقیناً دل اور سانس کی بیماریوں سے بھی واقف ھو گا لیکن اسکے باوجود سگریٹ پیتا ہے جبکہ اسکو سگریٹ کے نقصان بھی معلوم ہوں گے.... تو پھر اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ اسکا تو اپنا دماغ کام نہیں کرتا... . تو یہ میرا علاج کیا کرے گا..... بس ڈاکٹر صاحب! ایسی ہی چھوٹی چھوٹی تحریریں لکھتی رھتی ہوں......"
اور.....
اب....
ڈاکٹر....
شوہر کا بغور جائزہ لے رہا ھے
منقول
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain