Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ہم سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اس لیے خیال رکھنا کسی کا دل نہ دکھانا چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

Offline
 

یوں نا تھا، میں نے چاہا تھا فقط یوں ہو جائے
تھا کا کرب جانتے ہو…؟

Offline
 

میں اُونچیاں اُونچیاں دیواراں رکھیاں
اِس دل دے چار چوفیرے
نال دو کرنٹ دی تاراں چھڈیاں
کوئی دل چے ناں لا لے ڈیرے

Offline
 

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

Offline
 

" ہم سب کے پاس اپنی اپنی ٹائم مشینیں ہیں ۔۔۔ کُچھ ہمیں واپس ( گُزرے وقت میں ) لے جاتی ہیں جِنہیں ہم یادیں کہتے ہیں اور کُچھ ہمیں آگے لے جاتی ہیں جِنہیں ہم خواب کہتے ہیں! ۔ "

Offline
 

ہم ہیں کہاں کے کوزہ گر ابرک
ہم سے جب آپ سا نہیں بنتا

Offline
 

تری آواز کو کاغذ پہ رکھ کے ، میں نے چاہا تھا کہ "پن" کر لوں
وہ جیسے تتلیوں کے پر لگا لیتا ہے کوئی اپنی البم میں

Offline
 

کمرۂ عدالت میں جج نے ملزم سے پوچھا: "دس جون کو تم نے بیوی کو کلھاڑی اٹھا کر ڈرایا دھمکایا؟"
ملزم نے اقرار کیا: "جی جناب! ایسا ہی ہوا تھا۔"
عدالت میں موجود ایک آدمی نے چلا کر کہا: "شرم کرو بے غیرت انسان۔"
جج نے اس آدمی کو ڈانٹا کہ عدالت میں اونچا نہیں بولتے؛ پھر جج نے ملزم کو مخاطب کیا: "بیس جون کو تم نے اپنی بیوی کو پھر دھمکایا اور بیلچہ اٹھا کر اس کو زندہ دفن کرنے کی دھمکی دی؟"
یہ سن کر وہی آدمی پھر کھڑا ہو گیا اور ملزم پر لعن طعن کرنے

Offline
 

لگا۔ اب جج کو غصہ آ گیا: "میں تمھارے جذبات سمجھتا ہوں، کوئی بھی غیرت مند شخص اپنی بیوی کو ایسی دھمکی نہیں دے سکتا، لیکن میں نے تمھیں پہلے بھی منع کیا تھا، کہ عدالت کا احترام لازم ہے۔ اب تم بولے تو تم پر توہین عدالت لگا دوں گا۔"
وہ آدمی گویا ہوا: "جناب! آپ نہیں جانتے یہ ملزم کتنا مکار اور جھوٹا ہے؛ میں نے کئی بار اس سے کلھاڑی اور بیلچہ ادھار مانگے، اس نے کہا کہ اس کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں۔"۔

Offline
 

کاش
تم سے بچھڑتے وقت میں
چاند پہ ہوتا
تو
گریویٹی مجھے
یوں نہ کھینچتی
اور میں
اتنی جلدی
زمین میں نہ دھنستا

Offline
 

کچھوے اور خرگوش کی کہانی تو سب نے سنی ہوگی لیکن کم لوگ ہی جانتے ہوں گے وہ خرگوش آخر کیوں سو گیا تھا.؟ کیسے ہار گیا تھا.؟ پھر اس خرگوش نے بھی اپنی کہانی سنائی.
خرگوش کہتا ہے میری لیڈ بہت زیادہ تھی. میں کچھوے سے بہت آگے تھا پھر ایک جگہ ہری بھری گھاس دیکھ کر میں لیٹ گیا. ایک باباجی آگئے پوچھا میاں خرگوش کیا ہو رہا ہے.؟ میں نے کہا کچھوے کے ساتھ ریس میں دوڑ رہا ہوں. بابا جی نے کہا کیوں؟ تمہیں کیا مل جائے گا.؟ میں نے کہا جنگل میں میری رفتار کی دھاک ہوگی مجھے جیت کا میڈل مل جائے گا.
باباجی نے کہا کیا کرو گے یہ

Offline
 

سارے میڈلز جمع کر کے. تم سے پہلے اس جنگل میں کتنے شیر گزرے چیتے ہاتھی گزرے. کیا تم نے ان کی طاقت، رفتار اور دبدبے کے میڈلز دیکھے. ؟ نہیں دیکھے ہوں گے. کیونکہ ان کی کہانی جب ختم ہوئی تو ان کے سارے میڈلز بھی گمنام ہوگئے. تم دیکھو کتنا ہرا بھرا جنگل ہے اس میں کیا ہی خوبصورت زندگی جی جا سکتی ہے لیکن تم یہ سب چھوڑ کر دوسروں کو ہرانے کی دوڑ میں لگے ہو.
آج کچھوے نے چیلنج کیا ہے کل لومڑی ہرن زرافہ زیبرا چیلنج کرے گا. کیا تم زندگی بھر دوڑتے رہنا چاہتے ہو. خرگوش کہتا ہے باباجی تو چلے گئے لیکن میں سوچ میں پڑ گیا. واقعی کچھوے کو ہرانے کا کیا فائدہ؟ جیت کا یہ میڈل نہ ملا تو کیا ہوا. اور میں سو گیا. میں نے میڈلز کی دوڑ چھوڑ کر زندگی جینے کا فیصلہ کر لیا تھا

Offline
 

وہ کچی عمر کے پکے عشق
وہ دھڑکنوں کی تلملاہٹ
وہ قہقہوں کی گھنگھائٹ
وہ ابرووں کی سرسرائٹ
وہ سانسوں کی گنگاہٹ
وہ ہواوں میں اڑنا
وہ خو شبو بکھرنا
وہ بہتی ہواوں میں اڑنا
وہ دلوں کو تھامنا
وہ آنسو بہانا
پھر کھل کھلانا
وہ وصال جاناں
وہ کرب و بلا جاناں
وہ کچی عمر کے پکے عشق
وہ کچی عمر کے سچے عشق

Offline
 

شوہر؛ بیگم تم ویسی روٹیاں نہیں بناتیں
جیسی امی بناتی ہیں
بیگم؛ آپ آٹا ویسے گوندا کریں نا
جیسے آپکے ابا گوندتے ہیں

Offline
 

وہ کہتی ہے
ہم کب ملیں گے میں کہتا ہوں ، جنگ ختم ہونے کے بعد
وہ کہتی ہے ، جنگ کب ختم ہو گی میں کہتا ہوں ، جب ہم ملیں گے

Offline
 

اس نے کہا
سن
عہد نبھانے کی خاطر مت آنا
عہد نبھانے والے اکثر
مجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیں
تم جاؤ
اور دریا دریا پیاس بجھاؤ
جن آنکھوں میں ڈوبو
جس دل میں اترو
میری طلب آواز نہ دے گی
لیکن جب میری چاہت
اور مری خواہش کی لو
اتنی تیز اور اتنی
اونچی ہو جائے
جب دل رو دے
تب لوٹ آنا

Offline
 

"اے محبت ! خدا تجھے عزت بخشے ۔ تیری ابتداء ہنسی مذاق اور انتہا سنجیدہ ہے ۔
اس شخص کے سوا تیری حقیقت کوئی نہیں جان سکتا جس کا تجھ سے سامنا ہوا"

Offline
 

شوہرِ نامدار کو بیوی کی دماغی حالت پر شبہ تھا لہٰذا دماغی امراض کے بہت ہی مقبول ڈاکٹر سے ٹائم لیا اور بیوی کو لے کر پہنچے.....
ڈاکٹر: "جی بی بی.... کیا مسئلہ ہے؟"
"ڈاکٹر صاحب!! یہ تو آپ نے بتانا ہے نا؟"☻
ڈاکٹر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئے اور پھر سنبھلتے ہوئے گویا ہوئے....
"اچھا تو یہ بتائیں کہ کیا مصروفیات ہیں آپکی؟ میرا مطلب ہے سارا دن کیسے بتاتی ہیں؟"
"ڈاکٹر صاحب! گھریلو کام کاج میں ہی گزرتا ہے گھر میں شوہر ہیں..... انکی والدہ ہیں..... ہمارے بچے ہیں گھر بار کو دیکھنا..... سارا دن ایسے ہی

Offline
 

گزرتا ہے جی..."
ڈاکٹر؛ "اسکے علاوہ کیا مشاغل ہیں؟"
"بس سر! تھوڑا بہت لکھنے کا شوق ہے..."
ڈاکٹر "اوہو... تو میں اس وقت ایک لکھاری سے بات کر رہا ہوں....."
"نہیں سر! لکھاری کہاں.. میری تو دماغی حالت ہی صحیح نہیں تو......."
"اچھا... یہ بتائیں زیادہ تر کیا لکھتی ہیں؟ یعنی کن موضوعات پر لکھنا پسند ہے؟"
"ایسا کچھ خاص تو نہیں بس عام فہم سا لکھتی ہوں... ہلکی پھلکی تحریریں.... جو سامنے بیت رہا ہو.... جو دیکھ رہی ہوتی ہوں..... بس اسی پہ قلم چل جاتا ہے.. .."
"مثال کے طور پر.....؟"
"مثال کے طور پر یہ آپکی میز پر آدھا بھرا ھوا گلاس پڑا ہے... تو اس پر ہی لکھ دوں گی.... کہ ایک ڈاکٹر کی

Offline
 

میز پر پانی کا گلاس پڑا ہوا تھا جو کہ ڈھکا ہوا نہیں تھا اور میرے سامنے دو مرتبہ اسکے اوپر مکھی بیٹھی جس کو ڈاکٹر نے ہاتھ مار کر اڑایا.... اور پھر کچھ دیر بعد وہی پانی اٹھا کر پی لیا تھا....
یا پھر ایسے بھی لکھ سکتی ھوں کہ میں دماغی امراض کے ڈاکٹر کے کلینک پر گئی تو اس نے میرے سامنے آدھا پیا ھوا سگریٹ ایش ٹرے میں رگڑ کر بجھایا.... تو میں سوچنے لگی.... یہ ڈاکٹر دماغ کا علاج کرتا ہے تو یقیناً دل اور سانس کی بیماریوں سے بھی واقف ھو گا لیکن اسکے باوجود سگریٹ پیتا ہے جبکہ اسکو سگریٹ کے نقصان بھی معلوم ہوں گے.... تو پھر اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ اسکا تو اپنا دماغ کام نہیں کرتا... . تو یہ میرا علاج کیا کرے گا..... بس ڈاکٹر صاحب! ایسی ہی چھوٹی چھوٹی تحریریں لکھتی رھتی ہوں......"
اور.....
اب....
ڈاکٹر....
شوہر کا بغور جائزہ لے رہا ھے
منقول