شوہرِ نامدار کو بیوی کی دماغی حالت پر شبہ تھا لہٰذا دماغی امراض کے بہت ہی مقبول ڈاکٹر سے ٹائم لیا اور بیوی کو لے کر پہنچے.....
ڈاکٹر: "جی بی بی.... کیا مسئلہ ہے؟"
"ڈاکٹر صاحب!! یہ تو آپ نے بتانا ہے نا؟"☻
ڈاکٹر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئے اور پھر سنبھلتے ہوئے گویا ہوئے....
"اچھا تو یہ بتائیں کہ کیا مصروفیات ہیں آپکی؟ میرا مطلب ہے سارا دن کیسے بتاتی ہیں؟"
"ڈاکٹر صاحب! گھریلو کام کاج میں ہی گزرتا ہے گھر میں شوہر ہیں..... انکی والدہ ہیں..... ہمارے بچے ہیں گھر بار کو دیکھنا..... سارا دن ایسے ہی
گزرتا ہے جی..."
ڈاکٹر؛ "اسکے علاوہ کیا مشاغل ہیں؟"
"بس سر! تھوڑا بہت لکھنے کا شوق ہے..."
ڈاکٹر "اوہو... تو میں اس وقت ایک لکھاری سے بات کر رہا ہوں....."
"نہیں سر! لکھاری کہاں.. میری تو دماغی حالت ہی صحیح نہیں تو......."
"اچھا... یہ بتائیں زیادہ تر کیا لکھتی ہیں؟ یعنی کن موضوعات پر لکھنا پسند ہے؟"
"ایسا کچھ خاص تو نہیں بس عام فہم سا لکھتی ہوں... ہلکی پھلکی تحریریں.... جو سامنے بیت رہا ہو.... جو دیکھ رہی ہوتی ہوں..... بس اسی پہ قلم چل جاتا ہے.. .."
"مثال کے طور پر.....؟"
"مثال کے طور پر یہ آپکی میز پر آدھا بھرا ھوا گلاس پڑا ہے... تو اس پر ہی لکھ دوں گی.... کہ ایک ڈاکٹر کی
میز پر پانی کا گلاس پڑا ہوا تھا جو کہ ڈھکا ہوا نہیں تھا اور میرے سامنے دو مرتبہ اسکے اوپر مکھی بیٹھی جس کو ڈاکٹر نے ہاتھ مار کر اڑایا.... اور پھر کچھ دیر بعد وہی پانی اٹھا کر پی لیا تھا....
یا پھر ایسے بھی لکھ سکتی ھوں کہ میں دماغی امراض کے ڈاکٹر کے کلینک پر گئی تو اس نے میرے سامنے آدھا پیا ھوا سگریٹ ایش ٹرے میں رگڑ کر بجھایا.... تو میں سوچنے لگی.... یہ ڈاکٹر دماغ کا علاج کرتا ہے تو یقیناً دل اور سانس کی بیماریوں سے بھی واقف ھو گا لیکن اسکے باوجود سگریٹ پیتا ہے جبکہ اسکو سگریٹ کے نقصان بھی معلوم ہوں گے.... تو پھر اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ اسکا تو اپنا دماغ کام نہیں کرتا... . تو یہ میرا علاج کیا کرے گا..... بس ڈاکٹر صاحب! ایسی ہی چھوٹی چھوٹی تحریریں لکھتی رھتی ہوں......"
اور.....
اب....
ڈاکٹر....
شوہر کا بغور جائزہ لے رہا ھے
منقول
یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
ایک بوڑھے کسان نے اپنی بیمار بیوی کو گھوڑا گاڑی کی عقبی نشست پر لٹا دیا، خود وہ اگلی نشست پر سوار ہوا، گاڑی کو کھینچنے کے لیے اس کے آگے مریل سا گھوڑا جُتا ہوا تھا. اور یوں وہ اسے علاج کے لیے دور دراز شہر لے گیا۔
مسافت طویل تھی تو رستے میں اس کسان نے بولنا شروع کر دیا، وہ روانی سے بولتا جا رہا تھا اور اپنا آپ کھولتا جا رہا تھا یوں جیسے وہ خود سے بات کر رہا ہو، لیکن ساتھ ہی وہ اپنی بیمار بیوی کو تسلی بھی دے رہا ہو، جو چالیس سال تک اس کے ساتھ دکھوں، مصیبتوں، تکلیفوں، ، دردوں کو سہتے ہوئے مشقت میں اس کی بھرپور مدد کرتی رہی تھی۔ باہر کھیتوں میں اور گھر کے کام کاج کا بوجھ اکیلے اٹھانے کی مشقت..
کسان جیسے جیسے بولتا جارہا تھا اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ گذشتہ برسوں میں اس کے
ساتھ ظالمانہ اور غیر منصفانہ سلوک کرتا رہا ہے، اور اسے اب اس کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہیے، اور اسے میٹھے بول سے دلاسہ دینا چاہیے۔
اس نے اپنی بیوی کو بتانا شروع کر دیا کہ نہ صرف اس نے اس کے ساتھ ظلم کیا ہے، بلکہ زندگی نے بھی اس کے ساتھ ظلم کیا ہے، کیونکہ اسے اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس سے کوئی مہربان لفظ کہنے ، ہمدردی کے دو میٹھے بول پیش کرنے ، یا اسے پانی جیسی پاکیزہ اور لطیف مسکراہٹ دینے کا وقت نہیں ملا، کٹھن حیات میں آسانی کا ایک لمحہ بھی اسے نہ دے سکا!
وہ شخص تمام راستے پچھتاوے کا احساس لیے یاسیت بھرے لہجے میں بغیر رکے بولتا رہا. ایک ندی کا پانی جس طرح پتھروں پر مسلسل گرتا رہتا ہے تو ان پر ان مٹ گہری لکیریں ڈال دیتا ہے، اسی طرح غم بھی انسانی روح پر کنندہ ہوچکے تھے .. وہ ان غموں کا مداوا کرنا
چاہتا تھا، اور اپنے سابقہ روپے کی تلافی کے لیے محبت، نرمی اور ازدواجی زندگی میں گرمجوشی پیدا کرنے والے ان لفظوں کا سہارا لینا چاہتا تھا جو اس نے گذشتہ چالیس برسوں میں استعمال نہ کیے تھے. اس نے عقبی نشست پر لیٹی بیمار بیوی سے وعدے کرنے شروع کیے کہ باقی ماندہ زندگی وہ اس کے لیے وہ سب کچھ حاصل کرے گا جس کی اسے کبھی خواہش رہی تھی اور آئندہ بھی وہ خواہش کرے گی...
جب وہ شہر پہنچا تو آگے والی نشست سے اُٹھ کر عقبی نشست پر سے زندگی میں پہلی بار اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اٹھایا اور ڈاکٹر کے پاس لے گیا، مگر ڈاکٹر نے دیکھتے ہی اسے کہا کہ یہ تو کب کی مر چکی ہے، وہ اب ایک سرد لاش کے سوا کچھ نہ تھی۔ طویل رستے میں زندگی پہلی بار اس کی میٹھی، شفقت بھری گفتگو سننے سے پہلے ہی وہ مر چکی تھی! مصنف: روسی ادیب انتون چیخوف
عربی زبان سے اردو قالب: توقیر بُھملہ
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم،
دار کی خشک ٹہنی پے وارے گئے،
تیرے ہونٹوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم،
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے،
سولیوں پے ہمارے لبوں سے پرے،
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی،
تیری ذلفوں کی مستی برستی رہی،
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی،
جب چلی تیری راہوں میں شام ستم،
ہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم،
لب پہ حرف غزل، دل میں قندیل غم،
اپنا غم تھا گواہی تیرے حسن کی،
دیکھ قائم رہے اس گواہی ہم،
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے.
نارسائی تو اپنی ہی تقدیر تھی،
تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی،
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے،
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے،
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم،
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے،
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم،
مختصر کر چلے درد کے قافلے،
کر چلے جن کی خاطر جہانگیرہم،
جاں گنوا کر تیری دلبری کا بھرم،
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے۰۰۰
چاند سی بہو
چاند کے آخری مشن اپالو سترہ میں چاند پر تین دن گذارنے والے خلابازوں نے چاند کے حوالے سے ایک بڑے جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہوۓ اہم خبر دی ہے کہ ”دھرتی پر موجود کسی کی بھی بہو کی شکل چاند سے نہیں ملتی۔
میں محبت کی نظمیں لکھنے میں برا ہوں
مگر تمہارے لیے میں ایک نظم کو
تمہارے پسندیدہ ریستوران میں بدل سکتا ہوں
جہاں ہم کینڈل لائٹ ڈنر کر سکیں
میں محبت کی نظمیں لکھنے میں برا ہوں
مگر میں تمہارے لیے ایک ایسی نظم لکھ سکتا ہوں
جس کے کندھے پہ تم جب چاہو سر رکھ سکو
جو تمہارے آنسو پونچھ کر تمہارے ہونٹوں پر مسکان لائے ۔
میں محبت کی نظمیں لکھنے میں برا ہوں
مگر میں ایک ایسی نظم ضرور لکھ سکتا ہوں
جس کے آخر میں ہم ایک دوسرے کو مل جاتے ہیں
اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے ہیں ۔
خدا نصیب کرے ان کو دائمی خوشیاں
عدم وہ لوگ جو ہم کو اداس رکھتے ہیں
شب بخیر
" ہر شے کی ایک کاریگری ہوتی ہے اور عقل کی کاریگری اچھی چیز اور اچھے راستے کا انتخاب ہے۔ "
اک رات اس نے چند ستارے بجھا دیے
اٌس کو لگا تھا کوئی انہیں گن نہیں رہا۔۔
شب بخیر
اگر اس دنیا میں کوئی جادو ہے تو وہ لازمی آپکے من پسند شخص کی مسکراہٹ میں ہو گا
محبت میں عمدگی کا درجہ یہ ہے کہ محبّ اور محبوب ایک دوسرے کے ہم خیال ہوں۔
ایک عربی شاعر کہتا ہے
انا احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ ان یرزقنی صلاحا
میں خود تو نیک نہیں ہوں لیکن میرا دل نیکوں کی محبت سے سرشار ہے مجھے اپنے رب کی رحمت سے امید ہے کہ وہ مجھے نیکوں کے صدقے نیک بنا دے گا
اسے کہا تھا کہ لوگوں سے گفتگو نہ کرے
اب اس کے شہر کے سب لوگ میٹھا بولتے ہیں
محبت اور میمز کی تاریخ
میں نے
تمہارے لیے
ایک دن سینے سے
اپنا دل نکالا
وہ تمہیں دیکھ کر ایسے دھک دھک کرنے لگا تھا کہ
جیسے دمے کا مریض ان ھیلر سے سانس لینے کی کوشش کرتا ہے ۔
وہ تمہیں دیکھ کر ایسے چپ ہوگیا تھا کہ جیسے شرارتی بچہ نانی کی بے ڈھنگ کھانسی کی نقل اتارتا ہے تو اسکی ماں چلا کر اسے شٹ اپ کہتی ہے
اور وہ اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر ہنسی روکنے کی کوشش کرتا ہے ۔
تمہیں دیکھ کر اس کی ایسی ہوانکل گئی تھی
کہ جیسے کوئی ٹریفک پولیس والا غلط پارک کی گئی گاڑی کے چاروں ٹائروں کی ہوا نکال دیتا ہے ۔
تمہیں دیکھ کر وہ ایسے پھٹا
جیسے موٹے گالوں والے بچے کے منہ پر زیادہ پھولنے سے غبارہ پھٹ جاتا ہے ۔
میں نے اپنے سینے سے
دل نکالا
اور محبت نے اس پر میمز بنانے شروع کیے۔
تیرے خیال کے آتے ہی یاد آتے ہیں
شفق کے رنگ ، درختوں کے سائے ، آب رواں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain