Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے ایک رفوگر رکھا ہوا تھا۔ وہ کپڑا نہیں باتیں رفو کرنے کا ماہر تھا۔ وہ بادشاہ سلامت کی ہر بات کی کچھ ایسی وضاحت کردیتا کہ سننے والے سر دھننے لگتے کہ واقعی بادشاہ سلامت نے صحیح فرمایا۔ ایک دن بادشاہ سلامت دربار لگا کر اپنی جوانی کے شکار کی کہانیاں سنا کر رعایا کو مرعوب کر رہے تھے۔ جوش میں آکر کہنے لگے کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ میں نے آدھے کلومیٹر سے نشانہ لگا کر جو ایک ہرن کو تیر مارا تو تیر سنسناتا ہوا گیا اور ہرن کی بائیں آنکھ میں لگ کر دائیں کان سے ہوتا ہوا پچھلی دائیں ٹانگ کے کھر میں جا لگا۔
بادشاہ کو توقع تھی کہ عوام داد دے گی لیکن عوام نے کوئی داد نہیں دی۔ وہ بادشاہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں

Offline
 

تھے۔ بادشاہ بھی سمجھ گیا کہ ضرورت سے زیادہ لمبی چھوڑ دی۔ اپنے رفوگر کی طرف دیکھا۔ رفوگر اٹھا اور کہنے لگا حضرات میں چشم دید گواہ ہوں اس واقعے کا۔
دراصل بادشاہ سلامت ایک پہاڑی کے اوپر کھڑے تھے اور ہرن بہت نیچے تھا۔ ہوا بھی موافق چل رہی تھی ورنہ تیر آدھا کلومیٹرکہاں جاتا ہے۔
جہاں تک تعلق ہے آنکھ کان اور کھر کا تو عرض کردوں کہ جس وقت تیر لگا ہرن دائیں کھر سے دایاں کان کھجا رہا تھا۔ عوام نے زور زور سےتالیاں بجا کر داد دی۔ اگلے دن رفوگر بوریا بستر اٹھا کر جانے لگا۔
بادشاہ پریشان ہوگیا۔ پوچھا کہاں چلے۔ رفوگر بولا بادشاہ سلامت میں چھوٹے موٹے تروپے لگا لیتا ہوں شامیانے نہیں سیتا

Offline
 

آدمی کی بساط ہی کیا ہے
قُدرتاً سب نظام چلتا ہے
شب بخیر

Offline
 

وہ بہت خوبصورت ہے
وہ اپنے سوچنے کے انداز میں خوبصورت ہے
جب وہ اپنی کسی محبوب چیز کے بارے میں
بات کرتی ہے
تب وہ اپنی آنکهوں میں نمودار ہونے والی خوبصورت چمک کے ساتھ خوبصورت ہے
وہ خود اداس ہو کر بهی لوگوں کو
مسکرانے پر مجبور کرنے کی
صلاحیت کے ساتھ خوبصورت ہے
اسکے پاس نقوش و نگار جیسی
عارضی چیزوں کی خوبصورتی بھی ہے
مگر وہ تو اپنی روح کی
گہرائیوں سے خوبصورت ہے
اس کا قلب خوبصورت ہے
اس کی روح خوبصورت ہے
اور جب کوئی اس کو دیکهتا ہے
تو بےاختیار کہہ اٹھتا ہے
"من در عشق باشما ہستم"
"مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔"

Offline
 

مرد جو دیکھتا ہے اُس کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے جبکہ عورت جو سُنتی ہے اُس سے محبت کرتی ہے۔
اسی لئے عورتیں میک اپ کرتی ہیں اور مرد جھوٹ بولتے ہیں

Offline
 

کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غمِ احباب
میں نے کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقہء یاراں میں بھی محتاط رہا کر
پہلا سا کہاں ہے اب مری رفتار کا عالم
اے گردش دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

Offline
 

اک بار جو آ جائے تو یہ پھر نہیں جاتا
ہائے موٹاپا
سلاد، یہ دلیہ، یہ ابلی ہوئی سبزی
کاش کوئی پیزا میرا دل لبھاتا
ہائے موٹاپا
دل میں گو بسا ہے کیک، چپس، آئسکریم
دماغ رہ رہ کر ہے دل کو سمجھاتا
ہائے موٹاپا
شب خواب میں آئیں کیلوریز مجھے ڈرانے
دن میں ڈائٹ پلان میرا منہ ہے چڑاتا
ہائے موٹاپا
اب تو بس موٹوں سے ہے دوستی اپنی
کوئی پتلا ہو تو افف! اک آنکھ نہیں بھاتا
ہائے موٹاپا

Offline
 

تم سے جو کچھ ملے خوشی دیتا ہے۔
چاہے وہ گلاب کی کلیاں ہوں۔
یا کانٹے
چاہے زندگی ہو
یا کفن
تمہاری آگ بھی خوبصورت ہے۔
تمہاری روشنی بھی خوبصورت ہے۔
تمہارا غصہ بھی خوبصورت ہے۔
تمہاری عنایت بھی خوبصورت ہے۔

Offline
 

اندھے ہو تم ، نظر نہیں آتا تمھیں کہ کوئی گزر رہا ہے ۔ " وہ غصے کے عالم میں چلائی تھی ۔ " میں واقعی اندھا ہوں ۔ مجھے دنیا نظر نہیں آتی ۔ " وہ اسکی بات پر ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی ۔ اپنے حلیے کے برعکس اس فقیر کی آنکھوں اور آواز میں بہت سکون، بہت ٹھراؤ تھا ۔ اس کا لب و لہجہ بہت شائستہ تھا ۔ وہ ان پڑھ نہیں لگتا تھا ۔ " اگر اندھے نہیں ہو تو یہاں بیٹھ کر لوگوں کو گندہ کیوں کر رہے ہو ۔ جاؤ کہیں اور جا کر بیٹھو یا اپنے ہاتھوں پر قابو رکھو ۔ " اس کا غصہ پھر عود آیا ۔ اس نے ٹشو نکال کر چہرے سے کیچڑ صاف کرنا شروع کیا ۔ " بی بی ! تو گندگی سے کیوں ڈرتی ہے ۔ تجھے

Offline
 

کیا لگتا ہے ، یہ کیچڑ تجھے کسی کی نظر سے اوجھل کر دے گا ۔ تجھے لگتا ہے اتنا سا کیچڑ اس شخص کی محبت کو ختم کر دے گا ۔ اس شخص کی پرواہ نا کر ، اللہ کی پرواہ کر ۔ اللہ کو کیچڑ اور گندگی سے غرض نہیں ہوتی ۔ اس کی نظر میں جو ایک بار آجا تا ہے ۔ ہمیشہ رہتا ہے اور اس نظر کو کیچڑ کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ " " یہ دیکھو , دیکھو ۔ " وہ ایک دم اٹھ کر کیچڑ کے گڑھے کے پاس آکر بیٹھ گیا اور پھر اس نے کیچڑ نکال نکال کر اپنے چہرے اور لباس پر ملنا شروع کر دیا ۔ "دیکھو ، میں تو کیچڑ سے نہیں ڈرتا ۔ میں تو گندگی سے خوف نہیں کھاتا ۔ جانتا ہوں ، اس کی نظر اس کیچڑ پر نہیں جائے گی ۔ وہ صرف میرے وجود کو دیکھے گا " ۔ ۔ ۔
عمیرہ احمد کے ناول شہرِ ذات سے اقتباس

Offline
 

وہ بھی سادہ ہے کہ چال بدلتا ہی نہیں
میں بھی سادہ کہ اسی چال میں آجاتا ہوں

Offline
 

استاد اپنی کلاس میں آیا اور بلیک بورڈ پر 9 کا پہاڑا لکھنا شروع کیا. پہاڑا لکھ کر اس نے بورڈ طلباء کی طرح گھوما دیا. سارا پہاڑا ٹھیک تھا بس پہلی لکیر میں 9 ضرب ایک کے آگے 7 لکھا تھا. کلاس روم کا قہقہہ نکل گیا. سب ہنسنے لگے. استاد نے پوچھا تم لوگ کیوں ہنس رہے ہو.؟
طلباء نے انگلیوں سے اشارے شروع کر دئے سر 9 ضرب ایک 7 نہیں بلکہ 9 ہوتا ہے. استاد نے بلیک بورڈ کی طرف دیکھا اور پھر طلباء سے کہا تم سب ٹھیک کہہ رہے ہو. لیکن تم سب یہ بھی تو دیکھو یہ پہاڑا 9 ضرب 10 تک ہے. میں نے 9 حساب درست لکھے صرف ایک غلط لکھا لیکن تم لوگوں کو میرا ایک غلط حساب دیکھ

Offline
 

کر 9 درست حساب نظر نہیں آئے.
دیکھو دُنیا تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گی. تمہاری کوئی ایک غلطی اگر نظر آئی تو تمہاری بے شمار خوبیاں صلاحیتوں کو مکمل نظر انداز کر دیا جائے گا. لوگ تم پر صرف ایک غلطی دیکھ کر انگلیاں اٹھائیں گے. تمہارا مذاق بنائیں گے. اس وقت تم نے اپنی اس ایک غلطی کو پکڑ کر خود کو مکمل غلط و ناکام نہیں سمجھنا.
لوگ آپ کی غلطی دیکھ سکتے ہیں لیکن آپ کا دکھ اور درد ان کو نظر نہیں آتا. کسی غلطی کو اپنا ایسا دکھ نہ بناو جو آپ کی خوبیوں اور صلاحیتوں کی دیمک بن جائے. غلطیاں سب سے ہوتی ہیں بس غلطیاں دہرانا غلط ہے

Offline
 

وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

Offline
 

آپکے گھر میں کوئی ایسا مہمان بھی آتا ہے جسکے بیٹھنے کا دورانیہ اتنا لمبا ہوتا ہے کہ اس کے جانے پر آپ کہتے ہیں۔الحمد للہ رب العالمین

Offline
 

کچھ ہم ترے معیار پہ پورے نہیں اُترے
کچھ تو بھی کہ مشہور تھا جیسا، نہیں نکلا

Offline
 

جب آپ کا تخیل توجہ سے دور ہو تو آپ اپنی آنکھوں پر انحصار نہیں کرسکتے ہیں

Offline
 

دیر کی معذرت ! سحر ہوں میں
مُجھ کو رستے میں رات پڑتی ہے

Offline
 

جب لوگ آپ کو دیکھنا سننا اور پڑھنا چھوڑ دیں۔ تو خاموشی سے منظر سے ہٹ جائیں۔ کیونکہ آپ کا منظر پہ ہونا بھی منظر پہ نہ ہونے کے مترادف ھے

Offline
 

ھم بصدناز دِل و جاں میں بسائے بھی گئے
پھِر گنوائے بھی گئے اور بھُلائے بھی گئے