کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے ایک رفوگر رکھا ہوا تھا۔ وہ کپڑا نہیں باتیں رفو کرنے کا ماہر تھا۔ وہ بادشاہ سلامت کی ہر بات کی کچھ ایسی وضاحت کردیتا کہ سننے والے سر دھننے لگتے کہ واقعی بادشاہ سلامت نے صحیح فرمایا۔ ایک دن بادشاہ سلامت دربار لگا کر اپنی جوانی کے شکار کی کہانیاں سنا کر رعایا کو مرعوب کر رہے تھے۔ جوش میں آکر کہنے لگے کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ میں نے آدھے کلومیٹر سے نشانہ لگا کر جو ایک ہرن کو تیر مارا تو تیر سنسناتا ہوا گیا اور ہرن کی بائیں آنکھ میں لگ کر دائیں کان سے ہوتا ہوا پچھلی دائیں ٹانگ کے کھر میں جا لگا۔
بادشاہ کو توقع تھی کہ عوام داد دے گی لیکن عوام نے کوئی داد نہیں دی۔ وہ بادشاہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں
تھے۔ بادشاہ بھی سمجھ گیا کہ ضرورت سے زیادہ لمبی چھوڑ دی۔ اپنے رفوگر کی طرف دیکھا۔ رفوگر اٹھا اور کہنے لگا حضرات میں چشم دید گواہ ہوں اس واقعے کا۔
دراصل بادشاہ سلامت ایک پہاڑی کے اوپر کھڑے تھے اور ہرن بہت نیچے تھا۔ ہوا بھی موافق چل رہی تھی ورنہ تیر آدھا کلومیٹرکہاں جاتا ہے۔
جہاں تک تعلق ہے آنکھ کان اور کھر کا تو عرض کردوں کہ جس وقت تیر لگا ہرن دائیں کھر سے دایاں کان کھجا رہا تھا۔ عوام نے زور زور سےتالیاں بجا کر داد دی۔ اگلے دن رفوگر بوریا بستر اٹھا کر جانے لگا۔
بادشاہ پریشان ہوگیا۔ پوچھا کہاں چلے۔ رفوگر بولا بادشاہ سلامت میں چھوٹے موٹے تروپے لگا لیتا ہوں شامیانے نہیں سیتا
آدمی کی بساط ہی کیا ہے
قُدرتاً سب نظام چلتا ہے
شب بخیر
وہ بہت خوبصورت ہے
وہ اپنے سوچنے کے انداز میں خوبصورت ہے
جب وہ اپنی کسی محبوب چیز کے بارے میں
بات کرتی ہے
تب وہ اپنی آنکهوں میں نمودار ہونے والی خوبصورت چمک کے ساتھ خوبصورت ہے
وہ خود اداس ہو کر بهی لوگوں کو
مسکرانے پر مجبور کرنے کی
صلاحیت کے ساتھ خوبصورت ہے
اسکے پاس نقوش و نگار جیسی
عارضی چیزوں کی خوبصورتی بھی ہے
مگر وہ تو اپنی روح کی
گہرائیوں سے خوبصورت ہے
اس کا قلب خوبصورت ہے
اس کی روح خوبصورت ہے
اور جب کوئی اس کو دیکهتا ہے
تو بےاختیار کہہ اٹھتا ہے
"من در عشق باشما ہستم"
"مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔"
مرد جو دیکھتا ہے اُس کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے جبکہ عورت جو سُنتی ہے اُس سے محبت کرتی ہے۔
اسی لئے عورتیں میک اپ کرتی ہیں اور مرد جھوٹ بولتے ہیں
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غمِ احباب
میں نے کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقہء یاراں میں بھی محتاط رہا کر
پہلا سا کہاں ہے اب مری رفتار کا عالم
اے گردش دوراں ذرا تھم تھم کے چلا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
اک بار جو آ جائے تو یہ پھر نہیں جاتا
ہائے موٹاپا
سلاد، یہ دلیہ، یہ ابلی ہوئی سبزی
کاش کوئی پیزا میرا دل لبھاتا
ہائے موٹاپا
دل میں گو بسا ہے کیک، چپس، آئسکریم
دماغ رہ رہ کر ہے دل کو سمجھاتا
ہائے موٹاپا
شب خواب میں آئیں کیلوریز مجھے ڈرانے
دن میں ڈائٹ پلان میرا منہ ہے چڑاتا
ہائے موٹاپا
اب تو بس موٹوں سے ہے دوستی اپنی
کوئی پتلا ہو تو افف! اک آنکھ نہیں بھاتا
ہائے موٹاپا
تم سے جو کچھ ملے خوشی دیتا ہے۔
چاہے وہ گلاب کی کلیاں ہوں۔
یا کانٹے
چاہے زندگی ہو
یا کفن
تمہاری آگ بھی خوبصورت ہے۔
تمہاری روشنی بھی خوبصورت ہے۔
تمہارا غصہ بھی خوبصورت ہے۔
تمہاری عنایت بھی خوبصورت ہے۔
اندھے ہو تم ، نظر نہیں آتا تمھیں کہ کوئی گزر رہا ہے ۔ " وہ غصے کے عالم میں چلائی تھی ۔ " میں واقعی اندھا ہوں ۔ مجھے دنیا نظر نہیں آتی ۔ " وہ اسکی بات پر ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی ۔ اپنے حلیے کے برعکس اس فقیر کی آنکھوں اور آواز میں بہت سکون، بہت ٹھراؤ تھا ۔ اس کا لب و لہجہ بہت شائستہ تھا ۔ وہ ان پڑھ نہیں لگتا تھا ۔ " اگر اندھے نہیں ہو تو یہاں بیٹھ کر لوگوں کو گندہ کیوں کر رہے ہو ۔ جاؤ کہیں اور جا کر بیٹھو یا اپنے ہاتھوں پر قابو رکھو ۔ " اس کا غصہ پھر عود آیا ۔ اس نے ٹشو نکال کر چہرے سے کیچڑ صاف کرنا شروع کیا ۔ " بی بی ! تو گندگی سے کیوں ڈرتی ہے ۔ تجھے
کیا لگتا ہے ، یہ کیچڑ تجھے کسی کی نظر سے اوجھل کر دے گا ۔ تجھے لگتا ہے اتنا سا کیچڑ اس شخص کی محبت کو ختم کر دے گا ۔ اس شخص کی پرواہ نا کر ، اللہ کی پرواہ کر ۔ اللہ کو کیچڑ اور گندگی سے غرض نہیں ہوتی ۔ اس کی نظر میں جو ایک بار آجا تا ہے ۔ ہمیشہ رہتا ہے اور اس نظر کو کیچڑ کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ " " یہ دیکھو , دیکھو ۔ " وہ ایک دم اٹھ کر کیچڑ کے گڑھے کے پاس آکر بیٹھ گیا اور پھر اس نے کیچڑ نکال نکال کر اپنے چہرے اور لباس پر ملنا شروع کر دیا ۔ "دیکھو ، میں تو کیچڑ سے نہیں ڈرتا ۔ میں تو گندگی سے خوف نہیں کھاتا ۔ جانتا ہوں ، اس کی نظر اس کیچڑ پر نہیں جائے گی ۔ وہ صرف میرے وجود کو دیکھے گا " ۔ ۔ ۔
عمیرہ احمد کے ناول شہرِ ذات سے اقتباس
وہ بھی سادہ ہے کہ چال بدلتا ہی نہیں
میں بھی سادہ کہ اسی چال میں آجاتا ہوں
استاد اپنی کلاس میں آیا اور بلیک بورڈ پر 9 کا پہاڑا لکھنا شروع کیا. پہاڑا لکھ کر اس نے بورڈ طلباء کی طرح گھوما دیا. سارا پہاڑا ٹھیک تھا بس پہلی لکیر میں 9 ضرب ایک کے آگے 7 لکھا تھا. کلاس روم کا قہقہہ نکل گیا. سب ہنسنے لگے. استاد نے پوچھا تم لوگ کیوں ہنس رہے ہو.؟
طلباء نے انگلیوں سے اشارے شروع کر دئے سر 9 ضرب ایک 7 نہیں بلکہ 9 ہوتا ہے. استاد نے بلیک بورڈ کی طرف دیکھا اور پھر طلباء سے کہا تم سب ٹھیک کہہ رہے ہو. لیکن تم سب یہ بھی تو دیکھو یہ پہاڑا 9 ضرب 10 تک ہے. میں نے 9 حساب درست لکھے صرف ایک غلط لکھا لیکن تم لوگوں کو میرا ایک غلط حساب دیکھ
کر 9 درست حساب نظر نہیں آئے.
دیکھو دُنیا تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گی. تمہاری کوئی ایک غلطی اگر نظر آئی تو تمہاری بے شمار خوبیاں صلاحیتوں کو مکمل نظر انداز کر دیا جائے گا. لوگ تم پر صرف ایک غلطی دیکھ کر انگلیاں اٹھائیں گے. تمہارا مذاق بنائیں گے. اس وقت تم نے اپنی اس ایک غلطی کو پکڑ کر خود کو مکمل غلط و ناکام نہیں سمجھنا.
لوگ آپ کی غلطی دیکھ سکتے ہیں لیکن آپ کا دکھ اور درد ان کو نظر نہیں آتا. کسی غلطی کو اپنا ایسا دکھ نہ بناو جو آپ کی خوبیوں اور صلاحیتوں کی دیمک بن جائے. غلطیاں سب سے ہوتی ہیں بس غلطیاں دہرانا غلط ہے
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
میں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
آپکے گھر میں کوئی ایسا مہمان بھی آتا ہے جسکے بیٹھنے کا دورانیہ اتنا لمبا ہوتا ہے کہ اس کے جانے پر آپ کہتے ہیں۔الحمد للہ رب العالمین
کچھ ہم ترے معیار پہ پورے نہیں اُترے
کچھ تو بھی کہ مشہور تھا جیسا، نہیں نکلا
جب آپ کا تخیل توجہ سے دور ہو تو آپ اپنی آنکھوں پر انحصار نہیں کرسکتے ہیں
دیر کی معذرت ! سحر ہوں میں
مُجھ کو رستے میں رات پڑتی ہے
جب لوگ آپ کو دیکھنا سننا اور پڑھنا چھوڑ دیں۔ تو خاموشی سے منظر سے ہٹ جائیں۔ کیونکہ آپ کا منظر پہ ہونا بھی منظر پہ نہ ہونے کے مترادف ھے
ھم بصدناز دِل و جاں میں بسائے بھی گئے
پھِر گنوائے بھی گئے اور بھُلائے بھی گئے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain