ھم بصدناز دِل و جاں میں بسائے بھی گئے
پھِر گنوائے بھی گئے اور بھُلائے بھی گئے
مجھے لگتا ھے کہ چائے کے اندر ڈالی ھوئی چینی کا بھی دل ھوتا ھے اس کی بھی سیلف ریسپیکٹ ھوتی ھے
اگر آپ اس کے ھوتے ھوئے کسی دوسری مٹھی چیز کو کھائیں تو وہ چپ چاپ اپنا ذائقہ لے کر کہیں چلی جاتی ھے اور اس کے بعد سب کچھ پھیکا پھیکا لگنے لگتا ھے۔
یہی حساب محبت کا بھی ہے
بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی
نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سی
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے
کوئی بھی رت ہو اسکی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی
نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے
نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو
کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی
نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے
نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو
نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے
نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔
نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو
نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو
کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخن
کبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بن
سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی
وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی
سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی
میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی
میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے
کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہے
شجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہے
نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں
میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں
وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوں
نہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی
جب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی
سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا
وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا
بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی
اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی
کچھ زیادہ دن نہیں گزرے۔ ابھی نیٹ موبائل فون اور کیبل نے اتنا رواج نہیں پکڑا تھا۔ مل بیٹھنے کی روایت ابھی زندہ تھی۔ لڑکے بالے صحت مند سر گرمیوں میں مشغول رہتے۔ جس سے وقت بھی کٹتا اور فائدہ الگ سے ہوتا۔ کبھی کبھی باتوں باتوں میں ایسا مذاق بھی جنم لیتا جو کے مدتوں یاد رہتا۔ یار لوگ بہت عرصے تک اس سے محضوض ہوتے ۔ ۔ ۔
بقول شخصے ۔۔۔! ہمارے گاؤں میں ایک بزرگ ہوا کرتے تھے ۔ اکثر دھوتی کُرتے میں ملبوس رہتے جبکہ کُرتا اکثر غائب رہا کرتا ۔ جفاکش تھے ۔ جسم انکا مشقت کی کثرت سے گھٹا ہوا تھا ۔ زبان کے کچھ کڑوے تھے مگر دل انکا اُجلا تھا۔ لوگ انکی پیار بھری گالیاں سننے کو ان سے ہلکی
پھلکی ہنسی مذاق کر لیا کرتے ۔ ۔ انکے ایک چھوٹے بھائی تھوڑا مخولی طبیعت کے مالک تھے ۔ ایک بار سب لڑکے بالے کام کاج سے فارغ ہوکر ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کر رہے تھے کہ ایک پریشان حال آدمی وہاں پہنچا اور کسی دم والے بابے کا پتا پوچھا جو کے گردے کی درد کا شافی دم کیا کرتا تھا ۔ ۔
بزرگ کے مخولی والے بھائی کو شرارت سوجھی اور اس نے اشارے سے اپنے کھوہ
کا پتا بتاتے ہوئے کہا کے وہاں چلے جاؤ اور وہاں ایک بابا بیری کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوگا وہ دم کرتا ہے ۔ نشانی اس کی یہ کہ صرف دھوتی پہنے ہو گا ۔ اپنا مدعا بیان کرو گے تو گالیوں سے استقبال کرے گا۔ مگر تم اسکا پیچھا نا چھوڑنا ۔ ۔ اب وہ آدمی کراہتا ہوا کھوہ پر پہنچا بابا جی اسی حلیے میں وہاں موجود تھے ۔ آدمی نے اپنی پریشانی بتائی پہلے تو بابا جی نے پیار سے انکار کیا کہ غلط پتے پر آ گئے ہو ۔ اب جیسے جیسے بابا جی انکار کرتے ویسے ویسے اس آدمی کا یقین پختہ ہوتا گیا کہ انکار بھی انکساری کی ایک علامت ہے ۔ جب بابا جی گالیوں پر اترے تو اس آدمی کا یقین کامل ہو گیا کیوں کہ نشانیاں ساری پوری تھیں ۔ وہ آدمی بھی اخیر کامل یقین کا مالک تھا ۔۔ اپنی بات پر اڑا رہا کہ دم کرواؤں گا تو صرف آپ سے ہی۔ اخیر بابا جی نے اپنی جان چھڑانے کے لئے پانی
پے کچھ پڑھ کے دم کر دیا ۔
اب ہوا یوں کہ اللّه پاک نے اس آدمی کو شفا بخشی ۔ اور اگلے ہی روز وہ آدمی بابا جی کی عقیدت میں میٹھے چاولوں کی دیگ لئے " دربار بابا صاحب " پے آ گیا ۔ ۔ اب بابا جی کبھی اپنی طرف دیکھیں اور کبھی اس آدمی کی طرف۔ ہوتے ہوتے یہ بات پورے گاؤں میں گردش کڑ گئی کے ایک عقیدت مند " دربار " پے دیگ لایا ہے ۔ اب گاؤں کا گاؤں " دربار " پے جمع ہو گیا کے دیکھیں ماجرا کیا ھے ۔۔ اب بابا جی کی پریشانی دیکھ کر ہماری ہنسی چھوٹ گئی ۔ ۔ جب بابا جی کو بات سمجھ آئی کہ ہو نا ہو یہ انہی کی شرارت ہے ۔ پھر کیا تھا ہم آگے آگے اور بابا جی بمع اپنی گالیوں اور سلیپروں سے ہمارے پیچھے پیچھے ۔ ۔ آخر کار وہ دیگ سارے گاؤں میں بانٹی گئی اور مذکورہ آدمی کو اصل بات سے آگاہ کیا ۔ یوں بات رفع ہوئی . .
بابا جی کافی عرصہ دیگ والے بابا جی کے نام سے مشہور رہے
وہ مجھے بھول ھی گیا ھو گا
اتنی مدت کوئی خفا نہیں رہتا
مَنَم محوِ جمالِاُو، نمی دانم کُجارفتم
شُدَم غرقِ وصالِ اُو، نمی دانم کجا رفتم
میں اسکے جمال میں محو ہوں اور نہیں معلوم کہاں جا رہا ہوں، بس اُسی کے وصال میں غرق ہوں اور نہیں جانتا کہاں جا رہا ہوں۔
کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا
کوئی رنگ تو دو میرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا
جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
اِک آئینہ تھا سو ٹُوٹ گیا
اب خود سے اگر شرماؤ تو کیا
تم آس بندھانے والے تھے
اب تم بھی ہمیں ٹھکراؤ تو کیا
دنیا بھی وہی اور تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاؤ تو کیا
میں تنہا تھا میں تنہا ہُوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا
جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاؤ تو کیا گہناؤ تو کیا
اِک وہم ہے یہ دُنیا اس میں
کچھ کھوؤ تو کیا اور پاؤ تو کیا
ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاؤ تو کیا مر جاؤ تو کیا
دل اداس ھے یوں جیسے
بارش میں ظہر کی اذاں جیسے
حیرت، ذہانت کا آغاز ہے۔
سقراط
کوئی ایسی ایپ بنا گوگلا
میں کھانا لکھوں ۔۔وہ پک جائے
میں پانڈے لکھوں ۔۔وہ دھل جائیں
میں جھاڑو لکھوں ۔۔وہ پھِر جائے
میں پوچا لکھوں ۔۔وہ لگ جائے
میں راشن لکھوں۔۔ وہ آجائے
میں کپڑے لکھوں ۔۔وہ سِل جائیں
میں شاپنگ لکھوں۔۔ وہ ہو جائے
میں پیسے لکھوں۔۔ ڈھیر لگ جائے
کوئی ایسی ایپ بنا گوگلا
کوئی ایسی ایپ بنا گوگلا
کبھی جوضبط ٹوٹے میرا
کیا میں تجھ سے رابطہ کرلوں؟
"لكل قلب رُوح، وروح لقلبي إنت
Every heart has a soul, and a soul for my heart is you.
کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی
چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا
’’مجھے ڈر ہے کہ یہ ملک ایسا ہی چلتا رہے گا ‘‘
فیض احمد فیض
پاکستانی شادیوں کی اقسام۔
پسند والی شادی
ارینج والی شادی
جہاں آپ کو ٹھیک لگے"والی شادی
ہماری عزت کا سوال ھے"والی شادی
تمہاری عمر نکلتی جا رہی ھے" والی شادی
مرنے سے پہلے پوتے/پوتی دیکھنا چاہتا ہوں" والی شادی
"ویاہ توں بعد ٹھیک ھو جائے گا" والی شادی
"جنازہ جائز کرانڑ والی" شادی
اپنی محبوبہ کی شادی کے غم میں بدلہ لینے کے "لیے ہونے والی '' شادی
ہون میرے کلوں کم نئی ہوندا ہون کوئی کم کرن آوے۔ والی شادی
خالہ ناراض ہو جائے گی والی شادی
دادی کی آ خری خواہش والی شادی
بزنس پارٹنر شپ والی شادی
وٹہ سٹہ والی شادی
ویلا پھرنا ائے.... ویاہ ای کرا لے والی شادی
ہن تے تیری شادی دے ای چاول کھانے نے والی شادی...
گھر کی جائیداد گھر میں رہے والی شادی
زندگی میں کم از کم ایک خوشی دکھانے والی شادی
خدا را ہمیں اپنا فرض نبھانے دو والی شادی
ہماری رشتہ داری بچا لو والی شادی
خاندان کو جوڑے رکھنے والی شادی
نیشنلٹی والی شادی
سسر کا بڑا کاروبار شادی
ویزہ لگوانے والی شادی
بیوی سرکاری عہدیدار شادی
"بچی امتحان میں فیل ہو گئی ہے" والی شادی.
"اچھا رشتہ آ یا ہے" والی شادی.
"شادی ہو تو امی ابو حج پر جایں" والی شادی.
بچپن کی منگ " والی شادی
ناک کٹ جائے گی " والی شادی
"ہن لوکاں نوں کر کے وکھاو شادی"۔
اسی جٹ آں تے جٹاں وچ ای کرنی اے شادی خبردار جے ہور کسے برادری دا سوچیا والی شادی
بہن کی بیٹی ہی لیانی اے والی شادی
بیٹیاں اپنے گھروں میں اچھی لگتی ہیں_ والی شادی..
کڑی گونگی اے ۔منڈا سدھا اے ۔والی شادی ۔
کوئی شادی کی قسم رہ گئی ہو تو اضافہ کردیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain