آج کل دریچے میں
ایک جھونکا آتا ہے
ٹنڈ منڈ درختوں کے,
ٹوٹتے بکھرتے برگ ,
ساتھ لے کے آتا ہے,
ان بکھرتے پتوں کو,
ہاتھ میں اٹھاؤں تو,
یہ خیال آتا ہے,
میرے دل کی ہر خواہش,
ہر تمنا, ہر سپنا,
وقت کی روانی کی,
تند و تیز پروا نے,
یونہی, روند ڈالا ہے
زیادہ زور سے نہ میچیئے آنکھوں کو
سپنا سکریچ بھی ہو سکتا ھے
شب بخیر
ایک دفعہ ایک فلسفی کا گزر ایک گاؤں میں ہوا جہاں ایک کولہو میں بیل چل رہا تھا اور اس کے گلے میں گھنٹیاں بندھی تھیں جو اس کے چلنے سے بج رہی تھیں۔
فلسفی نے کسان سے پوچھا
“یہ بیل کے گلے میں گھنٹیاں کس لئے باندھی ہوئی ہیں“
کسان نے جواب دیا
“میں ادھر اپنا کام کر رہا ہوں۔ اگر بیل چلتے چلتے رک جائے تو گھنٹیوں کی آواز بند ہو جائے گی۔ اور مجھے پتا چل جائے گا۔ “
فلسفی تھوڑی دیر کے لیے سوچتا رہا اور پھر پوچھا
“لیکن اگر بیل ایک جگہ ہی کھڑا ہو کر سر ہلانا شروع کر دے تو تمہیں کیسے پتا چلے گا“
“ یہ بیل ہے جناب ۔۔۔ فلسفی نہیں۔۔۔ ۔“ کسان نے جواب دیا
فزیالوجی کی ریسرچ کے مطابق جب آپ کسی شخص کی دل سے پرواہ کرتے ہیں تو اس شخص کا موڈ ہمارے موڈ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
یعنی اگر وہ خوش تو ہم خوش،
وہ پریشان تو ہم پریشان،
وہ غصہ تو ہم غصہ وغیرہ وغیرہ۔
مجھ سے پوچھا میرا تعارف جو
کہہ دیا مختصر تمہارا ہوں
ایک شخص گذشتہ چار برس سے ایک سرکس میں شیروں کے ٹرینر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھا۔
ایک روز صبح ناشتہ کرتے ہوئے بیگم سےتکرار ہوگئی۔ اس شخص کو غصہ آگیا اور وہ ناشتہ چھوڑ کر سرکس چلا گیا۔ بیگم بھی غصے میں آگ بگولہ تھی۔ اس نے بھی شوہر کو روکا نہیں۔
شام کو اچانک دھواں دار بارش شروع ہوگئی۔ ادمی کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا آج رات گھر نہیں جاؤں گا۔ چنانچہ وہ شیر کے ساتھ ہی پنجرے میں لیٹ گیا اور کمبل تان کے سو گیا۔
رات زیادہ گزر گئی تو گھر پر بیگم کو تشویش ہوئی پریشانی عروج پہ پہنچ گئی۔ تو اس نے کار نکالی اور
کمبل تان کے سو گیا۔
رات زیادہ گزر گئی تو گھر پر بیگم کو تشویش ہوئی پریشانی عروج پہ پہنچ گئی۔ تو اس نے کار نکالی اور خود ڈرائیو کر کے سرکس جا پہنچی۔
دیکھا تو اس کا شوہر شیر کے پنجرے میں خراٹے لے رہا ہے۔
بیگم نے ایک چھڑی اٹھائی اور ڈرتے ڈرتے پنجرے کے قریب گئیں اور چھڑی اپنے شوہر کو چبھوتے ہوئے بولی۔
" ڈرپوک، نالائق، بزدل کہیں کے،
یہاں چُھپے بیٹھے ہو" ؟؟
مجھے پڑھتے ھیں کئی لوگ مگر
میں مخاطب صرف تم سے ھوں
بعض حضرات یہ سوال کرتے ہیں کہ مطالعہ تو کرتے ہیں پر کچھ یاد نہیں رہتا ! تو پھر مطالعہ کا فائدہ کیا_؟؟
شیخ سلمان العودہ اپنی کتاب "زنزانہ' میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے شیخ سے شکایت کی کہ میں نے ایک کتاب پڑھی، لیکن مجھے اس میں سے کچھ یاد نہیں رہا!
چنانچہ انھوں نے مجھے ایک کھجور دی، اور فرمایا:
لو_ یہ چباؤ ! پھر مجھ سے پوچھا:
کیا اب تم بڑے ہوگئے ؟ میں نے
کہا: نہیں !
فرمایا: لیکن یہ کھجور تمھارے جسم میں گھل مل گئی ، چنانچہ اسکا کچھ حصہ گوشت بنا، کچھ ہڈی، کچھ پیٹھ، کچھ کھال، کچھ بال، کچھ ناخن اور مسام وغیرہ!!
تب میں نے جانا کہ جو کتاب بھی میں پڑھتا ہوں، وہ تقسیم ہوجاتی ہے۔
چنانچہ اس کا کچھ حصہ میری لغت مضبوط کرتا ہے، کچھ میرا علم بڑھاتا ہے، کچھ میرا اخلاق سنوارتا ہے ، کچھ میرے لکھنے بولنے کے اسلوب کو ترقی دیتا ہے، اگرچہ میں اسکو محسوس نہیں کر پاتا ہوں۔
غریب و سادہ و رنگین ھے داستان حرم
نہایت اس کی حسین اور ابتدا اسماعیل
انتظار حسین نے لکھا تھا کہ لکھنے والے جو لکھتے ہیں اس میں آدھے معنی ہوتے ہیں - باقی آدھے معنی پڑھنے والے کے اندر ہوتے ہیں
منقول
اچھا ہے دِل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
ليکن کبھی کبھی اِسے تنہا بھی چھوڑ دے
شب بخیر
اُداسیوں کا سبب کیا کہیں ٫ بَجُز اِس کے
یہ زندگی ھے ، پریشانیاں تو ھوتی ھیں
بہترین انسان وه ہے جسکا وجود دوسروں کیلیۓ فائدہ مند ہو
تصور، خواب، دروازے، دریچے،
کوئی آئے تو کتنے راستے ہیں
فیض صاحب سے کراچی کے ایک میمن تاجر نے پُوچھا ، "فیض صاحب ، "آپ کیا کرتے ھو؟ "
فیض بولے ، "میں شاعری کرتا ھُوں۔"
میمن تاجر کہنے لگا، "بابا تمہارا دَھندہ کیا ھے ؟؟
فیض وضاحت کرتے ھُوئے بولے، "جی ، میں کتابیں لکھتا ھُوں۔
یہ سُن کر میمن تاجر اُنہیں تھپکی دیتے ھُوئے بولا ، "بابا ایک دو بوری ھمیں بھیج دو ، خرید لُوں گا.
"مستنصر حسین تارڑ"
آرٹیکل "لاھور آوارگی" سے اقتباس۔
ایک اصول سمجھا رہا ہوں
زندگی میں ہر موقع، ہر تحریک، ہر مقابلے میں کام آئے گا
وقت سے پہلے کبھی
celebration
شروع نہ کردیا کیجیے
پہلے اتمام حجت ہونے کا انتظار کیا کیجیے
میں نے لہجے رکھے ہوئے ہیں
مخاطب دیکھ کر اپنا لیتا ہوں
اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے پیارے پاکستان سے ظلم و ستم سے بھرپور اندوہناک و افسوسناک خبریں آنا بڑی حد تک ختم ہو جائیں تو اس کا واحد حل بے رحم، تیز اور مثالی سزائیں دینے کا نظام ہے۔
آپ اس معاملے میں سعودیہ کو ایک مثال کے طور پر سامنے رکھ لیں جہاں جج یا قاضی بھی قانون سے ماوراء نہیں ہے۔ یہاں ایسا کوئی جج نہیں جس سے باز پرس کی جائے تو وہ بولے میں تو شہید ہو جاونگا وغیرہ ۔ ۔ ۔
قانون وانصاف کی حکمرانی کے بغیر نہ تو پاکستان میں مال و عزت کی حفاظت ممکن ہے اور نہ ہی معاشرتی امن و رواداری کا کلچر عام ہوسکے گا۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain