Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

آج کل دریچے میں
ایک جھونکا آتا ہے
ٹنڈ منڈ درختوں کے,
ٹوٹتے بکھرتے برگ ,
ساتھ لے کے آتا ہے,
ان بکھرتے پتوں کو,
ہاتھ میں اٹھاؤں تو,
یہ خیال آتا ہے,
میرے دل کی ہر خواہش,
ہر تمنا, ہر سپنا,
وقت کی روانی کی,
تند و تیز پروا نے,
یونہی, روند ڈالا ہے

Offline
 

زیادہ زور سے نہ میچیئے آنکھوں کو
سپنا سکریچ بھی ہو سکتا ھے
شب بخیر

Offline
 

ایک دفعہ ایک فلسفی کا گزر ایک گاؤں میں ہوا جہاں ایک کولہو میں بیل چل رہا تھا اور اس کے گلے میں گھنٹیاں بندھی تھیں جو اس کے چلنے سے بج رہی تھیں۔
فلسفی نے کسان سے پوچھا
“یہ بیل کے گلے میں گھنٹیاں کس لئے باندھی ہوئی ہیں“
کسان نے جواب دیا
“میں ادھر اپنا کام کر رہا ہوں۔ اگر بیل چلتے چلتے رک جائے تو گھنٹیوں کی آواز بند ہو جائے گی۔ اور مجھے پتا چل جائے گا۔ “
فلسفی تھوڑی دیر کے لیے سوچتا رہا اور پھر پوچھا
“لیکن اگر بیل ایک جگہ ہی کھڑا ہو کر سر ہلانا شروع کر دے تو تمہیں کیسے پتا چلے گا“
“ یہ بیل ہے جناب ۔۔۔ فلسفی نہیں۔۔۔ ۔“ کسان نے جواب دیا

Offline
 

فزیالوجی کی ریسرچ کے مطابق جب آپ کسی شخص کی دل سے پرواہ کرتے ہیں تو اس شخص کا موڈ ہمارے موڈ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
یعنی اگر وہ خوش تو ہم خوش،
وہ پریشان تو ہم پریشان،
وہ غصہ تو ہم غصہ وغیرہ وغیرہ۔

Offline
 

مجھ سے پوچھا میرا تعارف جو
کہہ دیا مختصر تمہارا ہوں

Offline
 

ایک شخص گذشتہ چار برس سے ایک سرکس میں شیروں کے ٹرینر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھا۔
ایک روز صبح ناشتہ کرتے ہوئے بیگم سےتکرار ہوگئی۔ اس شخص کو غصہ آگیا اور وہ ناشتہ چھوڑ کر سرکس چلا گیا۔ بیگم بھی غصے میں آگ بگولہ تھی۔ اس نے بھی شوہر کو روکا نہیں۔
شام کو اچانک دھواں دار بارش شروع ہوگئی۔ ادمی کا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا آج رات گھر نہیں جاؤں گا۔ چنانچہ وہ شیر کے ساتھ ہی پنجرے میں لیٹ گیا اور کمبل تان کے سو گیا۔
رات زیادہ گزر گئی تو گھر پر بیگم کو تشویش ہوئی پریشانی عروج پہ پہنچ گئی۔ تو اس نے کار نکالی اور

Offline
 

کمبل تان کے سو گیا۔
رات زیادہ گزر گئی تو گھر پر بیگم کو تشویش ہوئی پریشانی عروج پہ پہنچ گئی۔ تو اس نے کار نکالی اور خود ڈرائیو کر کے سرکس جا پہنچی۔
دیکھا تو اس کا شوہر شیر کے پنجرے میں خراٹے لے رہا ہے۔
بیگم نے ایک چھڑی اٹھائی اور ڈرتے ڈرتے پنجرے کے قریب گئیں اور چھڑی اپنے شوہر کو چبھوتے ہوئے بولی۔
" ڈرپوک، نالائق، بزدل کہیں کے،
یہاں چُھپے بیٹھے ہو" ؟؟

Offline
 

مجھے پڑھتے ھیں کئی لوگ مگر
میں مخاطب صرف تم سے ھوں

Offline
 

بعض حضرات یہ سوال کرتے ہیں کہ مطالعہ تو کرتے ہیں پر کچھ یاد نہیں رہتا ! تو پھر مطالعہ کا فائدہ کیا_؟؟
شیخ سلمان العودہ اپنی کتاب "زنزانہ' میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے شیخ سے شکایت کی کہ میں نے ایک کتاب پڑھی، لیکن مجھے اس میں سے کچھ یاد نہیں رہا!
چنانچہ انھوں نے مجھے ایک کھجور دی، اور فرمایا:
لو_ یہ چباؤ ! پھر مجھ سے پوچھا:
کیا اب تم بڑے ہوگئے ؟ میں نے

Offline
 

کہا: نہیں !
فرمایا: لیکن یہ کھجور تمھارے جسم میں گھل مل گئی ، چنانچہ اسکا کچھ حصہ گوشت بنا، کچھ ہڈی، کچھ پیٹھ، کچھ کھال، کچھ بال، کچھ ناخن اور مسام وغیرہ!!
تب میں نے جانا کہ جو کتاب بھی میں پڑھتا ہوں، وہ تقسیم ہوجاتی ہے۔
چنانچہ اس کا کچھ حصہ میری لغت مضبوط کرتا ہے، کچھ میرا علم بڑھاتا ہے، کچھ میرا اخلاق سنوارتا ہے ، کچھ میرے لکھنے بولنے کے اسلوب کو ترقی دیتا ہے، اگرچہ میں اسکو محسوس نہیں کر پاتا ہوں۔

Offline
 

غریب و سادہ و رنگین ھے داستان حرم
نہایت اس کی حسین اور ابتدا اسماعیل

Offline
 

انتظار حسین نے لکھا تھا کہ لکھنے والے جو لکھتے ہیں اس میں آدھے معنی ہوتے ہیں - باقی آدھے معنی پڑھنے والے کے اندر ہوتے ہیں
منقول

Offline
 

اچھا ہے دِل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
ليکن کبھی کبھی اِسے تنہا بھی چھوڑ دے
شب بخیر

Offline
 

اُداسیوں کا سبب کیا کہیں ٫ بَجُز اِس کے
یہ زندگی ھے ، پریشانیاں تو ھوتی ھیں

Offline
 

بہترین انسان وه ہے جسکا وجود دوسروں کیلیۓ فائدہ مند ہو

Offline
 

تصور، خواب، دروازے، دریچے،
کوئی آئے تو کتنے راستے ہیں

Offline
 

فیض صاحب سے کراچی کے ایک میمن تاجر نے پُوچھا ، "فیض صاحب ، "آپ کیا کرتے ھو؟ "
فیض بولے ، "میں شاعری کرتا ھُوں۔"
میمن تاجر کہنے لگا، "بابا تمہارا دَھندہ کیا ھے ؟؟
فیض وضاحت کرتے ھُوئے بولے، "جی ، میں کتابیں لکھتا ھُوں۔
یہ سُن کر میمن تاجر اُنہیں تھپکی دیتے ھُوئے بولا ، "بابا ایک دو بوری ھمیں بھیج دو ، خرید لُوں گا.
"مستنصر حسین تارڑ"
آرٹیکل "لاھور آوارگی" سے اقتباس۔

Offline
 

ایک اصول سمجھا رہا ہوں
زندگی میں ہر موقع، ہر تحریک، ہر مقابلے میں کام آئے گا
وقت سے پہلے کبھی
celebration
شروع نہ کردیا کیجیے
پہلے اتمام حجت ہونے کا انتظار کیا کیجیے

Offline
 

میں نے لہجے رکھے ہوئے ہیں
مخاطب دیکھ کر اپنا لیتا ہوں

Offline
 

اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے پیارے پاکستان سے ظلم و ستم سے بھرپور اندوہناک و افسوسناک خبریں آنا بڑی حد تک ختم ہو جائیں تو اس کا واحد حل بے رحم، تیز اور مثالی سزائیں دینے کا نظام ہے۔
آپ اس معاملے میں سعودیہ کو ایک مثال کے طور پر سامنے رکھ لیں جہاں جج یا قاضی بھی قانون سے ماوراء نہیں ہے۔ یہاں ایسا کوئی جج نہیں جس سے باز پرس کی جائے تو وہ بولے میں تو شہید ہو جاونگا وغیرہ ۔ ۔ ۔
قانون وانصاف کی حکمرانی کے بغیر نہ تو پاکستان میں مال و عزت کی حفاظت ممکن ہے اور نہ ہی معاشرتی امن و رواداری کا کلچر عام ہوسکے گا۔