خیر کے پُھول چُنو ، خطا مت ڈھونڈو
شب بخیر
مستنصر حسین تارڑ کو اطلاع ملی کہ ہندوستان سے ایک شاعر آئے ہیں ۔ انہوں نے لاہور میں قدم رکھتے ہی بیان دیا کہ وہ تو بس یہاں مستنصر حسین تارڑ سے ملنا چاہتے ہیں ۔
یہ بیان مستنصر حسین تارڑ تک جب پہنچا تو بولے:
"مجھے پہلی بار اپنے ادبی مرتبے کی سر بلندی کا احساس ہوا اور میں نے دیگر ادیبوں کو نظر حقارت سے دیکھنا شروع کردیا کہ میاں انڈیا میں ہماری ایسی دھوم ہے۔"
ملاقات ہوئی تو موصوف بولے :
"میں تو اپ سے صرف اس لئے ملنا چاہتا تھا کہ جب کبھی ہم ریڈیو کے لئے نیوز کاسٹر بھرتی کرتے ہیں تو انہیں پڑھنے کے لئے تحریر دیتے ہیں، اس میں کہیں اپ کے نام کا اضافہ کردیتے ہیں، اگر امیدوار اپ کا نام اٹکے بغیر پڑھ جائے تو وہ پاس، ورنہ فیل ------- صرف اس لئے آپ سے ملنا چاہتا تھا آپ کی وجہ سے ------ شنید ہے کہ آپ کچھ لکھتے لکھاتے بھی ہیں ------ کیا لکھتے ہیں؟؟؟؟ "
میں کس کو کیا بتاؤں کہ ہر شخص میرا حال
پوچھے ہے مجھ سے پُرسش اعمال کی طرح
اکثریت جانتی ہے کہ گائے دودھ دیتی ہے. لیکن اقلیت کو پتہ ہوتا ہے گائے دودھ نہیں دیتی بلکہ گائے سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے. اسی اقلیت کو یہ پتہ ہوتا ہے کیسے صبح سویرے کھیت سے گائے کیلئے چارہ لے کر آنا ہوتا ہے. کیسے روزانہ طویلے کو صاف کرنا ہوتا ہے. بالٹی گائے کے تھن کے نیچے رکھنا ہی اہم نہیں دودھ دوہنے کا ہنر بھی لازم آنا چاہئے.
لیکن اکثریت سمجھتی ہے بس کسی طرح ایک گائے لے لی جائے تو دودھ کی نہریں رواں ہو جائیں گی. تب قدرت ان کو ایک گائے دے دیتی
ہے. تب یہ گائے کو اور گائے ان کو دیکھ کر جیسے پوچھ رہی ہو اب بتاو کرنا کیا ہے.؟ زندگی کے کچھ چھوٹے چھوٹے راز ہوتے ہیں. جو یہ راز جان لیں وہ اکثریت سے نکل کر اس اقلیت میں آجاتے ہیں جو سر جھکائے اپنے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں. جن کو سمجھ نہ آئے وہ اپنی زندگی کو پیچیدہ بنا لیتے ہیں.
اکثریت کی زندگی پیچیدہ ہے. یہی لوگ پھر اللہ میاں کی گائے کہلاتے ہیں.
اور کچھ لوگ قدرتی طور پر مدینہ مزاج کے ہوتے ہیں۔
“And some people have nature like the people of Madinah.”
شب بخیر
عا شقی کیا چیز ہے؟ کہہ دو کہ جاناں کا غلام بن جانا۔۔
دل دوسرے کے ہاتھ میں دیکر حیران بن جانا۔
کسی پر جان و دل سے نثا ر ہونا۔۔
غم و رنج سے آشنا ہونا۔۔
اک تجھ کو دیکھنے کے لیے بزم میں مجھے
اوروں کی سمت مصلحتاً دیکھنا پڑا
چین اک پل نہیں، اور کوئی حل نہیں۔۔۔
China is not a bridge , and not a solution..
بیچارہ گوگل اردو سمجھنے کا دعویدارہے۔۔۔
سامنے اسکے کبھی اسکی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر ، ہونٹوں نے جنبش نہیں کی
جمال سویدا صاحب نے بتایا کہ اگر بڑے ہیروں کے ساتھ چھوٹے اور کم قیمت ہیروں کو ایک مخصوص تھیلی میں ڈال کر رکھا جائے تو کم قیمت اُ ور چھوٹے ہیروں میں بھی بڑے ہیروں جیسی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔
جن کے اندر کوئی رنگ نہیں ہوتا ان میں بڑے ہیروں کے رنگ کا مستقل چلن پیدا ہو جاتا ہے۔
ہمارے گاؤں میں ایک اندھا فقیر صبح سویرے اک صدا لگاتا ہو ا گذرا کرتا تھا...
اُٹھ فریدا ستیا تے اُٹھ کے باہر جا۔
جے کوئی بخشیا مل گیا تے توں وی بخشیا جا...
مجھے اُس وقت اُس کی بات بڑی بے معنی لگتی تھی، لیکن جمال سویدا کی گفتگو کے بعد اُور ہیروں کی آپس میں صحبت کے بعد یہ راز کھلا کے قربت انسان کی کس طرح بدل دیتی ہے۔
(اشفاق احمد۔۔ زاویہ3 صفحہ 283)
مجھ کو اپنے جیسے لوگ ہی تو اچھے لگتے ہیں
خاموش ، سادہ ، منفرد ، لاجواب اور بااخلاق
ایک دانا سے کسی نے پوچھا "میں خوش رہنا چاہتا ہوں" . بتاو کیا کروں.؟ دانا نے کہا پہلے تو اس جملے سے "میں" نکال دو. کیونکہ یہ انا ہے پھر چاہت نکال دو کہ یہ خواہش ہے. انا اور خواہش جب مل جائیں تو خوش رہنا مشکل بن جاتا ہے. اپنے جملے میں سے ہی نہیں زندگی میں بھی جتنا ان کو کم کر پائے اتنا ہی زیادہ خوش ہوگے.
آج کل لوگ مشتعل بہت جلدی ہو جاتے ہیں. اشتعال جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا ہے جبکہ کلمہ خیر سنانے کیلئے موقع و محل دیکھنا پڑتا ہے. لوگ کہتے ہیں دُنیا گلوبل ویلج ہو گئی ہے. بیشک دنیا کو اس ڈیجیٹل دور نے آپس میں جوڑ دیا ہے لیکن انسان ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں. ایک گھر میں بھی سب ہوتے ہوئے سب دستیاب نہیں ہوتے.
اس ڈیجیٹل دور نے یکطرفہ معلومات و اطلاعات کا ایک طوفان کھڑا
کر دیا ہے. کسی کے پاس تصدیق تحقیق کا وقت نہیں رہا لیکن معلومات و اطلاعات نے علم کا ایک جھوٹا تاثر ضرور تخلیق کر دیا ہوتا ہے. ایک دوسرے سے دور یہ افراد پھر اپنی یکطرفہ معلومات کے خلاف کوئی بات سنتے ہیں تو بلاوجہ ہی مشتعل ہو جاتے ہیں. جیسے خالی برتن بج رہے ہوتے ہیں.
اس دور میں اگر خوش رہنا ہے تو ڈیجیٹل دُنیا کو صرف اپنی ضرورت کیلئے استعمال کریں. اتنا وقت نہ دیں کہ یہ دنیا آپ کو ہی استعمال کر جائے. ورنہ آپ روز لڑیں گے اور فرصت میں شعور کو جب موقع ملے گا تب وہ بھی آپ کو ہی ملامت کرے گا. یہ ملامت آپ کو مزید اشتعال دے گی. اس پاس کے انسانوں کو وقت دیں. یہ اتنے بھی برے نہیں جتنا آپ کی ڈیجیٹل دُنیا ان کو برا پیش کرتی ہے.
زندگی کا راز یہی ہے کہ جس حال میں بھی ہو ہر حال میں مطمئن رہو۔
شب بخیر
بچپن کا پیار کہیں بھول نہیں جانا رے
ایک دن بیگم بڑی موڈ میں تھی کہنے لگی کہ آپکی کوئی گرل فرینڈ ہے ۔
میں نے کہا نہیں
کہنے لگی کسی کو آفس میں پسند کرتے ہوں ۔ میں نےکہا نہیں ۔
پھر پوچھا شادی سے پہلے کوئی افئیر ۔
میں نے کہا نہیں ۔
کہنے لگی ۔اتنے ہینڈ سم تو ہیں ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
میں نےکہا کہ لڑکیاں پیسہ چاہتی ہیں اور وہ میں کسی غیر پہ خرچنا نیہں چاہتا تھا۔ اس لیے کسی سے دوستی نہیں کی۔
پھر پوچھا کوئی تو کبھی جوانی میں پسند آئی ہو گی ۔ میں نے کہا نہیں ۔
منہ بنا کر بولی ۔ اسکا مطلب کہ میں ہی پہلی ہوں۔ جو آپ جیسے کو پسند کرتی ہوں ۔
کوئی فلمی ایکٹر تو پسند ہو گی۔
میں نے کہا نہیں ۔
ہاں البتہ بچپن میں ڈنٹونک کی مشہوری میں ایک
لڑکی نیلما آتی تھی۔ وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔ میں اس وقت 6 سال کا تھا ۔
اسکے بعد وہ ٹی وی پہ نیہں ائی۔
اسکے بعد بیگم کا پارہ چڑھ گیا اور بولی کہ 35 سال پرانی لڑکی نہیں بھولی۔ اب بھی دماغ میں ہے وہ چڑیل ۔ تم سارے مرد ایک جیسے ہو۔ اس لیے اپ نے بچپن کی ساری چیزیں سمبھال کر رکھی ہیں۔اور راشن میں بھی ڈنٹونک ہمیشہ لاتے ہیں ۔ صبح شام بچوں کو دانت صاف کرنے کا کہتے ہیں ۔ اس کلموئی کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں۔ اور اکثر سوچوں میں گم رہتے ہیں۔سب سمجھتی ہوں ۔ یقینا نیٹ پہ بھی اسی کو سرچ کرتے ہوں گے۔اسی لیے 24 گھنٹے موبائل میں کھبے رہتے ہیں۔ مجھے پہلے شک تھا ہو نہ ہو کوئی پرانی عاشقی پال رکھی ہے۔ سب سمجھتی ہوں۔ مجھے اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔ اور یہ کہ کر ڈنٹونک اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ ،
منقول
ایک بار ایسی ہی ایک خانہ جنگی میں انہوں نے پاس پڑی ہوئی ایک کرسی میرے سر پر دے ماری۔ نشانہ چوک گیا اور کرسی کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔
میں چیخا، ’’تم نے میرے کرسی کیوں ماری؟ کرسی ٹوٹ گئی۔‘‘
بولیں، ’’میرا ایسا ارادہ نہ تھا۔‘‘
’’کیسا ارادہ مجھے مارنے کا؟‘‘
بولیں، ’’نہیں، کرسی توڑنے کا۔‘‘
دوسرے دن میں نے سنا، ہماری پڑوسن اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے پوچھ رہی تھیں، ’’تم نے اپنے شوہر کو کرسی کیوں دے ماری؟‘‘
وہ بڑی معصومیت سے بولیں، ’’کیا کرتی۔ میز مجھ سے اٹھ ہی نہیں رہی تھی۔‘‘
بار بار کی لڑائی جھگڑے سے تنگ آکر کہ کون زیادہ خرچ کرتا ہے، میں نے بیوی کو ایک کاپی دی، کہ جوکچھ خرچ کیا کرو اس میں درج کر لیا کرو، تاکہ آئندہ سوچ بچار کر بجٹ بنایا جائے۔ محترمہ نے خوشی خوشی نوٹ بک لے لی اور مہینہ کی پندرہ تاریخ کو ہی کاپی واپس کردی۔
پہلے صفحہ پر لکھا تھا۔
آمد ۰۰/۵۰۰
خرچ ۰۰/۵۰۰
اللہ اللہ خیر صلا.
(سرور جمال کی " شوہر ہونے کے بعد " سے اقتباس)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
جب تم اداسی کے شہر میں گھبرانے لگو
مجھے پکارنا میں تمہیں پھول بھیجوں گا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain