Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ویرانے میں بنے کسی گھر میں کچھ دیر قیام کرنے والے مسافروں کے تاثرات الگ الگ ہوں گے. ایک چور سوچے گا یہ جگہ چوری کے بعد کچھ دن چھپنے کیلئے بہترین ہے. ایک شاعر سوچے گا کچھ عرصہ بھیڑ بھاڑ سے دور فطرت میں رہنے اور اسکے حسن کو بیان کرنے کیلئے کتنی بہترین جگہ ہے. ایک طالب علم اسے الگ نظر سے سوچے گا تو کوئی شکی مزاج اُس پہلے آدمی پر شک کرے گا کہ آخر اس ویرانے میں یہ چھت اس نے بنائی کیوں..؟
ہم ویسے ہی دیکھتے ہیں جیسے ہم ہوتے ہیں، ویسے ہی سوچتے ہیں جیسی ہماری شخصیت ہوتی ہے. وہی نتائج نکالتے ہیں جو ہمارے پسندیدہ ہوتے ہیں. ایک منفی شخصیت کو اپنے آس پاس سب کچھ غلط نظر آرہا ہوتا ہے. وہ دن رات آس پاس وہ برائیاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے

Offline
 

وہ خود شکار ہوتا ہے. وہ مسائل بیان کر رہا ہوتا ہے جن کا وہ خود شکار ہوتا ہے. پھر پریشان بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی کرتا ہے.
اسے ہر وقت کا ایک شکوہ ہوتا ہے " لوگ نہیں بدل رہے" . وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف ایک ذات ہے جسے وہ بدل سکتا ہے. وہ یہ "خود" ہے. باقی لوگوں کو بدلنے کی طاقت اس کے پاس نہیں صرف اچھائی یا برائی کی طرف دعوت ہی وہ دے سکتا ہے. جو طاقتور لوگ ہوتے ہیں وہ خود کو بدلتے ہیں. جو کمزور شخصیت ہوتی ہے وہ دوسروں میں پھر اپنی کمزوری کے جواز ڈھونڈتی ہے. یہی ان کی کمزوری کا پردہ ہوتا ہے.

Offline
 

تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

Offline
 

؎ ٹکرائیے ہجوم سے ، اور جان جائیے ،
دیوار کون کون ہے رستہ ہے کون کون!

Offline
 

تجربہ،مشاہدہ بتاتا ہے۔۔۔عقاب کی راہ میں ہوا، کشتی کی راہ میں دریا، سانپ کی راہ میں پہاڑ اور مرد کی راہ میں عورت۔۔۔اگر موسم،حالات منہ موافقت کے مطابق نہ آویں تو پھر سانحے اور حادثے جنم لیتے ہیں۔ مومی شمع کا بھی کیا سوختہ سا فلسفہ ہے۔ اپنے وجود میں آرپار درد کا دھاگہ پروۓ ہوتی ہے۔ درد کا انت جب آتش بداماں ہوتا ہے تو پھر بھڑک کر وہ جل اٹھتی ہے۔ ادھر درد سلگتا ہے ادھر وجود پگھلتا ہے۔۔بالآخر جب دونوں جل اور پگھل کر تھک جاتے ہیں پھر شمع دان میں چٹخے ہوۓ جام کی طرح چند جمے ہوۓ آنسوؤں کی موم اور اور کوکھ جلی باتی کی سوختگی کے دھبوں کی تلپھٹ باقی رہ جاتی ہے.......
۔
( بابا محمد یحیی خان
-کاجل کوٹھا-صفحہ نمبر 175)

Offline
 

ایک مرتبہ پاکِستان کے ایک بڑے جاگیردار صاحب انڈیا میں اپنے ایک نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے-
ایک دِن کھانے کے دوران جاگیردار صاحب کو دہی کی کمی محسوس ہوئی، انہوں نے نواب صاحب سے فرمائش کی، کہ دہی مِل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جائے-
نواب صاحب نے اپنے مُلازم کو آواز دی، اور بولے فلاں دُکان سے دہی لے کر آؤ فوراُُ،،
مُلازِم گیا تو نواب صاحب نے بتانا شروع کیا، کہ ملازِم اِس وقت گھر سے نِکل چُکا، اِس وقت گلی کا موڑ مڑ رہا، اس وقت دُکان سے دہی لے رہا،، اب واپِس آ رہا، چند لمحوں بعد انہوں نے مُلازِم کو آواز دی اور پوچھا، دہی لے آئے ؟ ملازم نے جواب دِیا، جی حضور،،،
جاگیر دار صاحب اِس واقعے

Offline
 

سے بہت مُتاثِر ہوئے -
پھِر کُچھ عرصہ بعد نواب صاحب جاگیردار دوست کی دعوت پر پاکِستان آئے، جاگیر دار کو وُہ کھانے والا واقعہ بہت خوب لگا تھا-
دورانِ کھانا، نواب صاحب کو اچار کی طلب ہوئی،، انہوں نے اچار کی فرمائش کی، جاگیر دار نے فوراُُ اپنے نوکر فیقے کو آواز دی اور قریب کے اسٹور سے اچار لانے کا کہا، اور ساتھ میں کمنٹری بھی شروع کر دی، کہ فیکا اِس ٹائم گھر سے نِکل گیا ہے، اب وہاں پہنچ گیا ہے،، اب وہاں، اب اچار لے چُکا ہے،، اب واپِس آ رہا ہے،، اب گھر پہنچنے والا،، پھِر انہوں نے آواز لگائی،، اوئے فیقے !! آواز آئی جی سرکار،، اچار لے آیا،، ؟
فیقا بولا،، کِتھے سرکار،، اجے تے میں اپنی جُتی لبھ ریا واں،

Offline
 

: خندہ برلب میزنم تا کس نداند رازِ من
ورنه این دنیا که ما دیدیم، خندیدن نداشت
صائب تبریزی
میں اپنے ہونٹوں پر اس لیے ہنسی سجائے رکھتا ہوں تاکہ کسی کو میرے رازِ دل کا پتا نہ چلے
ورنہ یہ دنیا جسے ہم نے دیکھا ہے، اس میں ہنسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

Offline
 

اُس زمانے کی بات ہے جب دودھ دہی کی دکانوں پر پلاسٹک شاپنگ بیگز نہیں ہوتے تھے تب گھر سے برتن لے کر جایا جاتا. ایک بچے کو ماں نے پیسے دئے برتن دیا اور کہا دہی لے آو. دکاندار نے دہی تولی برتن میں ڈالی تو کچھ دہی بچ گئی. دکاندار نے پوچھا اسکا کیا کروں؟ بچے نے برتن پلٹ دیا کہ یہاں ڈال دو.
گھر پر پہنچا تو پیندے کی تھوڑی سی دہی دیکھ کر اماں نے پوچھا باقی دہی کہاں ہے.؟ بچے نے برتن پلٹ دیا اور کہا یہاں ڈالی تو تھی پتہ نہیں اب کہاں ہے.؟ پتہ نہیں وہ بچہ بھی بڑا ہو کر اب کہاں ہوگا.؟

Offline
 

جنگل میں شیر نے حکم جاری کر دیا کہ آج سے ہر سینئر جانور جونیئر جانور کو چیک کر سکتا ہے بلکہ سزا بھی دے سکتا
باقی جانورں نے تو اسے نارمل لیا پر باندر نے خرگوش پکڑ لیا اور رکھ کے چپیڑ ماری
اور پوچھا کہ ٹوپی کیوں نہیں پہنی ؟
خرگوش بولا سر میرے کان لمبے ہیں اس لیے نہیں پہن سکتا۔۔۔۔
باندر نے کہا اوکے جاؤ
اگلے دن فیر خرگوش چہل قدمی کر رہا تھا باندر نے اسے بلایا اور رکھ کے ایک کان کے نیچے دی اور پوچھا ٹوپی کیوں نہیں پہنی؟
خرگوش نے روتے ہوے کہا سر کل بھی بتایا تھا کہ کان لمبے ہیں نہیں پہن سکتا..
باندر نے کہا اوکے گیٹ لاسٹ
تیسرے دن فیر باندر نے یہی حرکت کی تو خرگوش شیر کے پاس گیا اور ساری کہانی سنائی۔۔
شیر نے باندر کو بلایا اور کہا ایسے تھوڑی چیک کرتے اور وی سو طریقے ہیں جیسا کہ تم خرگوش کو بلاؤ اور

Offline
 

کہو جاؤ سموسے لاؤ اگر وہ صرف سموسے لائے تو پھڑکا دو چپیڑ اور کہو چٹنی کیوں نہیں لائے۔۔؟
فرض کرو اگر وہ دہی والی چٹنی لے آئے تو لگاو چپیڑ اور کہو آلو بخارے والی کیوں نہیں لاے اور اگر وہ آلو بخارے والی لے آے تو ٹکا دینا کہ دہی والی کیوں نہیں لاے۔۔۔؟
خرگوش نے یہ ساری گفتگو سن لی۔۔
اگلے دن باندر نے خرگوش کو بلایا اور کہا جاؤ سموسے لاؤ
خرگوش بھاگا بھاگا سموسے لے آیا
باندر نے پوچھا چٹنی لائے ہو؟
خرگوش بولا یس سر
باندر نے فیر پوچھا کون سی ؟
خرگوش بولا سر دہی والی اور آلو بخارے والی دونوں لے کر آیا
باندر نے رکھ کے ایک چپیڑ ماری اور پوچھا:
توں اے دس ٹوپی کیوں نہی پائی؟؟؟

Offline
 

وہ مضبوط نہیں ہے
اس نے ہمیشہ خیالی دنیا میں رہنا پسند کیا تھا۔وہ ہر روز ایک کہانی تخلیق کرتا۔
مگر اس بار اس نے کوئی کہانی نہیں چنی تھی دراصل کہانی نے ہی اسے چن لیا تھا
وہ اپنے ساتھ حوصلہ اور ہمت رکھتا تھا اسی لئے تو دنیا نے اسے پرسکون اور خوش جان لیا تھا۔
جب وہ اندر سے مر رہا تھا، لوگوں سے ملتے ہوئے اس کے چہرے پہ نرم مسکراہٹ ہوتی۔
مگر کیا وہ سو پاتا ہے؟ یہ کوئی نہیں جان سکا ہے
کوئی یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ وہ مضبوط نہیں
اپنی غیر معمولی برداشت سے وہ لوگوں کو یقین دلانے میں کامیاب ہے کہ وہ ہمت سے بھرا ہوا ہے
اکیلے میں وہ اپنے درد پہ قابو پانے سے قاصر رہتا ہے
بس وہی ہے جو سمجھ سکتا ہے کہ
وہ مضبوط نہیں ہے

Offline
 

ﻭﮦ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﮯ ، ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮮ ﻣﺴﺘﺮﺩ
ﭼﺎﻧﺪ، ﺟﮕﻨﻮ، ﭘﮭﻮﻝ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﻣﺴﺘﺮﺩ

Offline
 

ایک بیوی اس وقت تک کھانا نہیں کھاتی تھی جب تک اسکا شوہر نہ آجاتا سارے محلے کی عورتیں اسکی تعریف کرتی تھیں…
ایک دن ایک عورت نے پوچھا "بہن کیسے برداشت کرتی ہو؟
تو اس عورت نے جواب دیا
"کیا کروں وہ آکر پکاتے ہیں تو کھاتی ہوں"

Offline
 

خدا نے جس قدر محبت.
میرے دل میں
آپ کے لیے جمع کر رکھی ہے
تمنا ہے
کہ اُس قدر الفاظ کا
ذخیرہ بھی
مجھے عنایت کیا جائے
تا کہ روز ایک نئے انداز سے،
کائنات کے حسن کو
آپ سے منسوب کروں

Offline
 

تجھ سے کس طرح ، میں اِظہارِ تمنا کرتا
لفظ سُوجھا تو ، معانی نے بغاوت کر دی۔

Offline
 

تیز طرّار محبوبہ اور انشا جی کی دیوانگی
احمد بشیر کا کہنا ہے کہ ابنِ انشا نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا، ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا تھا جو پہلے ہی کسی اور کی ہو چکی تھی اور شادی شدہ اور بچّوں والی تھی جس کے دل میں انشا کے لیے جذبۂ ہم دردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔ جس سے ملنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے تھے۔ اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا مواقع تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی، اس کی ہمّت نہ پڑی۔ اکثر اپنے دوستوں سے کہتا: ’’یار اُسے کہہ کہ مجھ سے بات کرے۔‘‘اس کے انداز میں بڑی منت اور عاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا، وہ کہتا: ’’دیکھ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا۔ باتوں باتوں میں بھرما نہ لینا۔‘‘محبوبہ تیز طرّار تھی، دنیا دار تھی۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی۔

Offline
 

پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا اس دل چسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔ انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں۔ اس پر انشا پھولے نہ سماتا۔
دوستوں نے اسے بار بار سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے۔ انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو۔
ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لیے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھ تھا۔
میں نے انشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیز مت خریدو۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔
انشا بولا۔ ’’مفتی جی، تمہیں پتا نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی۔ زندگی دی!‘‘
انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔
(ممتاز مفتی کی کتاب ’’اور اوکھے لوگ‘‘ سے ماخوذ)

Offline
 

میں چاہتا ہوں... پرندے رہا کئے جائیں
میں چاہتا ہوں تیرے ہونٹ سے ہنسی نکلے

Offline
 

ابوسعید ابوالخیر سے کسی نے کہا: ’’کیا کمال کا انسان ھو گا وہ جو ہوا میں اُڑ سکے۔‘‘
ابوسعید نے جواب دیا: ’’یہ کون سی بڑی بات ھے، یہ کام تو مکّھی بھی کر سکتی ھے۔‘‘
’’اور اگر کوئی شخص پانی پر چل سکے اُس کے بارے میں آپ کا کیا فرمانا ھے؟
’’یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ھے، کیونکہ لکڑی کا ٹکڑا بھی سطحِ آب پر تیر سکتا ھے۔‘‘
’’تو پھر آپ کے خیال میں کمال کیا ھے؟‘‘
’’میری نظر میں کمال یہ ھے کہ لوگوں کے درمیان رہو اور