کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔
جھوٹ کبھی نہ کہو، کسی کا تمسخر مت اُڑاؤ، کسی کی ذات سے کوئی ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ، یہ کمال ھیں۔
یہ ضروری نہیں کہ کسی کی ناجائز بات یا عادت کو برداشت کیا جائے، یہ کافی ھے کہ کسی کے بارے میں بن جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔
یہ لازم نہیں ھے کہ ھم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں، یہ کافی ھے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
یہ ضروری نہیں کہ ھم دوسروں کی اصلاح کریں، یہ کافی ھے کہ ھماری نگاہ اپنے عیوب پر ھو۔
حتّیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ھم ایک دوسرے سے محبّت کریں، اتنا کافی ھے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ھوں۔
دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا کمال ھے۔‘
ہم چاہے جو کچھ بھی کہیں یا لکھیں اس کے باوجود جو با تیں دل میں رہ جا تی ہیں وہ ان سے کہیں بڑی ہو تی ہیں ۔
میری محبوبہ کی برتری و فوقیت
دیگر لڑکیوں پر ایسے ہی ہے
جیسے شبِ قدر کو
دیگر ہزار مہینوں پر فضیلت حاصل ہے
ماسکو روس میں چند دن سے ایک چودہ سالہ بچہ سکول نہیں آرہا تھا. دوستو کو فکر ہوئی معاملہ کیا ہے. شام کو اس کی کلاس کے دوست اس کے گھر چلے گئے. وہاں جا کر ان کی ملاقات اس بچے کی غمزدہ ماں سے ہوئی. انہوں نے جب اپنے دوست کا پوچھا تو ماں نے بتایا اسے ایک حادثہ پیش آیا ہے. جس میں وہ اندھا ہوگیا ہے. یہ بچہ لیو سیمونچ پتریگان تھا.
لیو سیمونچ پتریگان مشہور روسی حساب دان تھا. اس کی شہرت الجبرا اور ٹوپولوجی میں تھی. ٹوپولوجی بہت دلچسپ مضمون ہے اسے اکثر ربر شیٹ بھی کہتے ہیں. کیونکہ یہ اشکال کے غیر معمولی طور پر موڑنے کا عمل ہے. ہم بات لیو کی کر رہے تھے. وہ لیو جو چودہ سال کی عمر میں اندھا ہوگیا
تھا. وہ آخر اتنا مشہور حساب دان کیسے بنا.؟
اسکا جواب اس کے دوست اور اس کی ماں تھی. دوستو نے اس کی ماں سے کہا ہم اسے سکول لے جانے کی باری لگا لیں گے. اس کے ڈیسک فیلو نے کہا میں تمہیں پڑھائے جانے والا سبق دہرا کر اور ہاتھ کی ہتھیلی پر شکلیں بنا کر بتاوں گا. یوں ایک سفر شروع ہوا محبت احساس ممتا دوستی اور ہمت کے اس سفر نے لیو کو ایک مقام پر پہنچا دیا.
سوشل میڈیا کا یہ نیٹ ورک بھی ایک ٹوپولوجی ہے. دنیا کے اس دائرے میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے. ہم ایک دوسرے کا دن بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں. کوشش کریں آپ کے نیٹ ورک کا آڑوس پڑوس یعنی دوست اچھے ہوں. ورنہ برے کنکشن آپ کا سکون موڑ توڑ کر اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں جہاں کنکشن کاٹ کر بھی سکون ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے
''جیسے ننگے پاوں
پهٹے پرانے کپڑوں والے بچے
اپنی خالی جیبوں کا احساس لیے''
''دل کو اچهی لگنے والی
مہنگی چیزیں
کسی دوکان کے بند شیشوں سے
پہروں لگ کر تکتے ہیں نا
میں بهی تم کو یوں ہی تکنا چاہتا ہوں
جہاں تک الزبتھ ٹیلر کی بات ہے وہ ایک اداکارہ ہے، ہماری اداکارائیں تو نکاح ناموں میں دستخط کرنے کے لیے لکھنا سیکھتی ہیں - الزبتھ تو نکاح نامے پر یوں سائن کرتی ہے لگتا فلم سائن کر رہی ہے - اس کی آٹھویں شادی پر ہمارے محلے کے بشیرا ٹیلر نے بہت اعتراضات کیے تھے، اسے غصہ یہ تھا اگر الزبتھ ٹیلر نے شادی کرنا ہی تھی تو کسی ٹیلر سے کرتی، برادری سے باہر کر کے اس نے دکھ دیا ہے
(ڈاکٹر یونس بٹ کی " بٹ پارے " سے اقتباس)
کہو تو چلتے رہتے ہیں کہو تو لوٹ جاتے ہیں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
ابھی تو بات لمحوں تک ہے
سالوں تک نہیں آئی
ابھی مُسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی
ابھی تو کوئی مجبوری خیالوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
چلو اک فیصلہ کرنے شجر کی اور جاتے ہیں
ابھی کاجل کی ڈوری سرخ گالوں تک نہیں آئی
زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو مُشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی
ابھی رُوداد بے عنواں
ہمارے درمیاں ہے، دنیا والوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دُور ہے اپنی
مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نُور ہے اپنی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ رستہ پیار کا رستہ
رسن کا دار کا رستہ
بہت دُشوار ہے جاناں
کہ اس رستے کا ہر ذرہ
بھی اک کُہسار ہے جاناں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
میرے بارے نہ کچھ سوچو
مجھے طے کرنا آتا ہے
رسن کا دار کا رستہ
یہ آسیبوں بھرا رستہ
یہ اندھی غار کا رستہ
تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہو
اگر میرے ہاتھوں میں
تو میں سمجھوں
کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مُٹھی میں
تمہارا قُرب ہو تو مشکلیں کافُور ہو جائیں
یہ اندھے اور کالے راستے پُر نُور ہو جائیں
تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں مل جائے
تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے
اٹھا لو اپنا سایہ تو میری اوقات ہی کیا ہے
میرے بارے نہ کچھ سوچو
تم اپنی بات بتلاؤ
کہو تو چلتے رہتے ہیں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
مرزا غالب کے بحریہ ٹاؤن والے پلاٹ پہ قبضہ ہو گیا تھا۔ درج ذیل شعر میں غالب نے اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ غالب صاحب فرماتے ہیں کہ
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر(یہ) گر بحر(یہ) نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
اُس کا نمبر نہیں کسی نے لیا،
سب سمجھتے رھے پری ہوگی!
اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ تُو میرا نہیں تھا اور میں تیرا نہ تھا
"تحملين كلَّ هذا الجمال، ألا تتعبين؟"
یہ اتنی ساری خوبصورتی لے کر ساتھ چلتی ہو تھک نہیں جاتی ؟
آئینے کے سامنے کھڑی وہ قیامت خیز حسن کی مالکہ اپنے حسن کے ہتھیار کو مزید تباہ کن کرنے میں مصروف تھی۔ کسی گرتی ہوئی آبشار کی مانند منہ زور اور صاف شفاف وجود پر اسکائی بلیو کلر کی شیفون کی ساڑھی، گالی گھٹا کی مانند سیاہ بالوں میں شائننگ اسکائی بلیو کلر کر ہیر کیچر، ناخنوں پر فیروزی رنگ کی نیل پالش، نرم و نازک داہنی کلائی پر سونے کا ایک بریسلٹ جس پر فیروزی رنگ کا چھوٹا سا نگ لگا ہوا تھا، صراحی دار شفاف گردن میں سونے کی چین جس کے آگے ایک چھوٹا سا چمک دار ڈائمنڈ جگمگا رہا تھا۔۔ جھیل سی گہری آنکھوں کے نیچے گہرا سیاہ آئی لائنر،سرخ و سفید گالوں پر ہلکا ہلکا میک اپ،قدرے تیکھے ناک پر ایک چھوٹا سا جگمگاتا ہوا نوز پن ، چھوٹے چھوٹے خوبصورت کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس ،ہونٹوں پر گوچی کی سرخ لپ اسٹک لگاتے ہوئے عرشے اپنے محبوب شوہر شاہ میر کے بارے سوچ رہی تھی
بے ترتیب ہونے لگیں۔
قدموں کی چاپ اسے اپنے دل پر محسوس ہو رہی تھی۔۔وہ دروازے پر دستک دیتے ہوا ، بلغم زدہ آواز میں کھنکارتا ہوا اندر داخل ہوا
“ٓ السلام علیکم۔۔” اس کی شیریں آواز عرشے کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔۔وہ آنکھیں نیم وا کیے شاہ میر کو دیکھنے لگی۔۔جو کہ کریم کلر کی شیروانی ،نیچے تلے والا کھسہ، سر پر جناح کیپ، سرخ و سفید کلین شیو چہرہ، گہری شرارتی آنکھیں،لیے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔اس کے قدرے گلابی ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی ۔۔اس وقت وہ عرشے کو کسی یونانی حسن کا دیوتا لگ رہا تھا۔۔وہ شاہ میر کی آنکھوں کی اپنے لیے تعریف بخوبی پڑھ سکتی تھی۔۔۔شاہ میر آہستگی سے چلتے ہوئے اس کے قریب آیا۔۔۔ اسے کندھے سے تھاما۔۔۔عرشے کا جسم ہولے ہولے
لرزنے لگا۔ وہ شاہ میر کی سانسوں کی حدت محسوس کر سکتی تھی شاہ میر نے اس کے کندھے چھوڑے جیب میں سے ہاتھ ڈال کر پانچ پانچ ہزار کے قدرے نئے نوٹ نکالے اور اپنے ہاتھوں میں اس کا ہاتھ لے کر اس پر رکھ دیے۔۔۔”یہ پچاس ہزار تو کچھ نہیں۔۔تمہارے لیے میں پوری دنیا تمہارے قدموں میں ڈھیر کر سکتا ہوں۔۔”شاہ میر نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی
“بس پچاس ہزار۔۔” وہ ہولے سی منمنائی
“ہاں میری مقدس محبت! عید کی نماز کے بعد صرف بیس پچیس لوگوں سے ہی گلے مل سکا۔۔ان میں سے پندرہ کی جیب میں ہی ہاتھ ڈال سکا۔۔ جو نکلا تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں آنسو لیے اپنی سچی محبت اور کارنامے بیان کر رہا تھا۔۔اور عرشے اس کی باتیں سن کر ان کی چاہت دیکھ کر دل ہی دل میں سجدہ ریز ہو گئی۔
"میرا محبوب ایک جیب کترا "سے اقتباس
ﺟﯿﺴﮯ ﺗﺘﻠﯽ ﮐﯽ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮨﻮ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ
ﻣﯿﺮﯼ __ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ہیں
آپ کے قُرب سے پہلے ، مجھے معلوم نہ تھا
زندگی اِتنی ، دِل آویز بھی ھو سکتی ھے۔
بعض اوقات نفیس اردو بھی وبال جان بن جاتی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔
ایک دوست نے اپنے قوی الجثہ
(بھاری بھرکم وجود والے) دوست کو خط لکھا۔
خط کا آغاز بڑے خلوص اور محبت سے کیا۔
خط ملاحظہ فرمائیں۔
"اَنیسِ مَن، سلامت رہو۔"
مکتوب الیہ دوست نے خط کو کھولا اور پہلی سطر پڑھ کر ہی آگ بگولا ہو گیا فوراً جوابی خط لکھنا شروع کردیا اورچھوٹتے ہی یہ فقرہ لکھا
"میں اگر انیس من (19 من) ہوں تو اپنے گھر سے کھاتا ہوں، تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟"
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain