Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔
جھوٹ کبھی نہ کہو، کسی کا تمسخر مت اُڑاؤ، کسی کی ذات سے کوئی ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ، یہ کمال ھیں۔
یہ ضروری نہیں کہ کسی کی ناجائز بات یا عادت کو برداشت کیا جائے، یہ کافی ھے کہ کسی کے بارے میں بن جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔
یہ لازم نہیں ھے کہ ھم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں، یہ کافی ھے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔
یہ ضروری نہیں کہ ھم دوسروں کی اصلاح کریں، یہ کافی ھے کہ ھماری نگاہ اپنے عیوب پر ھو۔
حتّیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ھم ایک دوسرے سے محبّت کریں، اتنا کافی ھے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ھوں۔
دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا کمال ھے۔‘

Offline
 

ہم چاہے جو کچھ بھی کہیں یا لکھیں اس کے باوجود جو با تیں دل میں رہ جا تی ہیں وہ ان سے کہیں بڑی ہو تی ہیں ۔

Offline
 

میری محبوبہ کی برتری و فوقیت
دیگر لڑکیوں پر ایسے ہی ہے
جیسے شبِ قدر کو
دیگر ہزار مہینوں پر فضیلت حاصل ہے

Offline
 

ماسکو روس میں چند دن سے ایک چودہ سالہ بچہ سکول نہیں آرہا تھا. دوستو کو فکر ہوئی معاملہ کیا ہے. شام کو اس کی کلاس کے دوست اس کے گھر چلے گئے. وہاں جا کر ان کی ملاقات اس بچے کی غمزدہ ماں سے ہوئی. انہوں نے جب اپنے دوست کا پوچھا تو ماں نے بتایا اسے ایک حادثہ پیش آیا ہے. جس میں وہ اندھا ہوگیا ہے. یہ بچہ لیو سیمونچ پتریگان تھا.
لیو سیمونچ پتریگان مشہور روسی حساب دان تھا. اس کی شہرت الجبرا اور ٹوپولوجی میں تھی. ٹوپولوجی بہت دلچسپ مضمون ہے اسے اکثر ربر شیٹ بھی کہتے ہیں. کیونکہ یہ اشکال کے غیر معمولی طور پر موڑنے کا عمل ہے. ہم بات لیو کی کر رہے تھے. وہ لیو جو چودہ سال کی عمر میں اندھا ہوگیا

Offline
 

تھا. وہ آخر اتنا مشہور حساب دان کیسے بنا.؟
اسکا جواب اس کے دوست اور اس کی ماں تھی. دوستو نے اس کی ماں سے کہا ہم اسے سکول لے جانے کی باری لگا لیں گے. اس کے ڈیسک فیلو نے کہا میں تمہیں پڑھائے جانے والا سبق دہرا کر اور ہاتھ کی ہتھیلی پر شکلیں بنا کر بتاوں گا. یوں ایک سفر شروع ہوا محبت احساس ممتا دوستی اور ہمت کے اس سفر نے لیو کو ایک مقام پر پہنچا دیا.
سوشل میڈیا کا یہ نیٹ ورک بھی ایک ٹوپولوجی ہے. دنیا کے اس دائرے میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے. ہم ایک دوسرے کا دن بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں. کوشش کریں آپ کے نیٹ ورک کا آڑوس پڑوس یعنی دوست اچھے ہوں. ورنہ برے کنکشن آپ کا سکون موڑ توڑ کر اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں جہاں کنکشن کاٹ کر بھی سکون ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے

Offline
 

''جیسے ننگے پاوں
پهٹے پرانے کپڑوں والے بچے
اپنی خالی جیبوں کا احساس لیے''
''دل کو اچهی لگنے والی
مہنگی چیزیں
کسی دوکان کے بند شیشوں سے
پہروں لگ کر تکتے ہیں نا
میں بهی تم کو یوں ہی تکنا چاہتا ہوں

Offline
 

جہاں تک الزبتھ ٹیلر کی بات ہے وہ ایک اداکارہ ہے، ہماری اداکارائیں تو نکاح ناموں میں دستخط کرنے کے لیے لکھنا سیکھتی ہیں - الزبتھ تو نکاح نامے پر یوں سائن کرتی ہے لگتا فلم سائن کر رہی ہے - اس کی آٹھویں شادی پر ہمارے محلے کے بشیرا ٹیلر نے بہت اعتراضات کیے تھے، اسے غصہ یہ تھا اگر الزبتھ ٹیلر نے شادی کرنا ہی تھی تو کسی ٹیلر سے کرتی، برادری سے باہر کر کے اس نے دکھ دیا ہے
(ڈاکٹر یونس بٹ کی " بٹ پارے " سے اقتباس)

Offline
 

کہو تو چلتے رہتے ہیں کہو تو لوٹ جاتے ہیں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
ابھی تو بات لمحوں تک ہے
سالوں تک نہیں آئی
ابھی مُسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی
ابھی تو کوئی مجبوری خیالوں تک نہیں آئی

Offline
 

کہو تو لوٹ جاتے ہیں
چلو اک فیصلہ کرنے شجر کی اور جاتے ہیں
ابھی کاجل کی ڈوری سرخ گالوں تک نہیں آئی
زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئی
ابھی تو مُشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی
ابھی رُوداد بے عنواں
ہمارے درمیاں ہے، دنیا والوں تک نہیں آئی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دُور ہے اپنی
مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نُور ہے اپنی
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
یہ رستہ پیار کا رستہ
رسن کا دار کا رستہ
بہت دُشوار ہے جاناں
کہ اس رستے کا ہر ذرہ
بھی اک کُہسار ہے جاناں

Offline
 

کہو تو لوٹ جاتے ہیں
میرے بارے نہ کچھ سوچو
مجھے طے کرنا آتا ہے
رسن کا دار کا رستہ
یہ آسیبوں بھرا رستہ
یہ اندھی غار کا رستہ
تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہو
اگر میرے ہاتھوں میں
تو میں سمجھوں
کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مُٹھی میں
تمہارا قُرب ہو تو مشکلیں کافُور ہو جائیں
یہ اندھے اور کالے راستے پُر نُور ہو جائیں
تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں مل جائے
تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے
اٹھا لو اپنا سایہ تو میری اوقات ہی کیا ہے
میرے بارے نہ کچھ سوچو
تم اپنی بات بتلاؤ
کہو تو چلتے رہتے ہیں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں

Offline
 

مرزا غالب کے بحریہ ٹاؤن والے پلاٹ پہ قبضہ ہو گیا تھا۔ درج ذیل شعر میں غالب نے اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ غالب صاحب فرماتے ہیں کہ
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر(یہ) گر بحر(یہ) نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

Offline
 

اُس کا نمبر نہیں کسی نے لیا،
سب سمجھتے رھے پری ہوگی!

Offline
 

اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ تُو میرا نہیں تھا اور میں تیرا نہ تھا

Offline
 

"تحملين كلَّ هذا الجمال، ألا تتعبين؟"
یہ اتنی ساری خوبصورتی لے کر ساتھ چلتی ہو تھک نہیں جاتی ؟

Offline
 

آئینے کے سامنے کھڑی وہ قیامت خیز حسن کی مالکہ اپنے حسن کے ہتھیار کو مزید تباہ کن کرنے میں مصروف تھی۔ کسی گرتی ہوئی آبشار کی مانند منہ زور اور صاف شفاف وجود پر اسکائی بلیو کلر کی شیفون کی ساڑھی، گالی گھٹا کی مانند سیاہ بالوں میں شائننگ اسکائی بلیو کلر کر ہیر کیچر، ناخنوں پر فیروزی رنگ کی نیل پالش، نرم و نازک داہنی کلائی پر سونے کا ایک بریسلٹ جس پر فیروزی رنگ کا چھوٹا سا نگ لگا ہوا تھا، صراحی دار شفاف گردن میں سونے کی چین جس کے آگے ایک چھوٹا سا چمک دار ڈائمنڈ جگمگا رہا تھا۔۔ جھیل سی گہری آنکھوں کے نیچے گہرا سیاہ آئی لائنر،سرخ و سفید گالوں پر ہلکا ہلکا میک اپ،قدرے تیکھے ناک پر ایک چھوٹا سا جگمگاتا ہوا نوز پن ، چھوٹے چھوٹے خوبصورت کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس ،ہونٹوں پر گوچی کی سرخ لپ اسٹک لگاتے ہوئے عرشے اپنے محبوب شوہر شاہ میر کے بارے سوچ رہی تھی

Offline
 

بے ترتیب ہونے لگیں۔
قدموں کی چاپ اسے اپنے دل پر محسوس ہو رہی تھی۔۔وہ دروازے پر دستک دیتے ہوا ، بلغم زدہ آواز میں کھنکارتا ہوا اندر داخل ہوا
“ٓ السلام علیکم۔۔” اس کی شیریں آواز عرشے کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔۔وہ آنکھیں نیم وا کیے شاہ میر کو دیکھنے لگی۔۔جو کہ کریم کلر کی شیروانی ،نیچے تلے والا کھسہ، سر پر جناح کیپ، سرخ و سفید کلین شیو چہرہ، گہری شرارتی آنکھیں،لیے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔اس کے قدرے گلابی ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی ۔۔اس وقت وہ عرشے کو کسی یونانی حسن کا دیوتا لگ رہا تھا۔۔وہ شاہ میر کی آنکھوں کی اپنے لیے تعریف بخوبی پڑھ سکتی تھی۔۔۔شاہ میر آہستگی سے چلتے ہوئے اس کے قریب آیا۔۔۔ اسے کندھے سے تھاما۔۔۔عرشے کا جسم ہولے ہولے

Offline
 

لرزنے لگا۔ وہ شاہ میر کی سانسوں کی حدت محسوس کر سکتی تھی شاہ میر نے اس کے کندھے چھوڑے جیب میں سے ہاتھ ڈال کر پانچ پانچ ہزار کے قدرے نئے نوٹ نکالے اور اپنے ہاتھوں میں اس کا ہاتھ لے کر اس پر رکھ دیے۔۔۔”یہ پچاس ہزار تو کچھ نہیں۔۔تمہارے لیے میں پوری دنیا تمہارے قدموں میں ڈھیر کر سکتا ہوں۔۔”شاہ میر نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی
“بس پچاس ہزار۔۔” وہ ہولے سی منمنائی
“ہاں میری مقدس محبت! عید کی نماز کے بعد صرف بیس پچیس لوگوں سے ہی گلے مل سکا۔۔ان میں سے پندرہ کی جیب میں ہی ہاتھ ڈال سکا۔۔ جو نکلا تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں آنسو لیے اپنی سچی محبت اور کارنامے بیان کر رہا تھا۔۔اور عرشے اس کی باتیں سن کر ان کی چاہت دیکھ کر دل ہی دل میں سجدہ ریز ہو گئی۔
"میرا محبوب ایک جیب کترا "سے اقتباس

Offline
 

ﺟﯿﺴﮯ ﺗﺘﻠﯽ ﮐﯽ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮨﻮ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ
ﻣﯿﺮﯼ __ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ہیں

Offline
 

آپ کے قُرب سے پہلے ، مجھے معلوم نہ تھا
زندگی اِتنی ، دِل آویز بھی ھو سکتی ھے۔

Offline
 

بعض اوقات نفیس اردو بھی وبال جان بن جاتی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔۔
ایک دوست نے اپنے قوی الجثہ
(بھاری بھرکم وجود والے) دوست کو خط لکھا۔
خط کا آغاز بڑے خلوص اور محبت سے کیا۔
خط ملاحظہ فرمائیں۔
"اَنیسِ مَن، سلامت رہو۔"
مکتوب الیہ دوست نے خط کو کھولا اور پہلی سطر پڑھ کر ہی آگ بگولا ہو گیا فوراً جوابی خط لکھنا شروع کردیا اورچھوٹتے ہی یہ فقرہ لکھا
"میں اگر انیس من (19 من) ہوں تو اپنے گھر سے کھاتا ہوں، تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟"