میرا دل چاہتا ہے کہ میں قدرت کے حسین نظاروں میں کچھ اسطرح کھو جاٶں
کہ
ان یک بستا ہواٶں
، بہتے دریاٶں
، اونچے پہاڑوں سے نکلتے چشموں
، رنگ برنگے پھولوں سے آتی خوشبو
، ان سرسبز و شا داب وادیوں
میں بہتے جھرنوں اور ان جھرنوں
کی موسیقی کی پیاری آوازوں
، کو اپنے اندر سمو لوں..
اور کھو جاوں۔
ویسے تو میں اسے بھولنے کی پوری اداکاری کرلیتا ہوں پر_
مجھے جب بخار ہو نا تو وہ مجھے بڑی شدت سے یاد آنے لگتی ہے_
بار بار میری آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں_
میری بےچینیاں بڑھ کر دل ہی دل میں اس سے گلہ کرنے لگتی ہیں_
پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے میرے بخار کا زمہ دار وہ ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا_
آج بھی رات سے کئی بار میں اسے ٹیکسٹ کرنے کی کوششوں میں ٹائپ کرتا ہوں ، مٹا دیتا ہوں_
چند مہینے پہلے کی طرح مجھے لگتا ہے اب بھی وہ میرے کہنے پر کہ_
مجھے بخار ہے
یہی کہے گی کہ_
سیل آف کرو اور سو جاو_
حالانکہ وہ جانتی ہے _
مجھے بخار میں نیند نہیں آتی _
اسے خبر ہے کہ مجھے اس کی ضرورت ہے_
مگر جانے کیوں وہ ہمیشہ مجھے منظر سے غائب کردینا چاہتی ہے_
وہ یہ بھی جانتی ہے کہ بخار میں میرا دل ننھے بچے کی طرح ہوجاتا ہے_
مجھے معلوم
ہے ناں میڈیسن میرا بخار کم نہیں کرسکتی مجھے تو اس کی باتوں کے سیرپ چاہئے_
لیکن وہ میری فیلنگز کو نہیں سمجھتی، یا شاید سمجھنا نہیں چاہتی_
وہ ہمیشہ سے میرے زخموں کی وجہ بنی ہے اس نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ کبھی وہ میرے زخموں پر پھاہے رکھے _
ابھی بھی بخار میں جھلستے وجود کے اندر دھڑکتا انگارہ دل اس بےدرد کی طرف ہمکنے کی جان توڑ کوشش کررہا_
میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھے سنے_
میں چاہتا ہوں کہ میں اسے سنوں
پر_
مجھے لگتا ہے آج بھی مجھے اپنے دل پر پیر رکھ کر اپنی سسکیاں اپنے لبوں تلے دبانی پڑیں گی_
لوگ اپنی فیلنگز چھپا لیتے ہیں، پر میں نہیں چھپا پاتا، میرا دل پھٹنے لگتا ہے اور میرے پاس برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے!!
درد ہر صورت میں اپنا ہی محسوس ہوتا ہے،دوسرا جتنا چاہے محسوس کر لے مگر وہ اتنا نہیں کر سکتا جتنا ہم محسوس کر رہے ہیں
کوئی ہووے ہا جیڑھا آکھے ہا
تیڈا عید دا جوڑا میں گھنساں
ہم سی تم کو سینکڑوں تم سا ہم کو ایک
ہم اپنے ملک میں خوبصورت جگہوں کی
کچھ اس طرح تعریف کرتے ہیں
کہ
فلاں جگہ جاؤ۔
"لگے گا ہی نہیں کہ یہ پاکستان ہے"۔
میں جانتا ہوں کہ تم مجھے یاد کرتے ہو لیکن تم مجھے نہیں ڈھونڈتے، اور تم مجھ سے پیار کرتے ہو اور مجھے نہیں بتاتے، اور تم ایسے ہی رہو گے، تمہاری خاموشی مجھے مار رہی ہے۔
ایک آدمی سر راہ اپنے ڈاکٹر سے ملا تو حیرت سے پوچھا؛
جناب آپ اپنا کلینک بند کرکے چپکے سے کہیں چلے گئے اور
کسی کو بتایا تک بھی نہیں۔ ۔ ۔ ایسا کیوں _؟
ڈاکٹر نے حیرت سے کہا: نہیں تو !! میرا کلینک تو ابھی بھی
وہیں پر ہی ہے۔ تمہیں ایسا کس نے بتایا؟
اس آدمی نے کہا؛
آپ کے کیلنک کے نیچے چاول کی دکان والے نے اور اس کے برابر
بیٹھے قصاب نے ۔
ڈاکٹر صاحب سیدھا اس چاول اور قصاب کی دکان پر گئے
اور
پوچھا،
بھائی، تم لوگوں اور میرے بیچ میں ایسی کون سی بات ہو
گئی ہے کہ تم میرے مریضوں کو اوپر میرے کلینک میں
جانے دینے کی بجائے بتاتے ہو کہ میں یہاں سے کلینک بند کرکے
کہیں اور چلا گیا ہوں۔۔ ایسا کیوں کر رہے ہو؟
ان دونوں نے کہا: ڈاکٹر صاحب،
آپ بھی تو جو بھی مریض آتا ہے اسے کہتے ہو کہ چاول نه
کھاؤ، بڑا گوشت نہ کھایا کرو ان سے الرجی ہوتی ہے۔
اگر کام کرنا ہے تو مل کر کرتے ہیں_ ورنه دکان داری بند
ہوگی تو سب کی ہوگی۔
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اُس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
اس شخص کے لاکھ ہمیں ٹھکرانے کے باوجود یہ دل کیوں بار بار اس کی ٹھوکروں کو بھلا کر أس شخص کے بارے میں سوچنے میں مصروف رہتا ہے۔۔۔کیوں وہ شخص ہماری محبت کو پہچان نہیں پاتا
اگر میں تم سے ان تمام چیزوں کے نام پوچھوں
جو تمہیں پسند ہیں
تو تمہیں کتنا وقت لگے گا
میرا نام لینے میں ؟
اُن لوگوں کے قریب رہیں جو آپ سے پیار کرتے ہیں
اُن کےکانوں میں سرگوشی کریں کہ آپ کو ان کی ضرورت ہے، ان سے پیار کریں اور ان کا خیال رکھیں، اور سوچ سمجھ کر ان کے لئے فقروں کا چناؤ کریں،
جیسے کہ، میں آپ کو سمجھتا ہوں، مجھے معاف کردو، براہ کرم، آپ کا شکریہ، اور محبت کے وہ تمام الفاظ جو آپ جانتے ہیں۔
" مُجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ، تُو نہ مرجائے
کہ زِندگی عبارت ہے تیرے جِینے سے "
میں آپ کو بتلاؤں، اِس راہ میں میری کامرانیوں کا راز کیا ہے؟ میں اپنے دِل کو مرنے نہیں دیتا۔ کوئی حالت ہو، کوئی جگہ ہو، اس کی تڑپ دھیمی نہیں پڑے گی۔ میں جانتا ہوں کہ جہانِ زندگی کی ساری رونقیں اِسی میکدۂ خلوت کے دم سے ہیں۔ یہ اُجڑا، اور ساری دُنیا اُجر گئی۔
اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ
وہ ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے
ماں نے پوچھا ' اُس میں ایسا کیا خوب ہے ؟
تو اُس نے جواب دیا
وہ کتابیں پڑھتی ہے ' آرٹ سمجھتی ہے
پرانے موسیقاروں کو سنتی ہے اور ادب لکھتی ہے
لوگوں پر بھروسہ نہ کرنے کی دو وجوہات ہیں
پہلی: ہم انہیں نہیں جانتے
دوسری: ہم انہیں جانتے ہیں
مسلمان کو مایوس ہونے کا حکم نہیں، شیطان کا اور کام ہی کیا ہے بیٹا
وہ انسان کو اللّٰہ کی رحمت سے مایوس کرتا ہے، آدمی کا معجزے پر یقین ختم کرتا ہے نا
نا بیٹا
مایوسی گناہ ہے گناہ
.
پر بابا جی
.
پر ور کوئی نہیں بیٹا
اوپر والے پر پورا ایمان رکھو ،جن کا ایمان مضبوط ہوتا ہے ان کے لئے ستے خیراں...!
ان کے لئے معجزے ہوتے ہیں
.
اشفاق احمد
ذہانتوں کو کہاں کُرب سے فرار ملا
جِسے نِگاہ ملی ،اُس کو انتظار ملا
منگیتر کے نام خط
جناب بھائی صاحب
آپ کا خط ملا ۔ میں آپ کو ہرگز خط نہ لکھتی لیکن پھر خیال آیا کہ آپ کی بہن میری سہیلی ہے اور کہیں وہ بُرا نہ مان جاۓ ۔ وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ کبھی ایک غیر مرد کو
خط بھیجوں گی امید کرتی ہوں کہ آئندہ خط لکھتے ہوۓ اس بات کا خیال رکھیں گے کہ آپ ایک شریف گھرانے کے ایشیائی لڑکی سے مخاطب ہیں ۔ احتیاطا تحریر ہے ۔ میرا آپ کو خط لکھنا اس امر کا شاہد ہے کہ ہم لوگ کس قدر وسیع خیالات کے ہیں ۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ رشیدہ اور حمیدہ کو جانتے ہیں ۔کلثوم اور رفعت سے بھی واقفیت رہ چکی ہے ۔ ثریا اور اختر کو کو خط لکھا کرتے تھے ۔آپ کو کلب میں ناچتے ہوۓ بھی دیکھا گیا ہےمیں بی اے آنر ز میں پڑھتی ہوں ۔ شام کو مولوی صاحب بھی پڑھانے آتے ہیں ۔آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے مجھے تانگے میں کالج سے نکلتے دیکھا تھا اور میں نے
برقعےکا نقاب الٹ رکھا تھا ۔آپ نے کسی اور کو دیکھ لیا ہوگا اوّل تو میں کالج ہمیشہ کار میں جاتی ہوں دوسرے یہ کہ میں نقاب نہیں الٹا کرتی ہمیشہ برقعہ میرے ہاتھوں میں کتابوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے
آپ کی جن کزن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے کلب میں دیکھا تھا ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ خود وہاں کیا کر رہی تھیں
یہ جن حمید صاحب کا آپ نے ذکر کیا ہے وہی تو نہیں جو گورے سے ہیں ۔ جن کے بال گھنگریالے ہیں اور داہنے ابرو پر چھوتا سا تل ہے ۔گاتے اچھا ہیں ۔روٹھتے بہت جلد ہیں ۔ جی نہیں میں انہیں نہیں جانتی نہ کبھی ان سے ملی ہوں ۔
میری حقیر راۓ میں تو آپ نے آرٹس پڑھ کر بڑا وقت ضائع کیا ہے آپ کی بہن نے لکھا کہ اب آپ کا ارادہ بزنس کرنے کا ہے اگر یہی ارادہ ہے تو پڑھنے کی کیا ضرورت تھی عمر میں گنجائش ہو تو ضرو ر کسی مقابلے کے امتحان میں بیٹھ جائیں اور ملازمت کی کوشش
کیونکہ ملازمت ہر صورت میں بہتر ہے اس کے بغیر نہ پوزیشن ہے نہ مستقبل ۔ یہاں ڈپٹی صاحب کی بیوی ساری زنانہ انجمنوں کی سیکریٹری ہیں اور تقریباً ہر زنانہ جلسے کی صدارت وہی کرتی ہیں دوسرا فائدہ ملازمت کا یہ ہے کہ انگلستان یا امریکہ جانے کے بڑے موقعے ملتے ہیں مجھے یہ دونوں ملک دیکھنے کا ازحد شوق ہے ۔
آپ کی بہن مجھ سے خفا ہیں اور خط نہیں لکھتیں ۔ شکایت تو الٹی مجھے ان سے ہونی چاہئے انہوں نے رُوفی کو وہ بات بتا دی جو میں نے انہیں بتائی تھی کہ اسے نہ بتانا ۔ خیر بتانے میں تو اتنا ہرج نہ تھا لیکن میں نے ان سے تاکید اً کہا تھا کہ اس سے یہ نہ کہنا کہ میں نے ان سے کہا ہے تھا کہ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain