Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

میرا دل چاہتا ہے کہ میں قدرت کے حسین نظاروں میں کچھ اسطرح کھو جاٶں
کہ
ان یک بستا ہواٶں
، بہتے دریاٶں
، اونچے پہاڑوں سے نکلتے چشموں
، رنگ برنگے پھولوں سے آتی خوشبو
، ان سرسبز و شا داب وادیوں
میں بہتے جھرنوں اور ان جھرنوں
کی موسیقی کی پیاری آوازوں
، کو اپنے اندر سمو لوں..
اور کھو جاوں۔

Offline
 

ویسے تو میں اسے بھولنے کی پوری اداکاری کرلیتا ہوں پر_
مجھے جب بخار ہو نا تو وہ مجھے بڑی شدت سے یاد آنے لگتی ہے_
بار بار میری آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں_
میری بےچینیاں بڑھ کر دل ہی دل میں اس سے گلہ کرنے لگتی ہیں_
پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے میرے بخار کا زمہ دار وہ ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا_
آج بھی رات سے کئی بار میں اسے ٹیکسٹ کرنے کی کوششوں میں ٹائپ کرتا ہوں ، مٹا دیتا ہوں_
چند مہینے پہلے کی طرح مجھے لگتا ہے اب بھی وہ میرے کہنے پر کہ_
مجھے بخار ہے
یہی کہے گی کہ_
سیل آف کرو اور سو جاو_
حالانکہ وہ جانتی ہے _
مجھے بخار میں نیند نہیں آتی _
اسے خبر ہے کہ مجھے اس کی ضرورت ہے_
مگر جانے کیوں وہ ہمیشہ مجھے منظر سے غائب کردینا چاہتی ہے_
وہ یہ بھی جانتی ہے کہ بخار میں میرا دل ننھے بچے کی طرح ہوجاتا ہے_
مجھے معلوم

Offline
 

ہے ناں میڈیسن میرا بخار کم نہیں کرسکتی مجھے تو اس کی باتوں کے سیرپ چاہئے_
لیکن وہ میری فیلنگز کو نہیں سمجھتی، یا شاید سمجھنا نہیں چاہتی_
وہ ہمیشہ سے میرے زخموں کی وجہ بنی ہے اس نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ کبھی وہ میرے زخموں پر پھاہے رکھے _
ابھی بھی بخار میں جھلستے وجود کے اندر دھڑکتا انگارہ دل اس بےدرد کی طرف ہمکنے کی جان توڑ کوشش کررہا_
میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھے سنے_
میں چاہتا ہوں کہ میں اسے سنوں
پر_
مجھے لگتا ہے آج بھی مجھے اپنے دل پر پیر رکھ کر اپنی سسکیاں اپنے لبوں تلے دبانی پڑیں گی_
لوگ اپنی فیلنگز چھپا لیتے ہیں، پر میں نہیں چھپا پاتا، میرا دل پھٹنے لگتا ہے اور میرے پاس برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے!!
درد ہر صورت میں اپنا ہی محسوس ہوتا ہے،دوسرا جتنا چاہے محسوس کر لے مگر وہ اتنا نہیں کر سکتا جتنا ہم محسوس کر رہے ہیں

Offline
 

کوئی ہووے ہا جیڑھا آکھے ہا
تیڈا عید دا جوڑا میں گھنساں

Offline
 

ہم سی تم کو سینکڑوں تم سا ہم کو ایک

Offline
 

ہم اپنے ملک میں خوبصورت جگہوں کی
کچھ اس طرح تعریف کرتے ہیں
کہ
فلاں جگہ جاؤ۔
"لگے گا ہی نہیں کہ یہ پاکستان ہے"۔

Offline
 

میں جانتا ہوں کہ تم مجھے یاد کرتے ہو لیکن تم مجھے نہیں ڈھونڈتے، اور تم مجھ سے پیار کرتے ہو اور مجھے نہیں بتاتے، اور تم ایسے ہی رہو گے، تمہاری خاموشی مجھے مار رہی ہے۔

Offline
 

ایک آدمی سر راہ اپنے ڈاکٹر سے ملا تو حیرت سے پوچھا؛
جناب آپ اپنا کلینک بند کرکے چپکے سے کہیں چلے گئے اور
کسی کو بتایا تک بھی نہیں۔ ۔ ۔ ایسا کیوں _؟
ڈاکٹر نے حیرت سے کہا: نہیں تو !! میرا کلینک تو ابھی بھی
وہیں پر ہی ہے۔ تمہیں ایسا کس نے بتایا؟
اس آدمی نے کہا؛
آپ کے کیلنک کے نیچے چاول کی دکان والے نے اور اس کے برابر
بیٹھے قصاب نے ۔
ڈاکٹر صاحب سیدھا اس چاول اور قصاب کی دکان پر گئے
اور

Offline
 

پوچھا،
بھائی، تم لوگوں اور میرے بیچ میں ایسی کون سی بات ہو
گئی ہے کہ تم میرے مریضوں کو اوپر میرے کلینک میں
جانے دینے کی بجائے بتاتے ہو کہ میں یہاں سے کلینک بند کرکے
کہیں اور چلا گیا ہوں۔۔ ایسا کیوں کر رہے ہو؟
ان دونوں نے کہا: ڈاکٹر صاحب،
آپ بھی تو جو بھی مریض آتا ہے اسے کہتے ہو کہ چاول نه
کھاؤ، بڑا گوشت نہ کھایا کرو ان سے الرجی ہوتی ہے۔
اگر کام کرنا ہے تو مل کر کرتے ہیں_ ورنه دکان داری بند
ہوگی تو سب کی ہوگی۔

Offline
 

ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اُس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
اس شخص کے لاکھ ہمیں ٹھکرانے کے باوجود یہ دل کیوں بار بار اس کی ٹھوکروں کو بھلا کر أس شخص کے بارے میں سوچنے میں مصروف رہتا ہے۔۔۔کیوں وہ شخص ہماری محبت کو پہچان نہیں پاتا

Offline
 

اگر میں تم سے ان تمام چیزوں کے نام پوچھوں
جو تمہیں پسند ہیں
تو تمہیں کتنا وقت لگے گا
میرا نام لینے میں ؟

Offline
 

اُن لوگوں کے قریب رہیں جو آپ سے پیار کرتے ہیں
اُن کےکانوں میں سرگوشی کریں کہ آپ کو ان کی ضرورت ہے، ان سے پیار کریں اور ان کا خیال رکھیں، اور سوچ سمجھ کر ان کے لئے فقروں کا چناؤ کریں،
جیسے کہ، میں آپ کو سمجھتا ہوں، مجھے معاف کردو، براہ کرم، آپ کا شکریہ، اور محبت کے وہ تمام الفاظ جو آپ جانتے ہیں۔

Offline
 

" مُجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ، تُو نہ مرجائے
کہ زِندگی عبارت ہے تیرے جِینے سے "
میں آپ کو بتلاؤں، اِس راہ میں میری کامرانیوں کا راز کیا ہے؟ میں اپنے دِل کو مرنے نہیں دیتا۔ کوئی حالت ہو، کوئی جگہ ہو، اس کی تڑپ دھیمی نہیں پڑے گی۔ میں جانتا ہوں کہ جہانِ زندگی کی ساری رونقیں اِسی میکدۂ خلوت کے دم سے ہیں۔ یہ اُجڑا، اور ساری دُنیا اُجر گئی۔

Offline
 

اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ
وہ ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے
ماں نے پوچھا ' اُس میں ایسا کیا خوب ہے ؟
تو اُس نے جواب دیا
وہ کتابیں پڑھتی ہے ' آرٹ سمجھتی ہے
پرانے موسیقاروں کو سنتی ہے اور ادب لکھتی ہے

Offline
 

لوگوں پر بھروسہ نہ کرنے کی دو وجوہات ہیں
پہلی: ہم انہیں نہیں جانتے
دوسری: ہم انہیں جانتے ہیں

Offline
 

مسلمان کو مایوس ہونے کا حکم نہیں، شیطان کا اور کام ہی کیا ہے بیٹا
وہ انسان کو اللّٰہ کی رحمت سے مایوس کرتا ہے، آدمی کا معجزے پر یقین ختم کرتا ہے نا
نا بیٹا
مایوسی گناہ ہے گناہ
.
پر بابا جی
.
پر ور کوئی نہیں بیٹا
اوپر والے پر پورا ایمان رکھو ،جن کا ایمان مضبوط ہوتا ہے ان کے لئے ستے خیراں...!
ان کے لئے معجزے ہوتے ہیں
.
اشفاق احمد

Offline
 

ذہانتوں کو کہاں کُرب سے فرار ملا
جِسے نِگاہ ملی ،اُس کو انتظار ملا

Offline
 

منگیتر کے نام خط
جناب بھائی صاحب
آپ کا خط ملا ۔ میں آپ کو ہرگز خط نہ لکھتی لیکن پھر خیال آیا کہ آپ کی بہن میری سہیلی ہے اور کہیں وہ بُرا نہ مان جاۓ ۔ وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ کبھی ایک غیر مرد کو
خط بھیجوں گی امید کرتی ہوں کہ آئندہ خط لکھتے ہوۓ اس بات کا خیال رکھیں گے کہ آپ ایک شریف گھرانے کے ایشیائی لڑکی سے مخاطب ہیں ۔ احتیاطا تحریر ہے ۔ میرا آپ کو خط لکھنا اس امر کا شاہد ہے کہ ہم لوگ کس قدر وسیع خیالات کے ہیں ۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ رشیدہ اور حمیدہ کو جانتے ہیں ۔کلثوم اور رفعت سے بھی واقفیت رہ چکی ہے ۔ ثریا اور اختر کو کو خط لکھا کرتے تھے ۔آپ کو کلب میں ناچتے ہوۓ بھی دیکھا گیا ہےمیں بی اے آنر ز میں پڑھتی ہوں ۔ شام کو مولوی صاحب بھی پڑھانے آتے ہیں ۔آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے مجھے تانگے میں کالج سے نکلتے دیکھا تھا اور میں نے

Offline
 

برقعےکا نقاب الٹ رکھا تھا ۔آپ نے کسی اور کو دیکھ لیا ہوگا اوّل تو میں کالج ہمیشہ کار میں جاتی ہوں دوسرے یہ کہ میں نقاب نہیں الٹا کرتی ہمیشہ برقعہ میرے ہاتھوں میں کتابوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے
آپ کی جن کزن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے کلب میں دیکھا تھا ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ خود وہاں کیا کر رہی تھیں
یہ جن حمید صاحب کا آپ نے ذکر کیا ہے وہی تو نہیں جو گورے سے ہیں ۔ جن کے بال گھنگریالے ہیں اور داہنے ابرو پر چھوتا سا تل ہے ۔گاتے اچھا ہیں ۔روٹھتے بہت جلد ہیں ۔ جی نہیں میں انہیں نہیں جانتی نہ کبھی ان سے ملی ہوں ۔
میری حقیر راۓ میں تو آپ نے آرٹس پڑھ کر بڑا وقت ضائع کیا ہے آپ کی بہن نے لکھا کہ اب آپ کا ارادہ بزنس کرنے کا ہے اگر یہی ارادہ ہے تو پڑھنے کی کیا ضرورت تھی عمر میں گنجائش ہو تو ضرو ر کسی مقابلے کے امتحان میں بیٹھ جائیں اور ملازمت کی کوشش

Offline
 

کیونکہ ملازمت ہر صورت میں بہتر ہے اس کے بغیر نہ پوزیشن ہے نہ مستقبل ۔ یہاں ڈپٹی صاحب کی بیوی ساری زنانہ انجمنوں کی سیکریٹری ہیں اور تقریباً ہر زنانہ جلسے کی صدارت وہی کرتی ہیں دوسرا فائدہ ملازمت کا یہ ہے کہ انگلستان یا امریکہ جانے کے بڑے موقعے ملتے ہیں مجھے یہ دونوں ملک دیکھنے کا ازحد شوق ہے ۔
آپ کی بہن مجھ سے خفا ہیں اور خط نہیں لکھتیں ۔ شکایت تو الٹی مجھے ان سے ہونی چاہئے انہوں نے رُوفی کو وہ بات بتا دی جو میں نے انہیں بتائی تھی کہ اسے نہ بتانا ۔ خیر بتانے میں تو اتنا ہرج نہ تھا لیکن میں نے ان سے تاکید اً کہا تھا کہ اس سے یہ نہ کہنا کہ میں نے ان سے کہا ہے تھا کہ