برقعےکا نقاب الٹ رکھا تھا ۔آپ نے کسی اور کو دیکھ لیا ہوگا اوّل تو میں کالج ہمیشہ کار میں جاتی ہوں دوسرے یہ کہ میں نقاب نہیں الٹا کرتی ہمیشہ برقعہ میرے ہاتھوں میں کتابوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے
آپ کی جن کزن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے کلب میں دیکھا تھا ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ خود وہاں کیا کر رہی تھیں
یہ جن حمید صاحب کا آپ نے ذکر کیا ہے وہی تو نہیں جو گورے سے ہیں ۔ جن کے بال گھنگریالے ہیں اور داہنے ابرو پر چھوتا سا تل ہے ۔گاتے اچھا ہیں ۔روٹھتے بہت جلد ہیں ۔ جی نہیں میں انہیں نہیں جانتی نہ کبھی ان سے ملی ہوں ۔
میری حقیر راۓ میں تو آپ نے آرٹس پڑھ کر بڑا وقت ضائع کیا ہے آپ کی بہن نے لکھا کہ اب آپ کا ارادہ بزنس کرنے کا ہے اگر یہی ارادہ ہے تو پڑھنے کی کیا ضرورت تھی عمر میں گنجائش ہو تو ضرو ر کسی مقابلے کے امتحان میں بیٹھ جائیں اور ملازمت کی کوشش
کیونکہ ملازمت ہر صورت میں بہتر ہے اس کے بغیر نہ پوزیشن ہے نہ مستقبل ۔ یہاں ڈپٹی صاحب کی بیوی ساری زنانہ انجمنوں کی سیکریٹری ہیں اور تقریباً ہر زنانہ جلسے کی صدارت وہی کرتی ہیں دوسرا فائدہ ملازمت کا یہ ہے کہ انگلستان یا امریکہ جانے کے بڑے موقعے ملتے ہیں مجھے یہ دونوں ملک دیکھنے کا ازحد شوق ہے ۔
آپ کی بہن مجھ سے خفا ہیں اور خط نہیں لکھتیں ۔ شکایت تو الٹی مجھے ان سے ہونی چاہئے انہوں نے رُوفی کو وہ بات بتا دی جو میں نے انہیں بتائی تھی کہ اسے نہ بتانا ۔ خیر بتانے میں تو اتنا ہرج نہ تھا لیکن میں نے ان سے تاکید اً کہا تھا کہ اس سے یہ نہ کہنا کہ میں نے ان سے کہا ہے تھا کہ
اس سے نہ کہنا ۔
پتہ نہیں یہ کزن والی کون سی بات ہے جس پر انہوں نے مجھ سے قسم لی تھی کہ روفی تک نہ پہنچے ۔مجھے تو یاد نہیں ۔ویسے میری عادت نہیں کہ دانستہ طور پر کوئ بات کسی کو بتاؤں ۔ اگر بُھولے میں منہ سے نکل جاۓ تو اور بات ہے ۔
خط گھر کے بجاۓ کالج کے پتے پر بھیجا کیجئے اور اپنے نام کی جگہ کوئ فرضی زنانہ نام لکھا کیجئے تاکہ یوں معلوم ہو جیسے کوئ سہیلی مجھے خط لکھ رہی ہے
باقی سب خیریت ہے ۔
فقط
آپ کی بہن کی سہیلی
اور اس خط کا کسی سے ذکر مت کیجئے گا ۔ تاکیداُ عرض ہے
ہر انسان، ہر جاندار، بے جان چیز کا شکریہ جو راحت اور خوشی کا سبب بنی
السلام علیکم
کبھی الفاظ کا چناؤ بھی خوب مزا دیتا ہے مثلاً
"پھر میری اُس سے شادی ہو گئی‘‘
کتنا سادہ جُملہ ہے نا؟
کسی عرب ادیب نے اس جُملے کو یُوں لکھا تھا:
پِھر اُس کے قہقہے میرے گھر گُونجنے لگے
مغرب میں کسی کا بچہ پاس ہوجائے تو وہ تعریف کریں گے یا مبارک دیں گے ۔
ہمارے ہاں کسی کا بچہ بورڈ بھی ٹاپ کرے تو ہم کہیں گے ۔اب پڑھائی ہی آسان ہوگئی ہے۔ یا اس کا چاچا اصل میں لائق تھا
یہ کیا ہے۔ یار ٹیوشنیں پڑھ کے نمبر لینا کون سا کارنامہ ہے۔
اور نہیں تو یہ کہہ دیں گے اس کا دادا میرے سامنے گھوڑی سے گر گیا تھا۔ اب یہ بورڈ ٹاپ کرتے پھرتے ہیں
میرے خیال میں توساتھ دینایہی ہوتاہے
اگر آپ کسی کے لئے بارش کو روک نہیں سکتے
تو اُسکے
ساتھ بارش میں کھڑے ہو جائیں
کسی کو چپ نہیں کروا سکتے
تو اُسکے ساتھ بیٹھ کر رولیں
کسی کی آنکھوں میں نیند نہیں لا سکتے،تو اُسکے ساتھ جاگ لیں
یہ بہت کافی ہے اگرسمجھیں تو
خـوشـبـو سے تِیـرا یوں بھی تـقـابـل نہیں بـنـتـا
سب پھول تِیرے لہجے کی خوشبو سے کِھلے ہیں
دُنـیـا تـو ابـھـی سـات ہـی رنگوں میں ہے الجھی
سـو رنـگ ہـمـیـں تـیـری ہـنـسی میں ہی مِلے ہیں
مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو کسی دوست نے سنایا تھا وہ بتاتے ہیں کہ ان کے گاؤں میں ایک سادہ لوح شخص رہا کرتا تھا وہ بڑا نمازی تھا ۔ اذان سے پہلے ہی مسجد جا بیٹھتا ۔ روزے باقاعدگی سے رکھتا مگر اسے دین کی زیادہ سوجھ بوجھ نہ تھی ۔ بس اتنا پتہ تھا کہ مولوی کے پیچھے نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب ہوتا ہے ۔ روزے رکھتے ہوئے جب اذان ہو جائے تو پھر نہیں کھانا ۔
اس نے کہیں سے یہ بھی سن رکھا تھا کہ اگر روزے ہوں اور سحری کے لیے وقت پر نہ اٹھا جا سکے اور جب آنکھ کھلے تو ابھی دن کی روشنی نہ ہو تو بھی مجبوری میں سحری کی جاسکتی ہے ۔
اتفاق یہ تھا کہ مولوی صاحب کا گھر اس کے گھر کے راستے میں پڑتا تھا ۔ ایک دن اس کے اٹھنے میں تاخیر ہو گئی اور ادھر سے اذان کا بھی وقت ہو گیا اور وہ سحری کرنا چاہتا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا "چل بھلئے لوکے ! جلدی چولہا چاڑھ
مولوی صاحب بانگ دینے والے ہوں گے" ۔
اتنے میں اسے گھر کے سامنے سے مولوی صاحب جاتے ہوئے دکھائی دیے ۔
بس پھر کیا تھا اس نے مولوی صاحب کی منت سماجت کرنی شروع کر دی کہ
" مولوی صاحب تسیں تھوڑی دیر لئے رک جاؤ۔ اساں اجے روزہ نئیں رکھیا " ۔
اب وہ سمجھ رہا تھا کہ جب تک مولوی صاحب اذان نہیں دیں گے تب تک سحری کا وقت شاید ختم نہیں ہو گا۔
اسی طرح میرے دوست نے بتایا کہ جب کبھی وہ لیٹ ہوجاتا تو اچھی طرح سے دروازہ بند کر لیتا تاکہ اسے روشنی نظر نہ آئے اور جلدی جلدی سحری کر کے پھر کہیں جا کر دروازہ کھولتا ۔
خواتین و حضرات ! ہمیں ایسے لوگوں کے بارے میں کمنٹس پاس نہیں کرنے ۔ ان لوگوں کا معاملہ ڈائریکٹ اللّٰہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 3
میں نے جب تمہیں پہلی بار دیکھا
تب مجھے معلوم ہوا دل کا دھڑکنا کسے کہتے ہیں
باغوں کی حقیقت کیا ہے
پھول کے ساتھ خوشبو کا تعلق کیوں ہے
اور چاند کی روشنی اور تاروں کی چھاؤں کی ٹھنڈک
اور دن کی خوشگواری
اور مسکرانا کیا ہوتا ہے
تم سے شناسائی زندگی کے روشن پہلؤوں سے آگاہی تھی
"A heart that beats at your approach, an eye that weeps when you go away are things so rare, so sweet, so precious that they must never be despised."
"ایک دل جو آپ کے قریب آنے پر دھڑکتا ہے، ایک آنکھ جو آپ کے جانے پر روتی ہے، چیزیں اتنی نایاب، اتنی پیاری، اتنی قیمتی ہیں کہ انہیں کبھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔"
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭی
ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ . .
ﻓﮑﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ تو ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺎنتی بھی ﻧﮩﯿﮟ تھی
میرا دل چاہتا ہے
کہ میں تمہارے وجود میں
بے ادب ٹہلا کروں
مگر
تم نے اپنے دماغ کی فصیلوں سے دل کے حجرے کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے
میرا دل چاہتا ہے
ان فصیلوں پر ننگے پاؤں بھاگا کروں
دل کے حجرے میں بے ادب
بیٹھا کروں
وہ انسان ہی نہیں ،
جو خوبصورتی سے متاثر نہ ہو۔
خوبصورتی کے بہت سارے رنگ روپ ہیں ۔
خوبصورت انسان ،
خوبصورت نظارہ ،
خوبصورت لمحہ،
اللہ کی خوبصورت کائنات۔
ان سب خوبصورتیوں سے بڑھ کے ایک خوبصورتی ہے،
جو لازوال ہے،
جو لافانی ہے،
اس خوبصورتی کو اندیشہ خزاں نہیں ۔
یہ خوبصورتی سوچ، فکر اور اعلٰی نظریہ کی ہوتی ہے۔ یہ انسان کے کردار کو ڈھالتی ہے، اس کو تراشتی ہے، اس کی ذات کو اور انسانوں کے لیے مفید اور دلکش بناتی ہے، انسانیت کے لیے مر مٹنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور انسان کی ذات میں کائنات کی ساری خوبیاں،اچھائیاں جمع کر دیتی ہیں ۔ سوچ، فکر اور نظریہ جتنا اعلٰی ، برتر وارفع ہوگا، انسان اتنا ہی خوبصورت ہوگا۔
ایک آدمی ماہر نفسیات کے پاس گیا , کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب : میں احساس کمتری کا شکار ہوں, اعتماد نہیں رہا اور خود کو انتہائی گھٹیا سمجھنے لگا ہوں
ماہر نفسیات نے دو گھنٹے اسکے خیالات سنے , نظریات سنے اسکے ساتھ کھل کر بات کی, بغور جائزہ لیا اور مسلسل نوٹس لیتا رہا .
گفتگو ختم ہوئی تو ماہر نفسیات نے نوجوان کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوے کہا کہ تمہیں احساس کمتری بالکل بھی نہیں ہے ۔ تمہارا بغور معائنہ کرنے او دو گھنٹے مسلسل تُم سے بات کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تم دراصل ہو ہی ایک گھٹیا انسان۔
اک شخص نے لکھ کر بھیجا ہے " تم بھی آنا"
جگنو، کلیاں اور چاند ستارے آئیں گے !
میں اکثر سوچتا رہتا ہوں اور ہنستا ہوں
ہم اِک تصویر میں کتنے پیارے آئیں گے
انسان کو "مأمون الجانب" ہونا چاہیے یعنی جو اس کے قریب آنا چاہے وہ آ سکے اور جو دُور جانا چاہے وہ جا سکے۔ قریب ہونے والے کو تحفظات ہوں نہ دُور ہونے والے کو خطرات ۔
پیچیدگیوں، گُھنڈیوں اور پہیلیوں سے پاک روح، کینہ پالنے،
راز کھولنے، بدلہ لینے سے نا واقف دِل "مُرّوا بالخير" کی تصویر
ہو۔ لوگ امن امان سے اُس کی زندگی میں آئیں اور خیریت و سلامتی سے چلے جائیں۔
اُس کے نام
جس کے سب نام ھیں
جسے کسی نام کے بغیر بھی
پُکارا جا سکتا ھے۔
یاد کیا جا سکتا ھے۔
السلام علیکم
تمہارا احساس، جیسے بارش کے بعد کچّی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain