تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اُسے چاہتا ہوں جو بھی اُس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ اُس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمھیں علم نہیں چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا اُس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ہے یہاں دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا بزم . جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
کبھی کبھی ایک شدید خواہش .... چلو کسی کے گھر چلتے ہیں جس کے گھر کے دروازے پر دربانوں کا راج نہ ہو جس کے گھر پر یوں جانے میں ہم کو بھی کچھ لاج نہ ہو جس کے گھر کی دیواروں پر اُکتاہٹ کا رنگ نہ ہو جس کے ہونٹوں پر خوشبو ہو لیکن دل میں زنگ نہ ہو جس کی پیشانی چوڑی ہو لیکن سینہ تنگ نہ ہو جس کی روشن روشن آنکھیں ہم کو دیکھ کے کھل جائیں اتنی خوشی سے ملے وہ ہم سے جیسے صدیوں کے بچھڑے دو یار اچانک مل جائیں چلو کسی کے گھر چلتے ہیں ۔
ایہہ وی کوئی گالھ اے مِٹھا تیکو تیڈے بارے ہنڑ میں کیویں ڈساں اچھا پہلے اے تاں ڈس چا تیں کملی دا دل رکھڑاں ہے یا میں تیکو سچ سچ ڈساں اچھا ہنڑ ناراض تاں نا تھی اچھا میں ڈئیں ڈیکھ تاں سئی ہنڑ اچھا توں ہنڑ سنڑدی آ وت رات اندھاری دے وچ جیکر ڈیوا بالو یکدم جھہڑا چاننڑ تھیندائے... اوہا توں ہیں جیویں تس توں مردے پکھڑو نوں کوئی آنڑ بچائے اوں دے مونہہ ءچ قطرہ قطرہ زندگی دا ٹپکاوے چا تَس توں مردا پکھڑو میں ہاں رب سوہنڑے دی ذات اے جہڑی آنڑ سنبھالئے قطرہ قطرہ زندگی توں ایں بلھے شاہ دے دوہڑے دا میں چوتھا مصرعہ پہلے ترہیں مصرعے توں ایں اچھا ہنڑ وت روندی کیوں ایں سنڑ نئیں سگدی پچھدی کیوں ایں
پُوچھ اُس شخص سے جِس کو تُو میسر ہی نہیں آنکھ بھر کے تُجھے تَکنے کی سہولت کیا ہے یاد کرنا تُجھے خُود ہی کئی پہروں , لیکن خُود ہی پِھر سوچتے رہنا کہ یہ عادت کیا ہے
پانچویں جماعت میں میں نے ایک دفعہ شاہ جہاں کے باپ کا نام ہمایوں بتا دیا تھا اور ماسٹر فاخر حسین نے مرغا بنا دیا تھا ۔ وہ سمجھے میں مذاق کر رہا ہوں یہ غلطی نہ بھی کرتا تو اور کسی بات پر مرغا بنا دیتے ۔ اپنا تو طالب علمی کا زمانہ اسی پوز میں گزرا۔ بینچ پر آنا تو اس وقت نصیب ہوتا تھا جب ماسٹر کہتا کہ " اب بینچ پر کھڑے ہو جاؤ،" اب بھی کبھی کبھی طالب علمی کے زمانے کے خواب آتے ہیں تو یا تو خود کو مرغا بنے دیکھتا ہوں یا اخبار پڑھتا ہوا دیکھتا ہوں ،جس میں میرا رول نمبر نہیں ہوتا تھا ۔ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن حال ہی میں یورپ اور امریکہ کا دورہ کر کے آئے
ہیں ۔سنا ہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک نے مرغا بنانے کا پوز "ڈسکور" ہی نہیں کیا۔ میں نے تو عاجز آکر اپنی ترکی ٹوپی پہننا ہی چھوڑ دی تھی ۔مرغا بنتا تو اس کا پھندنا آنکھوں سے ایک انچ کے فاصلے پر تمام وقت پنڈولم کی طرح جھولتا رہتا تھا دائیں بائیں ۔پیریڈ کے آخر میں ٹانگیں بری طرح کانپنے لگتیں تو پھندنا آگے پیچھے جھولتا رہتا ۔ اس میں ترکوں کی توہین کا پہلو بھی نکلتا تھا جسے میری قومی غیرت نے گوارہ نہ کیا۔" ( مشتاق احمد یوسفی ۔ "آبِ گم " سے اقتباس )
محبت بھی مصیبت ہے کریں کیا مگر اپنی ضرورت ہے کریں کیا ہمارے پاس اک لمحہ نہیں ہے اسے فرصت ہی فرصت ہے کریں کیا تجھے کھونے کا ڈر اپنی جگہ ہے تجھے پانے کی حسر ت ہے کریں کیا مسلسل دیکھنے سے مت خفا ہو یہی اپنی عبادت ہے کریں کیا ہمیں مرنا پٹرا خوش فہیموں میں اسے ہسنے کی عادت ہے کریں کیا کوئی ماحول راس آتا نہیں ہے جہا ں جائیں اذیت ہے کریں کیا ہم اس سے بچ کر چلنا چاہتے ہیں مگر وہ خوبصورت ہے کریں کیا ہمیشہ سچ نکل جا تا ہے منہ سے کچھ ایسی ہی طبعیت ہے کریں کیا ستم دل پر نہ کوئی ہم سہتے مگر اس کی حکو مت ہے کریں کیا