روشنی جو آنکھوں کو خیرہ کر دے راستہ نہیں دکھاتی۔ روشنی جو مدہم ہو دھیمی ہو دور ہو راہ نما ہوتی ھے ۔
لڑکی کے سگھڑاپے کی
ایک جدید شکل یہ بھی ہے کہ
وہ کچن میں کام کے ساتھ ساتھ
فیس بک ، واٹس ایپ ، انسٹا ٹویٹر اور ڈی ڈی
بھی نمٹانا جانتی ہو
آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے
جب میں چلتا ہوں تیرے کو چہ سے کترا کے کبھی
دل مجھے پھیر کے کہتا ہے ادھر کو چلیۓ
کو چہ یار میں ہو گا کہی مصروف طواف
دل اگر سینے میں ہوتا تو دھڑکتا ہوتا
بچپن اچھا تھا تب میں بہت معصوم بھولا بھالا تھا جہاں بٹھا دیا بیٹھ گیا جو کھلا دیا کھا لیا
یہ میرا کہنا ہے
گھر والوں کے خیالات زرا مختلف ہیں
مجھ کو معلو م نہ تھی ہجر کی یہ رمز کہ
تو
جب میرے پاس نہ ہو گا تو ہر سو ہو گا
میں سوچ سکتا ہوں لیکن بتا نہیں سکتا
تمہارا ہجر مری سانس روک لیتا ھے
میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کے میری بات ، خوشبو کی طرح اڑ کے تیرے ذہن پہ اترے
تیری قربت کے لمحے پھول جیسے
مگر پھولوں کی عمریں مختصر۔
اُردو کا اُستاذ ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پیپر چیک کرتے ہوئے بندے کو اُکتاہٹ نہیں ہوتی اور بندہ مسلسل مسکراتا ہی رہتا ہے ۔
مضمون نگاری کے حوالے موضوع تھا کہ "" جدید دور میں اولاد اور والدین کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جا رہے ہیں """ تبصرہ کیجیے
ایک بچے نے اپنے مضمون میں بہت ہی شاندار دلائل کے ہمراہ لکھا کہ "" جدید نسل اور والدین کے درمیان بڑھتے فاصلے ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے والدین کی شادیاں سولہ ، سترہ یا بیس سال کی عمر میں ہو گئی تھیں جبکہ جدید نسل کو چوبیس سال کی عمر تک تعلیم کے بہانے اکیلا رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد اچھی نوکری حاصل کرنے میں تین چار سال مزید لگ جاتے ہیں ۔ جدید نسل اپنے بزرگوں
کی چالاکیاں خوب سمجھتی ہے ۔ خود تو اپنے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف جدید نسل دیر سے شادی ہونے کی وجہ سے شاید ہی اپنی اولاد کو بھی جوان ہو کر برسرِ روزگار ہوتا دیکھ سکے ۔
والدین اگر چاہتے ہیں کہ اُن کی اولاد خوش رہے تو والدین کو اپنے بزرگوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کی دوران تعلیم ہی شادی کر دینی چاہیے تا کہ جدید نسل اور والدین کے درمیان خوشگوار ماحول قائم ہو سکے ۔ جہاں تک بات رزق کی ہے ، اس کی گارنٹی تو ڈگری کے بعد بھی نہیں اور ڈگری کے بغیر بھی لوگ یہاں گورنر بن کر یونیورسٹیوں کے چانسلر لگ رہے ہیں اور ڈگریاں بانٹ رہے ہیں """
تجھ سے بات کرنے کے بعد ہم
تیری کی ہوئی باتوں سے باتیں کرتے ہیں
ایک بار منیر نیازی صاحب نے بتایا کہ اس سے زیادہ بے عزتی کبھی نہیں ھوئی، کہ ہوا یوں کہ وہ ایک تانگے میں سوار ہوئے۔ اس تانگے کی ایک اور تانگے والے سے ٹھن گئی۔ اب دونوں تانگے نہایت خطرناک انداز میں بھاگنے لگے۔۔
منیر نیازی اور دیگر سواریوں نے گھبرا کر شور مچادیا کہ تانگے کی رفتار کم کرو۔ جب اصرار بڑھا تو کوچوان نے مقابل کوچوان کو یہ کہتے ہوئے گھوڑے کی لگامیں کھینچ لیں کہ
" پْتر جے میریاں سواریاں بے غیرت نہ ہوندیاں تے تینوں دسدا
پاس الفت نہ سہی میرا بھرم ہی رکھ لے
میں نے لوگوں کو تجھے اپنا بتا رکھا ہے
گلی یا فٹ پاتھ پر چلتے مخالف سمت سے آتے کسی اجنبی انسان سے جب بھی آنکھیں چار ہوتی ہیں کچھ دیر کیلئے آپ دونوں کنفیوز ہو جائیں گے. آپ نے دائیں طرف سے اس کے ساتھ گزرنے کا فیصلہ کیا یا بائیں طرف سے، وہ بھی اسی سمت آجائے گا آپ فوری پوزیشن بدلیں گے لیکن یہی وہ بھی کرے گا یہاں تک کے آپ لوگ امنے سامنے ہو جائیں گے.
یہ عام مشاہدہ ہے. سائیکل موٹر-سائیکل والے کی آنکھوں میں دیکھ کر بھی یہی کنفیوژن ہوتی ہے. لیکن اگر آپ گلی سڑک بازار میں اپنے آپ میں مگن کسی کو نوٹس کئے بغیر چل رہے ہوں تب
یہ احمقانہ دائیں بائیں کے فیصلے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی. کیونکہ ہم انسان تقریباً ایک جیسے فیصلے کرتے ہیں لیکن سمجھتے ہیں شائد میرا فیصلہ الگ ہے.
آپ کا فیصلہ الگ تب ہوتا ہے جب آپ یہ اپنے لئے کریں. دوسروں کو دیکھ کر اپنی سمت جب بھی طے کریں گے پوزیشن بار بار بدلنی پڑے گی. اس لئے بار بار کہا جاتا ہے اپنی زندگی کو ایک مقصد دیں. ایسا مقصد ایسی منزل جو آپ کو ادھر اُدھر دیکھنے ہی نہ دے آپ اپنی ذات میں مگن پھر چلتے جائیں گے. نہ کوئی ٹکراؤ ہوگا نہ بیچ راستے کی کنفیوژن ہوگی.
خدا کرے کہ وہی بات اس کے دل میں ہو
جو بات کہنے کی ہمت جتا رہا ہوں میں..
کچھ لڑکیوں کو تعریف کا اس حد تک شوق ہوتا ہے کہ گھر میں پالی گئی بلی کو بھی پکڑ پکڑ کے پوچھ رہی ہوتی ہیں "آج میں پیاری لگ رہی ہوں نا
مجھے ہر اُس آہٹ سے محبت ہے جو تمھاری موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔
شب بخیر
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain