کیا آپ کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ھے۔
جو میسج رپلائے کے لیئے۔
بتی بجھنے کا انتظار کرتے ہیں
ایک بار مرزا مسکین کی محبُوبہ نے مرزا سے کہا:"دُوسرے عشاق کے برعکس جو محض اپنی محبُوباؤں سے یہ کہتے ھیں کہ ھم آسمان سے تارے توڑ لایئں گے یا فرط جذبات میں آ کر آسمان سے چاند اُتارنے کا وعدہ کرتے ھیں آپ میرے لیے کچھ ایسا کر سکتے ھیں جو حقیقی بھی ھو اور اُن سے بڑھ کے بھی ھو؟"
اِس پر مِرزا بڑے اطمینان سے بولے ، "میں آپ کے قدموں تلے جنت لا سکتا ھُوں
"مشتاق احمّد یُوسفی"
کچھ لوگ بلا وجہ ہی اچھے لگتے ہیں ان سے کوئی مفاد نہیں ہوتا لیکن پھر بھی دل کرتا ہے سامنے رہیں اور مسلسل رہیں
غم
یہ سب چاند ، تارے
بہاریں خزائیں ، بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے
ترا حُسن , میری نم آلود آنکھیں
تصور کے ایواں ، نگاہوں کی کلیاں ، لبوں کے فسانے
یہ سب میرے سانسوں کے جادوگری ہے
مگر پھر بھی مجھ کو یہ غم ہے کہ جب میں مروں گا
یہ سب چاند ، تارے
بہاریں ، خزائیں
بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے
ترا حُسن ، دنیا کے رنگیں فسانے
یہ سب مل کے زندہ رہیں گے
فقط اک مری اشک آلود آنکھیں نہ ہوں گی ـــــ !
وہ مجھ کو خواب دکھاتا رہا ستاروں کے
زمیں سے میرا تعلق مگر نہیں سمجھا
"ماہرین کا خیال ہے کہ عورتوں کو سنجیدہ مرد اس لئے پسند ہیں کہ انہیں یونہی وہم سا ہو جاتا ہے کہ ایسے حضرات ان کی باتیں غور سے سنتے ہیں۔"
الجھن
مجھے یہ خوف ہے
وہ نباہ کے کسی مرحلے پہ
آ کے یہ کہہ دے کہ، اب نہیں
'میرے دل کو تیری طلب نہیں'
دو قومی نظریہ
ایک بیکری پر کیک سلائیس لینے گیا۔
مجھ سے آگے ایک جوان خاتون موجود تھیں۔ انہوں نے کاونٹر بوائے سے شوکیس میں لگی پیسٹریوں کے متعلق پوچھا۔
سیلز مین کچھ یوں بتانے لگا:
"میم ۔۔۔ یہ بلیک فاریسٹ ہے ، یہ ہنی آلمنڈ ہے ، یہ ریڈ ویلوٹ ہے، یہ تھری ملک ہے ، اور یہ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔۔۔۔۔"
اس خاتون نے کچھ سلیکٹ کیا اور سائیڈ پہ ہو گئیں۔
میں نے اپنی باری آنے پر، اُسی سیلز مین سے پوچھا:
"اس والے شوکیس میں کون کون سی پیسٹریز ہیں؟"
مجھے جواب ملا ۔
"یہ اس طرف سو والی ہیں اور یہ ڈیڑھ سو والی" :
کہنے کو کوئی بات نہیں ہے ہمارے پاس
اور ہم یہ بات سب کو بتاتے بھی خود ہی ہیں
منزلوں سے بھی ہوں گزر آیا
جا رہا تھا کدھر ، کدھر آیا
ایک بس موڑ مڑ گیا تھا غلط
پھر نہ رستہ ملا نہ گھر آیا
سب کی قسمت میں اک کنارا تھا
میرے حصے میں بس بھنور آیا
کوئی طوفاں ، وبا ، عذاب اترا
سب سے پہلے وہ میرے در آیا
بڑے خوش بخت ہیں اندھیرے یہ
دیا ہی بعد از سحر آیا
تجھ کو اپنا ہی تھا سمجھ بیٹھے
خود میں ہم کو تھا کیا نظر آیا
ہم نے دل کھول کر وفا کی تھی
تازہ تازہ تھا یہ ہنر آیا
بھر گیا ہے کسی کا جی ہم سے
بس یہی سوچ کے جی بھر آیا
سوچا مر کے سکون پائیں گے
اک نیا دردِ سر نظر آیا
اک محبت بھلانے کو ابرک
اک محبت نئی میں کر آیا
اُس کو دیکھا نہ اُس سے بات ہُوئی
ربط جتنا تھا , غائبانہ تھا
مُنیرؔ نیــازی
سارے وہم تیرے اپنے ہیں
ہم کہاں تُجھے بُھول پائیں گے
"ہمارے شہر کی طرف آؤ تو مِلتی ہوئی جانا، میں اپنی نرسری کی کیاریوں سے سارے خُوبصورت پُھول توڑ کر تمہارے بیگ کی کُھلی پاکٹس میں اَڑا دونگا تاکہ تُمہارا واپسی کا سفر مہکتا ہوا گُزرے"
اگر آپ کسی رائٹر کی محبت ہیں تو آپ کبھی مر نہیں سکتے
ہمیشہ الفاظ کی صورت زندہ رہیں گے
(میرے کو بھی رائٹر کی محبت بننا ہے)
شوہر جِم سے ایکسر سائز کر کے واپس آیا اور کچن میں کھڑی بیوی سے بولا
بیگم یہ دیکھو میرے ایبز
" abs "
پیاز کاٹتی بیگم شوہر کی طرف دیکھے بغیر بولی
مجھے تو شروع دن سے تمھارے اندر عیب ہی عیب نظر آ رہے ہیں
شُکر ھے آج تمھیں بھی اپنے عیب نظر آ ہی گئے
ِاس سُندر شیتل شام سمے، ہاں بولو بولو پِھر کیا ہو؟
وہ جِس کا ملنا ناممکن!
وہ مِل جائے تو کیسا ہو۔۔۔۔۔!
انشاء جی
کہتے ہیں کچھ لوگ آپکے لیے آبِ حیات ہوتے ہیں۔ جو آپکو تا حیات زندگی بخشتے ہیں۔ جانتے ہیں میری زندگی میں اپکا کردار بھی اُس ابِ حیات جیسا ہے۔
نوٹ:– دوست کے منگیتر کے لیے لکھے گئے کنٹینٹ میں سے کچھ سطریں۔)–
یاد جے نا۔۔۔
چڑئیے چڑئیے پھٹی سکا
نئیں سکاؤنی، جنگلے جا
جنگلے پئی لڑائی
چڑی دی مر گئی تائی
چڑی نے ونڈے دانے
میں نئیوں کھانے
کھا گیا بٹیرا
ناں لگ گیا میرا
کالا چور پھڑیا سی
کوٹھے اتے چڑھیا سی
اتوں ماری چھال
ڈگ پیا سی مال
مال گیا مُک
تختی گئی سُک
بچپن میں اپنے دو طرح کے ساتھی تھے۔ ایک وہ لڑکے تھے جو اِتراتے ھُوئے آتے اور بتایا کرتے تھے کہ ھمارے گھر گراموفُون آیا ھے ، ھمارے بڑے بھائی نے سائیکل خریدی ھے ، ھمارے تایا جان ڈپٹی ھو گئے ھیں۔
دُوسری قسم کے وہ لڑکے تھے جو آنکھوں میں حیرت لیے دوڑے دوڑے آتے اور بتاتے کہ ھماری کنگنی پر چڑیا نے گھونسلہ بنایا ھے یا یہ کہ سکول کے پچھواڑے والے درخت پر جو فاختہ نے گھونسلہ بنایا تھا اب اس نے انڈے دیے ھیں۔ یا یہ کہ فلاں نیم کی کھکھل میں طوطے کے بچے نکلے ھیں۔
مگر اب شہر
پھیلتے جا رھے ھیں اور ٹرانسسٹر دیہات تک میں پہنچ گیا ھے۔ اب لڑکوں کو یہ اِطلاع تو ھوتی ھے کہ فلاں پکچر ھاؤس میں فلاں فلم لگی ھے مگر اُنہیں گھر کے اونچے طاقوں میں رکھے ھُوئے گھونسلوں اور کیاری میں کِھلے پُھولوں کی خبر نہیں ھوتی۔
شاید اب ھمارے گھر اِتنے صاف سُتھرے رھنے لگے ھیں کہ چِڑیاں اُن میں گھونسلہ بنا ھی نہیں سکتیں۔
"ناصر کاظمی"
"خشک چشمے کے کنارے"سے اِفتباس
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain