Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کیا آپ کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ھے۔
جو میسج رپلائے کے لیئے۔
بتی بجھنے کا انتظار کرتے ہیں

Offline
 

ایک بار مرزا مسکین کی محبُوبہ نے مرزا سے کہا:"دُوسرے عشاق کے برعکس جو محض اپنی محبُوباؤں سے یہ کہتے ھیں کہ ھم آسمان سے تارے توڑ لایئں گے یا فرط جذبات میں آ کر آسمان سے چاند اُتارنے کا وعدہ کرتے ھیں آپ میرے لیے کچھ ایسا کر سکتے ھیں جو حقیقی بھی ھو اور اُن سے بڑھ کے بھی ھو؟"
اِس پر مِرزا بڑے اطمینان سے بولے ، "میں آپ کے قدموں تلے جنت لا سکتا ھُوں
"مشتاق احمّد یُوسفی"

Offline
 

کچھ لوگ بلا وجہ ہی اچھے لگتے ہیں ان سے کوئی مفاد نہیں ہوتا لیکن پھر بھی دل کرتا ہے سامنے رہیں اور مسلسل رہیں

Offline
 

غم
یہ سب چاند ، تارے
بہاریں خزائیں ، بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے
ترا حُسن , میری نم آلود آنکھیں
تصور کے ایواں ، نگاہوں کی کلیاں ، لبوں کے فسانے
یہ سب میرے سانسوں کے جادوگری ہے
مگر پھر بھی مجھ کو یہ غم ہے کہ جب میں مروں گا
یہ سب چاند ، تارے
بہاریں ، خزائیں
بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے
ترا حُسن ، دنیا کے رنگیں فسانے
یہ سب مل کے زندہ رہیں گے
فقط اک مری اشک آلود آنکھیں نہ ہوں گی ـــــ !

Offline
 

وہ مجھ کو خواب دکھاتا رہا ستاروں کے
زمیں سے میرا تعلق مگر نہیں سمجھا

Offline
 

"ماہرین کا خیال ہے کہ عورتوں کو سنجیدہ مرد اس لئے پسند ہیں کہ انہیں یونہی وہم سا ہو جاتا ہے کہ ایسے حضرات ان کی باتیں غور سے سنتے ہیں۔"

Offline
 

الجھن
مجھے یہ خوف ہے
وہ نباہ کے کسی مرحلے پہ
آ کے یہ کہہ دے کہ، اب نہیں
'میرے دل کو تیری طلب نہیں'

Offline
 

دو قومی نظریہ
ایک بیکری پر کیک سلائیس لینے گیا۔
مجھ سے آگے ایک جوان خاتون موجود تھیں۔ انہوں نے کاونٹر بوائے سے شوکیس میں لگی پیسٹریوں کے متعلق پوچھا۔
سیلز مین کچھ یوں بتانے لگا:
"میم ۔۔۔ یہ بلیک فاریسٹ ہے ، یہ ہنی آلمنڈ ہے ، یہ ریڈ ویلوٹ ہے، یہ تھری ملک ہے ، اور یہ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔۔۔۔۔"
اس خاتون نے کچھ سلیکٹ کیا اور سائیڈ پہ ہو گئیں۔
میں نے اپنی باری آنے پر، اُسی سیلز مین سے پوچھا:
"اس والے شوکیس میں کون کون سی پیسٹریز ہیں؟"
مجھے جواب ملا ۔
"یہ اس طرف سو والی ہیں اور یہ ڈیڑھ سو والی" :

Offline
 

کہنے کو کوئی بات نہیں ہے ہمارے پاس
اور ہم یہ بات سب کو بتاتے بھی خود ہی ہیں

Offline
 

منزلوں سے بھی ہوں گزر آیا
جا رہا تھا کدھر ، کدھر آیا
ایک بس موڑ مڑ گیا تھا غلط
پھر نہ رستہ ملا نہ گھر آیا
سب کی قسمت میں اک کنارا تھا
میرے حصے میں بس بھنور آیا
کوئی طوفاں ، وبا ، عذاب اترا
سب سے پہلے وہ میرے در آیا
بڑے خوش بخت ہیں اندھیرے یہ
دیا ہی بعد از سحر آیا
تجھ کو اپنا ہی تھا سمجھ بیٹھے
خود میں ہم کو تھا کیا نظر آیا
ہم نے دل کھول کر وفا کی تھی
تازہ تازہ تھا یہ ہنر آیا
بھر گیا ہے کسی کا جی ہم سے
بس یہی سوچ کے جی بھر آیا
سوچا مر کے سکون پائیں گے
اک نیا دردِ سر نظر آیا
اک محبت بھلانے کو ابرک
اک محبت نئی میں کر آیا

Offline
 

اُس کو دیکھا نہ اُس سے بات ہُوئی
ربط جتنا تھا , غائبانہ تھا
مُنیرؔ نیــازی

Offline
 

سارے وہم تیرے اپنے ہیں
ہم کہاں تُجھے بُھول پائیں گے

Offline
 

"ہمارے شہر کی طرف آؤ تو مِلتی ہوئی جانا، میں اپنی نرسری کی کیاریوں سے سارے خُوبصورت پُھول توڑ کر تمہارے بیگ کی کُھلی پاکٹس میں اَڑا دونگا تاکہ تُمہارا واپسی کا سفر مہکتا ہوا گُزرے"

Offline
 

اگر آپ کسی رائٹر کی محبت ہیں تو آپ کبھی مر نہیں سکتے
ہمیشہ الفاظ کی صورت زندہ رہیں گے
(میرے کو بھی رائٹر کی محبت بننا ہے)

Offline
 

شوہر جِم سے ایکسر سائز کر کے واپس آیا اور کچن میں کھڑی بیوی سے بولا
بیگم یہ دیکھو میرے ایبز
" abs "
پیاز کاٹتی بیگم شوہر کی طرف دیکھے بغیر بولی
مجھے تو شروع دن سے تمھارے اندر عیب ہی عیب نظر آ رہے ہیں
شُکر ھے آج تمھیں بھی اپنے عیب نظر آ ہی گئے

Offline
 

ِاس سُندر شیتل شام سمے، ہاں بولو بولو پِھر کیا ہو؟
وہ جِس کا ملنا ناممکن!
وہ مِل جائے تو کیسا ہو۔۔۔۔۔!
انشاء جی

Offline
 

کہتے ہیں کچھ لوگ آپکے لیے آبِ حیات ہوتے ہیں۔ جو آپکو تا حیات زندگی بخشتے ہیں۔ جانتے ہیں میری زندگی میں اپکا کردار بھی اُس ابِ حیات جیسا ہے۔
نوٹ:– دوست کے منگیتر کے لیے لکھے گئے کنٹینٹ میں سے کچھ سطریں۔)–

Offline
 

یاد جے نا۔۔۔
چڑئیے چڑئیے پھٹی سکا
نئیں سکاؤنی، جنگلے جا
جنگلے پئی لڑائی
چڑی دی مر گئی تائی
چڑی نے ونڈے دانے
میں نئیوں کھانے
کھا گیا بٹیرا
ناں لگ گیا میرا
کالا چور پھڑیا سی
کوٹھے اتے چڑھیا سی
اتوں ماری چھال
ڈگ پیا سی مال
مال گیا مُک
تختی گئی سُک

Offline
 

بچپن میں اپنے دو طرح کے ساتھی تھے۔ ایک وہ لڑکے تھے جو اِتراتے ھُوئے آتے اور بتایا کرتے تھے کہ ھمارے گھر گراموفُون آیا ھے ، ھمارے بڑے بھائی نے سائیکل خریدی ھے ، ھمارے تایا جان ڈپٹی ھو گئے ھیں۔
دُوسری قسم کے وہ لڑکے تھے جو آنکھوں میں حیرت لیے دوڑے دوڑے آتے اور بتاتے کہ ھماری کنگنی پر چڑیا نے گھونسلہ بنایا ھے یا یہ کہ سکول کے پچھواڑے والے درخت پر جو فاختہ نے گھونسلہ بنایا تھا اب اس نے انڈے دیے ھیں۔ یا یہ کہ فلاں نیم کی کھکھل میں طوطے کے بچے نکلے ھیں۔
مگر اب شہر

Offline
 

پھیلتے جا رھے ھیں اور ٹرانسسٹر دیہات تک میں پہنچ گیا ھے۔ اب لڑکوں کو یہ اِطلاع تو ھوتی ھے کہ فلاں پکچر ھاؤس میں فلاں فلم لگی ھے مگر اُنہیں گھر کے اونچے طاقوں میں رکھے ھُوئے گھونسلوں اور کیاری میں کِھلے پُھولوں کی خبر نہیں ھوتی۔
شاید اب ھمارے گھر اِتنے صاف سُتھرے رھنے لگے ھیں کہ چِڑیاں اُن میں گھونسلہ بنا ھی نہیں سکتیں۔
"ناصر کاظمی"
"خشک چشمے کے کنارے"سے اِفتباس