آپ جس سے بہت زیادہ پیار کرتے ھیں اُس کی عَدم موجُودگی میں آپ یتیم ھی رھیں گے چاھے ساری دُنیا آپ کو گلے لگا لے۔
"عربی کہاوت"
انداز اپنا دیکھتےہیں آئینے میں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
کوئ حسین ، دلرباء ، مہ جبین ، ، پھول_تاشقند ، ، غزال آنکھوں والی ، ملکہ_زنان مجھ سے پھر فرمانے لگیں
یا اللہ مجھ میں بھی عمیرہ احمد نمرہ احمد کے ناولوں کی ہیروئنوں کی روح بھر دے
میں بھی یہ نیستی پوستی چھوڑ کے تہجد کے وقت اٹھ کے نوافل ادا کروں۔۔۔ پھر چڑیوں کو باجرہ ڈال کے فجر ادا کر کے زبردست سا ناشتہ تیار کر کے فکس سات بجے ہلکے سے بلش آن۔۔۔۔کاجل آئی لائنر۔۔۔لپ اسٹک۔۔۔لپ گلوز۔۔۔مہندی اور نیل پالش لگا کے قیمتی نازک سا جیولری سیٹ پہن کے۔۔ایک کلائی میں بریسلٹ اور ایک میں گھڑی پہن کے ہاتھ میں ہیرے کی انگوٹھی پہنے انتہائی سادہ سا لان کا آٹھ ہزار کا
سوٹ پہنوں اور اسی سادگی و غربت بھرے مسکین انداز میں اپنے سکول نئی کرولا میں روانہ ہو جاؤں۔۔۔ نیز۔۔۔۔۔واپس آ کے اپنے گھر کی تفصیلی صفائی کرتی ہوئی محلے کے دس گھروں کے آگے سے جھاڑو لگا کے واپس آؤں تو گھر والوں کے ساتھ ایدھی ہاؤس کے مسکینوں کے بھی کپڑے دھو ڈالوں پھر دیگیں چڑھا کے دس رنگ کے کھانے بناؤں اور،اہلیان شہر کی حسب معمول دعوت کروں۔۔۔۔۔ اور پھر رات کو سارا کام مکمل کر کے چراغ کی روشنی میں امی کے دوپٹے پہ کشیدہ کاری کروں۔۔۔ اور پھر اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسس ورک پہ نگاہ غلط ڈال کے خوابوں میں ورلڈ ٹور پہ روانہ ہو جاؤں
کبھی کبھی وہ ہمیں بے سبب بھی ملتا ہے،
اثر ہوا نہیں ہے اُس پر ابھی زمانے کا
توجہ کی کمی سے
مر بھی سکتے ہیں
پُھول پودے
اور یہ اِنسان وغیرہ۔
نَفَحاتُ وَصلِکَ اَوقَدَت، جَمَراتُ شَوقِکَ فِی الحَشا
ز غمت به سینه کم آتشی، که نزد به سینه کما تشا
ترجمہ: آپ کے وَصل کی خوشبوؤں نے میرے اندر آپکی محبت کے انگارے بھر دئیے۔ آپ کے غَم میں میرے سینے سے کَم ہی ایسی آگ اُٹھی جس نے کہ شُعلوں کی صورت اختیار نہ کی۔ ؎
خُوش نصیب انسان نصیحت کے چراغ کی روشنی میں زندگی کی تاریکیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔
واصف علی واصفؒ
" کُچھ وہ بھی چاہتا تھا یہاں مستقل قیام ،
میں نے بھی اُس کو دِل سے نکلنے نہيں دیا
دِل ڈُھونڈتا ھے پِھر وھی , فُرصت کے رات دِن
بیٹھے رھیں تصورِ جاناں کیے ھُوئے۔
جاڑوں کی نرم دُھوپ اور ، آنگن میں لیٹ کر
آنکھوں پہ کِھینچ کر ، تیرے آنچل کے سائے کو
اوندھے پڑے رھیں، کبھی کروٹ لیے ھُوئے
دِل ڈُھونڈتا ھے پِھر وھی , فُرصت کے رات دِن
یا گرمیوں کی رات کو ، پُروائی جب چلے
بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رھیں
تاروں کو دیکھتے رھیں ، چَھت پر پڑے ھُوئے
دِل ڈُھونڈتا ھے پِھر وھی , فُرصت کے رات دِن
برفِیلے موسموں کی ، کسی سرد رات میں
جا کر ، اُسی پہاڑ کے پہلُو میں بیٹھ کر
وادی میں گُونجتی ھُوئی ، خاموشیاں سُنیں۔
دِل ڈُھونڈتا ھے پِھر وھی ، فُرصت کے رات دِن
اچھے لفظ تخلیق کرنے کے ساتھ اچھے روپے بھی تخلیق کرنے چاہیے.۔۔
لفظ کتابوں میں زندہ رہتے ہیں اور رویے دلوں میں زندہ رہتے ہیں
کسی کے پاس میسر تھے یار پورے تم
کسی کی شام ٬ تمہیں سوچتے ہوئے گزری
مشہور شاعر ساغر نظامی نے کسی مشاعرے میں ایک خاتون کو دیکھا اور حسبِ عادت ہزار جان سے اس پر مائل ہو گئے ۔ مشاعرے کے بعد موصوف اس خاتون کے پاس پہنچے اور کہنے لگے ۔
“ اے دشمن ِ ایمان و آگہی ! کیا تم یہ گوارا کروگی کہ میرے دل کے مرتعش جذبات تمہارے پاکیزہ عطر بیز تنفس کی آمد شد سے ہم آہنگ ہو سکیں ۔“
بے چاری حسینہ اس انداز ِ بیان کو بلکل نہ سمجھ سکی اور حیرت سے بولی:
“ آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟“
اب باکمال شاعر نے حقیقت پسندانہ انداز ِ بیاں میں کہا ۔
“ میں چاہتا ہوں ، تم مجھ سے شادی کرلو اور میرے بچوں کی ماں بننا گوارا کرو ۔“
حسینہ نے چند لمحے سوچا اور حیرت کے ساتھ دریافت کیا ۔“ کتنے بچے ہیں تمہارے ؟“
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
ایسا کرتے ہیں ایک ملاقات رکھ لیتے ہیں
چائے کی پیالیاں، کچھ سوغات رکھ لیتے ہیں
میں بھی اداس ہوں تم بھی گُم سُم جاناں
محفلِ مشاعرہ اِس رات رکھ لیتے ہیں
تم آئے ہو بڑی چاہ سے بادل کے لیے
سو لے جاؤ ، ہم برسات رکھ لیتے ہیں
کچھ تو بھرم رہے کہ ہم بھی کبھی ساتھ رہے
ہم تحفتاً ایک دوسرے کی عادات رکھ لیتے ہیں
زندگی نے ہم دونوں کو بہت غم دیے
تم رکھو خوشیاں ، ہم تجربات رکھ لیتے ہیں.
کچھ ایسا کرتے ہیں کہ یہ ملاقات یاد رہے
ہم قیدِ غزل میں یہ لمحات رکھ لیتے ہیں
" وجہِ شاعری "
میری تمام نظمیں بیکار ہیں
گر تری خوش الحان آنکھیں
مجھے یہ پڑھ کر نہ سنائیں
تمام اشعار ادھورے ہیں
گر ان کے آخر پہ
تمہارے نام کا ردیف نہ ہو
تم میرا تخیل ہو
اور شاعری کیلئے تخیل کی اہمیت
تو معلوم ہوگی
خواہشوں کو مجبوریوں پر
تقسیم کرنے والے لڑکے کا دُکھ جانتے ہو؟
المیہ تو یہ ہے کہ
تھیسس لکھنے والے کو فرسٹ ایڈ نہیں آتی!
کمپیوٹر کی پروگرامنگ ٹھیک ہے،مگر
کیاتُم میسج پڑھ کے نکلنے والے آنسوؤں کو ڈی کوڈ کر سکتے ہو؟
یا پھرکنٹرول شفٹ دبا کے
ساری یادیں ڈلیٹ ہو جاتی ہیں؟
زمین سے مریخ تک ،مانپنے والے
خیرات لے کر اُٹھائے گے دو قدموں کے درمیان
کتنے نوری سال کا فاصلہ ہوتا ہے؟
گاؤں سے اماں جب کال پہ
“ہیلو” کہتی ہے
اس لفظ کی تاثیر کتنی ٹھنڈی ہے
حکمت میں کہاں لکھا ہے؟
ماسٹر کی ڈگری لینے والے کو
ٹریفک کے قوانین
یا ایمرجنسی ایگزٹ
بلکہ خوش رہنے کے اصول کہاں پڑھائے جاتے ہیں؟
دُکھ “سُننے” کی مشق کب کروائی جائے گی؟
بلاک ہونے کا صدمہ
میں تو سہہ گیا ہوں
روبوٹ سہہ پائے گا؟
کس فریکونسی سے رویا جائے
کہ چاند پہ چرخہ کاتنے والی بڑھیا
کام چھوڑ کے روٹی پکانے لگ جائے؟
ماہر نفسیات !
تم جھولتی ہوئی “مُسکراتی “لاش کو دیکھ کر
بلاک ہوئے نمبر پہ وصیت بھیج سکتے ہو؟
جن بچوں کے نام ہم نے سوچے تھے
اب کون سی جماعت میں پڑھتے ہوتے؟
کفن میں جیب کا نہ ہونا تو سمجھ آتا ہے
نکاح نامے میں محبت کا خانہ کیوں نہیں ہے؟
بھیجی تصویر بھی تو آنکھوں کی
یعنی آنکھیں دکھا رہی ہو مجھے
آپسی رِشتے وہیں خُوبصورت اور مضبوط ہوتے ہیں جہاں درگُزر ہو، وضع داری ہو اور ایک دوسرے کے واسطے عیب زدہ زُبان نہ ہلائی جائے۔ ۔ ۔
ورنہ زُبان کی آلودگی واپس آپکو اور آپکے آپسی رِشتوں، مُحبتوں اور دوستیوں کو میلا کرتی رہے گی اور یقین مانیں اس قسم کی طرزِ زندگی میں آپ ناخُوش ہی رہینگے . .
اچھا سوچیں، مثبت رہیں .. . ہمیشہ خُوش رہیں!
اُسے تو سب
پیار سے چاند کہتے تھے
مگر وہ تو
حقیقت میں چاند ہوگیا
سب سے دور
کسی اور آسمان
میں اپنا گھر کیے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain