Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

؎ اُس کی چاہت نے سنورنے کا سلیقہ بخشا
شہر کے شہر کو اُس شخص نے خُوش پوش کیا

Offline
 

بیگم سے پنگا از ناٹ چنگا
چپاتی کے کنارے ٹھیک سے نہ پکے تھے۔
شوہر نے بیگم سے شکایت کی کہ دیکھیں اسے اگر مزید ایک منٹ کی سینک مل جاتی تو یہ کنارے ضائع نہ ہوتے۔
بیگم نے کہا آپ ہمارے توے کو تو دیکھیں اس پر اتنی چپاتی پک گئی ہے یہ بڑی بات ہے
شوہر نے یو ٹیوب کھول کر خانہ بدوش خواتین کی ویڈیو دیکھنے کو دی، جو آگ پر چھوٹے چھوٹے گول پتھر جوڑ کر ان کو گرم کر کے بنا توے کے ان پر روٹی پکا رہی تھی،
بیگم نے ویڈیو دیکھی اور سیل فون شوہر واپس کیا اور بولی ویڈیو میں روٹی

Offline
 

پکانے اور حقیقت میں بہت فرق ہے،
فلموں میں تو سپر مین بھی اڑ رہا ہوتا ہے، آپ ذرا اڑ کر تو دکھائیں۔
روٹی چھوڑیں ان خانہ بدوش لڑکیوں نے یہ جو ملٹی کلر کے گھاگھرے پہنے ہوئے تھے جن کے گلے اور آستینوں پر ریشمی کام ہوا ہے، دیکھیں کتنی خوبصورتی کے ساتھ اس میں شیشے کا کام ہوا ہے، یہ کہاں سے ملتے ہیں۔
شوہر نے دل میں کہا بھاڑ میں گی یہ دانشوری اور بیگم کو کہا
چھوڑو بیگم چپاتی کے کنارے اتنے بھی کچے نہیں ہیں میں کھا لیتا ہوں

Offline
 

خوشگوار موسم میں
ان گنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آتے ہیں
اپنے اپنے پیاروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارہویں کھلاڑی ہوں
ہوٹ کرتا رہتا ہوں
بارھواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے

Offline
 

کھیل ہوتارہتا ہے
شور مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
انتظار کرتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جس میں سانحہ ہو جائے
پھر وہ کھیلنے نکلے
تالیوں کے جھرمت میں
ایک جملہ خوش کن
ایک نعرہ تحسین
اس کے نام ہو جائے
سب کھلاڑیوں کے ساتھ
وہ بھی متعبر ہو جائے

Offline
 

پر یہ کم ہی ہوتا ہے
پھر بھی لوگ کہتے ہیں
کھیل سے کھلاڑی کا
عمر بھر کا رشتہ ہے
عمر بھر کا یہ رشتہ
چھوٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وسل کے ساتھ
ڈوب جانے والا دل
ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
تم بھی افتخار عارف
بارھویں کھلاڑی ہو
انتظار کرتے ہو
ایک ایسے لمحے کا
ایک ایسی ساعت کا
جس میں حادثہ ہو جائے
جس میں سانحہ ہو جائے
تم بھی افتخار عارف
تم بھی ڈوب جاوگے
تم بھی ٹوٹ جاوگے

Offline
 

لفظ سہارا بنتے ہیں کسی کی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں۔ میں نے بارہا سوچا، اور احساس ہوا لفظ اثر رکھتے ہیں۔ایسے ہی تو کوئی لفظوں کے جال میں الجھ نہیں جاتا۔ کہیں کسی کو مرہم مل رہا ہوتا ہے اور کہیں کسی کے زخم اُدھیڑ دئیے جاتے ہیں۔ سارا کمال لفظوں کا ہی تو ہے۔ کسی کی خوشی کے لیے کوئی تاج محل بنوانے کی ضرورت نہیں ہوتی خوشی تو جانِ عزیز شخص کے عام سے لفظوں سے بھی مل جاتی ہے۔
اپنے اردگرد نظر ڈورائیں اور دیکھیں اگر کسی کو آپکے لفظوں کی ضرورت ہے تو لفظوں کا خوبصورت تحفہ دے دیں۔ بلاوجہ کی قدرتيں دل میں لے کر مت پھیريں۔
اور تم کیا جانو کہ یہ احساس کتنا خوب رو ہے کہ کوئی آپ کو اپنے لفظوں میں تحریر کرے۔

Offline
 

وہ فاصلوں میں بھی رکھتا ہے رنگ قربت !!
نظر سے دور سہی دل کے پاس رہتا ہے

Offline
 

ایک دن جوش ملیح آبادی اپنے گھر دوستوں سے اپنی محبوباوں کا تذکرہ کرتے ہوئے رو دیئے اس دوران اچانک بیگم کمرے میں داخل ہوئیں اور جوش کو روتا دیکھ فکر مند انداز میں رونے کا سبب پوچھا .........
جوش صاحب بولے
"بس ذرا اماں یاد آ گئی تھیں"

Offline
 

محبت اور عبادت بتائی نہیں جاتی
بس کی جاتی ہے

Offline
 

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی تیرا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
میں نے مانا کہ وہ بیگانہ ٴپیمانِ وفا
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
شاید اب لوٹ کے نا آئے تیری محفل میں
اور کوئی دکھ نا رلائے تجھے تنہائی میں
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ
مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ

Offline
 

پھربھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر
تیرے پاس آئے زمانے سے کنارہ کر لے
تُو کہ معصوم بھی ہے، زُود فراموش بھی ہے
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارہ کر لے
اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا جانا
ایک دکھ اور بھی پہلے کی طرح سہہ جاؤں
جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں

Offline
 

فقط یہی ڈر تھا کہ کہیں عادت نہ ہوجائے
ترکِ تعلق کا وگرنہ کوئی ارادہ تو نہیں تھا
یہ بھی سچ ہے اک دوسرے کو اچھے لگتے تھے
یہ بھی سچ ہے کچھ مگر اس سے زیادہ نہیں تھا

Offline
 

مجھے پہلے پہل لگتا تھا ، ذاتی مسئلہ ہے
میں پھر سمجھا ، محبت کائناتی مسئلہ ہے
پرندے قید ہیں، تم چہچہاہٹ چاہتے ہو
تمہیں تو اچھا خاصا نفسیاتی مسئلہ ہے
بڑی مشکل ہے بنتے سلسلوں میں یہ توقف
ہمارے رابطوں کی بے ثباتی مسئلہ ہے
وہ کہتے ہیں کہ جو ہوگا وہ آگے جا کے ہو گا
تو یہ دنیا بھی کوئی تجرباتی مسئلہ ہے
ہمیں تھوڑا جنوں درکار ہے تھوڑا سکوں بھی
ہماری نسل میں اک جینیاتی مسئلہ ہے
کبھی تم مل نہیں پاتے کبھی فرصت ندارد
ہمارے ساتھ بس یہ دو نکاتی مسئلہ ہے
ہمارا وصل بھی تھا اتفاقی، مسئلہ تھا
ہمارا ہجر بھی ہے حادثاتی، مسئلہ ہے

Offline
 

صبح ناشتہ کر تے ہوئے خیال آیا...!!
کہ اگر بھینس انڈا دیتی...!!
تو آملیٹ کتنا بڑا بنتا...
اوکے بائے

Offline
 

دل مفت لوں ، ہرگز نہ دوں ، وہ یہ کہے ، میں یوں کہو ں
اس کے سوا بھی سوچ لوں ، وہ یہ کہے ، میں یوں کہوں
وہ چاہتا ہے فضل ہو، میں چاہتا ہوں وصل ہو
اے داغ کس آفت میں ہوں وہ یہ کہے میں یوں کہوں

Offline
 

وہ کوئی عام لڑکا نہیں تھا وہ جب پیدا ہوا ڈاکٹر دیکھ کر حیران رہ گئیں شرم و حیا سے اس کی آنکھیں بند تھیں،
وہ ان پر نگاہ نہیں ڈالنا چاہتا تھا (شریف جو ٹھہرا) ۔۔انھوں نے ایسا بچہ اپنے پورے کیریئر میں نہیں دیکھا تھا ،
جب ایک ڈاکٹر صاحبہ نے شفقت میں اسے گود لیا تو وہ جمپ لگا کر باپ کے پاس چلا گیا ،
انہیں لگتا تھا یہ آگے جا کر کوئی عظیم ہستی بنے گا جی ہاں وہ آگے جا کر واقعی شریف ترین انسان بنا ایک ناول کا مرکزی کردار ،
وہ کوئی عام بچی نہیں تھی جب سے پیدا ہوئی خاموش مزاج ،تنہائی پسند ،
دو سال کی عمر سے وہ صوم و صلوہ کی پابند ،
کبھی کسی نے اس کے بال نہیں دیکھے تھے(نہیں آپ غلط سوچ رہے گنجی نہیں تھی میڈم ناول کی ہیروئین

Offline
 

تھی ۔دوپٹہ پہن کر رکھتی تھی )
وہ ہمیشہ سادگی میں رہتی تھی ،صرف لپ اسٹک اور لائینر اور ہلکا سا کاجل لگا کر رکھتی تھی ،
عمومی طور پر ،
صرف شادیوں، میں بیوٹیشن سے تیار ہوتی تھی ،
انیس سال میں اعلی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ سلائی پڑھائی گھر داری بھی سیکھ لی تھی ،
بچپن سے ہی وہ ایکٹو تھی ،
ایک دن وہ اپنے ہیلی کاپٹر پر آفس جا رہا تھا کہ اس

Offline
 

نے دوسرے ہیلی کاپٹر کو خود سے آگے گزرتے ہوئے دیکھا ،
اسے دھچکا لگا
پہلا کہ اس کے علاوہ یہاں ہیلی کاپٹر کس کے پاس ہو سکتا ہے
دوسرا کس کی اتنی ہمت کہ اس سے آگے ہیلی کاپٹر کو اڑا لے جائیں ،
جو بھی تھا بلاشبہ کراس کرنے والے کا ہیلی کاپٹر تھا انتہائی نفیس ،
ہلکے گلابی رنگ کا ہیلی کاپٹر اس نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ،
اس کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا ،
اس نے ایک کال میں اس ہیلی کاپٹر پر موجود بندی(ہیروئین ) کی ساری معلومات حاصل کر لیں اور اگلے ہی وہ اس کے جنگل میں، موجود خفیہ بنگلے، میں اس کے سامنے تھی ،
پہلے تو اس نے اسے خوب ،
مارا اور پھر وارننگ دی بیوٹیشن آ چکی ہے تم تیار رہنا شام کو ہمارا نکاح ہے ،
اگر تیار نا ہوئی تو مجھ سے براکوئی نہیں ہو گا ،
تم جانتی ہو میں کیا کر سکتا ہوں ،
یوں رو دھو کر فائنلی نکاح ہو گیا !!

Offline
 

لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں
بات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے