؎ اُس کی چاہت نے سنورنے کا سلیقہ بخشا
شہر کے شہر کو اُس شخص نے خُوش پوش کیا
بیگم سے پنگا از ناٹ چنگا
چپاتی کے کنارے ٹھیک سے نہ پکے تھے۔
شوہر نے بیگم سے شکایت کی کہ دیکھیں اسے اگر مزید ایک منٹ کی سینک مل جاتی تو یہ کنارے ضائع نہ ہوتے۔
بیگم نے کہا آپ ہمارے توے کو تو دیکھیں اس پر اتنی چپاتی پک گئی ہے یہ بڑی بات ہے
شوہر نے یو ٹیوب کھول کر خانہ بدوش خواتین کی ویڈیو دیکھنے کو دی، جو آگ پر چھوٹے چھوٹے گول پتھر جوڑ کر ان کو گرم کر کے بنا توے کے ان پر روٹی پکا رہی تھی،
بیگم نے ویڈیو دیکھی اور سیل فون شوہر واپس کیا اور بولی ویڈیو میں روٹی
پکانے اور حقیقت میں بہت فرق ہے،
فلموں میں تو سپر مین بھی اڑ رہا ہوتا ہے، آپ ذرا اڑ کر تو دکھائیں۔
روٹی چھوڑیں ان خانہ بدوش لڑکیوں نے یہ جو ملٹی کلر کے گھاگھرے پہنے ہوئے تھے جن کے گلے اور آستینوں پر ریشمی کام ہوا ہے، دیکھیں کتنی خوبصورتی کے ساتھ اس میں شیشے کا کام ہوا ہے، یہ کہاں سے ملتے ہیں۔
شوہر نے دل میں کہا بھاڑ میں گی یہ دانشوری اور بیگم کو کہا
چھوڑو بیگم چپاتی کے کنارے اتنے بھی کچے نہیں ہیں میں کھا لیتا ہوں
خوشگوار موسم میں
ان گنت تماشائی
اپنی اپنی ٹیموں کو
داد دینے آتے ہیں
اپنے اپنے پیاروں کا
حوصلہ بڑھاتے ہیں
میں الگ تھلگ سب سے
بارہویں کھلاڑی ہوں
ہوٹ کرتا رہتا ہوں
بارھواں کھلاڑی بھی
کیا عجب کھلاڑی ہے
کھیل ہوتارہتا ہے
شور مچتا رہتا ہے
داد پڑتی رہتی ہے
اور وہ الگ سب سے
انتظار کرتا ہے
ایک ایسی ساعت کا
ایک ایسے لمحے کا
جس میں سانحہ ہو جائے
پھر وہ کھیلنے نکلے
تالیوں کے جھرمت میں
ایک جملہ خوش کن
ایک نعرہ تحسین
اس کے نام ہو جائے
سب کھلاڑیوں کے ساتھ
وہ بھی متعبر ہو جائے
پر یہ کم ہی ہوتا ہے
پھر بھی لوگ کہتے ہیں
کھیل سے کھلاڑی کا
عمر بھر کا رشتہ ہے
عمر بھر کا یہ رشتہ
چھوٹ بھی تو سکتا ہے
آخری وسل کے ساتھ
ڈوب جانے والا دل
ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
تم بھی افتخار عارف
بارھویں کھلاڑی ہو
انتظار کرتے ہو
ایک ایسے لمحے کا
ایک ایسی ساعت کا
جس میں حادثہ ہو جائے
جس میں سانحہ ہو جائے
تم بھی افتخار عارف
تم بھی ڈوب جاوگے
تم بھی ٹوٹ جاوگے
لفظ سہارا بنتے ہیں کسی کی بے رنگ زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں۔ میں نے بارہا سوچا، اور احساس ہوا لفظ اثر رکھتے ہیں۔ایسے ہی تو کوئی لفظوں کے جال میں الجھ نہیں جاتا۔ کہیں کسی کو مرہم مل رہا ہوتا ہے اور کہیں کسی کے زخم اُدھیڑ دئیے جاتے ہیں۔ سارا کمال لفظوں کا ہی تو ہے۔ کسی کی خوشی کے لیے کوئی تاج محل بنوانے کی ضرورت نہیں ہوتی خوشی تو جانِ عزیز شخص کے عام سے لفظوں سے بھی مل جاتی ہے۔
اپنے اردگرد نظر ڈورائیں اور دیکھیں اگر کسی کو آپکے لفظوں کی ضرورت ہے تو لفظوں کا خوبصورت تحفہ دے دیں۔ بلاوجہ کی قدرتيں دل میں لے کر مت پھیريں۔
اور تم کیا جانو کہ یہ احساس کتنا خوب رو ہے کہ کوئی آپ کو اپنے لفظوں میں تحریر کرے۔
وہ فاصلوں میں بھی رکھتا ہے رنگ قربت !!
نظر سے دور سہی دل کے پاس رہتا ہے
ایک دن جوش ملیح آبادی اپنے گھر دوستوں سے اپنی محبوباوں کا تذکرہ کرتے ہوئے رو دیئے اس دوران اچانک بیگم کمرے میں داخل ہوئیں اور جوش کو روتا دیکھ فکر مند انداز میں رونے کا سبب پوچھا .........
جوش صاحب بولے
"بس ذرا اماں یاد آ گئی تھیں"
محبت اور عبادت بتائی نہیں جاتی
بس کی جاتی ہے
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی تیرا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
میں نے مانا کہ وہ بیگانہ ٴپیمانِ وفا
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
شاید اب لوٹ کے نا آئے تیری محفل میں
اور کوئی دکھ نا رلائے تجھے تنہائی میں
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ
مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
پھربھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر
تیرے پاس آئے زمانے سے کنارہ کر لے
تُو کہ معصوم بھی ہے، زُود فراموش بھی ہے
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارہ کر لے
اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا جانا
ایک دکھ اور بھی پہلے کی طرح سہہ جاؤں
جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
فقط یہی ڈر تھا کہ کہیں عادت نہ ہوجائے
ترکِ تعلق کا وگرنہ کوئی ارادہ تو نہیں تھا
یہ بھی سچ ہے اک دوسرے کو اچھے لگتے تھے
یہ بھی سچ ہے کچھ مگر اس سے زیادہ نہیں تھا
مجھے پہلے پہل لگتا تھا ، ذاتی مسئلہ ہے
میں پھر سمجھا ، محبت کائناتی مسئلہ ہے
پرندے قید ہیں، تم چہچہاہٹ چاہتے ہو
تمہیں تو اچھا خاصا نفسیاتی مسئلہ ہے
بڑی مشکل ہے بنتے سلسلوں میں یہ توقف
ہمارے رابطوں کی بے ثباتی مسئلہ ہے
وہ کہتے ہیں کہ جو ہوگا وہ آگے جا کے ہو گا
تو یہ دنیا بھی کوئی تجرباتی مسئلہ ہے
ہمیں تھوڑا جنوں درکار ہے تھوڑا سکوں بھی
ہماری نسل میں اک جینیاتی مسئلہ ہے
کبھی تم مل نہیں پاتے کبھی فرصت ندارد
ہمارے ساتھ بس یہ دو نکاتی مسئلہ ہے
ہمارا وصل بھی تھا اتفاقی، مسئلہ تھا
ہمارا ہجر بھی ہے حادثاتی، مسئلہ ہے
صبح ناشتہ کر تے ہوئے خیال آیا...!!
کہ اگر بھینس انڈا دیتی...!!
تو آملیٹ کتنا بڑا بنتا...
اوکے بائے
دل مفت لوں ، ہرگز نہ دوں ، وہ یہ کہے ، میں یوں کہو ں
اس کے سوا بھی سوچ لوں ، وہ یہ کہے ، میں یوں کہوں
وہ چاہتا ہے فضل ہو، میں چاہتا ہوں وصل ہو
اے داغ کس آفت میں ہوں وہ یہ کہے میں یوں کہوں
وہ کوئی عام لڑکا نہیں تھا وہ جب پیدا ہوا ڈاکٹر دیکھ کر حیران رہ گئیں شرم و حیا سے اس کی آنکھیں بند تھیں،
وہ ان پر نگاہ نہیں ڈالنا چاہتا تھا (شریف جو ٹھہرا) ۔۔انھوں نے ایسا بچہ اپنے پورے کیریئر میں نہیں دیکھا تھا ،
جب ایک ڈاکٹر صاحبہ نے شفقت میں اسے گود لیا تو وہ جمپ لگا کر باپ کے پاس چلا گیا ،
انہیں لگتا تھا یہ آگے جا کر کوئی عظیم ہستی بنے گا جی ہاں وہ آگے جا کر واقعی شریف ترین انسان بنا ایک ناول کا مرکزی کردار ،
وہ کوئی عام بچی نہیں تھی جب سے پیدا ہوئی خاموش مزاج ،تنہائی پسند ،
دو سال کی عمر سے وہ صوم و صلوہ کی پابند ،
کبھی کسی نے اس کے بال نہیں دیکھے تھے(نہیں آپ غلط سوچ رہے گنجی نہیں تھی میڈم ناول کی ہیروئین
تھی ۔دوپٹہ پہن کر رکھتی تھی )
وہ ہمیشہ سادگی میں رہتی تھی ،صرف لپ اسٹک اور لائینر اور ہلکا سا کاجل لگا کر رکھتی تھی ،
عمومی طور پر ،
صرف شادیوں، میں بیوٹیشن سے تیار ہوتی تھی ،
انیس سال میں اعلی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ سلائی پڑھائی گھر داری بھی سیکھ لی تھی ،
بچپن سے ہی وہ ایکٹو تھی ،
ایک دن وہ اپنے ہیلی کاپٹر پر آفس جا رہا تھا کہ اس
نے دوسرے ہیلی کاپٹر کو خود سے آگے گزرتے ہوئے دیکھا ،
اسے دھچکا لگا
پہلا کہ اس کے علاوہ یہاں ہیلی کاپٹر کس کے پاس ہو سکتا ہے
دوسرا کس کی اتنی ہمت کہ اس سے آگے ہیلی کاپٹر کو اڑا لے جائیں ،
جو بھی تھا بلاشبہ کراس کرنے والے کا ہیلی کاپٹر تھا انتہائی نفیس ،
ہلکے گلابی رنگ کا ہیلی کاپٹر اس نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ،
اس کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا ،
اس نے ایک کال میں اس ہیلی کاپٹر پر موجود بندی(ہیروئین ) کی ساری معلومات حاصل کر لیں اور اگلے ہی وہ اس کے جنگل میں، موجود خفیہ بنگلے، میں اس کے سامنے تھی ،
پہلے تو اس نے اسے خوب ،
مارا اور پھر وارننگ دی بیوٹیشن آ چکی ہے تم تیار رہنا شام کو ہمارا نکاح ہے ،
اگر تیار نا ہوئی تو مجھ سے براکوئی نہیں ہو گا ،
تم جانتی ہو میں کیا کر سکتا ہوں ،
یوں رو دھو کر فائنلی نکاح ہو گیا !!
لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں
بات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain