Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

وہ کوئی عام لڑکا نہیں تھا وہ جب پیدا ہوا ڈاکٹر دیکھ کر حیران رہ گئیں شرم و حیا سے اس کی آنکھیں بند تھیں،
وہ ان پر نگاہ نہیں ڈالنا چاہتا تھا (شریف جو ٹھہرا) ۔۔انھوں نے ایسا بچہ اپنے پورے کیریئر میں نہیں دیکھا تھا ،
جب ایک ڈاکٹر صاحبہ نے شفقت میں اسے گود لیا تو وہ جمپ لگا کر باپ کے پاس چلا گیا ،
انہیں لگتا تھا یہ آگے جا کر کوئی عظیم ہستی بنے گا جی ہاں وہ آگے جا کر واقعی شریف ترین انسان بنا ایک ناول کا مرکزی کردار ،
وہ کوئی عام بچی نہیں تھی جب سے پیدا ہوئی خاموش مزاج ،تنہائی پسند ،
دو سال کی عمر سے وہ صوم و صلوہ کی پابند ،
کبھی کسی نے اس کے بال نہیں دیکھے تھے(نہیں آپ غلط سوچ رہے گنجی نہیں تھی میڈم ناول کی ہیروئین

Offline
 

تھی ۔دوپٹہ پہن کر رکھتی تھی )
وہ ہمیشہ سادگی میں رہتی تھی ،صرف لپ اسٹک اور لائینر اور ہلکا سا کاجل لگا کر رکھتی تھی ،
عمومی طور پر ،
صرف شادیوں، میں بیوٹیشن سے تیار ہوتی تھی ،
انیس سال میں اعلی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ سلائی پڑھائی گھر داری بھی سیکھ لی تھی ،
بچپن سے ہی وہ ایکٹو تھی ،
ایک دن وہ اپنے ہیلی کاپٹر پر آفس جا رہا تھا کہ اس

Offline
 

نے دوسرے ہیلی کاپٹر کو خود سے آگے گزرتے ہوئے دیکھا ،
اسے دھچکا لگا
پہلا کہ اس کے علاوہ یہاں ہیلی کاپٹر کس کے پاس ہو سکتا ہے
دوسرا کس کی اتنی ہمت کہ اس سے آگے ہیلی کاپٹر کو اڑا لے جائیں ،
جو بھی تھا بلاشبہ کراس کرنے والے کا ہیلی کاپٹر تھا انتہائی نفیس ،
ہلکے گلابی رنگ کا ہیلی کاپٹر اس نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ،
اس کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا ،
اس نے ایک کال میں اس ہیلی کاپٹر پر موجود بندی(ہیروئین ) کی ساری معلومات حاصل کر لیں اور اگلے ہی وہ اس کے جنگل میں، موجود خفیہ بنگلے، میں اس کے سامنے تھی ،
پہلے تو اس نے اسے خوب ،
مارا اور پھر وارننگ دی بیوٹیشن آ چکی ہے تم تیار رہنا شام کو ہمارا نکاح ہے ،
اگر تیار نا ہوئی تو مجھ سے براکوئی نہیں ہو گا ،
تم جانتی ہو میں کیا کر سکتا ہوں ،
یوں رو دھو کر فائنلی نکاح ہو گیا !!

Offline
 

لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں
بات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے

Offline
 

میرے کاسۂ شب و روز میں
کوئی شام ایسی بھی ڈال دے
سبھی خواھشوں کو ھرا کرے
سبھی خوف دِل سے نکال دے

Offline
 

آہ کرتا ہُوں، تو ہے اندیشۂ تشہِیرِ غم
ضبط کرتا ہُوں تو، بے قابو ہُوا جاتا ہے دِل

Offline
 

انسان کتنا بھی ذہین کیوں نہ ہو
افواہ ، اشتہار اور حُسن سے متاثر ہو ہی جاتا ہے

Offline
 

اردو زبان سے "محبت " کرنے والی دو سہیلیوں کی آپس میں گفتگو
پہلی :" یو نو مجھے اردو بہت پسند ہے " آئی لو اردو"
دوسری :" یس تانیہ آئی نو, مجھے بھی اردو بہت پسند ہے ،
آفٹر آل یہ ھماری لینگویج ہے، میں تو ھمیشہ ٹرائی کرتی ہوں کہ اپنے گھر میں، بچوں اور ھسبینڈ کے ساتھ بھی اردو میں ہی بات کروں"
پہلی: " سیم ھیر، میرے بچے لائیک کرتے ہیں اردو میں بات کرنا"
دوسری:"یا اٹس فنٹاسٹک لینگویج

Offline
 

اے مجھے پھول بھیجنے والے
تو مری عادتیں بگاڑے گا

Offline
 

پاکستانی مائیں تسلی سے بچوں کی کُٹ لگا کر پھر بچوں سے کہتی ہيں:
" کیوں مار کھاتے ہو ماما سے؟
ماما کو بالکل اچھا نہیں لگتا آپ کو مارنا

Offline
 

اُداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا
وہ چاہتا تو میرے ساتھ چل بھی سکتا تھا
وہ شخص تو نے جِس کو چھوڑنے کی جلدی کی
تیرے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا
وہ جلدباز خفا ہو کر چل دیا ورنہ
تنازعات کا کوئی حل نکل بھی سکتا تھا
اَنا نے ہاتھ اُٹھانے نہیں دیا ورنہ
میری دُعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا
تمام عمر تیرا منتظر رہا رومیؔ
یہ اور بات ہے کہ رستہ بدل بھی سکتا تھا

Offline
 

مُجھے لگتا ہے کہ ؛ کبھی کبھی ہمارا " فیلنگ سسٹم " بھی جام ہو جاتا ہے ، ہمارے جذبات و احساسات فریز ہو جاتے ہیں ، پھر ہمیں رونا آ رہا ہوتا ہے مگر ہم رو بھی نہیں پاتے ، ہم ہنستے ہیں مگر وہ ہنسی کہیں اندر محسوس نہیں ہوتی ، ہم ڈرتے ہیں مگر کوئی ری ایکٹ نہیں کر پاتے ، شاید ویسے ہی جیسے کوئی کوما میں پڑا شخص جو سب سُنتا ہے ، سمجھتا بھی ہے مگر کُچھ کر نہیں سکتا بلکل ویسے ہی ، اور مجھے لگتا میرا فیلنگ سسٹم " جام ہو چُکا ہے

Offline
 

اُس کا رِشتہ ہے فقط نیند کے آثار کے ساتھ
خواب لگتا ہی نہیں دیدۂ بیدار کے ساتھ
اُس کا انداز مُحبت میں ڈرامائی ہے
ہو گیا عِشق مُجھے ایک اداکار کے ساتھ
جو بھی مِلتا ہے یہی کہتا ہے؛ آرام کرو
گُفتگو کرتا نہیں کوئی بھی بیمار کے ساتھ
ٹھیک ہوتی نہیں جذبوں کی فراوانی بھی
آپ معیار بھی دیکھیں ذرا مقدار کے ساتھ
آ ہی جاتا ہے بُرا وقت، ذرا دھیان رہے
لگنا پڑتا ہے ہر اِک شخص کو دیوار کے ساتھ
یاد رکھو یہ خُوشی غم میں بدل سکتی ہے
یعنی اِنکار بھی ہو سکتا ہے اِقرار کے ساتھ
لوگ انسان کی قیمت بھی لگا سکتے ہیں
گھر بنایا نہیں کرتے کبھی بازار کے ساتھ
دن کا آغاز پرندوں میں کروں گی میں، اور
شام گُزرے گی مِری شام کے اخبار کے ساتھ

Offline
 

میرا پوسٹ لکھنا اور آپ کا پڑھنا
ہاۓ کتنا پڑھا لکھا تعلق ہے ہمارا

Offline
 

وہ آنکھیں سامری فن ہیں .. وہ لب عیسى نفس دیکھو
مجھی پر سحر ہوتے ہیں .. مجھی پر دم بھی ہوتے ہیں

Offline
 

میں نے تمھیں محسوس کیا ہے
صبح کی ٹھنڈ میں
اٹھتے ہی آجانے والے خیال میں
چائے کی خوشبو میں
اسکی ہر اک چسکی میں
دوپہر کے سکون میں
شام کی خاموشی میں
رات کی بڑھتی ہوئی خنکی میں
یونہی ڈھیروں آ جانے والے خیالوں میں
سوچوں کی ہر اک سوچ میں
بےشمار یادوں میں

Offline
 

تمہاری آنکھوں کا پوچھتے ہیں یہ سب ستارہ شناس مجھ سے
بتا بتا کر میں تھک گیا ہوں ,مثال دی تھی , مثال دی تھی

Offline
 

ڈاکٹر کی بیوی کا آپریشن ہونے والا تھا خود ڈاکٹر صاحب ہی یہ آپریشن کرنے لگے تھے ۔۔۔
ان کی مدد کے لئے دو نرسیں بھی آپریشن تھیٹر میں تھیں ۔۔ڈاکٹر نے بیوی کو انجکشن لگا کر بیہوش کرنے کی کوشش کی، مگر بیوی پرکوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔
پھر ڈاکٹر نے کلوروفام سنگھا کر بیہوش کرنا چاہا، لیکن اس کے باوجود بیہوش نہیں ہوئی ۔یہ دیکھ کر ڈاکٹر صاحب بہت پریشان ہوئے ۔۔۔۔
اپنے شوہر (ڈاکٹر) کو پریشان ہوتا دیکھ کر بیوی نے کہا :"جب تک یہ دونوں چڑیلیں تمہارے ساتھ ہوں گی، میں کبھی بیہوش نہیں ہوں گی

Offline
 

میں سُوھنا سا مسلسل
وہ کوجی سی ہمیشہ

Offline
 

تعریف بھی حق ہوتا ھے۔
جسے اکثر لوگ کھا جاتے ہیں۔
اس خیال سے کہ ایویں " شوخا " ہو جائے گا
شب بخیر