وہ کوئی عام لڑکا نہیں تھا وہ جب پیدا ہوا ڈاکٹر دیکھ کر حیران رہ گئیں شرم و حیا سے اس کی آنکھیں بند تھیں، وہ ان پر نگاہ نہیں ڈالنا چاہتا تھا (شریف جو ٹھہرا) ۔۔انھوں نے ایسا بچہ اپنے پورے کیریئر میں نہیں دیکھا تھا ، جب ایک ڈاکٹر صاحبہ نے شفقت میں اسے گود لیا تو وہ جمپ لگا کر باپ کے پاس چلا گیا ، انہیں لگتا تھا یہ آگے جا کر کوئی عظیم ہستی بنے گا جی ہاں وہ آگے جا کر واقعی شریف ترین انسان بنا ایک ناول کا مرکزی کردار ، وہ کوئی عام بچی نہیں تھی جب سے پیدا ہوئی خاموش مزاج ،تنہائی پسند ، دو سال کی عمر سے وہ صوم و صلوہ کی پابند ، کبھی کسی نے اس کے بال نہیں دیکھے تھے(نہیں آپ غلط سوچ رہے گنجی نہیں تھی میڈم ناول کی ہیروئین
تھی ۔دوپٹہ پہن کر رکھتی تھی ) وہ ہمیشہ سادگی میں رہتی تھی ،صرف لپ اسٹک اور لائینر اور ہلکا سا کاجل لگا کر رکھتی تھی ، عمومی طور پر ، صرف شادیوں، میں بیوٹیشن سے تیار ہوتی تھی ، انیس سال میں اعلی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ سلائی پڑھائی گھر داری بھی سیکھ لی تھی ، بچپن سے ہی وہ ایکٹو تھی ، ایک دن وہ اپنے ہیلی کاپٹر پر آفس جا رہا تھا کہ اس
نے دوسرے ہیلی کاپٹر کو خود سے آگے گزرتے ہوئے دیکھا ، اسے دھچکا لگا پہلا کہ اس کے علاوہ یہاں ہیلی کاپٹر کس کے پاس ہو سکتا ہے دوسرا کس کی اتنی ہمت کہ اس سے آگے ہیلی کاپٹر کو اڑا لے جائیں ، جو بھی تھا بلاشبہ کراس کرنے والے کا ہیلی کاپٹر تھا انتہائی نفیس ، ہلکے گلابی رنگ کا ہیلی کاپٹر اس نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا ، اس کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا ، اس نے ایک کال میں اس ہیلی کاپٹر پر موجود بندی(ہیروئین ) کی ساری معلومات حاصل کر لیں اور اگلے ہی وہ اس کے جنگل میں، موجود خفیہ بنگلے، میں اس کے سامنے تھی ، پہلے تو اس نے اسے خوب ، مارا اور پھر وارننگ دی بیوٹیشن آ چکی ہے تم تیار رہنا شام کو ہمارا نکاح ہے ، اگر تیار نا ہوئی تو مجھ سے براکوئی نہیں ہو گا ، تم جانتی ہو میں کیا کر سکتا ہوں ، یوں رو دھو کر فائنلی نکاح ہو گیا !!
اردو زبان سے "محبت " کرنے والی دو سہیلیوں کی آپس میں گفتگو پہلی :" یو نو مجھے اردو بہت پسند ہے " آئی لو اردو" دوسری :" یس تانیہ آئی نو, مجھے بھی اردو بہت پسند ہے ، آفٹر آل یہ ھماری لینگویج ہے، میں تو ھمیشہ ٹرائی کرتی ہوں کہ اپنے گھر میں، بچوں اور ھسبینڈ کے ساتھ بھی اردو میں ہی بات کروں" پہلی: " سیم ھیر، میرے بچے لائیک کرتے ہیں اردو میں بات کرنا" دوسری:"یا اٹس فنٹاسٹک لینگویج
اُداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا وہ چاہتا تو میرے ساتھ چل بھی سکتا تھا وہ شخص تو نے جِس کو چھوڑنے کی جلدی کی تیرے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا وہ جلدباز خفا ہو کر چل دیا ورنہ تنازعات کا کوئی حل نکل بھی سکتا تھا اَنا نے ہاتھ اُٹھانے نہیں دیا ورنہ میری دُعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا تمام عمر تیرا منتظر رہا رومیؔ یہ اور بات ہے کہ رستہ بدل بھی سکتا تھا
مُجھے لگتا ہے کہ ؛ کبھی کبھی ہمارا " فیلنگ سسٹم " بھی جام ہو جاتا ہے ، ہمارے جذبات و احساسات فریز ہو جاتے ہیں ، پھر ہمیں رونا آ رہا ہوتا ہے مگر ہم رو بھی نہیں پاتے ، ہم ہنستے ہیں مگر وہ ہنسی کہیں اندر محسوس نہیں ہوتی ، ہم ڈرتے ہیں مگر کوئی ری ایکٹ نہیں کر پاتے ، شاید ویسے ہی جیسے کوئی کوما میں پڑا شخص جو سب سُنتا ہے ، سمجھتا بھی ہے مگر کُچھ کر نہیں سکتا بلکل ویسے ہی ، اور مجھے لگتا میرا فیلنگ سسٹم " جام ہو چُکا ہے
اُس کا رِشتہ ہے فقط نیند کے آثار کے ساتھ خواب لگتا ہی نہیں دیدۂ بیدار کے ساتھ اُس کا انداز مُحبت میں ڈرامائی ہے ہو گیا عِشق مُجھے ایک اداکار کے ساتھ جو بھی مِلتا ہے یہی کہتا ہے؛ آرام کرو گُفتگو کرتا نہیں کوئی بھی بیمار کے ساتھ ٹھیک ہوتی نہیں جذبوں کی فراوانی بھی آپ معیار بھی دیکھیں ذرا مقدار کے ساتھ آ ہی جاتا ہے بُرا وقت، ذرا دھیان رہے لگنا پڑتا ہے ہر اِک شخص کو دیوار کے ساتھ یاد رکھو یہ خُوشی غم میں بدل سکتی ہے یعنی اِنکار بھی ہو سکتا ہے اِقرار کے ساتھ لوگ انسان کی قیمت بھی لگا سکتے ہیں گھر بنایا نہیں کرتے کبھی بازار کے ساتھ دن کا آغاز پرندوں میں کروں گی میں، اور شام گُزرے گی مِری شام کے اخبار کے ساتھ
میں نے تمھیں محسوس کیا ہے صبح کی ٹھنڈ میں اٹھتے ہی آجانے والے خیال میں چائے کی خوشبو میں اسکی ہر اک چسکی میں دوپہر کے سکون میں شام کی خاموشی میں رات کی بڑھتی ہوئی خنکی میں یونہی ڈھیروں آ جانے والے خیالوں میں سوچوں کی ہر اک سوچ میں بےشمار یادوں میں
ڈاکٹر کی بیوی کا آپریشن ہونے والا تھا خود ڈاکٹر صاحب ہی یہ آپریشن کرنے لگے تھے ۔۔۔ ان کی مدد کے لئے دو نرسیں بھی آپریشن تھیٹر میں تھیں ۔۔ڈاکٹر نے بیوی کو انجکشن لگا کر بیہوش کرنے کی کوشش کی، مگر بیوی پرکوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔ پھر ڈاکٹر نے کلوروفام سنگھا کر بیہوش کرنا چاہا، لیکن اس کے باوجود بیہوش نہیں ہوئی ۔یہ دیکھ کر ڈاکٹر صاحب بہت پریشان ہوئے ۔۔۔۔ اپنے شوہر (ڈاکٹر) کو پریشان ہوتا دیکھ کر بیوی نے کہا :"جب تک یہ دونوں چڑیلیں تمہارے ساتھ ہوں گی، میں کبھی بیہوش نہیں ہوں گی