مجھے تو کوئی یہ بھی نہیں کہتا
کہاں تھے آپ......؟
میں سارا دن آپ کا انتظار کرتی رہی
اگر ہیر رانجھا کے زمانے میں ہم ہوتے
تو ہیر نے رانجھے کو منہ ہی نہیں لگانا تھا
جب تیری دُھن میں جیا کرتے تھے
ھم بھی چُپ چاپ پِھرا کرتے تھے
آنکھوں میں پیاس ، ھُوا کرتی تھی
دِل میں طوفان اُٹھا کرتے تھے
لوگ آتے تھے غزل سُننے کو
ھم تیری بات کیا کرتے تھے
کسی ویرانے میں تُجھ سے مِل کر
دل میں کیا پُھول کِھلا کرتے تھے
گھر کی دیوار سجانے کے لیے
ھم تیرا نام لِکھا کرتے تھے
وہ بھی کیا دن تھے ، بُھلا کر تجھ کو
ھم تجھے ، یاد کیا کرتے تھے
جب تیرے دَرد سے دِل دُکھتا تھا
ھم تیرے حق میں دُعا کرتے تھے
کل تجھے دیکھ کر یاد آیا
ھم سُخنور بھی ھُوا کرتے تھے
ایک انگریز سیاح نے اردو زبان سیکھی۔ ایک دن وہ لاہور گیا اور ایک لاہوری سے پوچھا "کیا باغ جناح کو یہی سڑک جاتی ہے؟"
لاہوری بولا "آہو"
انگریز بہت پریشان ہوا کیونکہ اس نے یہ بولی پہلی بار سُنی تھی۔ اس نے ایک اور آدمی سے پوچھا تو اس نے بھی یہی جواب دیا۔
پھر اس نے تیسرے آدمی سے پوچھا "کیا باغ جناح کو یہی سڑک جاتی ہے؟"
اس آدمی نے جواب دیا "جی ہاں"
انگریز نے کہا "اچھا ٹھیک ہے۔ اب مجھے یہ بتاؤ کہ 'آہو' کا کیا مطلب ہے؟"
آدمی بولا "اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ در اصل پڑھے لکھے لوگ ' جی ہاں ' کہتے ہیں اور ان پڑھ 'آہو' کہتے ہیں۔"
انگریز بولا " اچھا تو آپ پڑھے لکھے ہیں۔"
آدمی بولا " آہو
قسمت ﺗُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ
ﻣﯿﻠﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﭩﮭﮍﯼ ﻣﯿں
ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ
ﻗﺪ ﺳﮯ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺷﯿﻠﻒ ﭘﺮ
ﻣﻘﻔّﻞ ﺩﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ!
ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺗُﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮈﺍﻻ ﺗﮭﺎ
ﺍﭼﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﺒﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﻣﺮﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﮈﺑّﮯ ﻣﯿﮟ
ﻣﺎﭼﺲ ﮐﯽ ﮈﺑﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻤﺖ! ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺗُﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﭼﻮﻟﮭﮯ ﮐﯽ ﺭﺍﮐﮫ ﻣﯿﮟ
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ.!!!
جب آپ پنجابی سپیکنگ ہوں اور آپ کی شادی ایسی فیملی میں ہوجائے جو سب اردو بولتے ہوں ۔ اور آپ بھی پنجابی سے اردو پر شفٹ ہورہے ہوں۔ تو کچھ اس طرح کے کیمیائی مرکبات ایجاد ہوتے ہیں
سنئیے ، گاڑی کہاں کھلوتی ہوئی ہے
کھانے میں لون زیادہ تو نہیں ہوگیا
ایک تو آپ کااالے بہت جلدی پڑ جاتے ہیں ، لیں ہوگئی تیار
میرا پاؤں آج تیلک گیا تھا
میرا دل چاہ رہا زور سے چنڈ ماروں اسے
پیٹ میں وٹ سا پھر رہا ہے
آج تو کچن میں ہف گئی میں
قسمیں حبس سے ساہ بند ہورہا
شکر ہے بتی آگئی
جو تُجھے دیکھنے سے ملتا ہے
سارا مسئلہ اسی سُکون کا ہے
گرچہ سو بار غمِ ہجر سے جاں گُزری ہے
پھر بھی جو دل پہ گزرتی تھی کہاں گزری ہے
آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظامِ عالم
آپ گزرے ہیں تو اک موجِ رواں گُزری ہے
ہوش میں آئے تو بتلائے ترا دیوانہ
دن گزارا ہے کہاں رات کہاں گُزری ہے
ایسے لمحے بھی گُزارے ہیں تری فُرقت میں
جب تری یاد بھی اِس دِل پہ گراں گُزری ہے
حشر کے بعد بھی دیوانے ترے پوچھتے ہیں
وہ قیامت جو گزرنی تھی کہاں گُزری ہے
زندگی سیفؔ لیے قافلہ ارمانوں کا
موت کی رات سے بے نام و نشاں گُزری ہے
ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی کو پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں سڑک بنانے کا ٹھیکہ مل گیا ...
انھوں نے نقشے بنانے شروع کیے۔ سروے کے دوران ایک غیر ملکی ٹھیکیدار کو یہ سب سمجھ میں نہ آیا۔ اعتراض اٹھانے پر انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ پہاڑی علاقے میں سڑک کا نقشہ کیسے ترتیب دیتے ہیں؟
اس پر پاکستانی ٹھیکیدار نے کہا کہ ہم کھوتے پہ چونے کی بوری میں سوراخ کر کے لاد دیتے ہیں اور کھوتے کو پہاڑ پہ چھوڑ دیتے ہیں، کھوتا جس راستے سے اوپر نیچے جاتا ہے وہاں چونے کے نشان سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ یہ بہتر راستہ ہے، اور پھر وہیں پر سڑک بنانا شروع کردیتے ہیں۔
وہ غیر ملکی بڑا پریشان ہوا اور پوچھا کہ "آپ کے ہاں سڑکیں سول انجینئرز نہیں بناتے ؟”... تو ٹھیکیدار نے ہنس کر کہا “جہاں کھوتا میسر نہ ہو وہاں انجینئرز ہی بناتے ہیں"۔
تجھ کو دیکھا تو سیر چشم ہوئے
تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کی
"حاصل تُم پہلے بھی نہ تھے،
کھویا تُمہیں آج بھی نہیں
سروے میں خوبصورتی میں پاکستانی مردوں کے " پہلے نمبر" پر آنے پر پاکستانی خواتین نے شدید احتجاج کیا ھے اور کہا ھے کہ مر جانے "سروے والے" صبح صبح ہی آ گئے تھے ۔ ۔ھم نے اس وقت میک اپ نہیں کیا ھوا تھا ۔ ۔ یہ کوئی ٹائم ھے سروے کا بھلا ۔ کلموہے نہ ھوں تو ۔ ۔ اور زیادہ تر خواتین نے ان کو پولیو کےقطرے پلانے والی ٹیم سمجھ کر دروازہ ہی نہیں کھولا تھا ۔ ۔ ۔ ورنہ یہ اعزاز ان کا تھا
ﯾﮏ ﻃﺮﻓﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮨﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﺍﻧﯿﮧ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﻧﮩﯿﮟ آپ جتنی دیر اس میں مبتلا رہنا چاہیں بلا کھٹکے رہ سکتے ہیں
اپنے ہونٹوں کی تشنگی بھولے
زندگی دیکھ زندگی بھولے
کچھ تراوت اداس شاموں کی
کچھ نمی اپنی آنکھ کی بھولے
کتنے چنچل ہیں تیرے پروانے
تیری قربت میں سادگی بھولے
ہاتھ چھونے کا اختیار ملے
ایک مجبور, بے بسی بھولے
مسکراہٹ, تمہاری آنکھوں کی
اور کچھ اپنی بے کلی بھولے
ایک میں ہی نہیں مِرے واعظ
کوچہ عشق میں سبھی بھُولے
ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ جھوٹ مت بولو اور جو دل میں ہو وہی کہو۔ ابا میاں نے تربیت ہی ایسی کی تھی۔ سکول جانے لگے۔ ایک دن لائیو اسٹاک کی کلاس میں استانی جی نے پوچھا، "آپ کو کون سا جانور پسند ہے؟"
"بھنا ہوا مرغا"، ہم نے دل کی آواز کو سچ کی زبان دی۔ استانی جی نے غصیلی نظروں سے ہمیں دیکھا، کالر سے پکڑا اور پرنسپل صاحب کے پاس لے گئیں۔
پرنسپل صاحب نے پوری بات سنی، ہم سے استفسار فرمایا اور ہمارا مدعا بغور سماعت فرمانے کے بعد خوب کھل کر ہنسے۔ ہمیں آئیندہ ایسا نہ کہنے کی تنبیہہ کر کے رخصت فرمایا۔ اس تمام واقعہ پر ہماری حیرانی بدستور موجود
تھی۔ گھر آ کر ابا میاں کو تمام واردات سے تفصیلاً آگاہ کیا۔ وہ بھی بہت ہنسے اور ہمیں آئیندہ ایسی بات نہ کرنے کی نصیحت کی۔
ہم زمانے کے اس دوغلے پن کو سمجھ تو نہ سکے تاہم دل ہی دل میں آئیندہ ایسی بات نہ کرنے کا عہد کیا۔
اگلے دن استانی جی نے دوبارہ وہی سوال دہرایا۔
"زندہ مرغا" ہمارا جواب سن کر خوش ہوئیں اور اگلا سوال پوچھا، "کیوں؟"
"تا کہ اسے بھون سکیں"، ہمارا فطری جواب تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم دوبارہ پرنسپل صاحب کے رو بہ رو پیش کر دیے گئے۔ وہ پھر ہنسے آور آئیندہ ایسا نہ کہنے کی نصیحت کر کے رہا کر دیا۔
استانی جی نے اگلے دن پھر وہی سوال دہرایا۔
"زندہ مرغا"، ہم نے اطمنان کے ساتھ جواب
دیا۔
"کیوں؟"
"تا کہ اس کی افزائشِ نسل کر سکیں"، ہم اعتماد سے بولے۔ خوشی کی ایک لہر ان کے چہرے پر دوڑتی ہوئی نظر آئی۔
"کیوں؟" اگلا سوال۔
"تا کہ ہمارے پاس پیارے پیارے چوزے ہوں"، ہمارا اعتماد بحال رہا۔
"ان کا کیا کرو گے؟" ان کے لہجے میں فتح کا تاثر تھا۔
"ان کی پرورش کریں گے تا کہ وہ سب صحت مند مرغے بن جائیں"، ہمیں محسوس ہوا ہمارا اندازِ گفتگو انتہائی پیشہ ورانہ تھا۔
"کیوں؟" استانی جی نے اپنا تکیہ کلام جاری کیا۔
"تا کہ ان سب کو بھون سکیں"، نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری زبان سے یہ فقرہ پھسل گیا۔
اگلے دن پھر ہمیں پرنسپل کے سامنے پیش کیا گیا
لیکن
ایک نئے سکول میں
اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ھنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ۔
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ھیں ایک ایک سب
دِل کا کنول جو روز و شب
رھتا شگفتہ تھا سو اب
اس کا یہ ابتر حال ھے
ایک سبزۂ پامال ھے
ایک پُھول کُملایا ھُوا
ٹوٹا ھُوا بکھرا ھُوا
روندا پڑا ھے خاک پر
وہ ہے کہ مبتلائے جہاں، اُس کو خبر نہیں ،
میں نے بڑے ہی مان سے اُس کو پُکارا تھا
مجھے بظاہر نہیں لگا ، تھا بدل چکا ہے
مگر چھٹی حِس نے پھر بتایا ، بدل چکا ہے
کسی کے چہرے کا کیا تاثر ہے کیا بتاؤں
مگر کسی کا حسین لہجہ بدل چکا ہے
کہا تھا اس نے ! تمھاری قسمت میں ، اور محبت
اسے بتانا نصیب میرا بدل چکا ہے
اگر یہ سچ ہے کہ وہ مرا ہمسفر تھا پہلے
تو یہ بھی سچ ہے کہ اب وہ رستہ بدل چکا ہے
اسی لیے داستاں میں اب میں کہیں نہیں ہوں
کہ سارے کردار اور فسانہ بدل چکا یے
وہ جب ملے گا میں اس کی باتوں سے جان لوں گا
وہ اب بھی کتنا وہی ہے کتنا بدل چکا ہے
جو صدیوں پہلے تھی اب بھی تیمور وہ گھٹن ہے
میں کیسے مانوں کہ اب زمانہ بدل چکا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain