Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

ایک بار بیگم کو بلاوجہ پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا ہوا کیوں رو رہی ہو.
بیگم نے ہچکیاں لیتے ہوئے بتایا کہ گاؤں میں اس کی ایک دوست کو طلاق ہوگئ ہے، وہ لڑکی یتیم بھی تھی اور انتہائی سیدھی سادھی بھی. اس کے غم میں رو رہی ہوں. میں نے بیگم کو سمجھایا بجھایا حوصلہ دیا اور چپ کروایا، بات آئ گئ ہو گئ.
اگلے دن پھر دیکھا تو بیگم گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر پھر سے رو رہی ہے پھر سمجھا کر چپ کروایا. لیکن مسئلہ حل نہ

Offline
 

ہوا اور ہر ایک دو دن بعد بیگم نے اپنی اسی دوست کے غم میں رونے کی روٹین بنا لی،
آخر میں نے تنگ ہو کر ایک دن بیگم کو پاس بٹھا کر سمجھایا کہ دیکھو وہ لڑکی تمہاری اتنی اچھی دوست ہے کہ تم اتنے دن سے اس کے غم میں رو رہی ہو تو ایسا کرتے ہیں کہ اس کو اسی گھر میں لے آتے ہیں میری دوسری بیوی بنا کر، اس طرح تم اس کا اچھے طریقے سے خیال رکھنا اور یہاں اتنی خوشیاں اسے دینا کہ پچھلے سارے غم اسے بھول جائیں.
یہ باتیں سننتے ہوئے بیگم کے چہرے کا رنگ تو تبدیل ہوگیا مگر اس نے کہا کچھ نہیں ہاں لیکن اس کے بعد سے رونا تو درکنار اس نے اپنی دوست کا نام بھی کبھی نہیں لیا.
یوسفی صاحب کے کھاتے

Offline
 

جسے پایا نہیں اب تک _ اسے کھونے سے ڈرتا ہوں
عجب الجھا تخیل ہے _____ ترا ہونے سے ڈرتا ہوں
کہیں وہ خواب میں آکر __ نہ چھیڑے داستانِ غم
مجھے بھی نیند پیاری ہے ، مگر سونے سے ڈرتا ہوں
سحر انگیزیِ حسن و ادا پر ____ لاکھ ہوں شیدا
مرا ایماں ہے جادو پر ___ مگر ٹونے سے ڈرتا ہوں
فراق و ہجر __ درد و آہ __ ہو برگ و ثمر جس کا
زمینِ عشق پر ___ ایسا شجر بونے سے ڈرتا ہوں
یہ اجلاسِ محبت ہے ____ یہاں غیبت نہیں جائز
کسی کا بوجھ اپنی پیٹھ پر ڈھونے سے ڈرتا ہوں
بقدرِ معصیت ہوں گے ____ تو پھر سیلاب آئے گا
کہ ہیں اشکِ ندامت _ اس لیے رونے سے ڈرتا ہوں
مرا اعزاز پوشیدہ تھا نفیِ ذات میں ______ اکمل
مجھے مارا ہے ہونے نے __ اِسی ہونے سے ڈرتا ہوں

Offline
 

جو بات کہتے ہوئے تکلیف نہ ہوتی ہو وہ آزادیٔ اظہار ہے
اور جو بات سنتے ہوئے تکلیف ہو وہ ہیٹ سپیچ ہے۔

Offline
 

ایک سردار جی نے بیٹے سے پوچھا: " 9 کو 8 سے ضرب دی جاۓ تو جواب کیا ہوگا؟
بیٹا بولا: "74"
سردار جی نے بیٹے کو تھپکی دی اور کھانے کو چاکلیٹ دی.
ایک صاحب پاس کھڑے دیکھ رہے تھے بولے: "9 کو 8 سے ضرب دی جاۓ تو جواب 72 ہوتا ھے. آپ نے بچے کو 74 کہنے پر انعام کیوں دیا؟"
سردار جی بولے " یہ بہتر ہو رھا ھے. پچھلی بار اس نے 88 کہا تھا

Offline
 

آپ کیا کرتی ہو
خاموش رہتی ہوں
خاموش رہنے کے علاوہ
اپنے آس پاس بکھری خاموشی کو محسوس کرتی ہوں
تو کسی سے بات کیوں نہیں کرتی
کیا بات کروں؟
اتنی اداس کیوں ہو
نہیں تو...
اب لکھتی بھی نہیں ہو...
الفاظ ہی نہیں ملتے
پہلے تو تم اتنی مایوس نہیں ہوا کرتی تھی
میں تو اب بھی مایوس نہیں ہوں...
پھر آنکھوں میں نمی کیوں آجاتی ہے بات کرتے
میں خود نہیں سمجھ پا رہی...
کچھ کہنا چاہتی ہو
کوئی سننے والا نہیں....
مجھ سے کہہ دو
کہنے کو بھی کچھ نہیں...

Offline
 

قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں
"آپ اچانک ایک نئی دنیا تخلیق نہیں کرسکتے۔ حصول آزادی کیلئےاپ کو ایک عمل سے گزرنا ہوگا۔ آپ کو آگ کے دریا، ابتلا اور قربانیوں کی راہ سے گزرنا پڑے گا۔ مایوس نہ ہوں ۔
قومیں ایک دن میں نہیں بنا کرتیں لیکن جیسا کہ ہم رواں دواں ہیں ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہیں جو ہمیں آگے کی طرف لے جائیں۔ آپ حقائق کا مطالعہ کریں۔ ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنے فیصلوں کی تعمیر کریں۔"
(کلکتہ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجوایٹ طلباء سے قائداعظم کا خطاب۔کلکتہ۲۱ اگست ۱۹۳۶)
اسلام ُ علیکم

Offline
 

اگر تمام سیارے رہنے کے قابل اور انسان کا روشنی کی رفتار سے سفر ممکن ہوتا تو ہر گھر میں یہ گفتگو ہونی تھی
بیٹا مریخ سے دہی لے آو چاند والے ملاوٹ کرتے ہیں ۔...
ساجد بیٹا یہاں میٹرک کر لو کالج میں نیپچون میں ایڈمیشن کروا دوں گی ۔
بیٹا کھیر بنائی ہے جلدی سے مامون کے گھر (عطارد) میں دے اؤ اور برتن ساتھ لانا
بیٹا پاپا کو کال کرو ابھی تک گھر کیوں نہیں آئے اتنا ٹائم تو نہیں لگتا جوبیٹر سے یہاں آنے کا
اگلے ہفتے پلوٹو جانا ہے کزن کی شادی آ رہی ہے ۔

Offline
 

میں سُنڑیا سی
ہیروشیما وچ
آئٹم بمب دے پھٹن توں بعد
آج وی اوتھے
بچے معذور پیدا ہوندے نیں
میں سُنڑیا سی
اج وی اوتھے
فصلاں ٹھیک طرح نئیں اُگدیاں
اِنج لگدا اے
میرا دل وی
ہیروشیما دی طرح اے!
ایتھے وی اک زہریلی گیس نے
جذبے معذور کر چھڈے نے
ایتھے وی تے ٹھیک طرح کوئی
چاہت پھُٹ نئیں پاندی ہن

Offline
 

اسے بھی چھوڑوں اسے بھی چھوڑوں تمہیں سبھی سے ہی مسئلہ ہے؟
مری سمجھ سے تو بالاتر ہے یہ پیار ہے یا معاہدہ ہے
''جو تو نہیں تھی تو اور بھی تھے جو تو نہ ہوگی تو اور ہوں گے''
کسی کے دل کو جلا کے کہتے ہو میری جاں یہ محاورہ ہے
ہم آج قوس قزح کے مانند ایک دوجے پہ کھل رہے ہیں
مجھے تو پہلے سے لگ رہا تھا یہ آسمانوں کا سلسلہ ہے
وہ اپنے اپنے تمام ساتھی، تمام محبوب لے کے آئیں
تو میرے ہاتھوں میں ہاتھ دے دے ہمیں بھی اذن مباہلہ ہے
ارے او جاؤ!! یوں سر نہ کھاؤ!! ہمارا اس سے مقابلہ کیا؟
نہ وہ ذہین و فطین یارو نہ وہ حسیں ہے نہ شاعرہ ہے

Offline
 

عزیز دوستو! خوب محنت کرو اور بہت پیسہ بناؤ، محبت تو ویسے بھی ہر کسی کو نہیں مِلتی۔ ۔ لیکن آپ محنت اور لگن سے اپنا کیرئیر ضرور بنانے کی طرف متوجہ ہوں۔ ایسے آپ اپنے من پسند کھانے کھا سکو گے، من پسند چیزیں لے سکو گے، پسندیدہ جگہیں گھوم سکو گے، اپنے پیاروں کے ساتھ خوب انجوائے کرسکو گے اور اپنے ارد گرد بسنے والے انسانوں کو بہتر انداز میں ڈیل اور سپورٹ کرسکو گے ، یقین مانو زندگی پیار محبت کے بغیر اچھی کٹ سکتی ہے مگر بنیادی ضروریات اور آپ کے خوابوں کی تکمیل کے بغیر بڑی کھٹن ہوتی ہے۔

Offline
 

ہجر میں خون رلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
جب بھی ملتا ہے کوئی شخص بہاروں جیسا
مُجھ کو تُم کیسے بھلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
یاد آتی ہیں اکیلے میں تُمھاری نیندیں
کس طرح خود کو سلاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
ہم سے بِچھڑے ہو تو محبوبِ نظر ہو کس کے ؟
آج کل کس کو مناتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے
اپنے دُکھ کِس کو سناتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
موسمِ گل میں نشہء ہجر بڑھ جاتا ہے
میرے سب ہوش اُڑاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
تم تو خُوشیوں کی رفاقت کے لیے بِچھڑے تھے
اب اگر اشک بہاتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟
شہر کے لوگ بھی واثق یہی کرتے ہیں سوال
اب کم کم نظر آتے ہو کہاں ہوتے ہو ؟

Offline
 

آتے جاتے سارے موسم اُس سے نِسبت رکھتے ہیں
اُس کا ہِجر خزاؤں جیسا اُس کا قُرب بہاروں سا

Offline
 

وہ مجھ کو روز نئے خواب سونپ دیتا ہےوہ مجھ سے یہ بھی نہیں پوچھتا ضرورت ہے.........؟؟؟

Offline
 

جھوٹ کہتے ہیں
موسیقی روح کی غذا ہے
اپنا فیورٹ سانگ
”کدی آ مل سانول یار وے“
ستاون بار سن چکا ہوں
عاطف اسلم اب میری فیورٹ لسٹ سے نکل چکا ہے
میری روح ایک عرصے سے فاقے پہ ہے
تمہاری آواز سننے کو کان ترستے ہیں میرے
تم مجھے اپنی باتیں ریکارڈ کر کے بھیجو
تاکہ میں وقفے وقفے سے سن سکوں
تمہاری آواز میری روح کی غذا ہے

Offline
 

مُحبت اِسے بھی تو کہتے ہیں
اُس کے نام پہ سب لِکھنا
مگر اُس کا نام نہ لِکھنا

Offline
 

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
اس نے پوچھا تو ہے اتنا ترا حال اچھا ہے
ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے
پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے
ترے آنے سے کوئی ہوش رہے یا نہ رہے
اب تلک تو ترے بیمار کا حال اچھا ہے
یہ بھی ممکن ہے تری بات ہی بن جائے کوئی
اسے دے دے کوئی اچھی سی مثال اچھا ہے
دائیں رخسار پہ آتش کی چمک وجہ جمال
بائیں رخسار کی آغوش میں خال اچھا ہے
آؤ پھر دل کے سمندر کی طرف لوٹ چلیں
وہی پانی وہی مچھلی وہی جال اچھا ہے
کوئی دینار نہ درہم نہ ریال اچھا ہے
جو ضرورت میں ہو موجود وہ مال اچھا ہے
کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ
ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

Offline
 

ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﭼﺎﻻﮎ ﮨﯿﮟ .... ﯾﮧ ﺁﺝ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ... ﻣﮕﺮ ﮐﺘﻨﯽ ﭼﺎﻻﮎ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮ ﮔﺎ ....
ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮔﺎﻟﻒ ﮐﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﭧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﯿﻨﺪ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮔﺮﯼ، ﺑﺎﻝ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﻭﮦ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﮔﯿﻨﺪ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺩﺍﺭ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ :
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻻ ﺩﯾﮟ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ

Offline
 

ﻓﻮﺭﺍً ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﮐﻮ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻻ ﺩﯼ۔
ﻣﯿﻨﮉﮎ ﻧﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎ ﮐﺮ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯽ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﮔﯽ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﻭﮨﯽ ﭼﯿﺰ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮍﺍ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ، ﺧﯿﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﻦ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ

Offline
 

ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﺘﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺍﻣﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ، ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺷﻮﮞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻣﯿﺮ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ؟ ﻣﯿﻨﮉﮎ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؟
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﻠﮑﺎ ﺳﺎ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﯾﻌﻨﯽ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﻖ : ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﮩﺖ ﭼﺎﻻﮎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
...ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ : ﯾﮧ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺧﺘﻢ - ﺍﺏ ﺁﭖ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺰﮮ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ۔۔۔۔۔۔
.ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺁﭖ ﺁﮔﮯ ﭘﮍﮬﯿﮟ۔۔۔۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮨﮯ ﺁﮔﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﯽ ﺟﻨﺎﺏ - ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮨﻮﺍ۔