چُپ کے عالم میں، وہ تصویر سی صُورت اُس کی
بولتی ہے، تو بدل جاتی ہے رنگت اُس کی
آنکھ رکھتے ہو تو اُس آنکھ کی تحریر پڑھو
منہ سے اِقرار نہ کرنا تو ہے عادت اُس کی
ہے ابھی لمس کا احساس مِرے ہونٹوں پر
ثبت، پھیلی ہُوئی بانہوں پہ حرارت اُس کی
وہ اگر جا بھی چُکی ہے تو نہ آنکھیں کھولو
ابھی محسُوس کئے جاؤ رفاقت اُس کی
وہ کبھی آنکھ بھی جَھپکے تو لرز جاتا ہُوں
مجھ کو اِس سے بھی زیادہ ہے ضرُورت اُس کی
وہ کہیں جان نہ لے، ریت کا ٹِیلہ ہُوں میں
میرے کاندھوں پہ ہے تعمیر عمارت اُس کی
بے طلب جِینا بھی شہزاد! طلب ہے اُس کی
زندہ رہنے کی تمنّا بھی، شرارت اُس کی
اِک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اُس کی
اور یہ دِل کہ اُسے حد سے سوا چاہتا ہے
سنو یہ جو تم گول مٹول کرکے بال پیچھےبا ندھ لیتی ہو قا تل لگتی ہو۔۔۔
'کچھ دیر ساتھ بیٹھ سکتے ہیں؟
باتیں نہیں کریں گے بس ساتھ بیٹھیں گے۔'
'ہاں، کیوں نہیں!'
سنو! کبھی کبھی کسی کے ساتھ ہونے کا
احساس ہی کافی ہوتا ہے۔
پاکستان کو ایگریکلچرل ملک اسی لئے بھی کہتے ہیں کیونکہ ایگری کرنا ہی ہمارا کلچر ہے۔ اختلاف ہمیں کسی بھی حیثیت میں برداشت نہیں۔
اُسے خبر نہیں ہے کتنی شدتوں نے آنسوؤں نے اسکو پکارا ہے
اسے خبر نہیں ہے ضبط کی منزلیں کیا وار کرتی ہیں
اسے پتہ نہیں ہے بے بسی میں کیا بے کسی سی ہے
وہ ناآشنا ہے کس طرح وہ مجھ میں رہتا یے
اسے خبر نہیں ہے لمحہء زیست اُس بِن
میرا کتنا ادھورا ہے کہو کیسے کہوں اسکو
کہ ضبط کی ہر کیفیت سے اب میری یہ جاں نکلتی ہے..
اسے خبر نہیں ہے.... اسے احساس کیسے ہو ..
اسے ہو خبر کیسے..اسے لگتی ہے بے حسی
مگر اُسے بیاں ہو کیسے کہ سب کچھ خاموشی میں ہے
کہ جو اُس دل میں نہیں اتری
تو جو اِس دل کی ان کہی ذرہ بھر نہیں سمجھا
اسکو بیاں پھر کہو کوئی لفظ کیسے ہو..!
صغریٰ کلینک
دبئی سے آئی ہوئی خاتون ڈاکٹر کے شہر میں بڑے چرچے تھے... اس کا اصل نام اگرچہ صغریٰ مائی تھا لیکن وہ ڈاکٹر جولیا کے نام سے مشہور تھی، اور اس کا دعویٰ تھا کہ بغیر دوائی، بغیر ٹیکے اور بغیر آپریشن کے علاج کرتی ہے.. اس کے کلینک پر ہر وقت خواتین کا رش لگا رہتا تھا... شہر بھر میں صغریٰ کلینک کی دھوم مچی ہوئی تھی... خواتین دور دور سے علاج کی غرض سے آتیں اور ڈاکٹر صاحبہ کو دعائیں دیتی ہوئی جاتیں...
ڈاکٹر صاحبہ کی شہرت کا سن کر دوسرے شہر کی ایک خاتون جس کا نام سندری بی بی تھا، علاج کی غرض سے ڈاکٹر صاحبہ کے کلینک آئی... وہاں کافی ساری خواتین پہلے سے انتظار کر رہی تھیں... ان خواتین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر
صاحبہ کے ہاتھ میں شفا ہے اور ان کا طریقہ علاج بالکل مختلف بھی ہے اور منفرد بھی...
سندری نے فیس کے ایک ہزار روپے دے کر اپنی باری کا ٹوکن لے لیا اور انتظار میں بیٹھ گئی.. جب اس کی باری آئی تو وہ جھجھکتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ کے کمرے میں داخل ہوئی.. سامنے کرسی پر ایک پکی عمر کی عورت براجمان تھی....
سندری نے اس سے پوچھا، "باجی، ڈاکٹر صاحبہ کدھر گئی ہیں"... اس عورت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا... "آئیں آئیں، ادھر بیٹھیں... میں ہی ڈاکٹر جولیا ہوں"... سندری نے ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے امراض کی تفصیل بتانی شروع کر دی.. ڈاکٹر صاحبہ پوری توجہ سے سنتی رہیں.. جب سندری خاموش ہوئی تو ڈاکٹر صاحبہ نے پوچھا.." اچھا یہ بتائیں، آپ مہینے میں کتنے سوٹ بنوا لیتی ہیں، آپ کا کپڑوں کا ذوق تو
بہت عمدہ لگ رہا ہے"... خاتون نے خوش ہوتے ہوئے بتایا "ڈاکٹر صاحبہ، دل تو بہت کرتا ہے کہ ہر مہینے پانچ چھ سوٹ سلوا لیا کروں، لیکن علاج پر ہی اچھا خاصہ خرچہ ہو جاتا ہے، لہٰذا کپڑوں کا شوق رہ جاتا ہے"...
ڈاکٹر صاحبہ نے سندری کو تسلی دی.. اور اسے اپنے ساتھ پچھلے کمرے میں لے گئیں.. سندری کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں.. اتنے سارے شاندار سلے ہوئے سوٹ ٹنگے ہوئے تھے... وہ خوشی کے مارے ایک ایک سوٹ دیکھنے لگی... ہر سوٹ پر پرائس ٹیگ بھی لگا ہوا تھا...قیمت انتہائی مناسب تھی... سندری نے چار سوٹ پسند کئے اور ڈاکٹر صاحبہ کو ادائیگی کر دی.. سندری کسی طرح بھی مریضہ نہیں لگ رہی تھی... اس کے چہرے پر خوشی اور تمکنت ٹھاٹھیں مار رہے تھے...
ڈاکٹر صاحبہ نے کہا "آپ نے جب بھی شاپنگ کرنی ہو، میرے پاس آ جایا کریں.. بس یوں سمجھیں کہ آپ کا علاج پورا ایک سال چلے گا، آپ
ہر مہینے اپنی دوائیوں کے پیسوں سے سوٹ خرید کر لے جایا کریں، میں لاگت پر سوٹ بیچتی ہوں، ان پر منافع بھی نہیں لیتی"...
سندری نے حیران ہوتے ہوئے کہا "قیمت تو واقعی بہت مناسب ہے، لیکن اگر آپ منافع نہیں لیتیں تو آپ کو اتنی محنت کرنے کا کیا فائدہ"... ڈاکٹر صاحبہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا..."سندری باجی، وہ جو آپ ٹوکن کا ایک ہزار دے آئی ہو، بس وہی میرا منافع ہے، اور میں دن میں پچیس تیس مریض دیکھ لیتی ہوں، اللہ کا شکر ہے گزارہ ہو جاتا ہے، اور عورتیں بھی کپڑے دیکھ کر اپنی بیماری بھول جاتی ہیں، اب آپ کیسا فیل کر رہی ہیں"....
سندری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا..."ایک دم فرسٹ کلاس، طبیعت ہلکی پھلکی سی ہو گئی ہے، جیتی رہو، تم پہلی ڈاکٹرنی ہو جس نے میرے مرض کی بالکل صحیح تشخیص کی ہے
پرکھنا مت ،پرکھنے سے کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلے رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا، دریا نہیں رہتا
تمہارا شہر تو بالکل نئے انداز والا ہے
ہمارے شہر میں بھی اب کوئی ہم سا نہیں رہتا
محبت ایک خُوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا
کوئی بادل ہرے موسم کا پھر اعلان کرتا ہے
خزاں کے باغ میں جب ایک بھی پتہ نہیں رہتا
تم
تم جس خواب میں آنکھیں کھولو
اُس کا روپ امر
تم جس رنگ کا کپڑا پہنو
وہ موسم کا رنگ
تم جس پھول کو ہنس کر دیکھو
کبھی نہ وہ مُرجھائے
تم جس حرف پہ اُنگلی رکھ دو
وہ روشن ہو جائے۔۔
تخیل کے بڑے فائدے ہیں ،
چاند دسترس میں رہتا ہے
تمہاری سیاہ آنکھوں کی ادائیں مجھے اچھی لگتی ہیں
گندے برتنوں کے ڈھیر سے گھبرا کر بیوی بڑبڑائی ''چراغ کا جن ہمیشہ مردوں کو ہی کیوں ملتا ہے ...خواتین کو کیوں نہیں ملتا...کاش !
آج میرے پاس بھی کوئی جِن ہوتا تو میرا بھی ہاتھ بٹا دیتا‘‘۔
بیوی کی یہ معصوم خواہش سن کرایک بہت بڑا جِن ظاہر ہوا اور بولا''قوانین کے مطابق ایک خاتون کو ایک وقت میں ایک ہی جِن مل سکتا ہے۔ہمارے ریکارڈ کے مطابق تمہاری شادی ہو چکی ہے۔اور تمہیں تمہارا جِن مل چکا ہے۔اسے ابھی تم نے سبزی منڈی بھیجا ہے۔راستے میں ٹیلر سے تمہارا سوٹ لیتے ہوئے۔گروسری سے گھر
کا سامان لائے گا ۔یاد سے تمہارے لئے سر درد کی دوا بھی لازمی لائے گا۔اس کے بعد وہ اپنے کام کاج پر جائے گا ...اور آتے آتے شام کو تمہارے لئے تمہاری پسند کی آئس کریم بھی لے آئے گا .. !!
تمہارا جِن اگرچہ تھوڑا ٹائم زیادہ لیتا ہے ، مگر چراغ والے جِن سے زیادہ محنتی اور زیادہ کام کرنے والا ہے اور اتنا کچھ کرنے کے بعد ذلیل وخوار بھی ہو گا۔یہ سب ہمارے بس سے باہر ہے
ہم کیوں آج میں نہیں رہتے
کل میں کیوں زندگی گذارتے ہیں
اک کل جو چھوڑ جاتی ہے
دوسری وہ جو کبھی نہیں آتی
آج جو ساتھ ساتھ رہتا ہے
مگر ہم آج میں نہیں رہتے
جو ہر لمحہ پاس پاس رہتا ہے
اس کے پاس ہم نہیں رہتے
اک کل کی یادیں بہت
اک کل کی فکریں بہت
اک کل نے مارا ہم کو
اک کل کیلئے ہم مرتے ہیں
أس کل سے محبت کیسی
جو اک بار گیا, لوٹا هی نہیں
فكر اسکی بھی کیا جسے کل آنا ہے
اور کل هی چھوڑ چلے جانا ہے
کیوں اس بےکلی میں رہتے ہیں
کیوں اس سنگدل میں رہتے ہیں
ہم کیوں آج میں نہيں رہتے
کل میں کیوں زندگی گذارتے ہیں
اک کل جو خواب ہوا
خواب جو ٹوٹ گیا
اک کل جو بس خیال میں ھے
ہر سوچ, ہر سوال میں ھے
خواب سے جاگو ذرا,خیال سے نکل آو
کل بھی اک کہانی تھا
کل بھی اک فسانہ ھے
آج میں آو ذرا, آج میں جی لو ذرا
اک کل سے سیکھو تم
اک کل کو سکھانا تم نے
اک کل سے اگر ہارے ہو
اک کل کو جتانا تم نے
کامیاب ہونا ہے
فتحیاب ہونا ہے
تو کل سے تم نکل آو
آج میں چلے آو
جو کل میں زندہ رہتے ہیں
کبھی آج میں نہيں جیتے
بس ہار میں هی جیتے ہیں
اور ہار میں هی مرتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain