آج کل کے بچے یہ کبھی نہیں جان پائیں گے کہ پرانے زمانے میں ان مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر کوٹا جا سکتا تھا: پٹنے کے بعد رونے کی آواز پر پٹنے کے بعد نہ رونے کی آواز پر بغیر پٹے رونے کی آواز پر دوستوں کے ساتھ کھیلنے کودنے پر دوستوں کے ساتھ نہ کھیلنے کودنے پر جہاں بڑے بیٹھے ہوں ، وہاں سے گزرنے پر بڑوں کے جواب دینے پر بڑوں کو جواب نہ دینے پر کافی عرصہ تک بغیر پٹے رہنے پر مہمانوں کو سلام نہ کرنے پر مہمانوں کے لئے بنائے گئے ناشتے پر ہاتھ صاف کرنے پر مہمانوں کے جاتے وقت ساتھ جانے کی ضد پر کھانے سے انکار پر
غروب آفتاب کے بعد گھر آنے پر پڑوسیوں کے ہاں کھانا کھا لینے پر ضد کرنے پر بہت شوخا ہونے پر ہم عمر بچوں کے ساتھ لڑائی میں ہار جانے پر ہم عمر بچوں کے ساتھ لڑائی میں جیت جانے پر آہستہ آہستہ کھانے پر جلدی جلدی کھانے پر جب بڑے جاگ جائیں تو سوتے رہنے پر کھانے کے دوران مہمانوں کو دیکھنے پر چلتے وقت جان بوجھ کر گر جانے پر بڑوں کے ساتھ نظریں ملانے پر بڑوں کے ساتھ نظریں نہ ملانے پر بڑوں کے ساتھ بات کرتے وقت پلکیں جھپكانے پر بڑوں کے ساتھ بات کرتے وقت پلکیں نہ جھپكانے پر روتے ہوئے بچے کو دیکھ کر ہنسنے پر منقولڈ
یہ جو ہم بہانے کرتے ہیں کبھی اداسی تو کبھی الجھنوں کی تو کبھی بیماری تو کبھی بدحالی کی ارے یارو_____!! یہی سچ ہے کہ ہم اس شخص کے بنا رہ نہیں سکتے کوئی تدبیر
کوئی وسیلہ کوئی جھوٹا دلاسہ جھوٹ ہی سہی کہدو وہ لوٹ آئیں گے ابھی زندگی پڑی ہے جینے کو کوئی تو معجزہ ہوگا بہت باتیں محبت کی اب ان سے باقی ہے زرا حوصلہ تو دو پھر سے زندگی سنوارنی ہے ابھی خود کشی کو رہنے دو ابھی وہ پرانے خط پڑھنے ہیں کہی مکتوب لکھنے ہیں ہزاروں باتیں کرنے ہیں زرا کہدو کہ یہ دن بھی ہوا ہونگے محبت کا زمانہ ہے_
کہتے ہیں کہ جب کسی محفل میں ہنسی کے فوارے پھوٹیں تو اس پرلطف کیفیت میں آپ کی نظر سب سے پہلے اپنی پسندیدہ شخصیت کیطرف خود بخود اٹھتی ہے۔ محتاط رہا کریں۔
ہمارے ایک جاننے والے فرما رہے تھے کہ ایک چینی میرا دوست ہے جس کا نام "وانگ" ہے۔ وانگ نے ایک بار مجھے اپنے گھر پر کھانے کیلیئے بلایا۔ اس کے گھر میں پہنچ کر، میرے دل میں کئی دنوں سے جو ایک سوال آتا تھا، وہ میں نے جھجھکتے جھجھکتے پوچھ ہی لیا: میں نے کہا: مسٹر وانگ، چین میں آپ لوگ ایک دوسرے کی ملتی جلتی شکلوں سے پریشان نہیں ہوتے؟ اس نے جواب دیا: وانگ دکان سے کچھ چیزیں خریدنے کیلیئے گیا ہے، میں وانگ کی بیوی ہوں۔ منقول
گھاؤ گِنتے، نہ کبھی زخم شماری کرتے عِشق میں ہم بھی اگر وقت گزاری کرتے تُجھ میں تو خیر محبّت کے تھے پہلو ہی بہت دُشمنِ جاں بھی اگر ہوتا تو یاری کرتے ہو گئے دُھول تیرے راستے میں بیٹھے بیٹھے بن گئے عکس تیری آئینہ داری کرتے وقت آیا ہے جدائی کا تو اب سوچتے ہیں تُجھے اعصاب پہ اتنا بھی نہ طاری کرتے ہوتے سورج تو ہمیں شاہِ فلک ہونا تھا چاند ہوتے تو ستاروں پہ سواری کرتے کبھی اک پل نہ ملا تختِ تخیّل ورنہ تیری ہر سوچ کو ہم راج کماری کرتے آخری داؤ لگانا نہیں آیا ہم کو زندگی بیت گئی خود کو جواری کرتے.......!