کچھ لوگوں کے پاس ہمارے جذبات کی کنجیاں ہوتی ہیں وہ جب چاہیں ہمیں اُداس کردیں جب چاہیں ہنسا دیں وہ ميرے ساتھ ہنستا ہے تو ميں سارے دُکھ بھول جاتا ہوں__ اُسکی ہنسی ميں ہی ميرے جينے کی وجہ ہے_
اگر آپ معافی کا مطلب سمجھنا چاھتے ھیں تو ایک ایسے شخص کو معاف کر کے دیکھیں۔۔۔۔۔۔ جو آپ کی کردار کشی کا مرتکب ھوا ھو۔۔۔۔۔۔۔ آپ جان جائیں گے کہ۔۔۔۔۔۔ معاف کرنے کا اجر اتنا زیادہ کیوں ھے۔۔۔۔۔۔۔ ( واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ)
پرانی فلموں کی یاد میں۔۔۔ * پرانی فلموں میں امیر ہیروئن کے گھر گرینڈ پیانو ضرور ہوتا تھا جسے غریب ہیرو نہ صرف بجانا جانتا تھا بلکہ بجا بجا کر ساتھ ہی بیوفائی کے شکووں بھرے گیت گاتا تھا, جسے صرف ہیروئن سمجھ کر ساڑھی کا پلو مڑوڑتی تھی جبکہ باقی کراؤڈ احمق گھامڑ بنا سنتا تھا۔
پرانی فلموں میں ہاتھ سے لکھے خط ای میل سے بھی جدید ہوتے تھے کیونکہ خط کھولنے کے بعد لکھنے والے کی خط میں تصویر آتی اور وہ خود سناتا کیا لکھا ہے۔ پرانی فلموں میں ہیرو کو دیکھتے ہی اچھی بھلی ہیروئن کو سانس چڑھ جاتی تھی۔ * پرانی فلموں میں ڈاکٹر اتنے لاٸق ہوا کرتے تھے دیکھتے ہی ہارٹ اٹیک یا کینسر کا پتہ لگا لیتے تھے وہ بھی بغیر کسی ٹیسٹ کے اور سونے پہ سہاگہ مرنے کی ڈیٹ بھی دے دیتے تھے۔ * پرانی فلموں میں بری خبر سننے کے بعد ہاتھ میں پکڑی چیز لازمی گر جاتی تھی۔ * پرانی فلموں میں جب ہیروئن گھر چھوڑ کے جاتی، اس کے جملہ ملبوسات، جوتے، ہینڈ بیگ، جیولری، میک اپ کا سامان کرشماتی طور پر ایک سوٹ کیس میں فٹ ہو جاتا تھے۔
* ہیرو کے دوست کو دنیا کا کوئی کاروبار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اس کا کام سارا دن ویلا ہیرو کے ساتھ پھرنا ہوتا تھا۔ * پرانی فلموں کے کلائیمکس میں ہیرو کی ماں اور محبوبہ ہمیشہ ولن کے قبضے میں بندھی حالت میں ملتی تھیں اور ہیرو کی ساری جدو جہد پر پانی پھیر دیتی تھیں۔ * عدالت کا فیصلہ ہیرو کے خلاف آنے کے باوجود ہم سب کو پتہ ہوتا تھا کہ آخری وقت میں ہیرو زخمی حالت میں گھسٹتاہوا عدالت کا دروازہ کھول کر کہے گا کہ اصل ثبوت وہ اب لے کر آیا ہے۔ * پرانی ڈراونی فلموں میں شہر سے بہت دور ایک بنگلے میں بتی جل رہی ہوتی تھی مگر بوڑھے چوکیدار نے ہمیشہ لالٹین ہی پکڑی ہوتی تھی۔ نا جانے ایسے بنگلے میں وہ اکیلا کیا کرتا تھا اور اسے تنخواہ کون دیتا تھا۔ کچھ بھی ہو، اس دور کی فلمیں تب بھی لاجواب تھیں اور آج بھی لا جواب ہیں۔
میں ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ بیگم میرے پاس آ کر بیٹھیں اور پیار سے پوچھنے لگیں کہ ٹی وی پہ کیا ہے؟ میں نے کہا؛ دھول مٹی (صفاٸی نا ھونیکی وجہ سے) اور پھر لڑائی شروع ہوگئی .... شادی کی سالگرہ پہ بیگم نے کہا کہ مجھے ایسی جگہ لے جائیں جہاں ہم مدتوں سے نہیں گئے۔ میں اسے اپنے والدین سے ملانے لے گیا۔ اور پھر لڑائی شروع ہوگئی .... ایک رات بیگم نے فرمائش کی کہ مجھے مہنگی جگہ ڈنر کرائیں۔ میں پٹرول پمپ لے گیا۔ اور پھر لڑائی شروع ہوگئی
بیگم نیا سوٹ پہن کر آئینے میں دیکھ رہی تھیں۔ کہنے لگیں ماڈل پہ کتنا اچھا لگ رہا تھا۔ میں تو کتنی موٹی، بھدی اور بے ڈول لگ رہی ہوں۔ پلیز میری تعریف میں کچھ کہیں تاکہ میرا موڈ خوشگوار ہو۔ میں نے کہا؛ تمہاری نظر بڑی تیز اور پرفیکٹ ہے۔ اور پھر لڑائی شروع ہوگئی ..... سبزی والے نے خراب سبزی دی۔ بیگم کہنے لگیں کہ جب پتا ہے کہ یہ کھلا دھوکہ دیتا ہے پھر بھی بار بار اسی کے پاس جاتے ہیں۔ میں نے کہا؛ تمہارے میکے بھی تو جاتا ہوں۔ اور پھر لڑائی شروع ہوگئی ....
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ لوگ آپ کو کیا کہتے ہیں، آپ وہی ہیں جو آپ ہیں۔ اس سچائی پر قائم رہو۔ آپ کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ آپ اپنی زندگی کیسے گزارنا چاہتے ہیں۔ ہم جیتے ہیں اور مرتے ہیں، یہ وہ سچ ہے جس کا سامنا ہم اکیلے ہی کر سکتے ہیں۔ کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا۔ تو غور سے غور کریں، آپ کو اپنی زندگی جس طرح سے گزارنا چاہتے ہیں اس سے آپ کو کیا روکتا ہے؟
ایک دفعہ ایک لڑکے نے پوسٹ کی کہ مجھے 1000 روپے کی ضرورت ہے مگر سب نے اس کا مزاق اڑایا ۔ کچھ لوگوں نے اس کو فقیر کہا۔کئیوں نے تو دو چار گالیاں ہی اس کی نظر کر دیں مگر وہ لڑکا برداشت کرتا رہا۔آخر ایک لڑکی کو ترس آیا تو اس نے اسکا جیز کیش اکاؤنٹ نمبر مانگا اور اس کو پیسے بھیج دیئیے۔ دو دن بعد لڑکے نے کہا " مجھے آپ سے مل کو شکریہ ادا کرنا اور آپ کے پیسے واپس کرنے ہیں۔" تو لڑکی اس پر راضی
ہوگئ تو اگلے دن جب وہ دونوں ملے تو اس لڑکے نے اس لڑکی کو ایک عدد بی۔ایم۔ڈبلیو گفٹ کی اور بولا کہ دراصل میں یہ گاڑی کسی کو گفٹ کرنا چاہتا تھا مگر مجھے کوئ اس لائک نہیں مل رہا تھا تو اسی لیے میں نے وہ پوسٹ کی تھی۔ اب خدا کے کرم سے آپ مل گئی ہو اور آپ اس کی حق دار ہو۔ تو لڑکی اس پر بہت خوش ہوئ۔ اسے اپنی نرم دلی پر فخر ہو رہا تھا آخر میں یاد رہے مجھے آج 1000 روپے کی سخت ضرورت ہے