Damadam.pk
Offline's posts | Damadam

Offline's posts:

Offline
 

کیسا ٹیلنٹ بھرا ہوا ہے۔
سوالنامہ میں اس شعر کی تشریح کرنے کے لیے کہا گیا تھا
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب ۔۔۔۔ تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
ایک ذہین طالبعلم نے لکھا کہ
’’اِس شعر میں مستنصر حسین تارڑ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے انہوں نے ایک دن سوچا کہ کیوں نہ فقیر بن کے پیسہ کمایا جائے‘ لہٰذا وہ کشکول پکڑ کر "چونک" میں کھڑے ہوگئے ‘ اُسی "چونک " میں ایک مداری اہل کرم کا تماشا کر رہا تھا ‘ شاعر کو وہ تماشا اتنا پسند آیا کہ وہ بھیک مانگنے کی "باجائے" وہ تماشا دیکھنے لگ گیا اور یوں کچھ بھی نہ کما سکا۔۔۔!!!‘‘

Offline
 

اگلا شعر تھا ,
رنجش ہی سہی ‘ دل ہی دُکھانے کے لیے آ
۔۔آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ ..
مستقبل کے ایک معمار نے اس کی تشریح کچھ یوں کی کہ
’’یہ شعر نہیں بلکہ گانا ہے اور اس میں "مہندی حسن" نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اے میرے محبوب تم میرا دل دُکھانے کے لیے آجاؤ لیکن جلدی جلدی مجھے چھوڑ کے چلے جانا کیونکہ مجھے ایک فنکشن میں جانا ہے اور میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔‘‘

Offline
 

اگلا شعر یہ تھا۔۔۔!!!
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں ۔۔۔
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے ..
ایک سقراط نے اس کو یوں لکھا کہ ’’اس شعر میں شاعرکوئے یار سے لمبا سفر کرکے راولپنڈی کے ’فیض آباد‘ چوک تک "پہنچا" ہے لیکن اسے یہ مقام پسند نہیں آیا کیونکہ یہاں بہت شور ہے‘ شاعر یہاں سے نکل کر ٹھنڈے اور پرفضا مقام "دار" پر جانا چاہتا ہے اور کہہ رہاہے کہ بے شک اسے " سُوئے" مارے جائیں‘ وہ ہر حال میں "دار " تک پہنچ کر ہی دم لے گا۔۔۔!!!‘‘

Offline
 

اگلا شعر پھر بڑا مشکل تھا ۔۔۔!!!
سرہانے میر کے آہستہ بولو ۔۔۔
ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے .
نئی تشریح کے ساتھ اس کا ایک جواب کچھ یوں ملا کہ
’’اس شعر میں "حامد میر " نے اپنی مصروفیات کا رونا رویا ہے‘ وہ دن بھر مصروف رہتے ہیں‘ رات کو ٹی وی پر ٹاک شو کرتے ہیں‘ ان کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی ‘ ہر روز شیو کرتے ہوئے اُنہیں "ٹک" (زخم) بھی لگ جاتاہے اور اتنی زور کا لگتا ہے کہ وہ سارا دن روتے رہتے ہیں اور روتے روتے سو جاتے ہیں لہٰذا وہ اپنی فیملی سے کہہ رہے ہیں کہ میرے سرہانے آہستہ بولو' مجھے " ٹَک " لگا ھوا ھے

Offline
 

" میں نے اُلفت کے فسانوں میں تُمہیں دیکھا ہے ،
تُم وہی ہو نا ، جو دھڑکن کو بڑھا دیتے ہو....! "

Offline
 

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ دنیا کی تمام زبانیں سیکھوں اور پھر ہر زبان میں لفظ محبت لکھ کر تمہارے سامنے پیش کروں
مگر پھر دل زبانِ محبت کے ایک لفظ "انت الحیات" پہ آ کر ٹھہر سا جاتا ہے
کہ جب تمہیں اپنی زندگی ہی لکھ دیا
تو کہنے کو باقی کیا رہ جاتا ہے

Offline
 

مجھے تم سے بات کرنا تب بھی پسند ہے
جبکہ میرے پاس کہنے کو کُچھ نہیـــں ہوتا۔

Offline
 

تمہیں پتا ہے اُداس ہونے پہ فرانسیسی زبان میں کبھی بھی یہ نہیں کہتے کہ میں
"تمہیں یاد کر رھا ہوں"
بلکہ فرانسیسی زبان میں"
Tu me manques"
کہتے ہیں۔۔۔۔
اور اِس کا مطلب پتا ہے کیا ہے ؟
اس کا مطلب کہ
"میں اپنے وجود میں تمہاری کمی محسوس کر رہا ہوں"

Offline
 

چینی کہاوت ہے کہ ضروت مند کو مچھلی دینا ایک دن کے کھانے کا انتظام ہے اور مچھلی پکڑنے کا ہُنر سکھا دینا زندگی بھر کے کھانے کا انتظام ہے۔

Offline
 

اس دنیا میں انسانوں کے ساتھ تو ہمیشہ ہی تفریق کی گئی ہے ناموں میں، رتبے میں، احساسات میں ہر چیز میں لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہی فرق دنیا کی ہر چیز کے ساتھ رکھا گیا ہے
جیسے
تھرٹی ون 31
فورٹی ون 41
ٹوئنٹی ون 21
لیکن
11 ونٹی وَن نہیں؟ کیوں؟ آخر کیوں؟
کیا ونٹی ون کی کوئی فیلنگز نہیں ہیں؟؟ ایسا سلوک؟ ایسا رویہ؟
اور نہ صرف ونٹی ون بلکہ
ٹینٹی ٹین 1010 کا بھی کوئی حصہ نہیں؟ 99 تو نائنٹی نائن ہے لیکن 1010 ٹینٹی ٹین نہیں؟ آخر کیوں؟ کیا ونٹی ون کا دل نہیں ہوتا؟, نہیں کوئی فیلنگز نہیں ہوتی؟
جب الیونٹی الیون کے ساتھ بھی ایسا کیا جائے گا تو تم لوگوں کو پاپ لگے گا
کل کو کیا منہ دکھاؤ گے جب ونٹی ون تم لوگوں کا گریبان پکڑے گا؟
ذرا ونٹی ون سیکنڈ کے لیے سوچیے

Offline
 

ایسا کیا ہے اتنے کیوں
اچھے لگتے ہو مجھے

Offline
 

سنو تم وہی ہو نہ جو آٹے کے ساتھ جھنڈیاں لگاتے تھے

Offline
 

کوئی مُسکراہٹ ادھار دو
کسی ہنسی میں ٹیگ دو
کوئی قہقہہ ہی پوسٹ دو
کِھلتے پُھولوں کی خوشبو دو
کلیوں کی نازکی دو
یا بے مقصد ہی کِھل کھلادو
رونقِ محفل کو جِلّا دو
اک بلب فٹ کروادو
بلب نہ سہی چراغ ہی جلادو
نئے کھانے خوان پر سجادو
دوستوں کو انوائٹ دو
کچھ نہیں تو چائے ہی پلادو
بہت سے چہرے اُداس ہیں آج
کوئی قہقہہ ہی پوسٹ دو

Offline
 

کہتے ہیں کہ جس سے محبت ہو آنکھیں بند کریں تو وہ نظروں کے سامنے ہوتے...
اور اگر میں آنکھیں بند کروں تو مجھے نیند آ جاتی
کیا یہ دنیا مجھے قبول کرے گی

Offline
 

تم مسکرایا کرو...
تا کہ تتلیوں کے رابطے قائم رہ سکیں۔ انہیں اس وہم سے چھٹکارا مل جائے کہ دنیا میں خوبصورت رنگ صرف ان کے پاس نہیں بلکہ تمھارے ہونٹوں پر ہیں۔

Offline
 

خیالِ یار میں کیسے جھٹک دوں..
یہی راحت کا اک سامان سا ہے..

Offline
 

بارش ہو رہی ہے اور میں سوچ رہا ہوں جانے کتنے لوگ اب کہاں کہاں بیٹھے کسی نا کسی کو یاد کر رہے ہوں گے
کتنی عجیب ہوتیں ہیں یہ سوچیں ایسے شخص کے گرد گھومنے لگتیں ہیں جسے کچھ خبر ہی نہیں ہوتی کہ کوئی ہمارے بارے میں کس قدر سوچ رہا ہو گا

Offline
 

اے گل رخ
ہم نے اپنے دل کے سارے موسم تیرے نام کر دیے۔۔

Offline
 

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب
"دوکاندار کے پاس کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ سمجھا جاتا تھا۔
٭ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا، اور اگر بتاتا تو باپ اْسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔
٭یہ وہ دور تھا جب ’’اکیڈمی‘‘کا کوئی تصّور نہ تھا اور ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے۔
٭بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔
٭لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا، صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ’’ میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا۔‘‘ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔
٭اْس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے، صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا

Offline
 

دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں کرنا ہر گھرکا معمول تھا۔
٭کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اْس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ’’ مہمانوں ‘‘ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے، فینائل کی خوشبو میںلبے بستر نکالے جاتے ۔ خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ۔ مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی۔
٭جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا، سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے۔ مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ، تاہم